ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 2011

انٹرویو !!!

کم بخت جتنے فائنل انٹرویو ہم نے نوکری کے لئے دیئے سب میں فیل ہوئے!! اول اول ہم فوجیوں کے ہاتھ لگے ہوا یوں کہ پی ایف کالج میں پاکستان فضائیہ والوں کی ٹیم آئی انہوں نے فضائی فوج سے متعلق ایک معلوماتی لیکچر دیا پھر طالب علموں کو پاک فورس کی طرف راغب کرنے کو پریزینٹیشن دی اور بعد میں چند ایک کا ٹیسٹ لیا! نتیجہ چند ایک طالب علموں کو بتایا آپ بارہ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد کس پوسٹ کے لئے قسمت آزمائی کرنا!! ہمیں کہا کہ Aeronautical engineer کے لئے جانا!! ہم گئے ISSB کے بعد ہمیں منہ ہی نہیں لگایا!! وجہ ذومعنی سوچ!!!
پھر جب کریجویشن میں تھے پی آئی اے میں flight steward کے لئے اپلائی کیا تو فائنل انٹرویو میں دیسی لہجے میں ولایتی زبان بولنے اور رنگ سانولا ہونے کی وجہ سے انہوں نے بھی چونی اٹھوا دی!!!
جب ہم قانون کے طالب علم تھے تو پولیس میں ASI کی نوکری کے لئے اپلائی کیا!! وہاں بھی فائنل انٹرویو میں کامیابی نہ مل سکی!!
آج کل سرکاری وکیل کے لئے انٹرویو دیا ہوا ہے امید ہے سابقہ ریکارڈ نہیں توڑ پاؤں گا!! اس کے علاوہ ایک اور بار جج کے لئے اپلائی کیا تھا مگر تحریری امتحان میں ہی فیل ہو گیا!!! اب تک یہ پانچ جگہیں ہی ایسی ہے جہاں ہم نوکر ہونے گئے مگر ناکام رہے اوریوں تین میں انٹرویو میں اور ایک بار تحریری امتحان میں نامراد لوئے!!! ایک کا ابھی انتظار ہے!!! اس کے علاوہ ہم نے جب بھی انٹرویو دیا کامیاب ہوئے!!دو تین مرتبہ انٹرویو میں کامیاب ہونے کے باوجود اس لئے نوکری جو تنخواہ وہ دے رہے تھے وہ کم تھی یا جانے والوں کی طرف سے ہمیں یہ باور کروایا کہ اس انٹرویوں میں کامیابی اُن کے مرہون منت ہوئی ہے۔
میز کے اُس طرف انٹرویو دینے کے ایسے تجربے سے ہم اب تک گھبراتے ہیں!!! مگر گزشتہ دنوں ہم میز کی دوسری طرف جا بیٹھے یعنی انٹرویو لینے والوں میں!!! وہ بھی صنف نازک یعنی خواتین کا!! جو ایک الگ کی تجربہ تھا!!!تین ناکام انٹرویوز میں فیل ہونے کے بعد انٹرویو کرنے کا تجربہ درحقیقت نہایت انوکھا تھا!! انٹرویو والے پینل میں شامل دیگر دونوں احباب ہمارے استاد تھا!!ایک سابقہ وفاقی وزیر قانون پروفیسر شاہدہ جمیل اور دوسرے سابقہ جنرل سکرٹیری کراچی بار ایسوسی ایشن و موجودہ ممبر سندھ بار کونسل محترم ندیم قریشی (میں نے اپنی وکالت کا آغاز ان ہی کے چیمبر سے کیا تھا) اُن کے ساتھ یوں بیٹھنا جہاں ایک اعزاز تھا وہاں اُن کے تجربوں سے مجھے اپنی کی گئی تمام غلطیوں کا ادراک بھی ہوا!
باقی لوگوں کو پرکھنا جتنا آسان لگتا ہے اُتنا ہے نہیں امتحان لینے والا انتخاب کے وقت خود ایک امتحان میں ہوتا ہے، بہت مشکل ہے یہ امتحان جب ایسے افراد بھی آپ کو پرکھنے ہو جو کہ آپ کے جاننے والوں میں شامل ہوں! تعلق بد دیانتی و نا انصافی کی طرف مائل کرتی ہے تب دراصل دوسروں کو پرکھنے کے بجائے منصف خود کو پرکھنے لگتا ہے !!! یہ بات تجربے سے معلوم ہوئے!! اور اپنی نظروں میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ انصاف ہو۔

توبہ توبہ!! ابے یہ کرتا کیا ہیں؟پتا تو چلے

ہمارے ایک بہت پیارے دوست نے ایک دفعہ اپنا ایک سچا قصہ ہم سے شیئر کیا! اول تو قصہ بہت عمدہ تھا دوئم ہمارے اُس دوست کو جیسے قصہ گوئی کا فن آتا ہے سن کر ہنس ہنس کر ہم بے حال ہو گئے ہمیں وہ قدرت تو حاصل نہیں مگر قصہ آپ سے شیئر کرتے ہیں۔
بقول ہمارے دوست کے وکالت کے آغاز میں انہوں نے اپنے علاقے میں ایک دفتر کھولا اور دفتر میں دیگر دفتری اشیاء کے ساتھ ایک ٹی وی میں لگوا لیا! جس پر کیبل کا کنکشن حاصل کیا۔ آغاز وکالت فراغت کے دن ہوتے ہیں لہذا ایسے ہی ایک فراغت کےوقت میں ہمارے دوست کیبل پر انگریزی فلم دیکھ رہے تھے تو اُس کا ایک دوست جو مولوی تھا آفس میں آ گیا ہمارے دوست نے چینل نہ بدلہ دونوں گفتگو میں مصروف ہو گئے مگر نظر بیشتر اسکرین پر مرکوز رہتی کہ اتنے میں وہ “سین” بھی فلم کے کسی ایکٹ میں آ گیا جس میں فلم کے دو کردار اپنی محبت کا “عملی” مظاہرہ کرتے نظر آئے “مولبی” کی موجودگی کی بناء پر ہمارے دوست نے چینل بدلنے کو ریموڑٹ اُٹھا تو “مولبی” گویا ہو “رہنے دوں ہم بھی دیکھیں یہ خبیث کرتے کیا ہیں” پھر وہ محبت کے “عملی”اظہار میں آنی والی شدت کے ساتھ ساتھ ذیادہ جذباتی انداز میں بولتے “اوئے اوئے خبیث” “توبہ توبہ”” استغفار” “خبیث اوئے”۔
یہ ہی حال ہمارے میڈیا کا ہے! وہ بھی کسی عمل غلط کو ذکر کرتے، عکس بندی کرتے، اُس پر بحث کرتے، اُس پر تنقید کرتے اور اُس کا تجزیہ کرتے ہوئے “اوئے اوئے خبیث” “توبہ توبہ”” استغفار” “خبیث اوئے” تو کرتے ہیں مگر ایسے کہ نہ صرف اُس عمل “بد” کی تشہیر ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں سے ایک طبقہ ایسا پیدا ہو جاتا ہے جو اُس عمل کو واہ واہ کرتے داد دیتا نظر آتا ہے۔
آج کل میڈیا میں صدر صاحب کے بیرونی ملک جانے کے بعد جو خبر لوگوں کے دماغوں پر سوار ہے وہ ایک پاکستانی اداکارہ( طوائف و کنجری کہنا بھی درست ہو گا کیوں کہ اعمال کو دیکھتے ہوئے یہ اُس کا پروفیشن ہے اُس کیلئے گالی نہیں) کے بھارت میں کپڑے اُتار کر تصاویر بنوانا ہے۔ کہانی ISI کے ٹیٹو سے شروع ہوئی اور اب انکار سے ممکنہ اقرار کی طرف گامزن ہے۔ تین (پہلی، دوسری اور تیسری) جاری کردی تصاویر کو وجہ تنازعہ بنایا جا رہا ہے، بالغان کے رسالے کے لئے اب برقعہ پہن کر تو تصاویر نہیں اُتاری جانے سے رہے، اس بندی کا ماضی ایسا ہے کہ ملکی سطح پر بھی ماڈلنگ کے آغاز میں ایک ایسا فوٹو شوٹ کروا چکی ہے۔ لہذا ایسی طوائف مزاج خواتین کو میڈیا میں جگہ نہ دی جائے تو بہتر ہے مگر اچھے بھلے بیک گراونڈ والے ادارے بھی بھیڑچال میں وجہ تشہیر بن جاتے ہیں۔ ایسی خواتین کو اپنے گھر والے تعلق سے انکاری ہو جاتے ہیں۔
باقی کیا کہنے ہمارے ملک میں ایک طبقہ ایسا ہے جو برقعہ پوش عورت کو اپنے حق سے نا واقف و جاہل قرار دیا ہے مگر برہنہ ہونی والی خاتون کو بہادر و با ہمت قرار دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کا کیا علاج ہے؟

محبت

آہ کیا چیز ہے یہ محبت!! نہ ہو کسی سے تو زندگی آسان، ہو جائے تو عذاب۔
یار لوگ کہتے ہے زندگی عزاب تب نہیں ہوتی جب محبت ہو جائے تب ہوتی ہے جب اُس کا احساس ہو جائے۔ خود کو بھی اور جس سے ہوئی ہو اُس کو بھی۔
اُس وقت محبت کرنے والا اُسے جذبے کو نعمت سمجھ رہا ہوتا ہے  مگر وہ دراصل  ایک امتحان سے گزر رہا ہوتا ہے۔
اور اہل نظر پرکھ لیتے ہیں کہ یہ امتحان اب عذاب بنا کہ تب۔

 یہ میرے خیالات ہیں لہذا اتفاق کرنا ضروری نہیں

تم قومی غیرت کی بات کرتے ہو؟

مجھے نہیں معلوم لوگوں میں اتنا حوصلہ کیوں نہیں ہوتا کہ وہ مخاطب پر اپنی شناخت ظاہر کر سکیں؟ میں کل ایک بلاگ پوسٹ تحریر کی یار لوگ اُس پر تبصرہ کرنے کے بجائے میرے ای میل پر اپنا تبصرہ کر رہے ہیں وہ بھی اصلی نام سے نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ کہ ای میل کے تبادلے مین ایک اہم الزام ہم پر یہ لگا کہ ایک تو میں متعصب ہوں دوسرا تنگ نظر! ہم انکار نہیں کرتے ممکن ہیں دونوں باتیں درست ہوں کیونکہ بقول ہمارے بڑوں کے یہ دونوں بیماریاں جس میں ہوتی ہیں وہ خود میں اس کی تشخیص نہیں کر سکتا یوں ہم اس پر اپنی رائے نہیں دیتے اور چونکہ ہم “اُبھرتی آواز” کی شخصیت سے واقف نہیں تو اُس پر تبصرہ نہیں کرتے۔
ای میل تبادلے میں جو بات وجہ تنازعہ بنی وہ وہ ہی معاملہ ہے جو نیٹو و پاکستان کے درمیان وجہ تنازعہ ہے۔ یعنی پاکستانی سرحد پر نیٹو کا حملہ۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ عوامی رد عمل کی غیر موجودگی میں فوج اس معاملے پر اپنی آواز بلند نہ کرتی! اور فوجی ردعمل بھی چند دن میں عامی جذبات کے ٹھنڈا ہونے پر اسکرین سے غائب ہو جائے گا۔ مگر “ابھرتی آواز” اس سے متعفق نہیں تھے۔
میرا کہنا یہ ہے کہ ہم گذشتہ 11 سال کی اس جنگ میں چالیس ہزار جانے گنوا چکے ہیں۔ جون 2004 سے اب تک 290 ڈراؤن حملوں میں قریب 2700 کے قریب جانوں کا نقصان اُٹھا چکے ہیں ان ڈھائی ہزار مرنے والوں میں سے آفیشلی 98 فیصد افراد کے متعلق سب کا اتفاق ہے (مارنے والوں کا بھی) کہ وہ بے گناہ تھے بقایا دو فیصد پر بھی شبہ ہے کہ ممکن ہے اُن کے اکثریت بھی مطلوبہ ٹارگٹ نہ ہوں بمشکل 70 سے 90 افراد کے درمیان پر قیاس ہے کے وہ اُن کے مطلوبہ “دہشت گرد” ہیں۔ اتنی بری تعداد میں بے گناہ پاکستانی شہریوں کی اموات پر کوئی ردعمل نہیں ہوا تو اب کیسے فوجی جرنیل کی غیرت جاگ سکتی ہے؟
اور قومی غیرت کا یہ حال ہے کہ ہم نے اُس چالیس ہزار شہیدوں کو یاد رکھنے کا کوئی ایک بہانہ بھی نہیں تراشہ یار کیا رکھیں گے؟ غیر ملکی فوج کے ہاتھوں ڈراؤن اٹیک میں مرنے والوں کا کبھی نہیں سوچا تو اب کے کیا کر لیں گے؟
اپنے فوجی کے مرنے پر ردعمل دیکھنا ہو تو دور کی کیا مثال دوں اپنے نام نہاد اتحادیوں کو ہی دیکھ لو۔ مئی 2007 میں ایک پاکستانی فوجی نے جذبات میں آ کر ایک امریکی فوحی میجر لیری کو مار (پوری دہشت گردی کی جنگ میں کسی پاکستانی فوجی کے ہاتھوں مارے جانے والا واحد اتحادی فوجی) گیا تو امریکی میڈیا ہے اُسے فیچر کیا۔ اُس وقت ہی نہیں بلکہ پر سال اُس کی برسی پراور اس کے علاوہ بھی بہانے بہانے سے لکھتے ہین اور ہر بار اسے ایک فوجی کا جذباتی انفرادی رد عمل نہیں بتاتے بلکہ پاکستانی فوج کی اندرونی سازش قراد دیتے ہیں ایسا آخری فیچر نیو یارک جیسے اخبار نے شائع کیا جبکہ پینٹاگون آفیشلی یہ کہہ چکا ہے کہ ہونے والی تفتیش میں یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ایک انفرادی عمل تھا۔ مزید یہ کہ انہوں نے اپنے مرنے والے فوجی کی یاد میں ایک میموریل فنڈ قائم کیا ہے جس کے تحت نہ صرف طالب علموں کو اسکالرشپ دی جاتی ہے بلکہ ہر سال بیس بال ٹورنامنٹ کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔
اور دیکھ لیں “اُبھرتی آواز” ہم کہاں کھڑے ہیں؟ موجودہ ڈرامے بازی کو آپ رد عمل کہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔
جب تک ہم اس “دہشت گردی” کی نام نہاد جنگ کا حصہ ہیں تب تک تبدیلی حاکم و جرنیل کت رویے میں مجحے نظر نہیں آتی۔
آپ اپنی شناخت تو بتانے کی ہمت نہیں رکھتے! قومی غیرت کہاں سے دیکھاؤ گے؟

یادداشت یعنی memo

اؤئے یہ میمو گیٹ والا کیا معاملہ ہے؟
“کیوں؟ تجھے اس سے کیا لینا ہے؟”
یار ویسے ہی پوچھ رہا ہوں ہر بندہ ہی اس کی بات کرتا ہے، اس لئے پوچھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہے بس ذرا فوج و حاکم مل کر 'مخول' کر رہے ہیں”
کیا مطلب ہے تمھارا؟ حسین حقانی کو سفارت سے ہٹا دیا، فوج کی مرضی کا سفیر بھیجنے کے بجائے وہ شیری رحمان کو اسمبلی سے استعفیٰ لے کر سفیر بنا کر بھیج دیا، اس مراسلے پر تفتیش ہو رہی ہے اور تمہیں یہ مخول لگتا ہے؟
“اُس میمو یا مراسلے کو چھوڑ، یہ دیکھ جہاں فوجی جرنیل و حاکم ملک میں ہونے والے ڈراؤن حملے نہ روک سکیں، دوسرے ملک کے کی فوج ملک میں داخل ہو کر فوجی کاروائی کر جائے انہیں خبر نہ ہو، دوسری فوج کے طیارے سرحدی چوکیوں پر حملہ کر کےاپنے فوجی مار جائے اور اپنی فوج کا سربراہ صرف مذمتی بیان جاری کرے۔ ابے وہاں ایک مراسلے پر تماشہ لگےیہ مخول ہی تو ہے”
تمہارا مطلب ہے کہ جرنیل و حاکم آپس میں مخول کر رہے ہیں؟
“نہیں تو”
یہ کیا مذاق ہے آپس میں تو کس سے؟ تو نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟
“ابے مخول تو یہ تیرے و میرے سے کر رہے ہیں، یعنی عوام سے۔ آپس میں تو ان کی یہ لڑائی سوکنوں والی ہے جو پیا من کو بھانے کو لڑتی ہیں، بس پیا کو یقین آ جائے میں اُس کی سکی ہوں دوسری تو ڈرامے باز۔کام ہو جائے آج جو یاداشت دجہ تنازعہ ہے وہ کل کسی کی یاداشت میں نہ ہو گی”

مانگ ووٹ کہ تجھے ووٹ ڈالو

اب تو قریب ہر کوئی جان چکا کہ بلاگ ایوارڈ ہو رہے ہیں۔ وہ بھی جو مقابلے میں اُتر چلے اور وہ بھی جو مقابلے سے انکاری ہیں ۔
بلاگ ایوارڈ میں کل 33 زمروں میں 350 بلاگ نامزد ہوئے ہیں۔ بہترین اردو بلاگ میں 16 اور اردو زبان کے بہترین استعمال میں 3 بلاگ۔ اس کے علاوہ 2 اردو بلاگ عمدہ مزاح کے زمرے میں اور ایک اردو بلاگ سیاسی بلاگ کے ذ مرے میں شامل ہے۔ یوں کل 22 اردو بلاگ مقابلے میں شامل 350 بلاگ میں موجود ہیں۔ جو کہ 6 انگریزی بلاگ کے مقابلے میں ایک اردو بلاگ کے بنتی ہے۔ اردو بلاگ کے ووٹ مانگنے کء لئے انگریزی زبان کا بینر دستیاب ہے۔
کچھ ایسے ذمرے تھے جن میں مزید اردو دنیا کا حصہ ہو سکتا تھا جیسے بہترین بلاگ ایگریگیٹر میں اردو سیارہ، ماروائی فیڈ ، اردو بلاگرز اور اردو کے سب رنگ شامل ہو سکتے تھے۔
 اسی طرح چند ایک ساتھی بلاگرز نے مقابلے میں حصہ نہیں لیا جو میرے نزدیک ایک درست رویہ نہیں۔ مقابلے میں شامل ہونے کا مقصد صرف مقابلے میں جیت ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے کہیں ذیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ احباب کو علم ہو ہم بھی میدان میں ہیں۔ جیسے کم از کم تین نئے اردو بلاگ کا علم مجھے اُن کے اس مقابلے میں شمولیت کے بعد معلوم ہوا۔ یہ ہی نہیں کئی عمدہ انگریزی بلاگ بھی ہمارے گوگل ریڈر کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
ہم قریب سب ہی اردو بلاگرز کو میرٹ پر ووٹ دے چکے جو مقابلے میں ہیں۔ مگر اگر بھی بھی کوئی یہ خیال کرے کہ وہ رہ گیا ہو شاید تو ضرور آگاہ کر دے۔ ہم نے انگریزی بلاگ کو بھی ووٹ کیا ہے کیا آپ کی پسند کا بلاگ مقابلے میں ہے؟ اگر ہاں تو ضرور ووٹ مانگے۔
وہ احباب جو مقابلے میں نامزد ہیں ووٹ مانگنے میں شرم محسوس نہ کریں کیونکہ اہل دانش کا کہنا ہے ووٹ مانگنے اور بھیک مانگنے کے اصول و قواعد ایک سے ہے۔ یعنی کہ ہر کسی سے مانگو، ہر وقت مانگو، ہر طرح سے مانگو اور بار بار مانگو۔۔

ابے تو بھی بڑا “زرداری” ہے

گزشتہ چند ماہ سے بلکہ یوں کہہ لیں ڈھائی سال سے موبائل پر اسپیم ایس ایم ایس آتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ابتدا ہفتہ مین ایک دو ایس ایم ایس سے ہوئی مگر اب تو روزانہ درجن بھر آنے لگ گئے ہیں۔ اول اول تو ہم اس قدر اس سے بیزار نہیں تھے مگر اب دیکھ کر غصہ چھڑ جاتا ہے اگر ہم مصروف ہوں۔

آج کل ہمارے (وکلاء) کے الیکشن ہو رہے ہیں سپریم کورٹ کے الیکشن میں تو ہمیں تنگ نہیں کیا گیا تھا کہ ہم اُس مقابلہ میں ہماری ضرورت نہیں تھی وجہ صاف ہے ہم سپریم کورٹ کے وکیل تو نہیں ہیں ناں اب تک ! مگر ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کی الیکشن میں تو بذریعہ ایس ایم ایس ووٹ مانگنے والوں نے مت مار دی ہے، وہ الگ بات ہے ان ایس ایم ایس میں بھیجے جانے والے اقوال نہایے عمدہ ہوتے ہیں۔ اپنے وکلاء کے الیکشن تک تو بات ٹھیک تھی مگر نامعلوم کس نے ہمارا فون نمبر پریس کلب کراچی اور آرٹ کونسل والوں کو دے دیا؟ ممبر نہ ہونے کے باوجود وہاں سے الیکشن لڑنے والوں کے ووٹ کی درخواست کے ایس ایم ایس آتے ہیں اُن کے الیکشن کے دنوں میں۔

پہلے پہل آنے والے پیغامات میں کراچی میں فروخت ہونے والے مکان، فلیٹ،دفتر، گاڑی، کار، موٹر سائیکل اور دیگر قابل فروخت اشیاء کےنقد و آسان اقساظ پر دستیابی کے پیغامات آتے تھے۔ مگر اب زیر تعمیر مسجد و مدرسے کے چندے، یتیم بچیوں کی شادی میں مدد، استخارہ کرنے والے کا پتہ، رشتوں کی تلاش، ٹیوٹر (ٹیوشن سینٹر) کی دستیابی، پرائیویٹ اسکولوں و سینٹروں میں ڈاخلے کا اعلانات، پلمبر، مستری، رنگ والا، موٹر مکینک و بورنگ والے کی دستیابی بمعہ موبائل نمبر، ریسٹورینٹ و ہوٹل کا پتہ بمعہ مینو بلکہ یہاں تک کہ ایک بار ہمین ایک ایس ایم ایس آیا جس میں ڈلیوری کے وقت لیڈی ڈاکٹر کی دستیابی سے آگاہ کیا گیا تھا اور ساتھ یہ بتایا گیا تھا کہ ختنے کرنے کا معقول انتظام ہے۔ جبکہ اُس وقت ہم کنوارے تھے اور دوسری آفر بھی ہمارے لئے کار آمد نہیں تھی کہ وہ کام مین نمٹ گیا تھا۔ اس سلسلے میں 2009 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کر دیا تھا جس کا نام “تحفظِ صارفین ریگولیشن 2009” ہے۔

اس ہی کی روشنی میں 14 نومبر کو پی ٹی اے نے تمام موبائل کمپنیوں کو ایک لیٹر یا سرکولر جاری کیا جس کے تحت “اسپیم فلٹر” پالیسی کے تحت اُن الفاظ کی لسٹ جاری کی گئی جن پر پابندی لگائی ہے۔ رومن اردو اور انگریزی الفاط کی یہ لسٹ نہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور انگریزی تو خیر ہماری ویسے بھی ملکی کی اکثریتی آبادی کی طرح نہایت “عمدہ” ہے مگر جاری کردہ رومن اردو کے الفاظ کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ ہم تو اردو زبان سے بھی قریب “نابلد” ہی ہیں۔

دیگر سرکاری کاموں کی طرح ان جاری کردی بین الفاظ کی فہرستوں نے بھی عوام کو ہنسنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ کل 586 اردو کے الفاظ اور 1109 انگریزی کے الفاظ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اردو الفاظ کی بین لسٹ کے مطابق سیریل نمبر 13 پر “Mangaithar”(یعنی منگیتر) ، سیریل نمبر 35 پر “kutta”(یعنی کتا), سیریل نمبر 205 پر “mango” (جو آم کی انگریزی) , سیریل نمبر 214 پر لفظ “taxi”، سیریل نمبر 197 پر “kuti”(یعنی کتی) اور سیریل نمبر 195 پر “kuta”(یعنی کتا) جیسے الفاظ موجود ہے۔

اگر آپ رومن اردو میں ایس ایم ایس نہیں کرتے تو آپ اردو کی فہرست سے گالیوں کے تازے نمونے کسی کو ایس ایم ایم کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور ہاں بوقت ضرورت غصہ آنے پر اس پوسٹ کے “عنوان” کو لکھ کر جسے چاہے بھیج دیں۔ ٹھیک ہے ناں؟ کیونکہ اس لفظ پر تو بین نہیں لگ سکتا۔ ویسے اگر آپ کو عنوان کی سمجھ نہین آئی تو آپ علم کے آضافے کے لئے "اس ڈکشنری/لغت" پر نظر ڈالیں۔

دل کی بستی عجیب بستی ہے (اقبال)

دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے

ہو قناعت جو زندگی کا اصول
تنگ دستی، فراخ دستی ہے

جنس دل ہے جہاں میں کم یاب
پھر بھی یہ شے غضب کی سستی ہے

ہم فنا ہو کر بھی فنا نہ ہوئے
نیستی اس طرح کی ہستی ہے

آنکھ کو کیا نظر نہیں آتا
ابر کی طرح برستی ہے

شاعر: علامہ اقبال




بکرا عید پر بکرا کون؟

آج عید کا دن تھا! گزر گیا! مگر دو دن اور ہیں قربانی کے! لہذا دو دن کی عید باقی ہے، یوں ابھی دو دن اور ہیں عید مبارک کہنے کے! تو پھر آپ کو ہماری طرف سےعید مبارک چاہے آپ عید منا رہے ہیں یا آپ کو عید منانی پڑ رہی ہے۔
اب کہاں وہ عید ہوتی ہے جو بچپن میں ہوتی تھی! آہ کیا دن تھے۔ ذمہ داری کے احساس سے پاک، آزادی کے احساس سے بھرے۔ خوشی و سرشاری سے بھرپور! ہماری عید کا آغاز چاند نظر آنے سے تو نہیں مگر ہاں قربانی کا جانور آنے سے ہوتا ۔ عموما دنبہ یا بکرا قربانی کے لئے لایا جاتا اور اُس کے قربان ہونے سے پہلے تک ہم اُس پر قربان جاتے۔ لڑکیاں ہاتھوں میں مہندی لگاتی ہیں اور ہم اپنے بکرے کو مہندی لگا رہے ہوتے، مہندی کیا لگتی تھی اُس کے جسم پر “عید مبارک” لکھتے تھے پہلی بار تو مہندی پتلی ہونے کی وجہ سے “عید” ہی بہہ گئی تھی رہی سہی کسر بکرے صاحب نے خود کو قریبی دیوار سے خود کو رگڑ کر پوری کر دی تازہ لگی مہندی سمیت اور ہماری قسم کھانے کے با وجود بھی” رقیب” یہ ماننے تو تیار نہ تھے کہ ہم نے عید مبارک لکھا ہے۔ آنے والے سالوں ہم” عید مبارک “ لکھنے کے ماہر ہو گئے گئے۔
بکرے کی مخصوص پائل اور اُس کی دیگر لوازمات بھی ہم نے خرید کر رکھے ہوئے تھے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی روایتی کنجوسی کی بناء پر بکرے کی (ذبح ہونے کے بعد ) نیم خون آلود اُن اشیاء کو دھو کر آئندہ سال کے لئے محفوظ کر لیتے تھے۔ اپنے بکرے کو تیار کر کے گلی/محلے میں لے کر پھرتے اور گلی کے دیگر بکروں سے اپنے والے کو افضل قرار دیتے نہ ماننے والے سے لڑ بھی پڑتے۔
عید والے دن بکرے کے ذبح ہونے پر غمگیں بھی ہو جاتے تھے جبکہ یہ پہلے سے علم و احساس ہوتا کہ اس ہی مقصد کے لئے لایا گیا ہے۔
ایک اور شوق عید والے دن علاقے میں گھوم کر جانوروں کی قربانی دیکھنے کا ہوتا تھا۔ دوستوں کا ایک ٹولہ بنا رکھا تھا اور عید سے ایک یا دو دن پہلے سائیکلوں پر گھوم کر صحت مند و خوبصورت جانوروں کی لسٹ تیار کی جاتی اور مالکوں سے معلوم کیا جاتا کہ کب قربان کیا جائے گا اور عید والے دن اُس جانور کے قربان کئے جانے کا منظر دیکھنے جا پہنچتے۔
وقت کے ساتھ ساتھ لا شعوری طور پر اس جذبے میں کمی آتی گئی، اور پھر والد صاحب نےچھوٹے کی قربانی کے بجائے بڑے میں حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔ ہم قربانی میں شریک ہوتے ٹوکے کا استعمال تو نہیں کیا مگرچھری کی مدد سے گوشت بنانے میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے۔ دو چار مرتبہ انگلیاں بھی زخمی کی مگر اب اس کام میں بھی شریک نہیں ہوتے۔
ہم بڑے ہو گئے ہیں اور بدل سے گئے ہیں اس سال تو حد ہو گئی قربانی کے جانور کی ذرا سی بھی خدمت نہیں کی میں نے۔
احساس ہوتا ہے مگر ۔۔۔۔۔۔ یا پھر در حقیقت زمانے کے انداز بدل گئے ہیں،ہمیں آج کل گلی/محلے کے بچوں میں یہ جذبہ کم ہی نظر آتا ہے۔ یا ہم ہی فریب میں ہے۔
ہم زمانے کو ہم اردگرد کے احباب سے ناپتے ہیں، اور اپنے علاقے میں ہمیں اس سال قربانی کا رجحان کم نظر آیا، احباب سے بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے، قربانی کی خواہش ہے مگر وسائل نہیں۔
خدا جانے بکرا عید پر بکرا کون ہوتا ہے اب؟

وال چاکنگ سے آرٹ تک

یار دوستوں کا خیال ہے کہ وال چاکنگ ایک بھی آرٹ کی ایک شکل ہے، کئی مرتبہ یہ آرٹ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اگر آرٹ ایسا ہے تو آرٹسٹ کیسا ہو گا، اگر اندر سے آرٹسٹ خوبصورت ہو تو شہر کے در و دیوار خوبصورت کرے گا ورنہ یہ نفرت کے بیج تو جا بجا بکھیر ہے رہا ہے نا۔ شہرکراچی میں یہ آرٹ عام طور پر رات میں ہی بکھیرا جاتا ہے، ہر نئے آرٹ کے نمونے شہر میں ایک نیا خوف و نفرت کے کانٹے لیئے ہوتا ہے۔
ہماری قوم کی بنیادی طور پر ایک خوبی یہ ہے کہ ہم ہر مواملے میں کوئی نہ کوئی مثبت پہلو تلاش کر لیتے ہیں لہذا بات درست ہو یا نہیں مگر یار لوگ دلیل/تاولیل دیتے ہیں یہ شہر کی دیواروں پر لکھے نعرے عوام کو عوامی جذبات کے اظہار کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہیں کمپنیوں و اداروں کو اشتہار کا راستہ بھی فراہم کرتے ہیں نیز ملک بھر کے عاشقوں و نامردوں کے علاج و حل کا مقام بھی ان ہی دیواروں پر پایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچ کالونی سے پہلے بنے ایک فلائی اوور پر شہر کے ایک تعلیمی ادارے نے اپنے طالب علموں کو آرٹ بنانے کا پروجیکٹ دیا۔ پل کی ویواروں پر بنے نقش و نگار ہمیں عمدہ لگے لہذا کیمرے میں محفوظ کر لیئے۔ اب آپ فیصلہ کرے کہ اصل میں جنہیں آرٹ بتا کر دل کو تسلی دی جا رہی ہے وہ آرٹ ہے یا یوں شہر خوبصورت ہو سکتا ہے؟

جگاڑ

“جگاڑ” کا لفظ اب تک ممکن ہے اردو لغت کا حصہ نہ بنا ہو مگر یہ ہماری عام زندگی میں داخل ہو چکا ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس لفظ کے اصل خالق شہر کراچی کے آٹو مکینک ہیں۔ یہ لفظ اپنی ایک مخصوص نفسیات لیئے ہوئے ہے اس کا استعمال بذات خود ایک “جُگاڑ” کے طور پر کیا جاتا ہے یعنی ایک ایسا کام جو روائتی و رواجی انداز میں کرنا ممکن نہ ہو اور فوری طور پر اُس کا وقتی حل کچھ ایسے انداز میں کیا جائے جس سےوہ ممکنہ مسئلہ حل ہو جائے اورعموما “جگاڑ” سے اُس وقت تک کام نکالا جاتا ہے جب تک کہ مسئلہ کے مستقل حل کی جانب پیش رفت نہ ہو جائے۔ دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ جگاڑ غیر روایتی انداز میں کام کا وقتی حل ہے جبکہ قومی مزاج کے زیر اثر ہم نے اس جگاڑی رویے کو ہی روایت بنا لیا ہے۔
زندگی میں مختلف موقعوں پر “جگاڑ” لگانی پڑتی ہے۔ ہم نے بھی کافی سارے کام جگاڑ لڑا کر کئے ہیں، اس سلسلے میں دو قصہ آپ سے شیئر کرتے ہیں۔
ہم عمرہ کرنے گئے تو عصر سے مغرب کےدرمیان ہم ونڈو شاپنگ کرتے تھے، ایک بار مغرب سے کچھ پہلے ہم نے ایک شال اپنی والدہ کے لئے خریدی ہم نے سوچا یہاں سے سیدھا مسجد احرام میں نماز کے لئے جایاجائے نماز کے بعد شال کو ہوٹل میں رکھ آئیں گے ہم جو مسجد احرام میں داخل ہونے لگے تو شرتے (سعودی پولیس کا علاقائی نام) نے ہمیں داخل ہونے سے منع کیا اشارے سے سمجھانے لگا کہ تم یہ تھیلی اندر نہیں لے کر جا سکتے ہم نے تھیلی سے شال نکال کر دیکھائی تھیلی کو اُلٹ پلٹ کر دیکھایا کہ میاں اس میں کچھ نہیں مگر وہ اپنی ضد پر قائم عربی میں اور بھی بہت کچھ کہا اُس نے مگر ہمیں صرف “یعلا یعلا” یاد ہے اُس وقت ہم نے یہ جان لیا تھا کہ اس قسم کی آواز کا مطلب ہوتا ہے کہ “چلو یہاں سے” خیر ہم نے اُس دروازے کو چھوڑا اور دوسرے داخلی دروازے کی طرف کا رُخ کیا، اُس باب (دروازے) پر بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوا ہم نے اس والے شرتے کو بھی اول یہ سمجھنانے کی کوشش کی کہ ہمارے پاس صرف شال ہے مگر مجال ہے جو اُسے سمجھ آئے، پھر ہم نے اشارے سے اُس پر واضح کیا کہ مقامی افراد بھی تو مسجد احرام میں مختلف سامان لے کر جا رہے ہیں مگر صرف ہم پر ہی یہ سختی کیوں؟ مگر مجال ہے جو وہ ٹس ست مس ہوا ہو۔ دو داخلی دروازوں کے درمیان کا لمبا پیدل سفر کرنے کے بعد اب ہم تیسرے داخلی دروازے کی طرف روانہ ہوئے پہلے پہل خیال آیا کہ کسی مقامی شخص کی مدد سے اس شال کو اندر لے جایا جائے کیونکہ ہوٹل جا کر آنے کے چکر میں مغرب کی نماز قضاء ہونے کا امکان ہے ویسے تو نماز نہیں پڑھتا، یہاں تو قضاء نہ کی جائے مگر کسی عربی کو عربی زبان میں اپنا مسئلہ بتانا بھی ایک مسئلہ تھا تو ہم نے ایک اور حل سوچا ہم نے تھیلی میں سے شال نکالی تھیلی کو جیب میں ڈالا شال کو کندھے پر رکھا اور تیسرے داخلی دروازے سے مسجد احرام میں داخل ہو گئے! اب کوئی کسی شرتے نے نہیں روکا۔
دوسری بار کا قصہ یوں ہے کہ ہماری ہمشیرہ نے ایم اے پرائیویٹ میں داخلہ لینا تھا، داخلہ فارم کے ساتھ انٹر کی مارک شیٹ یا سند کی کاپی لگانا ضروری تھی، سند اُس نے ابھی بنوائی نہ تھی اور اصل مارک شیٹ گریجوایشن کے داخلے کے وقت جمع کروائی جا چکی تھی اُس پر کمال یہ کہ اُس کی کوئی فوٹو کاپی نہ تھی، اول ہم انٹربورڈ گئے تو انہوں نے کہا کہ سند بنوانے کے لئے مارک شیٹ کی کاپی لے کر آئیں، بتایا کہ نہیں ہے کاپی تو بتایا گیا کہ پہلے Duplicate مارک شیٹ بنوائے پھر سند یا، خرچہ تو دو ہزار تک تھا مگراصل گڑبڑ یہ تھی کہ وقت کم سے کم دس دن تک لگنے کے امکان تھے اس عرصے میں ایم اے کے داخلے ختم ہوجانے تھےکہ سستی کی بناء پر ہم کافی دن پہلے ہی برباد کر چکے تھے! انٹر بورڈ میں ہم نے جس جس سے ملنا ممکن تھا مل کر اپنا مسئلہ بیان کیا مگر کوئی بھی مناسب مدد کرنے کو تیار نہ تھا ہم گھر جانے کے بجائے کراچی یونیورسٹی چلے گئی وہاں سے معلومات کرتے ہوئے اُس دیپارٹمنٹ جہاں گریجوایشن کے داخلہ فارم جمع ہوتے ہیں ہمشیرہ سے فون کر کے اُس کا گریجوایشن کا انرولمنٹ نمبر پوچھا کلرک کو 200 روپے دے کر ہمشیرہ کے یونیورسٹی میں جمع کاغذات میں سے انٹر کی مارک شیٹ کی فوٹو کاپی بنوائی اور پھر کیا ایم اے کا فارم بھی جمع ہو گیاا اور سند کے لئے اپلائی بھی کر دیا۔
آپ نے بھی کبھی “جُگاڑ” لڑائی ہے؟
ویسے آج کل ملک میں بیروزگار نوکری کے لئے “جگاڑ” کی تلاش میں رہتے ہیں۔

جدت میں یاد ماضی

ہم بچپن میں ایک مرتبہ پنجاب گئے تو گاوں میں چاول کی پنیر لگ رہی تھی، اُس وقت ایک بزرگ کو اُونچا سنائی دیتا تھا تو انہوں نے آلہ سماعت لگا رکھا تھا، جسے وہ ٹوٹی کہہ کر پکارتے تھے، پنیر لگاتے ہوئے وہ ٹوٹی کھڑے پانی میں گر گئی تو انہوں نے وہاں موجود تمام افراد کو ٹوٹی کی تلاش میں لگا دیا، کیونکہ اُس آلہ سماعت کی غیر موجودگی میں وہ سننے سے قاصر تھے۔ اُس ٹوٹی کے ملنے کے بعد ہمیں پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ یہ تو کریم رنگ کی ہے ورنہ ہم تو اُسے پیلا سمجھ رہے تھے۔ اُن بزرگ سے کسی نے بھی کوئی راز کی بات کہنی ہوتی تو وہ اُن کے کان کے پاس منہ کر کے بات نہ کرتا بلکہ اُس ٹوٹی کے دوسرے سرے پر لگے آلے جوعموما اُن کی دائیں جانب کی جیب میں ہوتا کو ہاتھ میں کر اپنے منہ کے باس لے جا کر کرتا یہ عمل ہمارے لئے نہایت دلچسپ تھا۔ بعد میں انہوں نے ٹوٹی کی جدید شکل کا استعمال شروع کر دیا.جو کان پر ایک مختصر شکل میں موجود ہوتی۔
یوں ہی ایک مرتبہ ہم اپنے اسکول سے آ رہے تھے تو ہمارے آگے آگے ایک تنہا آدمی خود میں مگن جا رہا تھا۔ اور وہ خود ہی باتین کرتا جاتا، گفتگو سے اندازہ ہوتا کہ جیسے وہ کسی سے جھگڑا کر رہا ہواور اُس شخص کی حرکات سے یہ لگتا کہ وہ جس شخص لڑ رہا ہے وہ اُس کے سامنے ہے۔ ہمارے ساتھ جاتے ہم سے سینئر کلاس کی لڑکی نے ہماری حیرت کو دیکھے ہوئےاشارے سے اُس شخص کے پاگل ہونے کا اشارہ کیا۔ اور ہم اپنے طور پر مطمین ہو گئے۔
اپنی نوعیت میں انوکھے ہونے کی بناء پر یہ دونوں واقعات ہمیں یاد ہیں۔ نامعلوم کیا وجہ ہے جب بھی آج میں کسی یار دوست یا بندے کو ہینڈ فری کی مدد سے گانے سنتا یا فون پر بات کرتا دیکھتا ہو یا کسی منچلے کو bluetooth لگا دیکھتا ہو تو مجھے یہ دونوں باتیں یاد جاتی ہیں۔

ہتھیار اور بچے

یار لوگ کہتے ہیں میڈیا ہی آج کے دور میں معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان ہے، یار لوگون کو کیا جھوٹا کہنا مگر ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا تو معاشرے پر ہی نہیں بلکہ ممکنہ اگلی نسل پر بھی نہایت عجب انداز میں اثر انداز ہوتا ہے ایسے میں اُن تحقیقات اور تجربات کا کیا حوالہ دوں جو اس ملک سے باہر موجود مختلف درسگاہوں و تجربہ گاہوں میں اُن معاشروں کے ماہرین نے کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ایک بچی اسکرین پر موجود کرداروں سے بہت کچھ اپناتا ہے خواہ وہ اسکرین ٹی وی کی ہو، کمپیوٹر مانیٹر (اب ایل سی دی کہہ لیں) یا موبائل کی۔ اور خواہ وہ کردار فلم کا ہیرو یا ولن کر رہا ہو یا گیم کا کوئی کردار۔

آج کل فلم و گیم سے ذیادہ گھر میں ٹی وی پر کوئی نا کوئی نیوز چینل چل رہا ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ تشدد کے ایسے مناظر دن مین کئی مرتبہ بار بار دیکھائے جاتے ہیں۔/p>

ایسے میں آپ اپنے گلی کے بچوں کو یوں نقلی ہتھیاروں سے کھیلتا دیکھے تو اندازہ کر لیں مستقبل کیا ہو گا؟

جمہوریت کی پٹری

اجی کچھ سنا تم نے؟

ارے کیا سنانے چلی ہو اس عمر میں
ہمسائی بتا رہی تھی ایم کیو ایم پھر حکومت میں شامل ہو رہی ہے، اپنے غداری نے اُنہیں آفر کی ہے آ جاو
ہاں میں نے بھی سنا ہے کچھ ایسا 
کیوں کیا مزرا کا بولا سچ نہیں ہے کیا؟ کیا وہ لندن والا ملک نہیں توڑ رہا؟
ہو سکتا ہے توڑ رہا ہو، مگر جمہوریت کو پٹری پر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کر کھائے اوہ مطلب ملک کر حکومت میں رہے۔
اجی اس عمر میں کیا بہکی بہکی باتیں کرتے ہو، جمہوریت ملک سے ذیادہ اہم ہے کیا؟
مجھے کیا معلوم؟ مگر دیکھ لو جمہوریت کو نقصان ہو تو سب تو تکلیف ہوتے ہے ملک کی کسی کو کیا فکر آج اہم سیاست ہے ریاست کی فکر کو رہاستی کرتے ہیں ناں۔
مطلب؟
مطلب سادہ ہے، پاکستان میں پاکستانی ہوتا تو فکر کرتا ناں جہاں پنجابی، سندھی، بلوچی، پچشتوں، سرائیکی، مہاجر اور ناں معلوم کون کون رہ رہا ہوں وہاں توجمہوریت ہی اہم ہو گی ناں۔
کیا کہہ رہے ہو؟

نوبت یہاں تک کیوں آن پہنچی

ایک اب تک کی غیر مصدقہ خبر چونکہ غیر مصدقہ ہے اس لئے آپ اسے افواہ کہہ لے یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں واپسی کی شرط یہ رکھی تھی کہ ذوالفقار مرزا سندھ کی سیاست سے آؤٹ ہو جائے اور اس ہی شرط کو پورا کرنے کے لئے آصف علی زرداری نے گذشتہ تین چار (جب کراچی میں گیلانی صاحب آئے تھے اور رحمان ملک پر مرزا صاحب پھٹ پڑے تھے تب سے) روز سے ذوالفقار مرزا کو اپنے پاس بلا کر بٹھا رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا موبائل فون بھی اُن سے لے لیا تھا! اور اُنہیں اُن کی پسند کے ملک میں سفیر بنانے کی پیش کش ہوئی مگر مرزا نہ مانے تو استعفی مانگ لیا اور مرزا نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ نہ نگلے بنے اب اور نہ اگلے!
ذولفقار مرزا نے اس پریس کانفرنس کی تیاری کن کے ساتھ کی یہ ایک الگ معاملہ ہے! اور جو مواد دوران پریس کانفرنس اُن کے پاس تھا وہ تفتیشی مواد وہ ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے یہ ایک الگ قانونی بحث ہے۔ اُن کے تمام الزامات یوں بھی غلط ثابت کرنا ایم کیو ایم کے لئے ممکن نہیں کہ ان کے تمام دستاویزی ثبوت درحقیقت اُن کے پاس تھے سوائے ایک الزام کے جو انہوں نے سب سے اخر میں قرآن پاک کو اپنے سر پر رکھ کر لگایا۔ ایم کیو ایم و الطاف کا امریکی مدد سے پاکستان توڑنے کا! اس پر امریکی وضاحت بھی جلد آ جائے گی

ٹونی بلیر کو لکھا گیا الطاف حسین کا خط

آج اپنی تباہ کن پریس کانفرنس میں ذولفقار مرزا نے الطاف حسین کے ٹونی بلیر کو لکھے گئی جس خط کا حوالہ دیا ذیل میں اُس کی کاپی آپ سے شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں انہوں نے کیا مطالبات کئے وہ پڑھ لیں!


ایسا کیوں؟؟

ب ہم کیا کریں؟ ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ دنوں ہم نے اپنے پڑوسی سی لیا ہوا انٹرنیٹ کا کنکشن اُتارا اور پی ٹی سی ایل والوں کا ڈی ایس ایل لگوانے کا آرڈر دے دیا! جس دن پی ٹی سی ایل والا اپنی ڈیوائس دے کر گیا اُس دن (جمعرات 10 اگست 2011) کو ہمارے علاقے میں بارش ہو گئی! جس سے فون ڈیڈ ہو گیا۔ یوں انٹرنیٹ کیا آن ہوتا ہمارے گھر والے فون کی سہولت سے بھی محروم ہو گئے۔ اُس پر ظلم یہ کہ موبائل فون پر کال کرکے جو رشتہ دار گھر کے نمبر نہ اُٹھانے کی شکایت کرتا یہاں سے جواب آتا "جب سے شعیب نے انٹرنیٹ لگایا ہے فون ڈیڈ ہو گیا ہے" یوں اصل قصور وار ہم ٹھہرتے!
ہم نے فون کے ڈیڈ ہونے کے اگلے دن ہی اپنی شکایت درج کروا دی مگر مجال ہے محکمہ کی کان پر جوں بھی رینگی ہو ہاں ہمیں فون کر کے ہر بار یہ ضرور پوچھتے کہ جی نیٹ لگ گیا ہے یا نہیں پی ٹی سی ایل والے! جس پر ہم انہیں اپنے فون کے خراب ہونے کا رونا روتے اور الگ سے بھی اپنی شکایت 1218 پر درج کرواتے یہ یوں کہہ لیں کہ پہلے سے موجود زخم (شکایت) ہو ہرا کرتے مگر کون سنے ہماری آہ و زاری؟ بس ایک جواب ملتا کہ جی آپ کی شکایت ہم نے آپ کی متعلقہ ایکسچنج کو کر دی ہے۔ بس!
آخر منگل کی رات بتاریخ 16 اگست ہم نے آخری بار 1218 پر کال کی اپنی شکایت میں ایک جھوٹ کا اضافہ کیا کہ "آج لائین مین آیا تھا فون ٹھیک کرنے کے 500 روپے مانگ رہا تھا جب ہم نے نہیں دیئے تو وہ وہ فون ٹھیک کیئے بغیر واپس چلا گیا" فون کال 10 بجے رات کو کی اوربدھ کی صبح بتاریخ 17 اگست گیارہ بجے لائن مین نے آ کر ایک طرف تو پہلے فون ٹھیک کیا دوسری طرف کہا جی کس نے آپ سے پیسے مانگے تھے گھر والوں نے تو ایسی کسی شکایت سے انکار کیا کہ ہم نے نہیں کی مگر 12:30 بجے پی ٹی سی ایل والوں کی میرے موبائل پر کال آئی جناب فون ٹھیک ہو گیا ناں آپ کا؟ اور اب کے تو پیسے نہیں مارنگے ناں نیر کیا یہ ہی تھا جو آج آیا جس نے پیسے مانگے تھے!! آپ کو معلوم ہو گا ہمارا جواب کیا ہو گا!!
مگر اب دل پر ایک بوجھ سا ہے کہ ہم نے یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس کا کیا حل ہے کہ یہ بوجھ ہٹ جائے؟؟ اس موئے فون کو دیکھنے کو بھی دن نہیں کر رہا!! دوئم ذہن میں یہ پریشانی کہ کیا معاشرے میں اب سچ سے ذیادہ جھوٹ کی سنی جاتی ہے؟ ایسا کیوں؟

جشن آزادی مبارک

Civic Sense

ارے میاں یہ کس کی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہو؟
“یار میری اپنی ہے ابھی گزشتہ ہفتہ لی ہے تو بھی ناں۔۔۔"
اوہ اچھا مبارک مبارک!! مٹھائی کب کھلا رہا ہے۔
“مٹھائی رہنے دے!! ایسی کی شوگر ہو جائے گی تجھے"
چل کھانا کھلا دینا اب تیرے سے کیا ضد کرنی!!! سڑکوں کی یہ مچھلی لی ہء مچھلی ہی کھلا دینا!
“بہت اچھے بھائی!! لگتا ہء جتنی کی موٹر سائیکل لی ہء اتنی کی تو دعوتیں پڑ جائیں گی!!”
یہ سواری خطرناک ہے ویسے، وہ الگ بات ہے یہ اس قدر ہو گئی ہے کہ اب تو اپنی حکومت نے pedestrian bridge پر بھی تم جیسے موٹر سائیکل والوں کے لئے راستہ بنانا شروع کر دیا ہے"
"ابے کیا کہہ رہا ہے؟ کہان بنایا ہے راستہ؟"
یار وہ شاہرہ فیصل پر نرسری اسٹاپ کے پاس تو پیدل چلنے والوں کے لئے سڑک پار کرنے کے لئے جو پل بنایا ہے! اس کے علاوہ نا تھا کے پرانے پُل پر بھی تم لوگوں کے لئے کافی پہلے سے ramp ہیں
“اللہ!! میں اپنا سر دیوار سے مارو یا تیرے سر پر پتھر دے مارو؟"
کیوں؟ کیوں؟
“ یہ حال ہے تم جیسے پڑھے لکھے لوگوں گا تو باقیوں کا کیا حال ہو گا؟ ابے لعنتی وہ موٹر سائیکلیسٹ کے لئے نہیں بلکہ wheelchair والون کے لئے ہے!”
اوہ! اچھا!
“تمہاری حکومتوں کا بھی یہ ہی حال ہے انہیں علم ہی نہیں ہوتا! کہ قانون بنا کر اُس پر عمل کیسے کروانا ہے شہر میں 120 کے قرین pedestrian پل ہیں مگر مجال ہے دو یا تین کہ علاوہ کسی میں معذور افراد ہے لئے سہولت ہو یہ ہی حال شہر میں تعمیر ہونے والی عمارتوں و تفریح مقامات کے لئے ہے"
اچھا اچھا ٹھیک ہے، سمجھ آ گئی ہے

میرے ملک دی بجلی جی

ہم نے آپ سے ایک گانا شیئر کیا تھا بجلی کا لاہور استیج ڈرامے کی شوٹنگ پر ایک ٹی وی اینکر نے اپنے مارننگ پروگرام کے لئے سنا اپنے موبائل میں ریکارڈ کیا اور دنیا سے شیئر کی خام مال کی شکل میں بجلی پر یہ گانا اب مکمل موسیقی کے ساتھ بھی وہ ہی مزا دے رہا ہے!۔


خبر ہوئی کیا خبر ہے؟

شہر میں افواہ چل رہی ہو تو تمام نہ سہی یار لوگ کہتے ہین کچھ تو سچ ہوتا ہے ہے۔ اب کیا کریں کہ ایک خبر کے ساتھ ہی وکلاء برادری میں بھی افواہ چل پڑی ہے! خبر کیا ہے؟
خبر یہ ہے کہ جناب سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محترم طفیل ایچ ابراہیم صاحب نے استعفی دے دیا ہے! خبر میں "حقیقی" و "آفاقی" حوالہ تو ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ محترم کے پاس "اہلیان کراچی" اور "کراچی لورز" نامی دیواری چاکنک کے اصل ماں باپ کے مخالف کے کیس کی نہ صرف تنسیخ کی درخواست دائر ہے بلکہ ضمانت بھی مانگی گئی ہے۔ "آفاق" میاں گزشتہ آٹھ دس سال سے جیل میں ہیں باقی کیسوں مین ضمانت مل چکی مگر اب ایک ہی کیس رہ گیا ہے! اب جبکہ 21 اپریل کے گزٹ میں یہ قانونی ترمیم متعارف ہو چکی کہ اگر قتل کے کیس کے مجرم کا مقدمہ دو سال مین ختم نہیں ہوتا تو اُسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔
اب افواء عام ہے کہ محترم جسٹس صاحب کی ذاتی وجوہات دراصل "خطرہ جان ہے" کیونکہ ضمانت تو بنتی ہے مگر جو "بیان" پر مشتعل ہوتے ہیں، شہر میں مئی کے مہینے میں "عوامی طاقت" کا مظاہرہ کرتے ہیں! اُن کا پریشر جسٹس صاحب برداشت نہ کر سکے!
سچ کیا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم تو بس افواہ کی بات کر رہے ہیں۔

اپ ڈیٹ؛ لیں جناب ایک اور جج نے کیس کی سماعت سے انکار کر دیا۔ یہ ہے مافیا کی طاقت خاص کر جب وہ سیاست میں بھی ہو اور اقتدار کا حصہ بھی۔ مگر لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔

ملا بیٹھا کرے دعا


اے لڑکی تو روتی ہے؟ دختر کراچی کے نام۔۔۔

اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
وہ باپ جو سر کا سایہ تھا
جو تم سب کا سرمایہ تھا
قربان ہوا زرداروں پر
عصبیت کے دلالوں پر
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
جو باپ سراپا شفقت تھا
جو الفت کا ایک پیکر تھا
اب لوٹ کے گھر نہ آئے گا
بس تم سب کو تڑپائے گا
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ہاں تیری یہ آہ و فغاں
چلی ہے سوئے آسماں
سارے شہر کے بام و در
انسانیت پہ نوحہ خواں
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
یہ سسکیاں، یہ ہچکیاں
کیسے سنیں صاحب صدر
سب ساتھ ہیں قاتل انہی کے
کیسے ہو انصاف ادھر؟
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ذرداری، الطاف و اسفندیار ہیں
خون ناحق پہ سبھی تیار ہیں
ان سے ناطہ توڑ لو، لوگو سنو
ورنہ یونہی خوف و دہشت میں جیو
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے


وقاراعظم (اردو بلاگر و شاعر

معذور ہیں اسپیشل یا اسپیشل دراصل معذور؟

ابے بڑا خوش ہیں خیر ہے ناں؟
“ابے خوش کیوں نہ ہوں، آج اسپیشل اولیمپکس میں شمولیت و شاندار کارکردگی کے بعد اپنے ملک لوٹ آئے ہیں! کل 57 میڈل پاکستانی کھلاڑیوں نے جیتے ہیں"
ابے ہاں کارکردگی واقعی عمدہ تھی۔
“ہاں! اور اولیمپکس کا سب سے تیز ترین ایتھلیٹ بھی ایک پاکستانی ہے!! کیا پیارا سا نام تھا اُس کا۔۔۔۔۔۔ذہن مین نہیں آ رہا"
شایدعدیل امیر!!
“ہاں ہاں یہ ہی نام تھا!! کُل تین سونے کے میڈل تو اس اکیلے نے ہی جیتے ہیں"
واقعی یار دلی خوشی ہوئی اپنے ان ذہنی معذوروں کی اس اعلی پرفارمنس پر
محترم ذہنی معذور نہیں اسپیشل!! اور اس عمدہ کارکردگی دیکھانے والے تو نہایت اسپیشل سمجھے!”
او کے بابا اوکے
ذہنی معذور تو وہ ہیں جنہیں تم اسپیشل کہتے ہوں اور وہ ملک کے لئے کھیلنے کو ذہنی اذیت سمجھتے ہیں!!! سمجھے؟"

پی سی بی، آفریدی، پیپسی اور پیسہ

لو جی آفریدی پی سی بی سے پھڈے کے بعد پی سی بی کے لئے نئے خون کی تلاش میں نکل پڑے مگر پیپسی کے تعاون سے! یہ پیپسی کا کمال ہے یا پھر کیا کہ پھڈے کے بعد یوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرکٹ اسٹار پروگرام کی تشہری پروگرام کا حصہ بنے اس پراگرام کے تحت دراصل سولہ سال کی بالی عمر کے نوجوان کرکٹرز کی تربیت و اُن میں عمدہ کھلاڑیوں کی تلاش کے لئے شہر شہر کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ اس کی تشہیری پروگرام کے لئے آفریدی کے انتخاب کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس کچی عمر میں ہی ممکنہ مستقبل کے کھلاڑیون کو یہ باور کروانا ہو کہ تم یہ جان لو کہ ہم اسٹار کو کیسے کھڈے لائین لگا دیتے ہیں! چھڈو جی اشتہار دیکھو!! اور بتاؤ کس کی طرح کیچ نہین چھوڑنا اور کسی کو دوسرا چانس مل سکتا ہے؟


ہم کہیں گے تو شکایت ہو گی

امریکی اسٹیٹ ڈپاٹمنٹ کی ویب سائیڈ پر اگر "سفارت کار ہو حاصل استہقاق" والی دستاویز کے صفحہ 164 پر درج ہے

In order to understand  that some control must be retained, one need only  recall the sense of outrage expressed by U.S. Citizens  whenever diplomatic immunity thwarts prosecution of  a serious crime by a diplomat assigned to the United  States. For this reason, the principle developed that  all persons enjoying privileges and immunities also  have the obligation and duty to respect the laws and  regulations of the receiving state. This principle is  expressly stated in both the VCDR and the VCCR

یعنی کہ امریکی حکومت کے بیان کردہ اصولوں میں یہ بات تو تسلیم کی گئی ہے کہ 'استہقاق کے حامل افراد کی یہ ذمہ داری و فرض ہے کہ وہ متعلقہ ریاست کے اصول و ضوابط اور قوانین کا احترام کریں'

اردو محفل کی اس پوسٹ سے معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے میں پاکستان میں ہم جنس پرستوں کے جشن کی تقریب منعقد کی، پاکستان میں امریکی تعاون سے منعقد ہونے والی یہ پہلی ہم جنس پرستوں کی محفل تھی۔ یہ تقریب گزشتہ ماہ 26 جون کو منعقد کی گئی۔
یعنی گزشتہ ماہ کے آخری عشرے میں کم و بیش اس طرح کی دو تقریبات ہوئی اور ایک کو مقامی اخبارات میں من چاہی کوریج ملی! انگریزی و اردو دونوں اخبارات میں۔ پہلی تقریب جو نتھیا گلی مین ہوئی اُس کو بی بی سی نے کوریج دی۔
ہم جنس پرستی اور جنسی بے راروی ہمارے معاشرے میں درست طور پر غلط سمجھے جاتے ہیں اور ہمارا مذہب ان واہیاتیوں کی اجازت بھی نہیں دیتا اور اس ہی لئے ہمارے ملک میں موجود قوانین کے تحت یہ قابل گرفت عمل ہے۔ بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہر فورم پر پاکستان نے ایسے کسی بھی عمل و قانون کی حمایت سے انکار کیا جس سے ہم جنس پرستی کی حمایت کرنا مقصود ہو۔ اس کی تازہ ترین مثال بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے فورم پر امریکہ کی جانب سے ہم جنس پرستی کی حمایت میں پیش کردہ قرارداد کے موقع پر پاکستان کے نمائندہ ضمیر اکرام نے صاف طور پر کہا تھا یہ "ہم جنس پرستی کسی طور پر بنیادی انسانی حق نہیں ہے" اس کے باوجود امریکی سفارت خانے کا یہ عمل کہ پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی تقریب منعقد کرنا اور  امریکی سفارت کار رچرڈ ہوگلینڈ کی طرف مکمل حمایت کا یقین دلانہ ایک غیر مہذب عمل اور اپنے کی بیان کردی سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ پریس ریلیز کا متعلقہ حصہ

Addressing the Pakistani LGBT activists, the Chargé, while acknowledging that the struggle for GLBT rights in Pakistan is still beginning, said “I want to be clear: the U.S. Embassy is here to support you and stand by your side every step of the way.

جہان ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت اور اُس کا سفارت خانہ اپنی اعمال پر خود توجہ دے اور پاکستانی عوام کے جذبات اور قوانین کا احترام کرے وہاں حکومت وقت سے بھی یہ امید رکھتے ہیں تعاون و تعلقات کو غلامی کی حدود سے باہر رکھے اور ایسے معاملات میں سخت موقف اختیار کرے۔ مگر لگتا یہ ہے کہ دونوں کام نہیں ہونے۔

حلالہ

"ابے  کچھ جانا تم نے کیا ہو رہا ہے اب"
کیا ہوا بے؟
"ابے اب کے لندن والی سرکار نے  حکومت سے علیحدگی کے بعد واپسی کے تمام امکانات کو رد کر دیا ہے"
تو یہ تو پرانی بات ہو گئی کوئی نئی بات بتاو
"نئی بات یہ کہ  اب لندنی گدھی نشین اگلے الیکشن کے بعد ہی مسند اقتدار میں آنا ہے"
مشکل ہے یہ
"کیا مشکل ہے؟"
اتنا لمبا وقفہ۔
"تو پھر کیا ہو گا"
حلالہ
"مطلب؟"
جناب  چھ بار کی علیحدگی کے بعد تو اب تجدید نکاح پر واپسی نہیں ہو سکتی اب کے تو حلالہ ہی کرنا پڑے گا وہ بھی ابے خصم کے دشمن یعنی مسلم لیگ نون سے
"ابے ابے مسلم لیگ نون سے کیوں؟؟ اپنے مولانا ڈیزل سے کیوں نہیں اگر حلالہ کرنا ہی ہے تو؟"
تو بھی بچہ ہے مولوی  نکاح کروانے کے لئے ہی ٹھیک رہتا ہے اُس سے نکاح کرلو تو چھوڑتا نہیں اگر چھوڑ دے تو کہیں کا نہیں چھوڑتا اب دیکھ لو مولانا نے قاضی کو کہیں کا چھوڑا جبکہ وہ قاضی تھا
"کیا بات ہے بھائی تو اب حلالہ کا انتظام ہو رہا ہے کہ انتظار ممکن نہیں۔۔ہمم"


گوگل پلس بمقابلہ فیس بک

کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار الفاظ کے سے ذیادہ بہتر ہوتی ہے مگر اس کے باری مین کیا رائے ہے؟

اور

اگر کسی کو گوگل پلس کی دعوت اب بھی درکار ہو تو مجھے میل کر لے

چل چھٹی پر نکل!


گزشتہ دنوں اردو بلاگنگ کی دنیا میں ہی ویڈیو مین نظر آنے والے قصے سے متعلق پڑھ کر ہی خود پر ترس آیا تھا! کیونکہ کہ ہم ایسے واقعات کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں کہ بچہ یا تو سڑک پر پیدا ہو جاتا ہے یا ہسپتال میں سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے موت کی آغوش مین چلا جاتا ہے! ایسے میں برطانوی ڈاکٹر کا اپنے ملک کے وزیراعظم سے یہ سلوک دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہاں اخلاقیات زندہ ہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں اس میدان میں کچھ کچھ خرابی کی ابتداء ہو ہی گئی ہے لگتا ہے کیونکہ سنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو جبری چھٹیوں پر روانہ کر دیا گیا ہے!!!خبر کا آغاز نہایت دلچسپ ہے "احساس کمتری کے مارے ہوئے معاشرے ہمیشہ سے برطانوی جمہوریت کے راگ الاپتے رہے ہیں لیکن حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ " ہون فیر!!!!

روشن خیالوں جرنیلوں کا مولوی پن

جی ہم کہہ سکتے ہیں "مولوی" ایک پیشہ نہیں کیفیت ہے یہ کسی وقت کسی میں بھی بیدار ہو سکتی ہے یا پروان پا سکتا ہے اگر ہم یہ مان لیں کہ روشن خیالوں کے الزام کے مطابق "مولوی" ایک ایسا کردار ہے جو اپنے نظریے و سوچ و مقاصد کے راستے میں آنے والی ہر بات و عمل کو اسلام مخالف قرار یا خلاف شریعت قرار دے کر اُس کو کچلنے یا راستے سے ہٹانے کا انتظام کرتا ہے۔
عوام کا عام سا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری حکومت و انتظامی ادارے اپنے تمام اقدامات ملکی مفاد میں اُٹھائے مگر ذاتی مفاد کی رسی سے بندھے صاحب اقتدار و اختیار کے حامل طبقہ کے افراد اپنے ہر قدم کو ملک و قوم کے مستقبل کے لئے بتا کر اندھیرے غار کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔
امریکی جی حضوری میں اول اول چند ٹکوں کی خاطر ملک کی نوجوانوں و عزتوں کو فروخت کیا۔ اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جب امریکا کی جنگ پر سوال کیا جانے لگا تو خاموش کروانے کے لئے "مولوی" نامی کردار کی روش پر چلتے ہوئے حق کی آواز بلند کرنے والے کو "شدت پسند" یا "انتہا پسندوں" کا ساتھی قرار دے دیا!!
مگر یقین جانے اب بھی روشن خیال کود آئیں گے میدان میں اور "روشن خیالوں کے مولوی پن" سے آپ کو مزید واقفیت دیں گے۔

حوالہ

یہ کیا بات ہوئی؟

دنیا میں اب تک تمام کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کی مشہوری کرتی ہی وہ بتاتی ہے کہ ہماری اس پروڈکٹ میں یہ خوبی ہے آپ اسے ضرور استعمال کریں اور اگر آپ اس کو وافر مقدار میں استعمال کریں گے تو آپ کو یہ یہ رعاتیں دی جائِں گی۔ صارف تک پہنچنے کے لئے وہ باقاعدہ تشہیر کے لئے الگ بجٹ مختص کتی ہیں مگر۔۔۔۔۔ اس کے بر عکس اپنے پیپکو والے اپنی پروڈکٹ کے بارے میں کہتے ہیں کم سے کم استعمال کرو، لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ کم سے کم بجلی استعمال کرو اور وافر استعمال کرع گے تو اور مہنگی ملی گی باقاعدہ تشہیر کرتے ہیں اور اپنے اس پیغام کو بذریعہ تشہیر عوام تک پہنچانے کے لئے باقاعدہ رقم مختص کرتے ہیں مگر عوام ہے کہ مانتی ہی نہیں!! یہ کیا بات ہوئی؟ چلیں رہنے دیں اشتہار دیکھے!

;

اور یہ گانا بھی



++++++++++++

ماہرین نے بلاتحقیق یہ بات ثابت ہونا تسلیم کر لی ہے کہ دنیا میں ہونے والی تمام طلاقوں کی پہلی اہم وجہ دراصل کوئی اور نہیں بلکہ خود شادی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ تمام شادیوں کا انجام طلاق نہیں ہوتا مگر اس حقیقت سے انکار کیا جانا نہ ممکن ہے کہ بغیر شادی ہے طلاق دی جا سکے، اس ہی سلسلے میں پروفیسر نا معلوم نمبر 1 نے تحقیق کئے بغیر زبان کھولی کہ شادی طلاق کی واحد وجہ نہیں مگر اولین وجہ ضرور ہے اُن کا کہنا تھا کہ ہم جو طلاق پر بلا تحقیق یہ بات کہہ رہے ہیں اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم خود شادی شدہ ہیں یا ہم میں سے اکثر کے نہایت قریبی رشتہ دار یا دوست وغیرہ، ماہر نامعلوم نمبر 2 کا کہنا تھا کہ طلاق کی تعداد میں ہم دوسری و تیسری وجہ یا دیگر وجوہات کو دور کر کے ہی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ طلاق پہلی وجہ یعنی شادی کے اختتام کا موجب بنتی ہے یوں پھر باقی وجوہات ثانوی ہو جاتی ہیں پروفیسر نامعلوم نمبر 3 نے پروفیسر نامعلوم نمبر 2 کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہان یہ بات درست ہے کہ اول وجہ شادی ہی ہے طلاق کی لہذا اگر اس سلسلے میں شادی کا نہ ہونا طلاق کے نہ ہونے کی اولین گارنٹی ہے!! جب اس رپورٹ پر ملک کے مشہور ماہر نامعلوم نمبر 4 سے پوچھا گیا تو انہون نے ماہرین کے ناموں کے بارے میں جاننا چاہا جب بتایا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کے خوف سے نام بتانے سے گریذہ ہیں تو پروفیسر نامعلوم نمبر 4 نے کہا یہ کیا بات ہوئی؟ بعدازہ انہوں نے ہمارے رپوٹر نامعلوم کو فون کر کے اپنا نام شائع نہ کرنے کو کہا کہ دراصل میری بیوی کہیں یہ رپورٹ نہ پڑھ لے ویسے بات ٹھیک ہی ہے۔

دفعہ 144

“ابے سنا کچھ اپنے شہر قائد میں دفعہ 144 لگ گئی"
ابے کیا اب کے سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی لگی ہے؟
“اڑے نہیں بے! وہ شہر میں سیاسی بینر، جھنڈے ،پوسٹرلگانے اور دیوار پر سیاسی نعرہ وغیرہ پر پابندی لگ گئی ہے"
نہ کر یار! کس کس پر پابندی ہے؟
“ابے سب سیاسی جماعتوں پر"
چل اوئے! کیا چھوڑو بندہ ہے تو سب پر کیسے لگ سکتی ہے؟
“کیوں!!! کیوں نہیں لگ سکتی"
ابے آدھا شہر بی بی کی سالگرہ منانے کی دعوتوں پر مشتمل بینر، پوسٹروں اور پارٹی کے جھنڈوں سے بھر گیا ہے اور تو پابندی کی بات کر رہا ہے
“اچھا!!! ایسا ہے"
پھر ہو سکتا ہے کہ اپنے شہر کے رحمان بابا نے "مشروب حیات" کے سرُور میں سالگرہ منانے کی منادی کو 144 لگائی ہو؟
چل اوئے!!۔

خبر: حوالہ اول اور دوئم

سماجی میڈیا کانفرنس (مکمل روداد)

سماجی میڈیا کانفرنس کی مکمل رودادعمار ابن ضیاء کی زبانی کچھ یوں ہے۔

قسط اول
قسط دوئم
قسط سوئم

 

سماجی میڈیا کانفرنس

گزشتہ ہفتہ ہم نے آواری ٹاور میں پاکستان (منتظمین کے بقول) کی پہلی بین الاقوامی سماجی میڈیا کانفرنس میں شرکت کی!!۔ اس کو کو امریکی قونصلیٹ نے منعقد کیا تھا، ہاں جی خرچہ اُن ہی کا تھا، اور شرکاء کو دیئے جانے والے اکثر تحفے بھی۔ اس تقریب کو بظاہر پی سی ورلڈ نامی گروپ کی طرف سے منعقد کیا گیا! یعنی کہ International Data Group, Inc نے۔تقریب کا دعوتی و ادارے کے تعارف کا پیج اب اُن کی ویب سائیٹ سے نہ صرف غائب ہے بلکہ فرنٹ پیج بھی ہٹا لیا گیا ہےمزید یہ کہ  ان کے ٹویٹر آکاونٹ میں بھی آخری اپ ڈیٹ آٹھ جون یعنی کانفرنس سے دو دن قبل کی ہیں مزید جس سے کچھ اچھا تاثر نہیں اُبھرتا! اور یوں لگتا ہے کہ سب کچھ ایک "خاص پریکٹس" کے لئے کیا گیا۔

اس کانفرنس میں تین اردو بلاگر بھی شریک تھے ایک محمد اسد (جو اپنی نیوز ایجنسی کی طرف سے اس کی کوریج کرنے آئے تھے بطور بلاگر نہیں)، عمار اور میں (ہم اُن کی دعوتی لسٹ میں نہیں تھے اول اول مگر پھر دعوتی میل مل گیا!!)، اس کانفرنس کی روداد عمار نے تحریر کرنی (پہلا حصہ وہ تحریر کر چکے ہیں) ہے دیکھے باقی کا کب مکمل کرتے ہیں! اس کانفرنس کی دوران ایک ویڈیو بطور پرومو چلتی رہی جس میں بیان کی گئی معلومات نہایت عمدہ ہیں اور کام کی مگر اس میں ایک خامی تھی جو مجھے اچھی نہیں لگی!!! پاکستان کے نقشہ میں کشمیر نہیں تھا!! ویڈیو دیکھ لیں!

اس کانفرنس کو اٹینڈ کر کے میں نے محسوس کیا کہ اردو بلاگنگ سے متعلق ایک ورک شاپ نہ لے کر (اس سلسلے میں سستی کا مظاہرہ کر کے) ہم نے غلطی کی ورنہ ایسا کرنا مشکل نہ تھا۔

اپڈیٹ:- پی سی ورلڈ پاکستان کی ویب سائیٹ واپس آ گئی ہے۔

المیہ تو المیہ ہی ہے

سچ کو اپنی سچائی کے لئے کیا کسی کی گواہی کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں تو یہ سچائی کے ساتھ ذیادتی ہی نہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔
کراچی میں ہونے والی رینجر کے ہاتھوں ہونے والی دہشت گردی پر میرا وہ ہی ردعمل ہے جو سیالکوٹ والی سفاکی پر تھا!۔
دونوں واقعات کی بربریت کے گواہ اور شاہد کیمرہ مین میری نظر میں اس سفاکی و بربریت کء معاونین میں سے ایک ہیں۔

جہالت بمقابلہ دہشت گردی کی جنگ

جگر کیسا ہے؟
“زخمی"
کیوں کیا ہوا؟
“ابے تو نے بجٹ نہیں دیکھا جو پیش ہوا ہے"
ہاں دیکھا تھا! یار کمال کر دیا اپوزیشن نے وزیر خزانہ کو چوڑیاں تک پیش کر دین تھی مزا آ گیا!!۔
“ابے یہ حال ہے اس قوم کا جہالت پر قائم رہنا!! یہ کون سا اپوزیشن نے جمہوری عمل کیا شور کر کے؟"
تو کیا کرتے؟
“اگر اصل میں جمہوریت پر یقین ہے تو اب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کر کے اُسے عوامی بنائیں"
مثلا جناب کیا کرے؟
“اب تم یہ دیکھو کیا بجٹ آیا ہے صحت کی مد میں 16 ارب 90 کروڑ روپے یعنی فی پاکستانی صرف 85 روپے!!! مذاق ہے کہ نہیں"
ہاں!! کم ہیں۔
“اور تعلیم کی مد میں صرف 16 ارب روپے یہ بھی کوئی رقم ہے؟ "
ابے نہیں ہیں ناں پیسے اپنا ملک غریب ہے ناں!!کیا ہوا؟؟ اور ویسے بھی وفاق ہی کی ذمہ داری تو نہیں یہ اب صوبے کی ذمہ داری ہے
“واہ واہ!! دہشت گردی کی جنگ کے لئے قریب 495 ارب رکھے ہیں!! غریب ملک نے یعنی تعلیم کے مد میں پورے سال کا بجٹ دہشت گردی کی جنگ کے ایک دن کے بجٹ کے برابر!!!”
تو کیا ہو!! ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے!!!۔
“تو تمہارا خیال ہے جہالت کے اندھیروں سے پھوٹنے والی جنگ پر اربوں خرچ کرنا بہتر ہے مگر جہالت کو ختم کرنے کے لئے کرچ کرنا اہم نہیں؟؟"
یار پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو!!! خدا حافظ

الم پلم

جی جناب مہنگائی کے اعلان کا مہینہ آن پہنچا! میں بجٹ کو مہنگائی ہی سمجھتا ہوں!! لہذا جون مہنگائی کا مہینہ ہوا!
آج کل لکھنے کو دل ہی نہیں کر رہا، کیوں؟؟؟ یہ بھی معلوم نہیں! ایک مسئلہ تو میرے ساتھ شروع سے ہے میں اپنے اندر کی تحریک سے کچھ لکھو تو لکھو ورنہ نہین لکھا جاتا یہ بھی کئی بار ہو چکا ایک عنوان/مضمون پر کچھ لکھا بس اختتامی جملے باقی ہیں مگر پھر بلاگ پر پوسٹ نہ کیا! ہر بار ایسا کرنے کی وجہ مختلف ہوتی تھی!
کئی دوستوں اور احباب نے بذریعہ ای میل و ایس ایم ایس بھی تجویر دی کہ اس ٹاپک پر اپنے بلاگ پر کچھ پوسٹ کرو مگر دل ہے کہ مانتا ہی نہیں!! وجہ یہ کہ جب تک مجھے اندر سے تحریک نہ ہو نہیں لکھتا!!
کیا اس کا کوئی حل ہے؟؟؟



سچ اور بوری

بیٹا ہمیشہ سچ بولا کرو، کیونکہ جو جھوٹ بولتا ہے اُس کی زبان کالی ہو جاتی ہے۔

"بس رہنے دیں!!! امی جو سچ بولتا ہے اُس کی بوری بند لاش ملتی ہے"

دھرنا!!! آپ کی رائے؟




ہارن آہستہ بجائیں!!

یوں تو ذاتی طور پر مجھے شہر کی دیواروں پر کی گئی چاکنگ ہر اچھی نہیں لگتی۔ بات بہت سادہ ہے کہ یہ شہر کے حسن کو خراب کرتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنے ممکنہ ہونے والے سیاسی جلسہ اور موقف کا اظہار ان دیواروں کو کالا کر کے دیتی ہے! اس کے علاوہ "------” کمزوری، کالے جادوں، ممکنہ جسمانی بیماریوں، آج کل چند ٹی وی پروگرام ککی تشہر بھی، مذہبی جماعتوں و گروہوں کے نعرے اور دیگر معاملات کا اظہار بھی وال چاکنگ کے ذریعہ ہوتا ہے۔
ملیر بار کے سیکٹری جنرل جو کے ایبٹ آباد سے تعلق رکھتے ہیں کل ہے اپنے شہر گئے! آج اُن کا ایک ایس ایم ایس ہمین موصول ہوا! ایس ایم ایس کیا تھا ایبٹ آباد میں موجود عوامی رائے کا اظہار تھا اُن کے بقول انہوں نے پی ایم اے ایبٹ آباد کے قریب دیوار پر لکھا ہے!
ہارن آہستہ بجائیں، آرمی سو رہی ہے"
یہ جملہ 2 مئی کے والے قصے کے بعد تحریر ہوا ہے۔


اردو پر خُودکش حملہ

اردو برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی ایک نمایاں پہچان رہی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اسے ہر آئین میں قومی زبان قرار دیا گیا۔ لیکن اسے وقتا فوقتا پرایوں اور اپنے "محسنوں" کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ تقسیم سے قبل پرائے اور اسکے بعد اپنے اس پر حملہ آور ہوتے رہے۔ اب صوبہ پنجاب کی حکومت نے اس پر حملہ کر دیا ہے۔ قدرے تفصیل میں جانے سے قبل قارئین کرام کو گزشتہ حملوں کی جھلکیاں دکھانا دلچسپ امر ہو گا۔
اردو 1849ء میں سکھ دور کے اختتام پر صوبہ پنجاب کے سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں رائج کی گئی۔ اس پر پہلا حملہ 1862 میں ہوا۔ اردو کے خلاف ایک زوردار مہم چلائی گئی اور صوبہ بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ پنجان کے گورنر سر رابرٹ منٹگمری نے انگریز کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کا اجلاس طلب کر کے آراء حاصل کیں۔ اکثر شرکاء نے اردو کے حق میں تقاریر کیں اور یہ حملہ ناکام ہو گیا۔ نتیجا اردو سرکاری زبان رہی اس سخت جاں زبان پر دوسرا حملہ 1882ء میں کیا گیا۔اردو کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کیلئے ہنٹر تعلیمی کمیشن قائم ہوا۔ ایک سوالنامہ جاری ہوا اور بظاہر پنجاب سے اس کی بے دخلی کے واضح اشارے ملنے لگے۔ اگرچہ عوامی سطح پر اس حوالے سخت بے چینی پائی جاتی تھی لیکن وہ بیچارے تو روزاول سے مجبور ہی رہے ہیں۔ کوش قسمتی سے سرسید اس کمیشن کے رکن تھے۔ مسلمانوں کو انگریزی پڑھنے کی تقلین کرنےوالے یہ مبلغ اردو سے بھی بے پناہ محبت کرتے تھے چنانچہ انہوں نے اس حملے کو بھی بڑے ٹیکنیکل طریقے سے ناکام بنا دیا۔ تیسرا حملہ 1908ء میں ہوا جب ڈاکٹر بی سی چڑجی نے پنجاب یونیورسٹی کے جلسہ اسناد مین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "پنجاب میں اردو کی جگہ پنجابی رائج کی جائے" مسلمانان پنجاب نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ چنانچہآل اندیا مسلم ایجوکیشن کانفرنس کا پنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں علامہ اقبال، سر شیخ عبدالقادر، سر محمد شفیع، مولانا شاہ سلیمان پھلواری، سرامام علی اور مولوی محبوب عالم ایڈیٹر "پیسہ اخبار" اور دیگر مسلم زعماء شریک ہوئے۔ چنانچہ اردو حمایت میں ایک زبردست قرارداد منظور کی گئی اور ساتھ ہی چیٹر جی کی تجویز سے سخت اکتلاف بھی ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح تقسیم ہند سے پہلے یہ تیسرا اور آخری حملہ بھی ناکام ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد بنگال میں اردو کے خلاف آواز اُٹھائی گئی جسکے نتیجہ میں قائداعظم مرحوم بنفس نفیس وہاں تشریف لے اور ڈھاکہ میں دو ٹوک الفاط میں اعلان کیا کہ اردو اور صرف اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔ اگرچہ جب سے اب تک یہ انگریز کے ذہنی غلاموں کے چرکے مسلسل سہتی رہی لیکنایوبی دور میں اس کے رسم الخط کو عربی کے بجائے سرے سے رعمن مین تبدیل کرنے کے عزائم کا اظہار کیا جانے لگا۔ اپس بار بابائے اردو مولوی عبدالحق، ڈاکٹر سید عبداللہ، مولانا صلاح الدین و دیگر نامور اردو نے اسکا بے مثال طریقے سے دفاع کیا اور اب کی بار بھی یہ خطرہ ٹل گیا جبکہ ان زعماء کے بعد احمد خان (ملیگ) مرحوم، صدر تحریک نّاذ اردو نے اپنی بساط کے مطابق قومی زبان کی حمایت کا علم بلند کئے رکھا۔ ان کی وفات کے بعد اردو "دشمنوں" کیلئے عملا میدان صاف ہو گیا۔
خودکش حملہ آوروں کے متعلق اب تک جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق مسلمان نوجوان کو دنیا میں ہی جنت کی نعمتوں اور حوروں بہشت کے حسن دلفریب کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں اور اس بات پر آمادہ کر لیا جاتا ہے کہ "اپنی جان کو دھماکہ مین اڑا کر ابدی جنت حاصل کو لو۔ اس عارضی زندگی و ناپئدار دنیا کو خیر باد کہو، اپنے ہم وطنوں کو خاک و کون مین لوٹاؤ اور ابدی زندگی کی خوشحالیوں سے متمتع ہو جاؤ"۔ بد قسمتی سے کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب مین آئینی تحفظ رکھنے والی اور قائد اور علامہ کی محبوب زبان اردو کے حوالے سے پیش آ گئی ہے۔ حکومت پنجاب کو اسکے مشیر حضرات نے اردو ذریعہ تعلیم کو اسکولوں سے بے دخل کر کے "انگلش میڈیم" کے نفاذ کے تحت ترقی اور خوشحالی کی جنت کا یقین دلایا ہے، لہذا خادم اعلی پنجاب برصغیر میں مسلم رہنماؤں کی اردو کیلئے دو توک حمایت اور جدوجہد کو ایک طرف رکھ کر پنجاب کو "جنت ارضی" بنانے پر تلے ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ ان کے کیال مین متذکرہ قائدین اور پاکستان کے تمام آئین بنانے والے دور جدید کے تقاضوں اور انگریزی کی اہمیت سے قطعا نا بلد تھے جبکہ حکومت پنجاب جو جنت حاسل کرنا چاہتی ہے بلاشبہ اس کی ترقی اور خوشحالی کے بجائے ناخواندگی اور جہالت کے فوارے تو ضرور ہی پھوٹ رہے ہو گے کیونکہ ایک محتاط اندزے کے مطابق 1943ء سے اس وقت تک چالیس لاکھ نوجوانوں کو صرف اس لئے جہالت کے غاروں میں دھکیل دیا گیا کہ وہ دسویں جماعت میں انگریزی (بطور مضمون) پاس نہیں کر سکے۔ اس طرح بی اے ، بی ایس سی کے حالیہ نتائج کے مطابق 78 فیصد ناکام ہوئے جن میں بہت بری اکثریت انگریزی میں فیل ہونے والوں کی ہے اور کم و بیش ہر سال ذہانت کا یوں قتل عام ہو رہا ہے۔ ایسا آخر کیوں نہ ہو؟ ہمارے ارباب اقتدار انگلش دیوی کے چرنوں میں اپنے نوجوانوں کی ذہانتوں کا خون یوں پیش نی کریں تو وفاداری کا اور کیا ثبوت پیش کریں؟ لیکن ہم تو ان سے مخلصانہ گذارش کرین گے کہ اردو پر رحم فرمائیں اور قومی تشخص کے اثاثے کو تباہ نہ ہونے دیں۔

تحریر: ڈاکٹر محمد شریف نظامی

32 سال کی محلت

“اوئے بڑا پریشان لگ رہا ہے خیر تو ہے؟"
بس یار نہ پوچھ! واقعی پریشان ہوں
“کیوں کیا ہوا"
یار وہ بھٹو کا کیس کھل گیا ہے اُس پر پریشان ہوں
“کیوں کیا تیرا نام بھی قاتلوں میں ہے کیا"
ابے نہیں یار مین تو تب پیدا بھی نہیں ہوا تھا یہ 32 سال پرانا کیس ہے اور میں تو صرف 29 کا ہوں
“تو پھر تجھے کیا مسئلہ ہے"
یار میں یہ سوچ کر پریشان ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے صاحب نے بی بی کے قاتلو.ں کو بھی 32 سال کا وقت دے دیا ہے۔
“کیا! کیا! کیسے"
یار دیکھ نان اگر ایک بھٹو کا کیس کو 32 سال بعد دوبارہ کھولا ہت تو دوسرء اور تیسرے بھٹو کے قاتلوں کو بھی تو 32، 32 سال ملیں گے
"اوئے اوئے! یہ دو بھٹو اور کہاں سے آ گئے؟"
بی بی اور اُس کا بھائی!!!
“اوہ"

دعا کی قبولیت کا خطرہ

یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟
“یہ کاپی ہے" میں نے جواب دیا
“یہ کیسی کاپی ہے؟" قدرت نے پوچھا
“اس میں دعائیں لکھی ہیں- میرے کئی ایک دوستوں نے کہا کہ خانہ کعبہ میں ہمارے لئے دعا مانگنا۔ میں نے وہ سب دعائیں اس کاپی میں لکھ لی تھیں"
“دھیان کرنا" وہ بولے "یہاں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے۔"
“کیا مطلب؟" میری ہنسی نکل گئی۔ "کیا دعا قبول ہو جانے کا خطرہ ہے؟"
“ہاں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا قبول ہو جائے"
میں نے حیرت سے قدرت کی طرف دیکھا۔
بولے "اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر ہیں۔عرصہ دراز ہوا انہیں روز بخار ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر، حکیم، وید، ہومیو سب کا علاج کر دیکھا۔ کچھ افاقہ نہ ہوا، سوکھ کر کانٹا ہو گئے آخر چارپائی پر ڈال کر کسی درگاہ پع لے گئے۔ وہاں ایک مست سے کہا بابا دعا کر کہ انہیں بخار چڑھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیںآج تک بخار نہیں چڑھا۔۔۔۔۔اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹھے اکڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی گردن ادھر اُدھر ہلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ مرض صرف اُسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ انہین بخار چڑھے۔ انہیں دھڑا دھڑ بخار چڑھنے کی دوائیاں کھلائی جا رہی ہیں مگر انہیں بخار چڑھتا"
دعاؤں کی کاپی میرے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی۔ میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھآ۔
“میرے اللہ! کیا کسی نے تیرا بھید پایا ہے"


اقتباس" لبیک" ؛ مصنف"ممتاز مفتی"

بھتہ مافیا کے خلاف بھتہ خوروں کی جنگ

کراچی میں کل ہرتال تھی تاجروں کی! کامیاب ہو گئی! ہرتال کامیاب ہوئی بقول اخبارات کے مگر مقصد میں کامیابی ابھی باقی ہے! مگر اس سے قبل یہ جاننا ضروری کہ مقصد کیا ہے اور کس کا؟ ابتدا میں خبر آئی یہ تاجروں کی ہرتال بھتہ مافیا کے خلاف تھی! بعد میں انکشاف ہوا یہ ایک بھتہ مافیا کی دوسری بھتہ مافیا سے لڑائی تھی جس کا آغاز بھتہ خوروں کے صوبائی و وفاقی اتحاد کے ساتھ ہی ہو گیا تھا دراصل یہ مفاد کا اتحاد تھا جو بھتہ کی لڑائی کے باوجود رحمان بابا کی کرامت سے اب تک جاری ہے جس میں شدت گزشتہ سال کے آخری ماہ کی اس تقریر سے ہوئی!




ایک وڈے وزیر داخلہ ہیں اور ایک نکے یا صوبائی! نکے لڑائی کرتے ہیں وڈے صلح کے لئے پہنچ جاتے ہیں! نکے کی لڑائی اب اتحادیوں کے حکم پر تاجروں کی ہڑتالوں تک جا پہنچی ہے تو وڈے ابھی بھی سیاسی بیان سے فضاء خوشگوار کرنے کی کاوش میں مصروف ہیں مگر اتحادی راضی نہیں کہتے ہیں اپنوں کو قابو کرو! دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔
کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!
ایک دور تھا کہ شہر کا تاجر اپنے علاقے کے تھانے کو تو monthly دیتا تھا ہی مگر ایک آدھ مثال میں علاقائی بدمعاش کو اس لئے بھی چندہ کے نام پر کچھ نہ کچھ تھما دیتا تھا کہ وہ دیگر بدمعاشوں سے اُسے تحفظ دے گا! تاجر یہ بدمعاشی بھی اپنے کاروبار کی بقاء کے لئے خوف کے زیر اثر دیتا تھا! اور یہ بھتہ اُسے یوں ایک چوکیدار مہیا کر دیتا!
مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!
اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!
آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!
اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!

تم نے بُرا کھیلا! مگر تم اچھے ہو!

پاکستان انڈیا سے ہار گیا! ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، مگر اپنی قوم کا کیا کریں جنہیں پڑوسی سے ہار قبول نہیں؟ اس بار ردعمل ویسا نہیں رہا کہ لوگ ٹیم پر ہار کی بناء پر ڈنڈے لے کر پڑ جائے اس بار ردعمل کافی مثبت رہا! اُمید و خواہش کے باوجود پیشن گوئی پر مشتمل ردوعمل نہیں ملے!
پاکستان کی عوام کو یار لوگ کہتے ہیں میڈیا نے شعور دیا! میڈیا میں اتنا شعور تھا کہ اچھے اچھوں کو مرحوم طوطے کی پیشن گوئی پر جیت کے خواب دیکھا دیئے اور طوطے کے حمایتی نجومیوں کو بھی میدان میں لے آئے! اب آپ بتاؤ کہ ہم میں اور پڑوسیوں کے میڈیا کی حرکتوں میں کتنا فرق ہے؟
سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ٹیم کے اس ٹورنامنٹ میں ویسے کھیل کا مظاہرہ نہیں کیا جیسا کہ اُس سے توقع تھی! یہ عوام کی امیدوں پر پورا نہ اُترنے کا کام پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ تین ورلڈکپ سے کر رہی ہے! اول دونوں میں امید تھی کہ اچھا کھیلے گے سیمی فائنل نہیں تو ناک آؤٹ مرحلے تک تو ضرور جائے گے اور ایسا نہ ہوا ٹیم وقت سے پہلے واپس لوٹ آئی!! اب کے عوام کی رائے تھی کہ جلد واپس آ جائے گی مگر سیمی فائنل کھیل گئی! کر لو گل؟ خود کپتان نے سیمی فائنل سے آگے کا وعدہ نہیں کیا تھا!
میں بھی عوام میں سے ہوں! اس لئے ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتا ہوں! سات نوجوان کھلاڑی! جن کا یہ پہلا بڑا ٹورنامنٹ! اور اُس میں سیمی فائنل کھیلنا! ایک نہایت عمدہ کارگردگی ہے! مایوسی ہوئی سیمی فائنل میں یونس خان و مصباح کی بیٹنگ سے! یوں لگا وہ ٹیم کے لئے نہیں اپنے لئے کھیل رہے ہیں! واقعی لگتا ہے مصباح نے اس میچ میں آفریدی سے ہاتھ کر لیا ہے! عمر گل بھی پریشر میں اپنے کھیل کو خراب کر بیٹھے! عبدلزاق اور کامران کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے! سوچنا کیا ہے یہ تو اپ جانتے ہی ہوں گے؟
ان تمام باتوں کے باوجود "پاکستانی ٹیم! تم بُرا کھیلے مگر تم پھر بھی اچھے ہو" بھارت سے یہ میچ کھیلنا بھی تمہاری جیت ہے کیونکہ جو ملک جنوری 2009 سے تم سے نہ کھیلنے کے بہانے بنا رہا تھا تم نے اُسے وہاں پھنسایا کہ نہ اُگلے بنے نہ نگلے۔
ویسے ہم ہارکر بھی باوقار رہے ہیں! کہ اُن کی عزت تو جیت کر بھی برہنہ ہوئی جا رہی ہے!!

کھلی چھٹی سے آدھی چھٹی تک

“اوئے بڑی جلدی میں ہے، کہاں جا رہا ہے؟"
یار میچ ہے گھر جا رہا ہوں
“تو بھی آدھی چھٹی کما کر آ رہا ہے"
ہاں یار، ہماری تو آدھی چھٹی تھی اور تمہاری؟
“ہماری پوری چھٹی تھی"
یار سمجھ نہیں آیا وفاق نے آدھی چھٹی دی اور صوبے نے پوری کیوں؟
“سیدھی سے بات ہے جس کو جتنی چھٹی ملی ہوئی ہے اُس نے اتنی چھٹی عوام کو دی"
مطلب کیا ہے؟
“دیکھ ہار بڑے صاحب نے گیلانی صاحب کو آدھی چھٹی دے رکھی ہے اور آدھی گیلانی کے مخالفین کو تو گیلانی نے آدھی چھٹی عوام کو دی"
بات سمجھ میں نہیں آئی مگر چلو یہ بتاو پھر سندھ میں پوری چھٹی کیوں ہے؟
“لے یار پہلے تو یہ بتا سندھ میں چھٹی کس نے کی؟"
وزیراعلی و گورنر نے۔
“دیکھ اب سمجھ، سندھ میں آدھی چھٹی ملی ہوئی ہے قائم شاہ و کمپنی کو اور آدھی چھٹی ملی ہوئی ہے لندن والی سرکار و کمپنی کو، آپس کی بات ہے وہ جو ولی صاحب و کمپنی کو آدھی چھٹی ملی ہے ناں اُس کا کچھ استعمال وہ بھی سندھ میں کر لیتے ہے"
تو پھر؟
“تو پھر کیا؟ آدھی چھٹی گورنر کی اور آدھی وزیراعلی کی ہو گئی ناں کھلی چھٹی۔ جانو جس کو جتنی چھٹی ملتی ہے نا اُتنی ہی وہ آگے دیتا ہے"
کیا ہودہ وضاحت دی ہے۔

پاک بھارت سیمی فائنل اور ہندوستانی چینل

خرم ابن شبیر کے بلاگ پر آپ نے انڈین میڈیا کی پاک بھارت سیمی فائنل کے بارے میں خبرون کا جائزہ تو لیا ہو گا۔ ہم نے لگے ہاتھوں ذیل میں چند ایسی ہی
دلچسپ خبروں کو جمع کیا ہے کہ کیسے انڈین میڈیا پاکستانی ٹیم کی توہین کر رہا ہے ۔ وقت ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیں۔

























دلچسپ بات یہ کہ بھارتی میڈیا نے اپنی ٹیم کو بھی میچ فیکس کرنے کے الزام ست سرفراز کیا ہے۔ وہ کدھر ہے آئی سی سی؟




گرگٹ ڈپلومیسی

لو جی پاکستان اور ہندوستان میں تیسری کرکٹ ڈپلومیسی کا آغاز ہو چکا ہے، دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی طرف سے پہلے جمہوری و سول ڈپلومیسی ہے! اول دونوں سربراہ جو بھارت گئے فوجی تھے! لہذا پہلی سول کرکٹ ڈپلومیسی!! ضیاء کی ایک اور باقیات جس کو پی پی نے اپنایا۔ ابتدا ہندوستان میں جانے کی ہم نے کی تھی کرکٹ میچ پر مگر گزشتہ دو دعوتیں کرکٹ میچ کی پڑوس سے آئی ہیں! دلچسپ بات یہ کہ کرکٹ ڈپلومیسی میں ہر بار میزبان بھارت ہی رہا ہے!
ان میچوں کا کیا ہوا تھا جن میں ہم بھارت کرکٹ دپلومیسی کرنے گئے تھے؟ کچھ یاد ہے؟ ہمارا پلا بھاری رہا تھا!! ایک ڈرا اور ایک ہم جیت گئے تھے اور عوام میں جتنی محبت ہے وہ تو سامنے کی بات ہے! ہار دونوں طرف نا قابل معافی جرم ہے کھلاڑیوں کے لئے! اب کیا ہو گا دیکھنا پڑے گا۔
کچھ فیکٹ سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ ہو گا کیا؟ مثلا پاکستان کبھی ورلڈکپ کے کسی بھی مقابلے میں بھارت سے نہیں جیتا! موہالی میں کبھی نہیں ہارا! ضروری ہے کھیل کو کھیل کے طور پر لیا جائے قومی تعلقات کی تلخیوں کو اس میں حصہ نہ دیا جائے۔
یہ میڈیا جو آج کرکٹ ڈپلومیسی کو امن کا چھکا قرار دے رہا ہے ورلڈکپ کے آغاز میں اس نے ایک خبر جس کی تصدیق نہ ہو سکی کی کافی تشہیر کی، جو عوام مین ہندوستان کے بارے مین منفی رجحان کو فروغ دینے کو کافی تھی۔ وہ خبر کی "مالی" نامی طوطے کی ہندوستانی شہریوں کے ہاتھوں قتل کی کہ اُس نے پاکستان کو فاتح ورلڈکپ قرار دیا تھا۔ یعنی اب بات کھیلاڑیوں کے کھیل سے نکل کر جانوروں و نجومیوں کی پیشن گوئی پر آ گئی ہے۔۔۔۔ کیا بات ہے ؛
ہم اپنی ٹیم کی جیت کے لئے دعا گو ہیں ویسے یہ الگ بات ہے کہ قومی ٹیم کی جیت کے دُعا گو ساتھوں پر "چند" احباب غیرت برگیڈ کے الزام کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں یوں لگتا ہے کہ اپنی ٹیم کی جیت کے لئے پُر امید ہونا مذہبی انتہا پسندی و دہشت گردی ہے!یوں لہذا جو توانائیاں دوسروں کو زیر کرنے پر خرچ کرنی چاہئے وہ اپنے گھر میں انہیں سمجھانے میں ضائع ہو جاتی ہیں!
کھیل کے میدان کو میدان جنگ نہ سمجھا جائے نہ ہی کھیلوں کے تعلقات کو قومی مفادات یا قومی غیرت سے جوڑا جائے! میدان میں اترنے والی دونوں ٹیمیں جیت کی جدوجہد کرین گی اور بہتر کھیل و مضبوط اعصاب والی ٹیم میدان مار لے گی۔ ہماری نیک خواہشات اپنی تیم کے ساتھ ہیں مگر اگر لڑ کر بھی ہار جائے شرط ہے جیت کی جدوجہد تو افسوس تو ہو گا مگر اپنی ٹیم سے شکایت نہیں۔ ضرورت ہے جیت امن کی ہو۔

بوم بوم بوم

یوں تو کرکٹ ورلڈکپ کا اپنا گانا بھی بُرا نہیں! اس کے علاوہ اور بھی کئی گانے مارکیٹ میں ہیں مختلف پاکستانی چینلز اور گروپس نے بھی اپنے اپنے کرکٹ ورلڈکپ کے گانے مارکیٹ میں پیش کیئے مگر پی ٹی وی پر چلنے والا یہ گانا مجھے اچھا لگتا ہے! آپ کی کیا رائے ہے؟

آتشی لومڑی کی چوتھی نسل

ہمارا انٹرنیٹ پر جتنا بھی وقت گزرتا ہے اس دوران آتشی لومڑی ہمارا ساتھ خوب دیتی ہے۔ آج آتشی لومڑی کا نیا ورژن میدان میں آگیا ہے جسے آپ باآسانی نیٹ (ونڈو، لینکس، میک) سے اُتار سکتے ہیں مگر اگر ہماری طرح آپ بھی اُبنٹو کے صارف ہیں (ہمارے کمپیوٹر کو ونڈو کی شکل دیکھے ہوئے قریب دو سال ہو گئے ہیں) تو آپ Launchpad سے آتشی لومڑی کے Personal Package Archives کے کی مدد سے اس کو اپگریڈ کر کے چوتھے ورژن پر جا سکتے ہیں ہمارے پاس تو نیا ورژن خوب کام کر رہا ہے اور یہ جاننے کے لئے کہ اور کتنے احباب آتشی لومڑی کی چوتھی نسل کو گلے لگا چکے ہیں یہاں تشریف لے جائیں۔

اوبنٹو میں آتشی لومڑی کی چوتھی نسل حاصل کرنے کے لئے ٹرمینل (Applications > Terminal) جا کر یہ کمانڈ لکھے۔



sudo add-apt-repository ppa:mozillateam/firefox-stable
sudo apt-get update
sudo apt-get upgrade

ضروری وضاحت۔۔۔۔ایک بار پھر

یہ اب کوئی راز نہیں کہ اردو بلاگرز کے تحریروں پر چند نامعلوم تبصرہ نگار اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، جن میں سے کئی تبصرہ اخلاقی میعار کت اعتبار سے پست ہوتے ہیں وہاں چند ایک تبصرہ تحریر کی مناسبت سے عمدہ ہوتے ہیں جن کو وہاں رہنا چاہئے مگر چونکہ میرے بلاگ میں پالیسی ہے کہ نامعلوم یا ایسے نام سے موجود تبصرہ جس سے تبصرہ نگار کی پہچان نکلی معلوم ہو کو مٹا دیا جائے گا خواہ بات کتنی ہی عمدہ کیوں نہ ہو۔ لہذا آئندہ تبصرہ نگار اپنا نام ضرور ظاہر کرے یہ بات ایک مرتبہ پھر اس لئے دوبارہ بیان کرنی پڑی کہ دو دنوں میں چند تبصرہ مٹانے پڑے۔
بدتہذیب تبصرہ تو مٹا ہی دیئے جائے گے ہاں اختلافی رائے کو جو تہذیب کی قدروں کے اندر ہو کو چھیڑا بھی نہیں جائے گا۔
شکریہ:

غریب، برگر بچے اور انقلاب

کچھ عرصہ قبل ایک لطیفہ سنا تھا! نہیں معلوم تھا کہ اس کی ایک شکل دیکھنے کو بھی ملی گی!! لطیفہ کچھ یوں تھا کہ ایک امیر خاندان کی بچی اپنے پرچے مین غربت کا مضمون کچھ یوں تحریر کر کے آئی!

“غریب بہت ہی غریب ہوتا ہے، اُس کے پاس پینے کو Nestle کا پانی بھی کم مقدار میں ہوتاہے، وہ پیسے بچانے کے لئے Nestle کی بڑی بوتل خریدتا ہے، یہاں تک کہ ذیادہ گرمی میں وہ جوس پینے کے بجائے اس پانی پر ہی گزارہ کرتا ہے، غریب کے پاس ایک ہی گاڑی ہوتی ہے، اُس کا گھر بھی چھوٹا ہوتا ہے، غریب کے گھر میں سب سے ذیادہ مظلوم اُس کی بیوی ہوتی ہے کیوں کہ وہ بیوٹی پارلر بھی کم ہی جاتی ہے، اور اُسے کئی سوٹ دس سے پندرہ بار سے ذیادہ پہننے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں۔ غریب نہ صرف خود غریب ہوتا ہے بلکہ اُس کے نوکر، ڈرائیور، مالی، باورچی اور چوکیدار تک غریب ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں مل کر غربت کے خاتمے کے لئے اپنی جدوجہد کرنے چاہئے"

ہم سوچتے تھے کہ غریب کے لئے جدوجہد ایسے مضامین لکھنے والے ممکنہ بچے کیسے جدوجہد کریں گے؟ تب ہم نے ایک ایسے ہی بچے کی انقلاب کی کاقش سے متعلق یہ ویڈیو دیکھی آپ سے جانے کہ انقلاب کیوں نہیں آ رہا!!






“جلسے کے لئے آپ دیکھے ہماری بہنوں، mothers کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ہم سارے اچھی فیملی کے لوگ ہیں، ہم سڑکوں پر آئے ہیں نعرہ لگانے کے لئے، عمران خان کے لئے، ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہیں، ہمیں دھکے دے رہی ہے، ہم انقلاب کے لئے آئے ہیں، اپ کے ملک کے لئے آئے ہیں، ہر بندہ اپنے ملک کے لئے نکل کر آیا ہے، اس گرمی میں کون اتنا جلوس کرتا ہے؟ پولیس والے ہمیں دھکے دے رہے ہیں! کس کے لئے؟ ایک انگریز کے لئے! ریمنڈ ڈیوس کے لئے؟ لاہور میں وہ خون خرابے کر کے بھاگ گیا اپنے ملک! ہماری عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا ہوا؟ اتنا انصاف تو کسی میں نہیں ہے! ہم سارے سڑکوں پر آئے ہیں، ہمارے گھروں میں بھی پردے ہوتے ہیں! ہماری عورتیں بھی پردے کرتی ہیں مگر جب انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے گھر میں ہر بندہ نکل آتا ہے۔ کیوں؟(لوگوں سے سوال) میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ میں صحیح بول رہا ہوں ناں؟ (آوازیں : جی جی) سارا بندہ نکل آتا ہے! سر ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہے ہم انقلاب کیسے لائے گے؟ آپ بتائیں! آپ میڈیا والے ہیں آپ ہمارے ساتھ اگر ہوں گے تو تب انقلاب آئے گا! اگر پولیس والے ہمیں مارے گے نہیں تب انقلاب آئے گا! آپ دیکھے عمران خان اُس کا کیا ضرورت ہے؟ وہ تو بہت امیر بندہ ہے، وہ اوپر کھڑا ہوا ہے وہ بھی جلسے جلوس دے رہا ہے اُس کو بھی دھکے لگ رہے ہیں۔ ہر ببدے کو Left, Right, Central دھکے دے رہے ہیں! یہ میرے بھائے گرمی میں خراب ہو گئے ہیں! ہمیں کوئی ضرورت ہے یہاں آنے کی"

کر لو گل!!! اے کی اے؟؟؟ مجھے ذاتی طور پر اس لڑکے کے خلوص پر شبہ نہیں! یہ سچے جذبے سے ممکن ہے سرشار ہو مگر زندگی کی حقیقت نے نا واقف ہے!!

ممکن ہے ایسے ہے پولیس کی دنڈے کے ڈر سے انقلاب سے بھاگنے والے کارکنان سے مایوس ہو کر عمران خان نے لندن والی سرکار کو فون کیا ہو "پیر صاحب! ہمارے بندے تو پولیس سے جان کی امان مانگتے ہیں وہ منتر مجھے بھی دے دو جس سے آپ کے کارکنان پولیس کو جان سے آہو!!!!”

اپ ڈیٹ:- اس جذباتی جذبے والے لڑکے کا رد عمل:

اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟

گزشتہ ہفتہ ہم اپنے وکیل دوستوں کے ہمراہ لاہور کی سیر کو نکلے ہوئے تھے، ۱۴ مارچ کی رات قریب ۱۱:۳۰ بجے اچانک واپسی کا ارادہ ہوا لہذا سامان پیک کیا، اُس وقت ریل گاڑی سے واپسی ممکن نہ تھی لہذا نظر انتخاب Daewoo پر پڑی، Daewoo کے اسٹاپ تک جانے کے لئے ایک رکشہ والے سے معاملہ طے کیا اور روانہ ہوئے۔ ایک جگہ پولیس نے روکا ہم نے تعارف کروایا ، اور آگے روانہ ہوئے تب رکشہ والا یوں مخاطب ہوا
“تو آپ لوگ وکیل ہیں"
ہم "جی جناب، کوئی قصور اس میں ہمارا؟"
رکشہ والا "نہیں جناب قصور آپ کا کیا ہونا ہے، مین نے تو ویسے ہی پوچھ لیا کہ آپ نے ابھی پولیس والوں کو اپنا تعارف کروایا تھا ناں اس لئے"
ہم "اچھا"
رکشہ والا "ویسے صاحب میں مکمل ان پڑھ بندہ ہو مگر یہ جانتا ہوں کہ جس کو قانون آتا ہے ناں وہ بڑا تیز بندہ ہوتا ہے، دوسرا ہم تو ویسے ہی وکیل کا گرویدہ ہے"
ہم "یار گرویدہ تو ہم ہے آپ لاہوریوں کے آپ نے جو ڈیوس کو پکڑا"
رکشہ والا "صاحب ہم نے کیا پکرنا تھا، اُس کی قسمت ہی بری تھی قابو آ گیا"
ہم " نہین یار بڑا کام کیا تم لوگوں نے"
رکشہ والا "صاحب ویسے ایک بات ہے جب سے وہ پکڑا گیا ہے ناں ایک عجیب سا اطمینان ہے اندر، یہ پولیس والے بھی اب مطمین نظر آتے ہیں ذیادہ تنگ نہیں کرتے ورنہ پہلے تو بہت سوال کرتے تھے"
ہم " کیا اطمینان؟ اور پولیس والے کیسے مطمین ہو گئے؟"
رکشہ والا " ارے صاحب، جب کوئی مجرم مکمل ثبوت کے ساتھ پکڑا جائے اور مناسب تشہیر سے یہ احساس ہو کہ اسے قرار واقعی سزا ہو گی تو ہم غریبوں کو اندر سے اطمینان ہوتا ہے کہ انصاف ہو گا، اور پولیس بھی اچھی لگتی ہے محافظ معلوم ہوتی ہے ورنہ تو دشمن۔ صاحب اُس دن سے ہمارا روزگار بھی بڑھا ہے"
ہم "کیا بات ہے آپ تو بہت گہری باتیں کرتے ہوں"
رکشہ والا "ارے صاحب کیوں مذاق اُڑاتے ہوں"

آج ریمنڈڈیوس کی رہائی کی خبر سن کو جو دوسرا شخض ہمارے ذہن میں آیا وہ وہی رکشہ والا تھا۔۔۔۔ اب سوچتا ہوں اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟ اور سچی بات بتاؤ اب تو خود مجھے بھی عدم تحفظ کا احساس ہو رہا ہے کیا معلوم کب کہاں کوئی ریمنڈڈیوس کسی گاڑی سے مجھ پر بھی فائر کر دے؟

تمہیں کیوں شکایت ہے؟؟

جب ورلڈکپ کا آغاز ہو تو پی ٹی وی پر رمیز راجہ نے ایک کرکٹ سے متعلق پروگرام کیا! جس میں عبدلقادر بھی شریک تھے! اُس میں کرکٹر عبدلقادرنے پرانے دور کا ذکر کیا تو بتایا کہ کیسے ویسٹ انڈیر کے ایمپائر اپنے ملک میں اپنے کھلاڑیوں کا آؤٹ کھا جاتے تھے!! وجہ عوام کا خوف کہ مارے گے!!
آج ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بنگالیوں سے ہضم نہیں ہوا لہذا ہوٹل جاتی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو پتھروں سے نوازا!!! اس پر کرس گیل کچھ یوں شکایت کرتے نظر آئے

مانا کہ بنگلہ دیش کی عوام کو یہ حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی مگر کرس گیل کو اتنا بھی غصہ نہیں آنا چاہئے!!!

ٹی بریک!! ایک تعارف۔۔۔ایک پلیٹ فارم

میرے عزیز(اردو) بلاگرز؛ آج سے ٣ برس پہلے جب ٹی بریک نے انٹرنیٹ کی دنیا میں آنکھ کھولی تو ہمارے سامنے ٢ آزمائشیں تھیں: ایک پاکستانی بلاگز کی دنیا تک رسائی اور دوسرا معیاری مواد کو فروغ دینا. ان چند سالوں میں ہم نے کئ سنگ میل عبور کیے؛ لیکن معیاری مواد آج بھی ہماری اور پڑھنے والوں کی اولین ترجیح ہے. ٹی بریک کو پاکستان کے سب سے بڑے بلاگنگ نیٹ ورک ہونے کا اعزاز حاصل ہے.١٦٠٠ سے زائد registered بلاگزمیں پاکستان کے کئی مشہور بلاگرز بھی شامل ہیں جو انگریزی پڑھنے والوں میں بہت شہرت رکھتے ہیں. ان بلاگز کو نہ صرف پاکستان بلکہ کئی مغربی ممالک میں بھی بہت ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے. جو انکے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے. ان بلاگز نے اپنا سفر ٹی بریک کے ساتھ شروع کیا اور آج بھی ٹی بریک کے ساتھ منسلک ہیں. ان چند سالوں میں کئی اردو بلاگرز سے ملاقات کا شرف ہوا اور ان کے خیالات اور تحریر نے مجھ کو بہت متاثر کیا. لیکن جب بھی تحقیق کے لئے google کی مدد لی تو انگریزی مواد نے اردو مواد پر سبقت لے لی. اسکے پیچھے کئی تکنیکی عوامل کارفرماں ہیں. لیکن عمدہ معیار کے باوجود اردو بلاگز آج وہ حیثیت یا عوامی پذیرائی نہیں رکھتے جو انکو ملنی چاہیے اور اسکا سب سے بڑی وجہ انٹرنیٹ visibility ہے.

ٹی بریک اس بلاگ پوسٹ کے توسط سے تمام اردو پڑھنے اور لکھنے والوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ ٹی بریک میں شامل ہوں اور اردو پڑھنے والوں تک اپنی آواز پہنچایں اور انگریزی بلاگرز کے ساتھ برابری کی سطح پر قدم ملا کر چلیں. اس سے نہ صرف اردو کو ترقی ملے گی ; اردو پڑھنے والوں کو معیاری مواد ملےگا، بلکہ اردو لکھنے والے نوجوان طبقے کو پذیرائی بھی ملے گی جو شہرت کے حصول کے لئے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے. میں اس موقعے پر اپنی بات ختم کرتا ہوں اور آپکی گزارشات اور تجاویز کے لئے اس فورم پر دعوت دیتا ہو. آپ ٹی بریک میں اپنے بلاگز register کروائیں اوراردو کی ترقی کے لئے اپنی تجاویز سے آگاہ کریں.!

یہ عمار یاسر کی تحریر ہے! ان کا اول ذکر/تعارف اردو بلاگرز عمار ضیاء کی اس تحریر میں پڑھ چکے ہیں! محترم ٹی بریک کے Co-Founder ہیںاور  ایک عمدہ شخصیت کے مالک۔

 اس تحریر کا بنیادی مقصد اردو بلاگرز کی ترویج ہے گو کہ اس سے قبل بھی اردو بلاگرز کو اپنے چند ایک اعلی پلیٹ فارم میسر ہیں

بھوک ہرتال

“اوئے کچھ سنا اُس سی آئی اے کے ایجنٹ نے بھوک ہرتال کر دی ہے کہ جب تک مطالبہ پورے نہیں ہوں گے اُس وقت تک کچھ نہیں کھاؤں گا"
اوئے فکر نہ کر ڈرامہ ہو گا امریکہ ہو یا اُس کا ایجنٹ دونوں بھوکے نہیں رہتے البتہ بھوک کے لئے بندے مار دیتے ہیں خواہ بھوک تیل کی ہو یا اقتدار کی!۔

سوچنے کی بات

“اور میاں کیسے ہو؟"
کرم ہے رب کا آپ سناؤ
“میں تو ٹھیک ہو مگر یہ بتاؤ وڈے سرکار کا ولیمہ کب ہے؟"
کیا مطلب کس کا ولیمہ؟
“یار وہ ہی جو پاکستان کو کھپانے کی آرزو لیئے بیٹھے ہیں آپ کا! سنا ہے محترم نے شادی کھپا دی ہے!”
ارے بھائی وہ خبر تو جھوٹی تھی ! اس لئے تو صدر صاحب نے اس لئے متعلقہ اخبار کو جس نے یہ خبر نیٹ سے لے کر شائع کی تو
محترم نے لیگل نوٹس دے دیا ہے سنا ہےکہ کافی بڑی رقم مانگ لی ہے۔
“کر لو گل تو کیا اس کا مطلب ہے کہ جن معاملات میں جو لیگل نوٹس نہیں دیا تو وہ الزامات سچ ہے
“چپ اوئے"