کم بخت جتنے فائنل انٹرویو ہم نے نوکری کے لئے دیئے سب میں فیل ہوئے!! اول اول ہم فوجیوں کے ہاتھ لگے ہوا یوں کہ پی ایف کالج میں پاکستان فضائیہ والوں کی ٹیم آئی انہوں نے فضائی فوج سے متعلق ایک معلوماتی لیکچر دیا پھر طالب علموں کو پاک فورس کی طرف راغب کرنے کو پریزینٹیشن دی اور بعد میں چند ایک کا ٹیسٹ لیا! نتیجہ چند ایک طالب علموں کو بتایا آپ بارہ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد کس پوسٹ کے لئے قسمت آزمائی کرنا!! ہمیں کہا کہ Aeronautical engineer کے لئے جانا!! ہم گئے ISSB کے بعد ہمیں منہ ہی نہیں لگایا!! وجہ ذومعنی سوچ!!!
پھر جب کریجویشن میں تھے پی آئی اے میں flight steward کے لئے اپلائی کیا تو فائنل انٹرویو میں دیسی لہجے میں ولایتی زبان بولنے اور رنگ سانولا ہونے کی وجہ سے انہوں نے بھی چونی اٹھوا دی!!!
جب ہم قانون کے طالب علم تھے تو پولیس میں ASI کی نوکری کے لئے اپلائی کیا!! وہاں بھی فائنل انٹرویو میں کامیابی نہ مل سکی!!
آج کل سرکاری وکیل کے لئے انٹرویو دیا ہوا ہے امید ہے سابقہ ریکارڈ نہیں توڑ پاؤں گا!! اس کے علاوہ ایک اور بار جج کے لئے اپلائی کیا تھا مگر تحریری امتحان میں ہی فیل ہو گیا!!! اب تک یہ پانچ جگہیں ہی ایسی ہے جہاں ہم نوکر ہونے گئے مگر ناکام رہے اوریوں تین میں انٹرویو میں اور ایک بار تحریری امتحان میں نامراد لوئے!!! ایک کا ابھی انتظار ہے!!! اس کے علاوہ ہم نے جب بھی انٹرویو دیا کامیاب ہوئے!!دو تین مرتبہ انٹرویو میں کامیاب ہونے کے باوجود اس لئے نوکری جو تنخواہ وہ دے رہے تھے وہ کم تھی یا جانے والوں کی طرف سے ہمیں یہ باور کروایا کہ اس انٹرویوں میں کامیابی اُن کے مرہون منت ہوئی ہے۔
میز کے اُس طرف انٹرویو دینے کے ایسے تجربے سے ہم اب تک گھبراتے ہیں!!! مگر گزشتہ دنوں ہم میز کی دوسری طرف جا بیٹھے یعنی انٹرویو لینے والوں میں!!! وہ بھی صنف نازک یعنی خواتین کا!! جو ایک الگ کی تجربہ تھا!!!تین ناکام انٹرویوز میں فیل ہونے کے بعد انٹرویو کرنے کا تجربہ درحقیقت نہایت انوکھا تھا!! انٹرویو والے پینل میں شامل دیگر دونوں احباب ہمارے استاد تھا!!ایک سابقہ وفاقی وزیر قانون پروفیسر شاہدہ جمیل اور دوسرے سابقہ جنرل سکرٹیری کراچی بار ایسوسی ایشن و موجودہ ممبر سندھ بار کونسل محترم ندیم قریشی (میں نے اپنی وکالت کا آغاز ان ہی کے چیمبر سے کیا تھا) اُن کے ساتھ یوں بیٹھنا جہاں ایک اعزاز تھا وہاں اُن کے تجربوں سے مجھے اپنی کی گئی تمام غلطیوں کا ادراک بھی ہوا!
باقی لوگوں کو پرکھنا جتنا آسان لگتا ہے اُتنا ہے نہیں امتحان لینے والا انتخاب کے وقت خود ایک امتحان میں ہوتا ہے، بہت مشکل ہے یہ امتحان جب ایسے افراد بھی آپ کو پرکھنے ہو جو کہ آپ کے جاننے والوں میں شامل ہوں! تعلق بد دیانتی و نا انصافی کی طرف مائل کرتی ہے تب دراصل دوسروں کو پرکھنے کے بجائے منصف خود کو پرکھنے لگتا ہے !!! یہ بات تجربے سے معلوم ہوئے!! اور اپنی نظروں میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ انصاف ہو۔
نوبت یہاں تک کیوں آن پہنچی
ایک اب تک کی غیر مصدقہ خبر چونکہ غیر مصدقہ ہے اس لئے آپ اسے افواہ کہہ لے یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں واپسی کی شرط یہ رکھی تھی کہ ذوالفقار مرزا سندھ کی سیاست سے آؤٹ ہو جائے اور اس ہی شرط کو پورا کرنے کے لئے آصف علی زرداری نے گذشتہ تین چار (جب کراچی میں گیلانی صاحب آئے تھے اور رحمان ملک پر مرزا صاحب پھٹ پڑے تھے تب سے) روز سے ذوالفقار مرزا کو اپنے پاس بلا کر بٹھا رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا موبائل فون بھی اُن سے لے لیا تھا! اور اُنہیں اُن کی پسند کے ملک میں سفیر بنانے کی پیش کش ہوئی مگر مرزا نہ مانے تو استعفی مانگ لیا اور مرزا نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ نہ نگلے بنے اب اور نہ اگلے!
ذولفقار مرزا نے اس پریس کانفرنس کی تیاری کن کے ساتھ کی یہ ایک الگ معاملہ ہے! اور جو مواد دوران پریس کانفرنس اُن کے پاس تھا وہ تفتیشی مواد وہ ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے یہ ایک الگ قانونی بحث ہے۔ اُن کے تمام الزامات یوں بھی غلط ثابت کرنا ایم کیو ایم کے لئے ممکن نہیں کہ ان کے تمام دستاویزی ثبوت درحقیقت اُن کے پاس تھے سوائے ایک الزام کے جو انہوں نے سب سے اخر میں قرآن پاک کو اپنے سر پر رکھ کر لگایا۔ ایم کیو ایم و الطاف کا امریکی مدد سے پاکستان توڑنے کا! اس پر امریکی وضاحت بھی جلد آ جائے گی
ٹونی بلیر کو لکھا گیا الطاف حسین کا خط
ایسا کیوں؟؟
ب ہم کیا کریں؟ ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ دنوں ہم نے اپنے پڑوسی سی لیا ہوا انٹرنیٹ کا کنکشن اُتارا اور پی ٹی سی ایل والوں کا ڈی ایس ایل لگوانے کا آرڈر دے دیا! جس دن پی ٹی سی ایل والا اپنی ڈیوائس دے کر گیا اُس دن (جمعرات 10 اگست 2011) کو ہمارے علاقے میں بارش ہو گئی! جس سے فون ڈیڈ ہو گیا۔ یوں انٹرنیٹ کیا آن ہوتا ہمارے گھر والے فون کی سہولت سے بھی محروم ہو گئے۔ اُس پر ظلم یہ کہ موبائل فون پر کال کرکے جو رشتہ دار گھر کے نمبر نہ اُٹھانے کی شکایت کرتا یہاں سے جواب آتا "جب سے شعیب نے انٹرنیٹ لگایا ہے فون ڈیڈ ہو گیا ہے" یوں اصل قصور وار ہم ٹھہرتے!
ہم نے فون کے ڈیڈ ہونے کے اگلے دن ہی اپنی شکایت درج کروا دی مگر مجال ہے محکمہ کی کان پر جوں بھی رینگی ہو ہاں ہمیں فون کر کے ہر بار یہ ضرور پوچھتے کہ جی نیٹ لگ گیا ہے یا نہیں پی ٹی سی ایل والے! جس پر ہم انہیں اپنے فون کے خراب ہونے کا رونا روتے اور الگ سے بھی اپنی شکایت 1218 پر درج کرواتے یہ یوں کہہ لیں کہ پہلے سے موجود زخم (شکایت) ہو ہرا کرتے مگر کون سنے ہماری آہ و زاری؟ بس ایک جواب ملتا کہ جی آپ کی شکایت ہم نے آپ کی متعلقہ ایکسچنج کو کر دی ہے۔ بس!
آخر منگل کی رات بتاریخ 16 اگست ہم نے آخری بار 1218 پر کال کی اپنی شکایت میں ایک جھوٹ کا اضافہ کیا کہ "آج لائین مین آیا تھا فون ٹھیک کرنے کے 500 روپے مانگ رہا تھا جب ہم نے نہیں دیئے تو وہ وہ فون ٹھیک کیئے بغیر واپس چلا گیا" فون کال 10 بجے رات کو کی اوربدھ کی صبح بتاریخ 17 اگست گیارہ بجے لائن مین نے آ کر ایک طرف تو پہلے فون ٹھیک کیا دوسری طرف کہا جی کس نے آپ سے پیسے مانگے تھے گھر والوں نے تو ایسی کسی شکایت سے انکار کیا کہ ہم نے نہیں کی مگر 12:30 بجے پی ٹی سی ایل والوں کی میرے موبائل پر کال آئی جناب فون ٹھیک ہو گیا ناں آپ کا؟ اور اب کے تو پیسے نہیں مارنگے ناں نیر کیا یہ ہی تھا جو آج آیا جس نے پیسے مانگے تھے!! آپ کو معلوم ہو گا ہمارا جواب کیا ہو گا!!
مگر اب دل پر ایک بوجھ سا ہے کہ ہم نے یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس کا کیا حل ہے کہ یہ بوجھ ہٹ جائے؟؟ اس موئے فون کو دیکھنے کو بھی دن نہیں کر رہا!! دوئم ذہن میں یہ پریشانی کہ کیا معاشرے میں اب سچ سے ذیادہ جھوٹ کی سنی جاتی ہے؟ ایسا کیوں؟
جشن آزادی مبارک
Civic Sense
ارے میاں یہ کس کی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہو؟
“یار میری اپنی ہے ابھی گزشتہ ہفتہ لی ہے تو بھی ناں۔۔۔"
اوہ اچھا مبارک مبارک!! مٹھائی کب کھلا رہا ہے۔
“مٹھائی رہنے دے!! ایسی کی شوگر ہو جائے گی تجھے"
چل کھانا کھلا دینا اب تیرے سے کیا ضد کرنی!!! سڑکوں کی یہ مچھلی لی ہء مچھلی ہی کھلا دینا!
“بہت اچھے بھائی!! لگتا ہء جتنی کی موٹر سائیکل لی ہء اتنی کی تو دعوتیں پڑ جائیں گی!!”
یہ سواری خطرناک ہے ویسے، وہ الگ بات ہے یہ اس قدر ہو گئی ہے کہ اب تو اپنی حکومت نے pedestrian bridge پر بھی تم جیسے موٹر سائیکل والوں کے لئے راستہ بنانا شروع کر دیا ہے"
"ابے کیا کہہ رہا ہے؟ کہان بنایا ہے راستہ؟"
یار وہ شاہرہ فیصل پر نرسری اسٹاپ کے پاس تو پیدل چلنے والوں کے لئے سڑک پار کرنے کے لئے جو پل بنایا ہے! اس کے علاوہ نا تھا کے پرانے پُل پر بھی تم لوگوں کے لئے کافی پہلے سے ramp ہیں
“اللہ!! میں اپنا سر دیوار سے مارو یا تیرے سر پر پتھر دے مارو؟"
کیوں؟ کیوں؟
“ یہ حال ہے تم جیسے پڑھے لکھے لوگوں گا تو باقیوں کا کیا حال ہو گا؟ ابے لعنتی وہ موٹر سائیکلیسٹ کے لئے نہیں بلکہ wheelchair والون کے لئے ہے!”
اوہ! اچھا!
“تمہاری حکومتوں کا بھی یہ ہی حال ہے انہیں علم ہی نہیں ہوتا! کہ قانون بنا کر اُس پر عمل کیسے کروانا ہے شہر میں 120 کے قرین pedestrian پل ہیں مگر مجال ہے دو یا تین کہ علاوہ کسی میں معذور افراد ہے لئے سہولت ہو یہ ہی حال شہر میں تعمیر ہونے والی عمارتوں و تفریح مقامات کے لئے ہے"
اچھا اچھا ٹھیک ہے، سمجھ آ گئی ہے
میرے ملک دی بجلی جی
ہم نے آپ سے ایک گانا شیئر کیا تھا بجلی کا لاہور استیج ڈرامے کی شوٹنگ پر ایک ٹی وی اینکر نے اپنے مارننگ پروگرام کے لئے سنا اپنے موبائل میں ریکارڈ کیا اور دنیا سے شیئر کی خام مال کی شکل میں بجلی پر یہ گانا اب مکمل موسیقی کے ساتھ بھی وہ ہی مزا دے رہا ہے!۔
خبر ہوئی کیا خبر ہے؟
شہر میں افواہ چل رہی ہو تو تمام نہ سہی یار لوگ کہتے ہین کچھ تو سچ ہوتا ہے ہے۔ اب کیا کریں کہ ایک خبر کے ساتھ ہی وکلاء برادری میں بھی افواہ چل پڑی ہے! خبر کیا ہے؟
خبر یہ ہے کہ جناب سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محترم طفیل ایچ ابراہیم صاحب نے استعفی دے دیا ہے! خبر میں "حقیقی" و "آفاقی" حوالہ تو ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ محترم کے پاس "اہلیان کراچی" اور "کراچی لورز" نامی دیواری چاکنک کے اصل ماں باپ کے مخالف کے کیس کی نہ صرف تنسیخ کی درخواست دائر ہے بلکہ ضمانت بھی مانگی گئی ہے۔ "آفاق" میاں گزشتہ آٹھ دس سال سے جیل میں ہیں باقی کیسوں مین ضمانت مل چکی مگر اب ایک ہی کیس رہ گیا ہے! اب جبکہ 21 اپریل کے گزٹ میں یہ قانونی ترمیم متعارف ہو چکی کہ اگر قتل کے کیس کے مجرم کا مقدمہ دو سال مین ختم نہیں ہوتا تو اُسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔
اب افواء عام ہے کہ محترم جسٹس صاحب کی ذاتی وجوہات دراصل "خطرہ جان ہے" کیونکہ ضمانت تو بنتی ہے مگر جو "بیان" پر مشتعل ہوتے ہیں، شہر میں مئی کے مہینے میں "عوامی طاقت" کا مظاہرہ کرتے ہیں! اُن کا پریشر جسٹس صاحب برداشت نہ کر سکے!
سچ کیا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم تو بس افواہ کی بات کر رہے ہیں۔
اپ ڈیٹ؛ لیں جناب ایک اور جج نے کیس کی سماعت سے انکار کر دیا۔ یہ ہے مافیا کی طاقت خاص کر جب وہ سیاست میں بھی ہو اور اقتدار کا حصہ بھی۔ مگر لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔
ملا بیٹھا کرے دعا
اے لڑکی تو روتی ہے؟ دختر کراچی کے نام۔۔۔
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
وہ باپ جو سر کا سایہ تھا
جو تم سب کا سرمایہ تھا
قربان ہوا زرداروں پر
عصبیت کے دلالوں پر
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
جو باپ سراپا شفقت تھا
جو الفت کا ایک پیکر تھا
اب لوٹ کے گھر نہ آئے گا
بس تم سب کو تڑپائے گا
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ہاں تیری یہ آہ و فغاں
چلی ہے سوئے آسماں
سارے شہر کے بام و در
انسانیت پہ نوحہ خواں
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
یہ سسکیاں، یہ ہچکیاں
کیسے سنیں صاحب صدر
سب ساتھ ہیں قاتل انہی کے
کیسے ہو انصاف ادھر؟
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ذرداری، الطاف و اسفندیار ہیں
خون ناحق پہ سبھی تیار ہیں
ان سے ناطہ توڑ لو، لوگو سنو
ورنہ یونہی خوف و دہشت میں جیو
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
معذور ہیں اسپیشل یا اسپیشل دراصل معذور؟
ابے بڑا خوش ہیں خیر ہے ناں؟
“ابے خوش کیوں نہ ہوں، آج اسپیشل اولیمپکس میں شمولیت و شاندار کارکردگی کے بعد اپنے ملک لوٹ آئے ہیں! کل 57 میڈل پاکستانی کھلاڑیوں نے جیتے ہیں"
ابے ہاں کارکردگی واقعی عمدہ تھی۔
“ہاں! اور اولیمپکس کا سب سے تیز ترین ایتھلیٹ بھی ایک پاکستانی ہے!! کیا پیارا سا نام تھا اُس کا۔۔۔۔۔۔ذہن مین نہیں آ رہا"
شایدعدیل امیر!!
“ہاں ہاں یہ ہی نام تھا!! کُل تین سونے کے میڈل تو اس اکیلے نے ہی جیتے ہیں"
واقعی یار دلی خوشی ہوئی اپنے ان ذہنی معذوروں کی اس اعلی پرفارمنس پر
“محترم ذہنی معذور نہیں اسپیشل!! اور اس عمدہ کارکردگی دیکھانے والے تو نہایت اسپیشل سمجھے!”
او کے بابا اوکے
“ذہنی معذور تو وہ ہیں جنہیں تم اسپیشل کہتے ہوں اور وہ ملک کے لئے کھیلنے کو ذہنی اذیت سمجھتے ہیں!!! سمجھے؟"
پی سی بی، آفریدی، پیپسی اور پیسہ
لو جی آفریدی پی سی بی سے پھڈے کے بعد پی سی بی کے لئے نئے خون کی تلاش میں نکل پڑے مگر پیپسی کے تعاون سے! یہ پیپسی کا کمال ہے یا پھر کیا کہ پھڈے کے بعد یوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرکٹ اسٹار پروگرام کی تشہری پروگرام کا حصہ بنے اس پراگرام کے تحت دراصل سولہ سال کی بالی عمر کے نوجوان کرکٹرز کی تربیت و اُن میں عمدہ کھلاڑیوں کی تلاش کے لئے شہر شہر کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ اس کی تشہیری پروگرام کے لئے آفریدی کے انتخاب کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس کچی عمر میں ہی ممکنہ مستقبل کے کھلاڑیون کو یہ باور کروانا ہو کہ تم یہ جان لو کہ ہم اسٹار کو کیسے کھڈے لائین لگا دیتے ہیں! چھڈو جی اشتہار دیکھو!! اور بتاؤ کس کی طرح کیچ نہین چھوڑنا اور کسی کو دوسرا چانس مل سکتا ہے؟
ہم کہیں گے تو شکایت ہو گی
امریکی اسٹیٹ ڈپاٹمنٹ کی ویب سائیڈ پر اگر "سفارت کار ہو حاصل استہقاق" والی دستاویز کے صفحہ 164 پر درج ہے
یعنی کہ امریکی حکومت کے بیان کردہ اصولوں میں یہ بات تو تسلیم کی گئی ہے کہ 'استہقاق کے حامل افراد کی یہ ذمہ داری و فرض ہے کہ وہ متعلقہ ریاست کے اصول و ضوابط اور قوانین کا احترام کریں'
اردو محفل کی اس پوسٹ سے معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے میں پاکستان میں ہم جنس پرستوں کے جشن کی تقریب منعقد کی، پاکستان میں امریکی تعاون سے منعقد ہونے والی یہ پہلی ہم جنس پرستوں کی محفل تھی۔ یہ تقریب گزشتہ ماہ 26 جون کو منعقد کی گئی۔
یعنی گزشتہ ماہ کے آخری عشرے میں کم و بیش اس طرح کی دو تقریبات ہوئی اور ایک کو مقامی اخبارات میں من چاہی کوریج ملی! انگریزی و اردو دونوں اخبارات میں۔ پہلی تقریب جو نتھیا گلی مین ہوئی اُس کو بی بی سی نے کوریج دی۔
ہم جنس پرستی اور جنسی بے راروی ہمارے معاشرے میں درست طور پر غلط سمجھے جاتے ہیں اور ہمارا مذہب ان واہیاتیوں کی اجازت بھی نہیں دیتا اور اس ہی لئے ہمارے ملک میں موجود قوانین کے تحت یہ قابل گرفت عمل ہے۔ بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہر فورم پر پاکستان نے ایسے کسی بھی عمل و قانون کی حمایت سے انکار کیا جس سے ہم جنس پرستی کی حمایت کرنا مقصود ہو۔ اس کی تازہ ترین مثال بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے فورم پر امریکہ کی جانب سے ہم جنس پرستی کی حمایت میں پیش کردہ قرارداد کے موقع پر پاکستان کے نمائندہ ضمیر اکرام نے صاف طور پر کہا تھا یہ "ہم جنس پرستی کسی طور پر بنیادی انسانی حق نہیں ہے" اس کے باوجود امریکی سفارت خانے کا یہ عمل کہ پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی تقریب منعقد کرنا اور امریکی سفارت کار رچرڈ ہوگلینڈ کی طرف مکمل حمایت کا یقین دلانہ ایک غیر مہذب عمل اور اپنے کی بیان کردی سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ پریس ریلیز کا متعلقہ حصہ
جہان ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت اور اُس کا سفارت خانہ اپنی اعمال پر خود توجہ دے اور پاکستانی عوام کے جذبات اور قوانین کا احترام کرے وہاں حکومت وقت سے بھی یہ امید رکھتے ہیں تعاون و تعلقات کو غلامی کی حدود سے باہر رکھے اور ایسے معاملات میں سخت موقف اختیار کرے۔ مگر لگتا یہ ہے کہ دونوں کام نہیں ہونے۔
حلالہ
گوگل پلس بمقابلہ فیس بک
کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار الفاظ کے سے ذیادہ بہتر ہوتی ہے مگر اس کے باری مین کیا رائے ہے؟

اور

اگر کسی کو گوگل پلس کی دعوت اب بھی درکار ہو تو مجھے میل کر لے
چل چھٹی پر نکل!
گزشتہ دنوں اردو بلاگنگ کی دنیا میں ہی ویڈیو مین نظر آنے والے قصے سے متعلق پڑھ کر ہی خود پر ترس آیا تھا! کیونکہ کہ ہم ایسے واقعات کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں کہ بچہ یا تو سڑک پر پیدا ہو جاتا ہے یا ہسپتال میں سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے موت کی آغوش مین چلا جاتا ہے! ایسے میں برطانوی ڈاکٹر کا اپنے ملک کے وزیراعظم سے یہ سلوک دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہاں اخلاقیات زندہ ہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں اس میدان میں کچھ کچھ خرابی کی ابتداء ہو ہی گئی ہے لگتا ہے کیونکہ سنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو جبری چھٹیوں پر روانہ کر دیا گیا ہے!!!خبر کا آغاز نہایت دلچسپ ہے "احساس کمتری کے مارے ہوئے معاشرے ہمیشہ سے برطانوی جمہوریت کے راگ الاپتے رہے ہیں لیکن حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ " ہون فیر!!!!
روشن خیالوں جرنیلوں کا مولوی پن
جی ہم کہہ سکتے ہیں "مولوی" ایک پیشہ نہیں کیفیت ہے یہ کسی وقت کسی میں بھی بیدار ہو سکتی ہے یا پروان پا سکتا ہے اگر ہم یہ مان لیں کہ روشن خیالوں کے الزام کے مطابق "مولوی" ایک ایسا کردار ہے جو اپنے نظریے و سوچ و مقاصد کے راستے میں آنے والی ہر بات و عمل کو اسلام مخالف قرار یا خلاف شریعت قرار دے کر اُس کو کچلنے یا راستے سے ہٹانے کا انتظام کرتا ہے۔
عوام کا عام سا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری حکومت و انتظامی ادارے اپنے تمام اقدامات ملکی مفاد میں اُٹھائے مگر ذاتی مفاد کی رسی سے بندھے صاحب اقتدار و اختیار کے حامل طبقہ کے افراد اپنے ہر قدم کو ملک و قوم کے مستقبل کے لئے بتا کر اندھیرے غار کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔
امریکی جی حضوری میں اول اول چند ٹکوں کی خاطر ملک کی نوجوانوں و عزتوں کو فروخت کیا۔ اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جب امریکا کی جنگ پر سوال کیا جانے لگا تو خاموش کروانے کے لئے "مولوی" نامی کردار کی روش پر چلتے ہوئے حق کی آواز بلند کرنے والے کو "شدت پسند" یا "انتہا پسندوں" کا ساتھی قرار دے دیا!!
مگر یقین جانے اب بھی روشن خیال کود آئیں گے میدان میں اور "روشن خیالوں کے مولوی پن" سے آپ کو مزید واقفیت دیں گے۔
یہ کیا بات ہوئی؟
دنیا میں اب تک تمام کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کی مشہوری کرتی ہی وہ بتاتی ہے کہ ہماری اس پروڈکٹ میں یہ خوبی ہے آپ اسے ضرور استعمال کریں اور اگر آپ اس کو وافر مقدار میں استعمال کریں گے تو آپ کو یہ یہ رعاتیں دی جائِں گی۔ صارف تک پہنچنے کے لئے وہ باقاعدہ تشہیر کے لئے الگ بجٹ مختص کتی ہیں مگر۔۔۔۔۔ اس کے بر عکس اپنے پیپکو والے اپنی پروڈکٹ کے بارے میں کہتے ہیں کم سے کم استعمال کرو، لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ کم سے کم بجلی استعمال کرو اور وافر استعمال کرع گے تو اور مہنگی ملی گی باقاعدہ تشہیر کرتے ہیں اور اپنے اس پیغام کو بذریعہ تشہیر عوام تک پہنچانے کے لئے باقاعدہ رقم مختص کرتے ہیں مگر عوام ہے کہ مانتی ہی نہیں!! یہ کیا بات ہوئی؟ چلیں رہنے دیں اشتہار دیکھے!
;
اور یہ گانا بھی
++++++++++++
ماہرین نے بلاتحقیق یہ بات ثابت ہونا تسلیم کر لی ہے کہ دنیا میں ہونے والی تمام طلاقوں کی پہلی اہم وجہ دراصل کوئی اور نہیں بلکہ خود شادی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ تمام شادیوں کا انجام طلاق نہیں ہوتا مگر اس حقیقت سے انکار کیا جانا نہ ممکن ہے کہ بغیر شادی ہے طلاق دی جا سکے، اس ہی سلسلے میں پروفیسر نا معلوم نمبر 1 نے تحقیق کئے بغیر زبان کھولی کہ شادی طلاق کی واحد وجہ نہیں مگر اولین وجہ ضرور ہے اُن کا کہنا تھا کہ ہم جو طلاق پر بلا تحقیق یہ بات کہہ رہے ہیں اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم خود شادی شدہ ہیں یا ہم میں سے اکثر کے نہایت قریبی رشتہ دار یا دوست وغیرہ، ماہر نامعلوم نمبر 2 کا کہنا تھا کہ طلاق کی تعداد میں ہم دوسری و تیسری وجہ یا دیگر وجوہات کو دور کر کے ہی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ طلاق پہلی وجہ یعنی شادی کے اختتام کا موجب بنتی ہے یوں پھر باقی وجوہات ثانوی ہو جاتی ہیں پروفیسر نامعلوم نمبر 3 نے پروفیسر نامعلوم نمبر 2 کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہان یہ بات درست ہے کہ اول وجہ شادی ہی ہے طلاق کی لہذا اگر اس سلسلے میں شادی کا نہ ہونا طلاق کے نہ ہونے کی اولین گارنٹی ہے!! جب اس رپورٹ پر ملک کے مشہور ماہر نامعلوم نمبر 4 سے پوچھا گیا تو انہون نے ماہرین کے ناموں کے بارے میں جاننا چاہا جب بتایا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کے خوف سے نام بتانے سے گریذہ ہیں تو پروفیسر نامعلوم نمبر 4 نے کہا یہ کیا بات ہوئی؟ بعدازہ انہوں نے ہمارے رپوٹر نامعلوم کو فون کر کے اپنا نام شائع نہ کرنے کو کہا کہ دراصل میری بیوی کہیں یہ رپورٹ نہ پڑھ لے ویسے بات ٹھیک ہی ہے۔
دفعہ 144
“ابے سنا کچھ اپنے شہر قائد میں دفعہ 144 لگ گئی"
ابے کیا اب کے سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی لگی ہے؟
“اڑے نہیں بے! وہ شہر میں سیاسی بینر، جھنڈے ،پوسٹرلگانے اور دیوار پر سیاسی نعرہ وغیرہ پر پابندی لگ گئی ہے"
نہ کر یار! کس کس پر پابندی ہے؟
“ابے سب سیاسی جماعتوں پر"
چل اوئے! کیا چھوڑو بندہ ہے تو سب پر کیسے لگ سکتی ہے؟
“کیوں!!! کیوں نہیں لگ سکتی"
ابے آدھا شہر بی بی کی سالگرہ منانے کی دعوتوں پر مشتمل بینر، پوسٹروں اور پارٹی کے جھنڈوں سے بھر گیا ہے اور تو پابندی کی بات کر رہا ہے
“اچھا!!! ایسا ہے"
پھر ہو سکتا ہے کہ اپنے شہر کے رحمان بابا نے "مشروب حیات" کے سرُور میں سالگرہ منانے کی منادی کو 144 لگائی ہو؟
چل اوئے!!۔
سماجی میڈیا کانفرنس (مکمل روداد)
سماجی میڈیا کانفرنس
گزشتہ ہفتہ ہم نے آواری ٹاور میں پاکستان (منتظمین کے بقول) کی پہلی بین الاقوامی سماجی میڈیا کانفرنس میں شرکت کی!!۔ اس کو کو امریکی قونصلیٹ نے منعقد کیا تھا، ہاں جی خرچہ اُن ہی کا تھا، اور شرکاء کو دیئے جانے والے اکثر تحفے بھی۔ اس تقریب کو بظاہر پی سی ورلڈ نامی گروپ کی طرف سے منعقد کیا گیا! یعنی کہ International Data Group, Inc نے۔تقریب کا دعوتی و ادارے کے تعارف کا پیج اب اُن کی ویب سائیٹ سے نہ صرف غائب ہے بلکہ فرنٹ پیج بھی ہٹا لیا گیا ہےمزید یہ کہ ان کے ٹویٹر آکاونٹ میں بھی آخری اپ ڈیٹ آٹھ جون یعنی کانفرنس سے دو دن قبل کی ہیں مزید جس سے کچھ اچھا تاثر نہیں اُبھرتا! اور یوں لگتا ہے کہ سب کچھ ایک "خاص پریکٹس" کے لئے کیا گیا۔
اس کانفرنس میں تین اردو بلاگر بھی شریک تھے ایک محمد اسد (جو اپنی نیوز ایجنسی کی طرف سے اس کی کوریج کرنے آئے تھے بطور بلاگر نہیں)، عمار اور میں (ہم اُن کی دعوتی لسٹ میں نہیں تھے اول اول مگر پھر دعوتی میل مل گیا!!)، اس کانفرنس کی روداد عمار نے تحریر کرنی (پہلا حصہ وہ تحریر کر چکے ہیں) ہے دیکھے باقی کا کب مکمل کرتے ہیں! اس کانفرنس کی دوران ایک ویڈیو بطور پرومو چلتی رہی جس میں بیان کی گئی معلومات نہایت عمدہ ہیں اور کام کی مگر اس میں ایک خامی تھی جو مجھے اچھی نہیں لگی!!! پاکستان کے نقشہ میں کشمیر نہیں تھا!! ویڈیو دیکھ لیں!
اس کانفرنس کو اٹینڈ کر کے میں نے محسوس کیا کہ اردو بلاگنگ سے متعلق ایک ورک شاپ نہ لے کر (اس سلسلے میں سستی کا مظاہرہ کر کے) ہم نے غلطی کی ورنہ ایسا کرنا مشکل نہ تھا۔
اپڈیٹ:- پی سی ورلڈ پاکستان کی ویب سائیٹ واپس آ گئی ہے۔
المیہ تو المیہ ہی ہے
سچ کو اپنی سچائی کے لئے کیا کسی کی گواہی کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں تو یہ سچائی کے ساتھ ذیادتی ہی نہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔
کراچی میں ہونے والی رینجر کے ہاتھوں ہونے والی دہشت گردی پر میرا وہ ہی ردعمل ہے جو سیالکوٹ والی سفاکی پر تھا!۔
دونوں واقعات کی بربریت کے گواہ اور شاہد کیمرہ مین میری نظر میں اس سفاکی و بربریت کء معاونین میں سے ایک ہیں۔
جہالت بمقابلہ دہشت گردی کی جنگ
جگر کیسا ہے؟
“زخمی"
کیوں کیا ہوا؟
“ابے تو نے بجٹ نہیں دیکھا جو پیش ہوا ہے"
ہاں دیکھا تھا! یار کمال کر دیا اپوزیشن نے وزیر خزانہ کو چوڑیاں تک پیش کر دین تھی مزا آ گیا!!۔
“ابے یہ حال ہے اس قوم کا جہالت پر قائم رہنا!! یہ کون سا اپوزیشن نے جمہوری عمل کیا شور کر کے؟"
تو کیا کرتے؟
“اگر اصل میں جمہوریت پر یقین ہے تو اب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کر کے اُسے عوامی بنائیں"
مثلا جناب کیا کرے؟
“اب تم یہ دیکھو کیا بجٹ آیا ہے صحت کی مد میں 16 ارب 90 کروڑ روپے یعنی فی پاکستانی صرف 85 روپے!!! مذاق ہے کہ نہیں"
ہاں!! کم ہیں۔
“اور تعلیم کی مد میں صرف 16 ارب روپے یہ بھی کوئی رقم ہے؟ "
ابے نہیں ہیں ناں پیسے اپنا ملک غریب ہے ناں!!کیا ہوا؟؟ اور ویسے بھی وفاق ہی کی ذمہ داری تو نہیں یہ اب صوبے کی ذمہ داری ہے
“واہ واہ!! دہشت گردی کی جنگ کے لئے قریب 495 ارب رکھے ہیں!! غریب ملک نے یعنی تعلیم کے مد میں پورے سال کا بجٹ دہشت گردی کی جنگ کے ایک دن کے بجٹ کے برابر!!!”
تو کیا ہو!! ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے!!!۔
“تو تمہارا خیال ہے جہالت کے اندھیروں سے پھوٹنے والی جنگ پر اربوں خرچ کرنا بہتر ہے مگر جہالت کو ختم کرنے کے لئے کرچ کرنا اہم نہیں؟؟"
یار پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو!!! خدا حافظ
الم پلم
جی جناب مہنگائی کے اعلان کا مہینہ آن پہنچا! میں بجٹ کو مہنگائی ہی سمجھتا ہوں!! لہذا جون مہنگائی کا مہینہ ہوا!
آج کل لکھنے کو دل ہی نہیں کر رہا، کیوں؟؟؟ یہ بھی معلوم نہیں! ایک مسئلہ تو میرے ساتھ شروع سے ہے میں اپنے اندر کی تحریک سے کچھ لکھو تو لکھو ورنہ نہین لکھا جاتا یہ بھی کئی بار ہو چکا ایک عنوان/مضمون پر کچھ لکھا بس اختتامی جملے باقی ہیں مگر پھر بلاگ پر پوسٹ نہ کیا! ہر بار ایسا کرنے کی وجہ مختلف ہوتی تھی!
کئی دوستوں اور احباب نے بذریعہ ای میل و ایس ایم ایس بھی تجویر دی کہ اس ٹاپک پر اپنے بلاگ پر کچھ پوسٹ کرو مگر دل ہے کہ مانتا ہی نہیں!! وجہ یہ کہ جب تک مجھے اندر سے تحریک نہ ہو نہیں لکھتا!!
کیا اس کا کوئی حل ہے؟؟؟
سچ اور بوری
بیٹا ہمیشہ سچ بولا کرو، کیونکہ جو جھوٹ بولتا ہے اُس کی زبان کالی ہو جاتی ہے۔
"بس رہنے دیں!!! امی جو سچ بولتا ہے اُس کی بوری بند لاش ملتی ہے"
دھرنا!!! آپ کی رائے؟
ہارن آہستہ بجائیں!!
ملیر بار کے سیکٹری جنرل جو کے ایبٹ آباد سے تعلق رکھتے ہیں کل ہے اپنے شہر گئے! آج اُن کا ایک ایس ایم ایس ہمین موصول ہوا! ایس ایم ایس کیا تھا ایبٹ آباد میں موجود عوامی رائے کا اظہار تھا اُن کے بقول انہوں نے پی ایم اے ایبٹ آباد کے قریب دیوار پر لکھا ہے!
اردو پر خُودکش حملہ
قیام پاکستان کے بعد بنگال میں اردو کے خلاف آواز اُٹھائی گئی جسکے نتیجہ میں قائداعظم مرحوم بنفس نفیس وہاں تشریف لے اور ڈھاکہ میں دو ٹوک الفاط میں اعلان کیا کہ اردو اور صرف اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔ اگرچہ جب سے اب تک یہ انگریز کے ذہنی غلاموں کے چرکے مسلسل سہتی رہی لیکنایوبی دور میں اس کے رسم الخط کو عربی کے بجائے سرے سے رعمن
خودکش حملہ آوروں کے متعلق اب تک جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق مسلمان نوجوان کو دنیا میں ہی جنت کی نعمتوں اور حوروں بہشت کے حسن دلفریب کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں اور اس بات پر آمادہ کر لیا جاتا ہے کہ "اپنی جان کو دھماکہ مین اڑا کر ابدی جنت حاصل کو لو۔ اس عارضی زندگی و ناپئدار دنیا کو خیر باد کہو، اپنے ہم وطنوں کو خاک و کون مین لوٹاؤ اور ابدی زندگی کی خوشحالیوں سے متمتع ہو جاؤ"۔ بد قسمتی سے کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب مین آئینی تحفظ رکھنے والی اور قائد اور علامہ کی محبوب زبان اردو کے حوالے سے پیش آ گئی ہے۔ حکومت پنجاب کو اسکے مشیر حضرات نے اردو ذریعہ تعلیم کو اسکولوں سے بے دخل کر کے "انگلش میڈیم" کے نفاذ کے تحت ترقی اور خوشحالی کی جنت کا یقین دلایا ہے، لہذا خادم اعلی پنجاب برصغیر میں مسلم رہنماؤں کی اردو کیلئے دو توک حمایت اور جدوجہد کو ایک طرف رکھ کر پنجاب کو "جنت ارضی" بنانے پر تلے ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ ان کے کیال مین متذکرہ قائدین اور پاکستان کے تمام آئین بنانے والے دور جدید کے تقاضوں اور انگریزی کی اہمیت سے قطعا نا بلد تھے جبکہ حکومت پنجاب جو جنت حاسل کرنا چاہتی ہے بلاشبہ اس کی ترقی اور خوشحالی کے بجائے ناخواندگی اور جہالت کے فوارے تو ضرور ہی پھوٹ رہے ہو گے کیونکہ ایک محتاط اندزے کے مطابق 1943ء سے اس وقت تک چالیس لاکھ نوجوانوں کو صرف اس لئے جہالت کے غاروں میں دھکیل دیا گیا کہ وہ دسویں جماعت میں انگریزی (بطور مضمون) پاس نہیں کر سکے۔ اس طرح بی اے ، بی ایس سی کے حالیہ نتائج کے مطابق 78 فیصد ناکام ہوئے جن میں بہت بری اکثریت انگریزی میں فیل ہونے والوں کی ہے اور کم و بیش ہر سال ذہانت کا یوں قتل عام ہو رہا ہے۔ ایسا آخر کیوں نہ ہو؟ ہمارے ارباب اقتدار انگلش دیوی کے چرنوں میں اپنے نوجوانوں کی ذہانتوں کا خون یوں پیش نی کریں تو وفاداری کا اور کیا ثبوت پیش کریں؟ لیکن ہم تو ان سے مخلصانہ گذارش کرین گے کہ اردو پر رحم فرمائیں اور قومی تشخص کے اثاثے کو تباہ نہ ہونے دیں۔
تحریر: ڈاکٹر محمد شریف نظامی
32 سال کی محلت
بس یار نہ پوچھ! واقعی پریشان ہوں
“کیوں کیا ہوا"
یار وہ بھٹو کا کیس کھل گیا ہے اُس پر پریشان ہوں
“کیوں کیا تیرا نام بھی قاتلوں میں ہے کیا"
ابے نہیں یار مین تو تب پیدا بھی نہیں ہوا تھا یہ 32 سال پرانا کیس ہے اور میں تو صرف 29 کا ہوں
“تو پھر تجھے کیا مسئلہ ہے"
یار میں یہ سوچ کر پریشان ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے صاحب نے بی بی کے قاتلو.ں کو بھی 32 سال کا وقت دے دیا ہے۔
“کیا! کیا! کیسے"
یار دیکھ نان اگر ایک بھٹو کا کیس کو 32 سال بعد دوبارہ کھولا ہت تو دوسرء اور تیسرے بھٹو کے قاتلوں کو بھی تو 32، 32 سال ملیں گے
"اوئے اوئے! یہ دو بھٹو اور کہاں سے آ گئے؟"
بی بی اور اُس کا بھائی!!!
“اوہ"
دعا کی قبولیت کا خطرہ
“یہ کاپی ہے" میں نے جواب دیا
“یہ کیسی کاپی ہے؟" قدرت نے پوچھا
“اس میں دعائیں لکھی ہیں- میرے کئی ایک دوستوں نے کہا کہ خانہ کعبہ میں ہمارے لئے دعا مانگنا۔ میں نے وہ سب دعائیں اس کاپی میں لکھ لی تھیں"
“دھیان کرنا" وہ بولے "یہاں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے۔"
“کیا مطلب؟" میری ہنسی نکل گئی۔ "کیا دعا قبول ہو جانے کا خطرہ ہے؟"
“ہاں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا قبول ہو جائے"
میں نے حیرت سے قدرت کی طرف دیکھا۔
بولے "اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر ہیں۔عرصہ دراز ہوا انہیں روز بخار ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر، حکیم، وید، ہومیو سب کا علاج کر دیکھا۔ کچھ افاقہ نہ ہوا، سوکھ کر کانٹا ہو گئے آخر چارپائی پر ڈال کر کسی درگاہ پع لے گئے۔ وہاں ایک مست سے کہا بابا دعا کر کہ انہیں بخار چڑھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیںآج تک بخار نہیں چڑھا۔۔۔۔۔اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹھے اکڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی گردن ادھر اُدھر ہلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ مرض صرف اُسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ انہین بخار چڑھے۔ انہیں دھڑا دھڑ بخار چڑھنے کی دوائیاں کھلائی جا رہی ہیں مگر انہیں بخار چڑھتا"
دعاؤں کی کاپی میرے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی۔ میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھآ۔
“میرے اللہ! کیا کسی نے تیرا بھید پایا ہے"
اقتباس" لبیک" ؛ مصنف"ممتاز مفتی"
بھتہ مافیا کے خلاف بھتہ خوروں کی جنگ
ایک وڈے وزیر داخلہ ہیں اور ایک نکے یا صوبائی! نکے لڑائی کرتے ہیں وڈے صلح کے لئے پہنچ جاتے ہیں! نکے کی لڑائی اب اتحادیوں کے حکم پر تاجروں کی ہڑتالوں تک جا پہنچی ہے تو وڈے ابھی بھی سیاسی بیان سے فضاء خوشگوار کرنے کی کاوش میں مصروف ہیں مگر اتحادی راضی نہیں کہتے ہیں اپنوں کو قابو کرو! دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔
کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!
مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!
اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!
آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!
اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!
تم نے بُرا کھیلا! مگر تم اچھے ہو!
پاکستان کی عوام کو یار لوگ کہتے ہیں میڈیا نے شعور دیا! میڈیا میں اتنا شعور تھا کہ اچھے اچھوں کو مرحوم طوطے کی پیشن گوئی پر جیت کے خواب دیکھا دیئے اور طوطے کے حمایتی نجومیوں کو بھی میدان میں لے آئے! اب آپ بتاؤ کہ ہم میں اور پڑوسیوں کے میڈیا کی حرکتوں میں کتنا فرق ہے؟
میں بھی عوام میں سے ہوں! اس لئے ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتا ہوں! سات نوجوان کھلاڑی! جن کا یہ پہلا بڑا ٹورنامنٹ! اور اُس میں سیمی فائنل کھیلنا! ایک نہایت عمدہ کارگردگی ہے! مایوسی ہوئی سیمی فائنل میں یونس خان و مصباح کی بیٹنگ سے! یوں لگا وہ ٹیم کے لئے نہیں اپنے لئے کھیل رہے ہیں! واقعی لگتا ہے مصباح نے اس میچ میں آفریدی سے ہاتھ کر لیا ہے! عمر گل بھی پریشر میں اپنے کھیل کو خراب کر بیٹھے! عبدلزاق اور کامران کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے! سوچنا کیا ہے یہ تو اپ جانتے ہی ہوں گے؟
ان تمام باتوں کے باوجود "پاکستانی ٹیم! تم بُرا کھیلے مگر تم پھر بھی اچھے ہو" بھارت سے یہ میچ کھیلنا بھی تمہاری جیت ہے کیونکہ جو ملک جنوری 2009 سے تم سے نہ کھیلنے کے بہانے بنا رہا تھا تم نے اُسے وہاں پھنسایا کہ نہ اُگلے بنے نہ نگلے۔
ویسے ہم ہارکر بھی باوقار رہے ہیں! کہ اُن کی عزت تو جیت کر بھی برہنہ ہوئی جا رہی ہے!!
کھلی چھٹی سے آدھی چھٹی تک
یار میچ ہے گھر جا رہا ہوں
“تو بھی آدھی چھٹی کما کر آ رہا ہے"
ہاں یار، ہماری تو آدھی چھٹی تھی اور تمہاری؟
“ہماری پوری چھٹی تھی"
یار سمجھ نہیں آیا وفاق نے آدھی چھٹی دی اور صوبے نے پوری کیوں؟
“سیدھی سے بات ہے جس کو جتنی چھٹی ملی ہوئی ہے اُس نے اتنی چھٹی عوام کو دی"
مطلب کیا ہے؟
“دیکھ ہار بڑے صاحب نے گیلانی صاحب کو آدھی چھٹی دے رکھی ہے اور آدھی گیلانی کے مخالفین کو تو گیلانی نے آدھی چھٹی عوام کو دی"
بات سمجھ میں نہیں آئی مگر چلو یہ بتاو پھر سندھ میں پوری چھٹی کیوں ہے؟
“لے یار پہلے تو یہ بتا سندھ میں چھٹی کس نے کی؟"
وزیراعلی و گورنر نے۔
“دیکھ اب سمجھ، سندھ میں آدھی چھٹی ملی ہوئی ہے قائم شاہ و کمپنی کو اور آدھی چھٹی ملی ہوئی ہے لندن والی سرکار و کمپنی کو، آپس کی بات ہے وہ جو ولی صاحب و کمپنی کو آدھی چھٹی ملی ہے ناں اُس کا کچھ استعمال وہ بھی سندھ میں کر لیتے ہے"
تو پھر؟
“تو پھر کیا؟ آدھی چھٹی گورنر کی اور آدھی وزیراعلی کی ہو گئی ناں کھلی چھٹی۔ جانو جس کو جتنی چھٹی ملتی ہے نا اُتنی ہی وہ آگے دیتا ہے"
کیا ہودہ وضاحت دی ہے۔
پاک بھارت سیمی فائنل اور ہندوستانی چینل
دلچسپ خبروں کو جمع کیا ہے کہ کیسے انڈین میڈیا پاکستانی ٹیم کی توہین کر رہا ہے ۔ وقت ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیں۔
دلچسپ بات یہ کہ بھارتی میڈیا نے اپنی ٹیم کو بھی میچ فیکس کرنے کے الزام ست سرفراز کیا ہے۔ وہ کدھر ہے آئی سی سی؟
گرگٹ ڈپلومیسی
ان میچوں کا کیا ہوا تھا جن میں ہم بھارت کرکٹ دپلومیسی کرنے گئے تھے؟ کچھ یاد ہے؟ ہمارا پلا بھاری رہا تھا!! ایک ڈرا اور ایک ہم جیت گئے تھے اور عوام میں جتنی محبت ہے وہ تو سامنے کی بات ہے! ہار دونوں طرف نا قابل معافی جرم ہے کھلاڑیوں کے لئے! اب کیا ہو گا دیکھنا پڑے گا۔
کچھ فیکٹ سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ ہو گا کیا؟ مثلا پاکستان کبھی ورلڈکپ کے کسی بھی مقابلے میں بھارت سے نہیں جیتا! موہالی میں کبھی نہیں ہارا! ضروری ہے کھیل کو کھیل کے طور پر لیا جائے قومی تعلقات کی تلخیوں کو اس میں حصہ نہ دیا جائے۔
یہ میڈیا جو آج کرکٹ ڈپلومیسی کو امن کا چھکا قرار دے رہا ہے ورلڈکپ کے آغاز میں اس نے ایک خبر جس کی تصدیق نہ ہو سکی کی کافی تشہیر کی، جو عوام مین ہندوستان کے بارے مین منفی رجحان کو فروغ دینے کو کافی تھی۔ وہ خبر کی "مالی" نامی طوطے کی ہندوستانی شہریوں کے ہاتھوں قتل کی کہ اُس نے پاکستان کو فاتح ورلڈکپ قرار دیا تھا۔ یعنی اب بات کھیلاڑیوں کے کھیل سے نکل کر جانوروں و نجومیوں کی پیشن گوئی پر آ گئی ہے۔۔۔۔ کیا بات ہے ؛
کھیل کے میدان کو میدان جنگ نہ سمجھا جائے نہ ہی کھیلوں کے تعلقات کو قومی مفادات یا قومی غیرت سے جوڑا جائے! میدان میں اترنے والی دونوں ٹیمیں جیت کی جدوجہد کرین گی اور بہتر کھیل و مضبوط اعصاب والی ٹیم میدان مار لے گی۔ ہماری نیک خواہشات اپنی تیم کے ساتھ ہیں مگر اگر لڑ کر بھی ہار جائے شرط ہے جیت کی جدوجہد تو افسوس تو ہو گا مگر اپنی ٹیم سے شکایت نہیں۔ ضرورت ہے جیت امن کی ہو۔
بوم بوم بوم
یوں تو کرکٹ ورلڈکپ کا اپنا گانا بھی بُرا نہیں! اس کے علاوہ اور بھی کئی گانے مارکیٹ میں ہیں مختلف پاکستانی چینلز اور گروپس نے بھی اپنے اپنے کرکٹ ورلڈکپ کے گانے مارکیٹ میں پیش کیئے مگر پی ٹی وی پر چلنے والا یہ گانا مجھے اچھا لگتا ہے! آپ کی کیا رائے ہے؟
آتشی لومڑی کی چوتھی نسل
ہمارا انٹرنیٹ پر جتنا بھی وقت گزرتا ہے اس دوران آتشی لومڑی ہمارا ساتھ خوب دیتی ہے۔ آج آتشی لومڑی کا نیا ورژن میدان میں آگیا ہے جسے آپ باآسانی نیٹ (ونڈو، لینکس، میک) سے اُتار سکتے ہیں مگر اگر ہماری طرح آپ بھی اُبنٹو کے صارف ہیں (ہمارے کمپیوٹر کو ونڈو کی شکل دیکھے ہوئے قریب دو سال ہو گئے ہیں) تو آپ Launchpad سے آتشی لومڑی کے Personal Package Archives کے کی مدد سے اس کو اپگریڈ کر کے چوتھے ورژن پر جا سکتے ہیں ہمارے پاس تو نیا ورژن خوب کام کر رہا ہے اور یہ جاننے کے لئے کہ اور کتنے احباب آتشی لومڑی کی چوتھی نسل کو گلے لگا چکے ہیں یہاں تشریف لے جائیں۔اوبنٹو میں آتشی لومڑی کی چوتھی نسل حاصل کرنے کے لئے ٹرمینل (Applications > Terminal) جا کر یہ کمانڈ لکھے۔
sudo add-apt-repository ppa:mozillateam/firefox-stable
sudo apt-get update
sudo apt-get upgrade
ضروری وضاحت۔۔۔۔ایک بار پھر
بدتہذیب تبصرہ تو مٹا ہی دیئے جائے گے ہاں اختلافی رائے کو جو تہذیب کی قدروں کے اندر ہو کو چھیڑا بھی نہیں جائے گا۔
شکریہ:
غریب، برگر بچے اور انقلاب
“غریب بہت ہی غریب ہوتا ہے، اُس کے پاس پینے کو Nestle کا پانی بھی کم مقدار میں ہوتاہے، وہ پیسے بچانے کے لئے Nestle کی بڑی بوتل خریدتا ہے، یہاں تک کہ ذیادہ گرمی میں وہ جوس پینے کے بجائے اس پانی پر ہی گزارہ کرتا ہے، غریب کے پاس ایک ہی گاڑی ہوتی ہے، اُس کا گھر بھی چھوٹا ہوتا ہے، غریب کے گھر میں سب سے ذیادہ مظلوم اُس کی بیوی ہوتی ہے کیوں کہ وہ بیوٹی پارلر بھی کم ہی جاتی ہے، اور اُسے کئی سوٹ دس سے پندرہ بار سے ذیادہ پہننے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں۔ غریب نہ صرف خود غریب ہوتا ہے بلکہ اُس کے نوکر، ڈرائیور، مالی، باورچی اور چوکیدار تک غریب ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں مل کر غربت کے خاتمے کے لئے اپنی جدوجہد کرنے چاہئے"
ہم سوچتے تھے کہ غریب کے لئے جدوجہد ایسے مضامین لکھنے والے ممکنہ بچے کیسے جدوجہد کریں گے؟ تب ہم نے ایک ایسے ہی بچے کی انقلاب کی کاقش سے متعلق یہ ویڈیو دیکھی آپ سے جانے کہ انقلاب کیوں نہیں آ رہا!!
“جلسے کے لئے آپ دیکھے ہماری بہنوں، mothers کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ہم سارے اچھی فیملی کے لوگ ہیں، ہم سڑکوں پر آئے ہیں نعرہ لگانے کے لئے، عمران خان کے لئے، ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہیں، ہمیں دھکے دے رہی ہے، ہم انقلاب کے لئے آئے ہیں، اپ کے ملک کے لئے آئے ہیں، ہر بندہ اپنے ملک کے لئے نکل کر آیا ہے، اس گرمی میں کون اتنا جلوس کرتا ہے؟ پولیس والے ہمیں دھکے دے رہے ہیں! کس کے لئے؟ ایک انگریز کے لئے! ریمنڈ ڈیوس کے لئے؟ لاہور میں وہ خون خرابے کر کے بھاگ گیا اپنے ملک! ہماری عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا ہوا؟ اتنا انصاف تو کسی میں نہیں ہے! ہم سارے سڑکوں پر آئے ہیں، ہمارے گھروں میں بھی پردے ہوتے ہیں! ہماری عورتیں بھی پردے کرتی ہیں مگر جب انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے گھر میں ہر بندہ نکل آتا ہے۔ کیوں؟(لوگوں سے سوال) میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ میں صحیح بول رہا ہوں ناں؟ (آوازیں : جی جی) سارا بندہ نکل آتا ہے! سر ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہے ہم انقلاب کیسے لائے گے؟ آپ بتائیں! آپ میڈیا والے ہیں آپ ہمارے ساتھ اگر ہوں گے تو تب انقلاب آئے گا! اگر پولیس والے ہمیں مارے گے نہیں تب انقلاب آئے گا! آپ دیکھے عمران خان اُس کا کیا ضرورت ہے؟ وہ تو بہت امیر بندہ ہے، وہ اوپر کھڑا ہوا ہے وہ بھی جلسے جلوس دے رہا ہے اُس کو بھی دھکے لگ رہے ہیں۔ ہر ببدے کو Left, Right, Central دھکے دے رہے ہیں! یہ میرے بھائے گرمی میں خراب ہو گئے ہیں! ہمیں کوئی ضرورت ہے یہاں آنے کی"
کر لو گل!!! اے کی اے؟؟؟ مجھے ذاتی طور پر اس لڑکے کے خلوص پر شبہ نہیں! یہ سچے جذبے سے ممکن ہے سرشار ہو مگر زندگی کی حقیقت نے نا واقف ہے!!
ممکن ہے ایسے ہے پولیس کی دنڈے کے ڈر سے انقلاب سے بھاگنے والے کارکنان سے مایوس ہو کر عمران خان نے لندن والی سرکار کو فون کیا ہو "پیر صاحب! ہمارے بندے تو پولیس سے جان کی امان مانگتے ہیں وہ منتر مجھے بھی دے دو جس سے آپ کے کارکنان پولیس کو جان سے آہو!!!!”
اپ ڈیٹ:- اس جذباتی جذبے والے لڑکے کا رد عمل:
اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟
“تو آپ لوگ وکیل ہیں"
ہم "جی جناب، کوئی قصور اس میں ہمارا؟"
رکشہ والا "نہیں جناب قصور آپ کا کیا ہونا ہے، مین نے تو ویسے ہی پوچھ لیا کہ آپ نے ابھی پولیس والوں کو اپنا تعارف کروایا تھا ناں اس لئے"
ہم "اچھا"
رکشہ والا "ویسے صاحب میں مکمل ان پڑھ بندہ ہو مگر یہ جانتا ہوں کہ جس کو قانون آتا ہے ناں وہ بڑا تیز بندہ ہوتا ہے، دوسرا ہم تو ویسے ہی وکیل کا گرویدہ ہے"
ہم "یار گرویدہ تو ہم ہے آپ لاہوریوں کے آپ نے جو ڈیوس کو پکڑا"
رکشہ والا "صاحب ہم نے کیا پکرنا تھا، اُس کی قسمت ہی بری تھی قابو آ گیا"
ہم " نہین یار بڑا کام کیا تم لوگوں نے"
رکشہ والا "صاحب ویسے ایک بات ہے جب سے وہ پکڑا گیا ہے ناں ایک عجیب سا اطمینان ہے اندر، یہ پولیس والے بھی اب مطمین نظر آتے ہیں ذیادہ تنگ نہیں کرتے ورنہ پہلے تو بہت سوال کرتے تھے"
ہم " کیا اطمینان؟ اور پولیس والے کیسے مطمین ہو گئے؟"
رکشہ والا " ارے صاحب، جب کوئی مجرم مکمل ثبوت کے ساتھ پکڑا جائے اور مناسب تشہیر سے یہ احساس ہو کہ اسے قرار واقعی سزا ہو گی تو ہم غریبوں کو اندر سے اطمینان ہوتا ہے کہ انصاف ہو گا، اور پولیس بھی اچھی لگتی ہے محافظ معلوم ہوتی ہے ورنہ تو دشمن۔ صاحب اُس دن سے ہمارا روزگار بھی بڑھا ہے"
ہم "کیا بات ہے آپ تو بہت گہری باتیں کرتے ہوں"
رکشہ والا "ارے صاحب کیوں مذاق اُڑاتے ہوں"
آج ریمنڈڈیوس کی رہائی کی خبر سن کو جو دوسرا شخض ہمارے ذہن میں آیا وہ وہی رکشہ والا تھا۔۔۔۔ اب سوچتا ہوں اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟ اور سچی بات بتاؤ اب تو خود مجھے بھی عدم تحفظ کا احساس ہو رہا ہے کیا معلوم کب کہاں کوئی ریمنڈڈیوس کسی گاڑی سے مجھ پر بھی فائر کر دے؟
تمہیں کیوں شکایت ہے؟؟
آج ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بنگالیوں سے ہضم نہیں ہوا لہذا ہوٹل جاتی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو پتھروں سے نوازا!!! اس پر کرس گیل کچھ یوں شکایت کرتے نظر آئے
Chris Gayle
This is some bullshit.....Bangladesh stoning our bus!!! Freaking glass Break!!! This is crap,can't believe..what next bullets!!!! Kiss teeth
مانا کہ بنگلہ دیش کی عوام کو یہ حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی مگر کرس گیل کو اتنا بھی غصہ نہیں آنا چاہئے!!!
ٹی بریک!! ایک تعارف۔۔۔ایک پلیٹ فارم
یہ عمار یاسر کی تحریر ہے! ان کا اول ذکر/تعارف اردو بلاگرز عمار ضیاء کی اس تحریر میں پڑھ چکے ہیں! محترم ٹی بریک کے Co-Founder ہیںاور ایک عمدہ شخصیت کے مالک۔
اس تحریر کا بنیادی مقصد اردو بلاگرز کی ترویج ہے گو کہ اس سے قبل بھی اردو بلاگرز کو اپنے چند ایک اعلی پلیٹ فارم میسر ہیں
بھوک ہرتال
اوئے فکر نہ کر ڈرامہ ہو گا امریکہ ہو یا اُس کا ایجنٹ دونوں بھوکے نہیں رہتے البتہ بھوک کے لئے بندے مار دیتے ہیں خواہ بھوک تیل کی ہو یا اقتدار کی!۔
پہلے پہل آنے والے پیغامات میں کراچی میں فروخت ہونے والے مکان، فلیٹ،دفتر، گاڑی، کار، موٹر سائیکل اور دیگر قابل فروخت اشیاء کےنقد و آسان اقساظ پر دستیابی کے پیغامات آتے تھے۔ مگر اب زیر تعمیر مسجد و مدرسے کے چندے، یتیم بچیوں کی شادی میں مدد، استخارہ کرنے والے کا پتہ، رشتوں کی تلاش، ٹیوٹر (ٹیوشن سینٹر) کی دستیابی، پرائیویٹ اسکولوں و سینٹروں میں ڈاخلے کا اعلانات، پلمبر، مستری، رنگ والا، موٹر مکینک و بورنگ والے کی دستیابی بمعہ موبائل نمبر، ریسٹورینٹ و ہوٹل کا پتہ بمعہ مینو بلکہ یہاں تک کہ ایک بار ہمین ایک ایس ایم ایس آیا جس میں ڈلیوری کے وقت لیڈی ڈاکٹر کی دستیابی سے آگاہ کیا گیا تھا اور ساتھ یہ بتایا گیا تھا کہ ختنے کرنے کا معقول انتظام ہے۔ جبکہ اُس وقت ہم کنوارے تھے اور دوسری آفر بھی ہمارے لئے کار آمد نہیں تھی کہ وہ کام مین نمٹ گیا تھا۔ اس سلسلے میں 2009 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کر دیا تھا جس کا نام “تحفظِ صارفین ریگولیشن 2009” ہے۔
