4/14/2011

32 سال کی محلت

“اوئے بڑا پریشان لگ رہا ہے خیر تو ہے؟"
بس یار نہ پوچھ! واقعی پریشان ہوں
“کیوں کیا ہوا"
یار وہ بھٹو کا کیس کھل گیا ہے اُس پر پریشان ہوں
“کیوں کیا تیرا نام بھی قاتلوں میں ہے کیا"
ابے نہیں یار مین تو تب پیدا بھی نہیں ہوا تھا یہ 32 سال پرانا کیس ہے اور میں تو صرف 29 کا ہوں
“تو پھر تجھے کیا مسئلہ ہے"
یار میں یہ سوچ کر پریشان ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے صاحب نے بی بی کے قاتلو.ں کو بھی 32 سال کا وقت دے دیا ہے۔
“کیا! کیا! کیسے"
یار دیکھ نان اگر ایک بھٹو کا کیس کو 32 سال بعد دوبارہ کھولا ہت تو دوسرء اور تیسرے بھٹو کے قاتلوں کو بھی تو 32، 32 سال ملیں گے
"اوئے اوئے! یہ دو بھٹو اور کہاں سے آ گئے؟"
بی بی اور اُس کا بھائی!!!
“اوہ"

2 تبصرے:

  1. مشرقی پاکستان کا مقدمہ بھی ری اوپن ہونا چاہئیے اور اسمیں ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کا تعین کیا جانا بھی بہت ضروری ہے۔ اور بھٹو کے اسی دور میں قتل ہونے والے جن کا الزام ذوالفقار علی بھٹو پہ لگایا جاتا ہے۔ جن میں ڈاکٹر نذیر احمد 8 جون 1972ء کو راجن پور میں قتل ہوئے۔ خواجہ رفیق 20 دسمبر 1972ء کو لاہور میں گولیوں کا نشانہ بنے ۔ اچکزئی قبیلے کے قوم پرست رہنما عبدالصمد اچکزئی 2 دسمبر 1973ء کو ایک بم کا نشانہ بنے۔ حیات محمد خان شیر پائو 8 فروری 1976ء کو دہشت گردی کی واردات میں مار ڈالا گیا۔ ان سب کے مقدمات بھی ری اوپن ہونے چاہئیں ۔ تانکہ زبردستی کے تقدس اور شہادتوں کے بارے کوئی فیصلہ ہوسکے کہ کون کس قدر شہید اور قوم کا خیر خواہ تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان توڑنے میں کس کا کیا کردار تھا ۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔