4/08/2011

دعا کی قبولیت کا خطرہ

یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟
“یہ کاپی ہے" میں نے جواب دیا
“یہ کیسی کاپی ہے؟" قدرت نے پوچھا
“اس میں دعائیں لکھی ہیں- میرے کئی ایک دوستوں نے کہا کہ خانہ کعبہ میں ہمارے لئے دعا مانگنا۔ میں نے وہ سب دعائیں اس کاپی میں لکھ لی تھیں"
“دھیان کرنا" وہ بولے "یہاں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے۔"
“کیا مطلب؟" میری ہنسی نکل گئی۔ "کیا دعا قبول ہو جانے کا خطرہ ہے؟"
“ہاں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا قبول ہو جائے"
میں نے حیرت سے قدرت کی طرف دیکھا۔
بولے "اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر ہیں۔عرصہ دراز ہوا انہیں روز بخار ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر، حکیم، وید، ہومیو سب کا علاج کر دیکھا۔ کچھ افاقہ نہ ہوا، سوکھ کر کانٹا ہو گئے آخر چارپائی پر ڈال کر کسی درگاہ پع لے گئے۔ وہاں ایک مست سے کہا بابا دعا کر کہ انہیں بخار چڑھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیںآج تک بخار نہیں چڑھا۔۔۔۔۔اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹھے اکڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی گردن ادھر اُدھر ہلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ مرض صرف اُسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ انہین بخار چڑھے۔ انہیں دھڑا دھڑ بخار چڑھنے کی دوائیاں کھلائی جا رہی ہیں مگر انہیں بخار چڑھتا"
دعاؤں کی کاپی میرے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی۔ میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھآ۔
“میرے اللہ! کیا کسی نے تیرا بھید پایا ہے"


اقتباس" لبیک" ؛ مصنف"ممتاز مفتی"

3 تبصرے:

  1. میرے مشاہدے میں بھی ایسی ایک بات ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. يہ پيروں فقيروں کے متعلق تو ميں جانتا نہيں مگر اتنا جانتا ہوں کہ ميرا اللہ جو خالق مالک حاذق اور پالنہار ہے وہ دعا قبول کرتا ہے ۔ کوئی مانگنے والا تو ہو اُس سے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہمیشہ عافیت کی دعاء کرنی چاہئے۔ یا بندہ یہ دعاء کرے کہ اے اللہ جس بات میں میری خیر ہو تو وہی فیصلہ فرمادے۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔