ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: August 2014

ناکامی کسی کا مقدر نہیں

کسی کو ناکام کرنے کو فقط اتنا کافی ہے کہ اُس سے جیت کی امید چھین لی جائے، جیت کی امید کے خاتمے کے ساتھ ہی کامیابی کی جدوجہد دم توڑ جاتی ہے۔ کامیابی کی امید باقی ہو تو ناکامی کا خوف جدوجہد کے لئے تیل کا کام کرتا ہے یعنی جستجو مزید تیز ہو جاتی ہے۔ ایسا فقط فرد کے لئے ہی نہیں بلکہ افراد کے ایک گرو یا قوم کے لئے بھی درست ہے۔ جیت کی امید کے خاتمے سے اگلا مقام یہ ہے کہ فرد ہار یا ناکامی کو ہی اپنا مقدر سمجھے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم وطنوں سے جیت کی امید ہی نہیں چھین لی گئی بلکہ یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ ہار یا ناکامی آپ کا مقدر ہے۔ ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں نااہل افراد اقرباپروری یا دولت کے زور پر قابض ہو گے یا ہیں اور اُن کا مقدر یہاں اس وطن میں نہیں۔ قابل آدمی ناکام ہو کر مایوسی پال لے تو اُس کی صحبت کئی دیگروں کو بھی اس بیماری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یوں اس بیماری کے مریض بڑھتے جاتے ہیں ۔
مگر حقیقت میں قابل آدمی ہمیشہ دوسروں کی ضرورت ہی نہیں مجبوری ہوتا ہے آپ اپنی قابلیت میں اضافہ کرے یقین کریں آپ بھی ضرورت نہیں سامنے والی کی مجبوری بن جائیں گے۔ تجربے نے یہ بات سکھائی ہے کہ ہر نااہل کو ایک اہل بندہ درکار ہوتا ہے اور اگر آگے جانے کی جستجو برقرار رہے تو راستے بھی ذہین لوگ بناتے ہیں۔ مایوس ہونے والے دراصل وہ ہوتے ہیں جو ہار و ناکامی کو مقدر مان لے۔
ہاں ایسی کامیابی کے لئے بس جدوجہد و انتظار ضروری ہے۔