11/27/2012

اللہ کے نیک لوگ!!!

کہتے ہیں اللہ والوں کا دل بہت نرم ہوتا ہے۔ جب کبھی اللہ کے رحم و پیار کا ذکر محفل میں ہوتا ہے تو اللہ والے اپنی رب کی محبت میں اشک بارہو جاتے ہیں۔ یہ ہی معاملہ اِن کا اللہ کے محبوب نبی اور اُن کے نیک بندوں کے ذکرکے وقت ہوتا ہے۔
مجھے ہمیشہ اپنی اِس حالت پر خود پرغصہ آیا کہ مجھ پر یہ کیفیت کیوں طاری نہیں ہوتی، مجھے اللہ والوں جیسا کردار و دل کیوں نہیں حاصل۔ اس کا سب سے پہلے احساس مجھے تب ہوا جب میں مکہ میں کعبہ کے دروازہ کے قریب کھڑا دعا مانگ رہا تھا اور میرے آس پاس کھڑے تمام افراد ہی کعبہ سے لپٹ کر رورو کر دعا مانگ رہے تھے اور میں جہاں اُن پر رشک کر رہا تھا وہاں ہی خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیسا سخت دل ہے، کیسے مردہ احساسات کہ یہ لذت، یہ محبت، یہ ندامت، یہ کیفیت ، ایسی دعا مانگنے کا ہنر، اُس رب کو اپنی طرف کرنے کا یہ نسخہ ، اُن کی رحمت کو طلب کر کا یہ انداز مجھے کیوں نہیں آتا۔ کیسا کیا ہے جو میں اس نعمت سے محروم ہوں؟
ہر ہر بار جب میں ایسے کسی منظر، ایسی کسی شخصیت، ایسی کسی محفل کا حصہ ہوتا ہوں تو مجھے یہ احساس تنگ کرتا ہے کہ میں کیوں اس کردار ہے مالک نہیں ہوں؟؟

11/23/2012

زندگی مفلوج ہو تو زندگی محفوظ ہے!!!

دہشت گردی کا خطرہ  ہے! دہشت زدہ کون ہے؟ حکومت  چلانے والوں کو حکمرانی تب ہی زیب دیتی ہے جب وہ بے خوف ہو۔ اگر صاحب اقتدار ہی  خوف میں مبتلا ہوں تو عوام کا بے خوف رہنا کم ہی ممکن ہوتا ہے۔ بڑے بتاتے ہیں کہ جب 1965 میں پڑوسیوں سے  لڑائی ہوئی تو اُس وقت کے گورنر نے تاجروں کو  کہا کہ بازار بند نہ ہوں، اشیاء عوام کی پہنچ سے دور نہ ہوں تو عوام سرحد پر ہونے والی جنگ کے خوف سے بے نیاز لاہور شہر کی گلیوں میں موجود تھی اور فضاء میں جنگی جہازوں کے آپسی مقابلوں کو یوں دیکھتی تھی  جیسے بسنت سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔
زمانہ بدلہ حاکم بدلے! بدلا اصول حکمرانی! پہلے شکایت تھی حکمران حکومت کے لالچی ہیں! کم ہی نے اُنہیں نااہل کہا اور اُن سے بھی کم نے انہیں کرپٹ!! اب کون ہے جو اہل ہو، چلو نااہل ہی سہی مگر کرپٹ نہ ہو؟
آپ نا اہلیت کی انتہا دیکھیں! کہ حل یہ نکالا گیا ہے کہ سب کچھ ٹھپ کر کے رکھ دیا جائے نہ کچھ ہو گا نہ کچھ خراب ہو گا!! شاباش ہے ایسے حکمرانوں کے! موبائل بند، موٹر سائیکل بند، بازار بند،  ماشاءاللہ۔
اب یہ حال ہے کہ دہشت گردی کے مجرم اگر پکڑے گئے تو اِن کی حکمت عملی سے نہیں  بلکہ اپنی ناکس حکمت عملی کے باعث پکڑ میں آئیں گے۔ اب ان کا ایک ہی کمال باقی رہ گیا ہے وہ ہے بے شرمی۔ جن کی مدد سے یہ جمہوری  حکومت    کے پانچ سوال  پورے کریں گے! یہ کارنامہ ہے کافی ہے اب ان پانچ سالوں عوام کا کیا ہو گا، ملک کا کیا ہو گا یہ ان کا درد سر نہیں!! بس ان دوہرے چہرے والے دوہرے کردار والوں کو بس دوہری شہریت کی منظوری چاہئے!!

11/02/2012

اوطاق جو قانون

کیا کسی کو سندھی آتی ہے اگر ہاں تو اس کا ترجمہ کر دے جو یہ خاتون کہہ رہی ہے گالیوں کے علاوہ یعنی اس مرد کا منہ کیونکہ کالا کیا جا رہا ہے؟ اور کیوں سزا دی جا رہی ہے وجہ عنایت کریں!! اور آپ کی کیا رائے ہے کیا اِس کا یہ عمل درست ہے؟ بتانے والے کہتے ہیں کہ یہ میر نادر مگسی (صوبائی ۔اسمبلی کے ممبر) کی بیوی ہے اور اس کا نام راحیلہ ہے مگر ابھی یہ کنفرم نہیں