11/27/2012

اللہ کے نیک لوگ!!!

کہتے ہیں اللہ والوں کا دل بہت نرم ہوتا ہے۔ جب کبھی اللہ کے رحم و پیار کا ذکر محفل میں ہوتا ہے تو اللہ والے اپنی رب کی محبت میں اشک بارہو جاتے ہیں۔ یہ ہی معاملہ اِن کا اللہ کے محبوب نبی اور اُن کے نیک بندوں کے ذکرکے وقت ہوتا ہے۔
مجھے ہمیشہ اپنی اِس حالت پر خود پرغصہ آیا کہ مجھ پر یہ کیفیت کیوں طاری نہیں ہوتی، مجھے اللہ والوں جیسا کردار و دل کیوں نہیں حاصل۔ اس کا سب سے پہلے احساس مجھے تب ہوا جب میں مکہ میں کعبہ کے دروازہ کے قریب کھڑا دعا مانگ رہا تھا اور میرے آس پاس کھڑے تمام افراد ہی کعبہ سے لپٹ کر رورو کر دعا مانگ رہے تھے اور میں جہاں اُن پر رشک کر رہا تھا وہاں ہی خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیسا سخت دل ہے، کیسے مردہ احساسات کہ یہ لذت، یہ محبت، یہ ندامت، یہ کیفیت ، ایسی دعا مانگنے کا ہنر، اُس رب کو اپنی طرف کرنے کا یہ نسخہ ، اُن کی رحمت کو طلب کر کا یہ انداز مجھے کیوں نہیں آتا۔ کیسا کیا ہے جو میں اس نعمت سے محروم ہوں؟
ہر ہر بار جب میں ایسے کسی منظر، ایسی کسی شخصیت، ایسی کسی محفل کا حصہ ہوتا ہوں تو مجھے یہ احساس تنگ کرتا ہے کہ میں کیوں اس کردار ہے مالک نہیں ہوں؟؟

4 تبصرے:

  1. کچھ میرا حال بھی ایسا ہی ہے۔۔۔ میں کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور دل اتنا سخت ہو گیا کہ ایک آنسو بھی نا بہا پایا۔۔۔ اور پھر جب محسوس کرنا شروع کیا تو ایسا لگا کہ مجھے اب کسی سختی کا احساس نہیں ہوتا۔۔۔ اب تک ایسے ہی احساس میں ہوں۔۔۔ آپ کو کچھ حل ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ مین ملتزم کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا اور ایک دم سے اس نے رونا شروع کیا،وہ ایسے عجیب انداز سے رویا کہ میں سمجھ ہی نا سکا کہ یہ رو رہا ہے کہ ہنس رہا ہے۔
    مجھے اسکے روئے پر ہنسی آگئی ۔

    لیکن غورکرنے پر دیکھا کہ وہ رو رہا تھا،لیکن مجھے بالکل رونا نہیں آرہا تھا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ اپنی کیفیت پر غصہ نہ ہوں بلکہ آپ کا یہ احساس دل کو نرم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ اپنے دل میں احسان پیدا کریں جس کی وضاحت اس دفعہ کے خطبہ حج میں کی گیئ ہے اردو ترجمہ کاربط درج ذیل ہے
    http://www.kitabosunnat.com/forum/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%AD%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%86-223/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%AA-7593/

    شاہو

    جواب دیںحذف کریں
  4. میرا معاملہ عجب ہے زندگی کے دکھ لوگوں کی ناراضگی غصّہ،ڈانٹ سب کچھ بنا روئے کے ہضم کرلونگی مگر مکہ مدینہ شریف جانے پر بادل ہیں کہ خودبہ خود امڈ آتے ہیں ۔آپ اپنے اطراف کے لوگوں کی طرف سے بالکل دھیان ہٹا لیجئے اور صرف سوچتے رہیے کہ یہاں تو میں اور میرا اللہ پاک ہیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے دربار میں آیا ہوں پتہ نہیں میرا عمل قابلِ قبول ہے کہ نہیں تیرے رحم کا محتاج ہوں ۔ساری توجہ اللہ کی ذات کی طرف لگادیں اور رونا نہ بھی آئے تو رونے کی صورت بنا لیجئے ۔۔دیکھنا آپ کو اس انکساری اور توجہ کی وجہہ سے رونا آہی جائے گا ان شاءاللہ

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔