اوطاق جو قانون
کیا کسی کو سندھی آتی ہے اگر ہاں تو اس کا ترجمہ کر دے جو یہ خاتون کہہ رہی ہے گالیوں کے علاوہ یعنی اس مرد کا منہ کیونکہ کالا کیا جا رہا ہے؟ اور کیوں سزا دی جا رہی ہے وجہ عنایت کریں!! اور آپ کی کیا رائے ہے کیا اِس کا یہ عمل درست ہے؟ بتانے والے کہتے ہیں کہ یہ میر نادر مگسی (صوبائی ۔اسمبلی کے ممبر) کی بیوی ہے اور اس کا نام راحیلہ ہے مگر ابھی یہ کنفرم نہیں
تبصرے ()
انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ ایک طرف انسانیت اپنے اعلیٰ اور ارفعٰ مقام سے گر کر اتنی نیچے چلی گئی ہے کہ ہر قسم کی گالیاں اور ہر قسم کی توہین سہنے پر مجبور ہے حتیٰ کہ ماں باپ تک کی لرزہ خیز توہین بڑے آرام سے سہہ رہی ہے۔ اور دوسری طرف نسوانیت خود اپنی توہین اپنی زبان سے کر رہی ہے۔
اس قسم کے واقعات قبائلی معاشرت اور طرز زندگی اور مائنڈ سیٹ کا لازمی نتیجہ ہیں۔
انسانیت انتہائی پستی کو چھُو رہی ہے۔ کمزور اور مجبور کے لئیے یہ دو دو ٹکے کے لوگ فرعون بنے ہوئے ہیں۔
اپنا تبصرہ دیں