11/02/2012

اوطاق جو قانون

کیا کسی کو سندھی آتی ہے اگر ہاں تو اس کا ترجمہ کر دے جو یہ خاتون کہہ رہی ہے گالیوں کے علاوہ یعنی اس مرد کا منہ کیونکہ کالا کیا جا رہا ہے؟ اور کیوں سزا دی جا رہی ہے وجہ عنایت کریں!! اور آپ کی کیا رائے ہے کیا اِس کا یہ عمل درست ہے؟ بتانے والے کہتے ہیں کہ یہ میر نادر مگسی (صوبائی ۔اسمبلی کے ممبر) کی بیوی ہے اور اس کا نام راحیلہ ہے مگر ابھی یہ کنفرم نہیں

4 تبصرے:

  1. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بات نہایت مبہم ہے۔ سارے ڈائیلاگ میں سمجھ میں نہیں آیا کہ مسئلہ کیا تھا۔ پورے جھگڑے میں عورت گالیاں دیتی رہی اور دونوں باپ بیٹا اپنی صفائیاں دیتے رہے۔ بیٹا جس کے پورے چہرے کو کالا کیا ہوا تھا بار بار دوسرے آدمیوں سے اپنے حق میں گواہی دینے کی بات کر رہا تھا۔ اور اس منہ کالا کرنے والی عورت کو اپنی ماں کہہ رہا تھا۔ وہ عورت اتنے غصے میں تھی کہ اصل بات ہی پتا نہیں چل رہی تھی۔اگر یہ ریکارڈنگ تھوڑی دیر پہلے سے شروع کی گئی ہوتی تو شاید بات پتا چل جاتی۔
    انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ ایک طرف انسانیت اپنے اعلیٰ اور ارفعٰ مقام سے گر کر اتنی نیچے چلی گئی ہے کہ ہر قسم کی گالیاں اور ہر قسم کی توہین سہنے پر مجبور ہے حتیٰ کہ ماں باپ تک کی لرزہ خیز توہین بڑے آرام سے سہہ رہی ہے۔ اور دوسری طرف نسوانیت خود اپنی توہین اپنی زبان سے کر رہی ہے۔
    اس قسم کے واقعات قبائلی معاشرت اور طرز زندگی اور مائنڈ سیٹ کا لازمی نتیجہ ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. برادر ان جیسے بتان دھر و خبث کردار سیاہ ست مافیہ میں کثرت سے پائے جاتے ھیں یہ وہ لوگ ھیں جو ننگ ِ انسانت ھیں، ، شرمیلہ فاروقی ھو، زوجہ ناد مگسی ھو، ایم پی شاہ صاحبہ ھوں، سسی ھو یا حتیٰ کہ پیر صاحب پگاڑو کی نسل یہ لوگ مزارعوں اور کمزوروں پر جو ظلم و تشد کرتے ھیں اللہ پناہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کلاس تو انسان نما لگڑ بگھےھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اندرون سندھ پوسٹنگ کے عرصہ میں جو کچھ دیکھتا رھا ھوں بیان کرنا مشکل ھے ۔۔۔۔۔۔ اللہ سبحان تعالی ان کے شر سے محفوظ رکھے۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. الفاط نہیں ہیں۔۔ (اسپیچ لیسس)۔
    انسانیت انتہائی پستی کو چھُو رہی ہے۔ کمزور اور مجبور کے لئیے یہ دو دو ٹکے کے لوگ فرعون بنے ہوئے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔