Pages

12/29/2012

رن مریدوں کا سانجہ پیر

پہلے لطیفہ سنے بعد میں بات !! لطیفہ سنے گے کیسے؟ پڑھ لیں۔
ایک جگہ پولیس نا کا لگا کر گھڑی تھی کہ پولیس کے ہاتھ چار بدمعاش لگے،علاقہ ایسا تھا جہاں کی پیری مریدی کا سلسلہ رہتا تھا لہذا پولیس آفیسر نے شغل کے طور پر کہا کہ تم میں سے جس کا پیر سب سے ذیادہ طاقت والا ہوتا گا وہ آزاد ہو گا باقی حوالہ جیل۔ لہذا اُن بدمعاشوں نے اپنے اپنے پیروں کا تعارف و تعریف کی۔
پہلا بولا کہ میرے پیر کا نام “لمبا پیر” ہے ، بہت کرامت والا ہے اُس نے لوگوں کو بہت فیض دیا ہے۔
دوسرا بولا کہ میرے پیر کا نام “کھمبا پیر” ہے اور اُس کے مزار پر جا کر منت مانگی جائے تو دنیاوی معاملات میں فائدہ ہو تا ہے۔
تیسرا بولا میں تو “کرامتی پیر” کا مرید ہوں اور ایک دنیا اُس کی کرامات کی گواہ ہے۔
جب چوتھے کی باری آئی تو اُس نے جھجگتے جھجگتے ہوئے کہا میں تو “رن مرید” ہوں۔
اُس نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ اچانک ہے پولیس والے نے اُٹھ اُس کو گلے سے لگا لیا اور کہا “اوئے ساڈا تے سانجا پیر اے”
بات یہ تھی دونوں ہی رن مرید تھے مگر رن دونوں کی الگ الگ تھی!!!
اتنا تو ہم نے سُن رکھا ہے کہ پیر کے ہاتھ پر بیعت ہوتی ہے، بیعت ایک طرح سے عہد اطاعت ہوتی ہے۔
یار لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا وجہ ہے کینیڈین اور برطانوی پاکستانی “رہنماؤں” میں پائے جانے والی محبت کی وجہ کیا ہے تو اب ہم یہ کہہ دے ہے دونوں کا پیر سانجا ہے تو لوگوں کو بات ہم ہی سمجھ آتی ہے۔ ایسے لیڈر رن مرید ہو ں کوئی ماننے کو تیار نہیں مگر مزید دلچسپ صورت حال تب پیدا ہوتی ہے جب یہ بتا جائے کہ وہ ایک ہی “رن” کے “مرید” ہیں تو یار لوگوں کو یقین نہیں آتا لہذا ہم آپ کی آسانی کے لئے دونوں کے اٹھائے گئے ممکنہ بیعت پیش کر دیتے ہیں۔
کینیڈا کا بیعت!!!
I swear (or affirm) that I will be faithful and bear true allegiance to Her Majesty Queen Elizabeth II, Queen of Canada, Her Heirs and Successors, and that I will faithfully observe the laws of Canada and fulfil my duties as a Canadian citizen.

برطانوی بیعت
I, [name], [swear by Almighty God] [do solemnly, sincerely and truly affirm and declare] that, on becoming a British citizen, I will be faithful and bear true allegiance to Her Majesty Queen Elizabeth II, her heirs, and successors, according to law.

12/14/2012

نوٹس ملیا تے کراچی ہلیا

کون نہیں جانتا کہ سیاست دان جو کہتا ہے وہ نہیں کرتا!! اور بدمعاش اپنے “کارکنان” کو جب صبر کی تلقین کرنے کو کہے تو مطلب جو ہوتا ہے اُس کو اہل شہر پندرہ منٹ میں جان جاتے ہیں اور باقی ملک اُس کا گواہ بن جاتا ہے۔ِ
اہل علم نے بتایا ہے کہ امن دو جنگوں کا درمیانی وقفہ ہوتا ہے اِن اہل دانش کے دور میں “ہمارا کراچی” جیسا شہر نہ تھا تو ایسے شہر میں ٹیلیفوں پر خطاب بھی نہیں ہوتا تھا ، سائنس نے اتنی ترقی جو نہ کی تھی، ورنہ تو ماہرین بتا دیتے کہ امن کی ایک قسم وہ ہے جو ٹیلیفونک خطاب سے صبر کی تلقین سے پہلے پائی جاتی ہے۔
طاقت کا حصول طاقت ہی کے مرہون منت ہوتا ہے؟
طاقت دیکھانے والا سامنے والے کو خوف میں مبتلا کرتا ہے! خوف میں مبتلا ہونے والا کوئی بھی ہو ڈھیر تو ہو سکتا ہے، ہار تو مان سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ خوف جان و مال میں مبتلا کرنے والے کو چاہے۔ عوام کو خوف سے آزاد کرنا اور رکھنا منتخب نمائندوں کا کام ہے اور جو انہیں اس خوف جان و مال میں ڈال دیں وہ حاکم نہیں قابض ہوتے ہیں۔
خود دیکھیں کون قابض ہے!
قابصین عدالتوں کا احترام نہیں کرتے بلکہ عوام کو حراساں کر کے منصفوں کو بلیک میل کرنے کی کاوش کرتے ہیں!

12/12/2012

ٹیکسوں پر پلنے والے ٹیکس نہیں دیتے

جب ہم چھوٹے تھے تو اپنے بڑوں کی زبانی معلوم ہوا کہ جن کو زکوۃ دی جاتی ہے یا جن کو زکوۃ لگتی ہے اُن پر زکوۃ کی ادائیگی فرض نہیں ہوتی۔ مگر یہ کنفرم تھا کہ یہ صاحب نصاب کے ساتھ ساتھ صاحب حیثیت ہی ہوتا ہے جو زکوۃ دیتا ہے! ابو نے سمجھاتے ہوئے اُس وقت ایک جملہ بولا تھا “بیٹا یہ ایک طرح سے اللہ کا لگایا ہوا ٹیکس ہے جس سے مال پاک ہو جاتا ہے اور اُس میں برکت آ جاتی ہے”۔ یوں ہم جان گئے کہ صاحب نصاب پر اللہ کا ٹیکس دینا ضروری ہے اور یہ بندہ واقعی “صاحب” ہوتا ہے۔
لگتا ہے ہمارے “صاحب” اقتدار لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ ٹیکسوں پر پلنے والے ٹیکس نہیں دیتے ۔ اور اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ ٹیکس ملکی ٹیکس ہو!!! عمر چیمہ صاحب نے ایسے ہی محنت کر کے “صاحب اقتدار (نمائندگان) بغیر ٹیکس کے” جیسی رپورٹ مرتب کی!!!

11/27/2012

اللہ کے نیک لوگ!!!

کہتے ہیں اللہ والوں کا دل بہت نرم ہوتا ہے۔ جب کبھی اللہ کے رحم و پیار کا ذکر محفل میں ہوتا ہے تو اللہ والے اپنی رب کی محبت میں اشک بارہو جاتے ہیں۔ یہ ہی معاملہ اِن کا اللہ کے محبوب نبی اور اُن کے نیک بندوں کے ذکرکے وقت ہوتا ہے۔
مجھے ہمیشہ اپنی اِس حالت پر خود پرغصہ آیا کہ مجھ پر یہ کیفیت کیوں طاری نہیں ہوتی، مجھے اللہ والوں جیسا کردار و دل کیوں نہیں حاصل۔ اس کا سب سے پہلے احساس مجھے تب ہوا جب میں مکہ میں کعبہ کے دروازہ کے قریب کھڑا دعا مانگ رہا تھا اور میرے آس پاس کھڑے تمام افراد ہی کعبہ سے لپٹ کر رورو کر دعا مانگ رہے تھے اور میں جہاں اُن پر رشک کر رہا تھا وہاں ہی خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیسا سخت دل ہے، کیسے مردہ احساسات کہ یہ لذت، یہ محبت، یہ ندامت، یہ کیفیت ، ایسی دعا مانگنے کا ہنر، اُس رب کو اپنی طرف کرنے کا یہ نسخہ ، اُن کی رحمت کو طلب کر کا یہ انداز مجھے کیوں نہیں آتا۔ کیسا کیا ہے جو میں اس نعمت سے محروم ہوں؟
ہر ہر بار جب میں ایسے کسی منظر، ایسی کسی شخصیت، ایسی کسی محفل کا حصہ ہوتا ہوں تو مجھے یہ احساس تنگ کرتا ہے کہ میں کیوں اس کردار ہے مالک نہیں ہوں؟؟

11/23/2012

زندگی مفلوج ہو تو زندگی محفوظ ہے!!!

دہشت گردی کا خطرہ  ہے! دہشت زدہ کون ہے؟ حکومت  چلانے والوں کو حکمرانی تب ہی زیب دیتی ہے جب وہ بے خوف ہو۔ اگر صاحب اقتدار ہی  خوف میں مبتلا ہوں تو عوام کا بے خوف رہنا کم ہی ممکن ہوتا ہے۔ بڑے بتاتے ہیں کہ جب 1965 میں پڑوسیوں سے  لڑائی ہوئی تو اُس وقت کے گورنر نے تاجروں کو  کہا کہ بازار بند نہ ہوں، اشیاء عوام کی پہنچ سے دور نہ ہوں تو عوام سرحد پر ہونے والی جنگ کے خوف سے بے نیاز لاہور شہر کی گلیوں میں موجود تھی اور فضاء میں جنگی جہازوں کے آپسی مقابلوں کو یوں دیکھتی تھی  جیسے بسنت سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔
زمانہ بدلہ حاکم بدلے! بدلا اصول حکمرانی! پہلے شکایت تھی حکمران حکومت کے لالچی ہیں! کم ہی نے اُنہیں نااہل کہا اور اُن سے بھی کم نے انہیں کرپٹ!! اب کون ہے جو اہل ہو، چلو نااہل ہی سہی مگر کرپٹ نہ ہو؟
آپ نا اہلیت کی انتہا دیکھیں! کہ حل یہ نکالا گیا ہے کہ سب کچھ ٹھپ کر کے رکھ دیا جائے نہ کچھ ہو گا نہ کچھ خراب ہو گا!! شاباش ہے ایسے حکمرانوں کے! موبائل بند، موٹر سائیکل بند، بازار بند،  ماشاءاللہ۔
اب یہ حال ہے کہ دہشت گردی کے مجرم اگر پکڑے گئے تو اِن کی حکمت عملی سے نہیں  بلکہ اپنی ناکس حکمت عملی کے باعث پکڑ میں آئیں گے۔ اب ان کا ایک ہی کمال باقی رہ گیا ہے وہ ہے بے شرمی۔ جن کی مدد سے یہ جمہوری  حکومت    کے پانچ سوال  پورے کریں گے! یہ کارنامہ ہے کافی ہے اب ان پانچ سالوں عوام کا کیا ہو گا، ملک کا کیا ہو گا یہ ان کا درد سر نہیں!! بس ان دوہرے چہرے والے دوہرے کردار والوں کو بس دوہری شہریت کی منظوری چاہئے!!

11/02/2012

اوطاق جو قانون

کیا کسی کو سندھی آتی ہے اگر ہاں تو اس کا ترجمہ کر دے جو یہ خاتون کہہ رہی ہے گالیوں کے علاوہ یعنی اس مرد کا منہ کیونکہ کالا کیا جا رہا ہے؟ اور کیوں سزا دی جا رہی ہے وجہ عنایت کریں!! اور آپ کی کیا رائے ہے کیا اِس کا یہ عمل درست ہے؟ بتانے والے کہتے ہیں کہ یہ میر نادر مگسی (صوبائی ۔اسمبلی کے ممبر) کی بیوی ہے اور اس کا نام راحیلہ ہے مگر ابھی یہ کنفرم نہیں

9/22/2012

مگر ہمارا احتجاج تو ایسا تھا!!!

آج صبح جب ہم گھر سے باہر نکلے تو ہماری اُمید سے ذیادہ ویرانی سڑکوں پر راج کر رہی تھا، لہذا صبح ہی اندازہ ہو گیا کہ عوام کا کیا موڈ ہے!
دوپہر کو جمعہ کی نماز پر جاتے ہوئے ہم گھر سے یہ نیت کر کے گیا تھا کہ اگر مسجد سے کوئی جلوس ناموس رسالت کے سلسلے میں نکلا تو اُس میں ضرور شرکت کی جائے گی! خطبہ میں مولانا صاحب عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیان کے ساتھ ساتھ یہود و انصار کو کوس رہے تھے!!
فرض نماز کے بعد ایک قرارداد پیش ہوئی جس میں گستاخانہ فلم کی مذمت کی گئی! اور بین الاقوامی دنیا سے توہین رسالت سے متعلق قانون سازی کا مطالبہ کیا گی (جیسے باہر کی دنیا ان کی سن لے گی)۔ اس کے بعد معلوم ہوا اہلیان ماڈل کالونی کی تمام (مسالک کی) مساجد نے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا ہے جس کے تحت مسلکی اختلافات ، سیاسی نظریات، لسانی جھگڑوں اور ذاتی دشمنیوں سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ ریلی ناموس رسالت کے سلسلے میں نکالی جائے گی!لہذا ہماری محلے کی مسجد “باغ حبیب” سے ایک جلوس 9C اسٹاپ پر جائے گا وہاں سے دیگرمساجد سے آنے والی ریلیوں کو لیتا ہوا آگے بڑھے گا! ہم بھی ساتھ ہو لیئے! دوران خطبہ بھی مولانا نے کئی بار پُر امن رہنے کی تلقین کی تھی جلوس کے آغاز سے قبل پھر پُر امن رہنے پر زور دیا گیا!
نعرے مارتے لوگ پہلی منزل کی طرف روانہ ہوئے، 9C اسٹاپ پر پہنچ کر دیگر ریلیوں کا انتظار کیا جانے لگا جبکہ ایک ریلی ہم سے پہلے ہی وہاں پہنچ گئی تھی انتظار کے دران مقرر لوگوں کو جہاں جوشیلا کرنے والی تقاریر کر رہے تھے وہاں ہی پُرامن رہنے کی تلقین جاری تھی۔ قریب چار مزید مساجد کی ریلیاں وقفے وقفے سے وہاں پہنچ گئی! جن میں چند کالعدم تنظیموں کے افراد اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے ساتھ شریک تھے سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے بغیر تھے!!
وہاں سے تمام ممکنہ مساجد کی ریلیاں جنہوں نے یہاں تک آ کر ایک بڑے جلوس کی شکل میں آگے بڑھنا پہنچ گئیں تو جلوس آگے روانہ ہوا! یہ جلوس اعوان ہوٹل، لی بروسٹ، ماڈل موڑ سے ہوتا ہوا اپنی فائنل منزل ماڈل کالونی قبروستان تک جانے لگا راستے میں دیگر ریلیاں بھی اس میں شامل ہو گئی جلوس مکمل طور پر پُرامن رہا لوگ نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، نعرہ حیدری، اور دیگر نعرے لگاتے آگے بڑھتے رہے! ماڈل کالونی کی تاریخ میں اتنا بڑا جلوس جو میرے اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار سے ذیادہ تھا میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا! جس میں ہر عمر کے افراد شامل تھے!!! اور ایسے افراد بھی جو اپنے بچوں کو ہجوم یا کسی بھی دیگر قسم کے جلسے جلوس میں شرکت کرنے سے باقاعدہ منع کرتے ہیں۔
پورے جلوس میں کی جانے والی سب سے شر انگیز حرکت پتلوں کو جلانے کی تھی!! شر انگیز نعرہ امریکہ مردہ باد اور گستاخ رسول کی سزا ، سر تن سے جدا تھا۔
یہ نہیں معلوم کہ ایسی سچی ریلیوں کی بھی میڈیا کوریج جو کہ ملک میں بڑی تعداد میں نکالی گئیں میڈیا میں کیوں جگہ نہیں بنا پائی شاید اس لئے کہ یہ اُن کے “مفاد” میں نہیں!!!

9/09/2012

ایڈوکیٹ راجہ ریاض

10 ستمبر 2007 بروز پیر صبح ساڑھے نو بجے کا وقت ایک پر درد لمحہ تھا جب ٹی وی چینلز پر یہ پٹی چلی کہ راجہ ریاض ایڈووکیٹ کو وائی ایم سی اے گرائونڈ کے سامنے سامراجی آلۂ کار اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے نامعلوم دہشت گردوں نے بندوق کی گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کردیا جب کہ متعلقہ سڑک کے دونوں اطراف پر پولیس بھی تعینات تھی۔ راجہ ریاض سے میری ملاقات 1974 سے تھی۔ اس وقت وہ طالب علم رہنما تھے اور ملیر کے ستار ایدھی کہلاتے تھے۔ سیاسی جماعت کے رہنما یا کارکن نے ملیر کے عوام کی اتنی خدمت نہیں کی جتنی راجہ ریاض نے کی۔
ان سے ملاقات کرنے جائو تو پتہ چلا کہ پچھلی گلی کی فلاں بیوہ کے گھر نلکے سے پانی بھر کے دے رہے ہیں، کبھی ملنے جائو تو پتہ چلا کہ کسی ضعیف کے لیے راشن لینے گئے ہیں، کبھی گھر والے بتاتے کہ کچھ طلبا صبح کو آئے تھے اور انھیں لے کر کالج میں داخلہ دلوانے گئے ہیں۔ ان کی اس ٹیم میں شہنشاہ حسین ایڈووکیٹ، گل فراز احمد، احمد علی، ریاض بنگش، اعجاز بنگش، جعفر الحق، صابر اور سہیل وغیرہ جیسے نہ جانے کتنے پر جوش طلبا اور نوجوان ہوتے تھے۔ یہ پہلے ایم ایس ایف (MSF) مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن جو کہ ایک دائیں بازو کی رجعتی طلبا تنظیم تھی، اس میں کام کرتے تھے۔ اس وقت ملیر کے انقلابی رہنما وحید مصیح والد مصیح الرحمن، شعیب جوادی، محمد یامین، خرم مرزا، شمس الحق (شمبو بھائی) اور اعجاز حسین خان وغیرہ ملیر کے بائیں بازو کے حوالے سے مزدوروں، طلبا، نوجوانوں اور عوام میں بڑی مقبولیت رکھتے تھے۔ کامریڈ محمد یامین تو صوبائی اسمبلی کے نمایندے کے لیے انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔ انھی کی صحبت اور رہنمائی میں خاص کر وحید مصیح کا خلوص، قربت اور رہنمائی نے راجہ ریاض کو انقلابی سوشلزم کا حامی بنا دیا اور وہ بلاناغہ انقلابی رسالے ’’سرخ پرچم‘‘ اور ’’صنوبر‘‘ پڑھا کرتے تھے۔ پھر ایم ایس ایف میں اس قدر عملی اور نظریاتی کام کیا جس کے نتیجے میں ایم ایس ایف ایک ترقی پسند اور انقلابی طلبا تنظیم بن گئی۔
راجہ ریاض اس تنظیم کے ملک کے مرکزی صدر منتخب ہوگئے۔ پھر یہ تنظیم پنجاب، کشمیر، پختون خوا اور کراچی میں پھلنے پھولنے لگی۔ اس میں راجہ ریاض کا کردار، نظریہ، سادگی اور اپنی ذات کی نفی نے بڑا اہم رول ادا کیا۔ کامریڈ راجہ ریاض کا ملیر میں جن لوگوں کے ساتھ ہمہ وقت اٹھنا بیٹھنا اور ایک خاندان جیسے تعلقات تھے تو وہ تھے ملیر ’’سی‘‘ ایریا کے اعجاز حسین خان اور ان کے رفقاء جو کہ رام پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اعجاز حسین خان، نیشنل عوامی پارٹی، ملیر کے صدر اور ایوبی آمریت میں عوامی لیگ کے ٹکٹ سے دو بار بی ڈی ممبر منتخب ہوئے۔
واضح رہے کہ کامریڈ اعجاز حسین خان واحد شخص تھے جو کہ عوامی لیگ کے ٹکٹ سے منتخب ہوئے۔ اعجاز حسین خان کے صاحب زادے مسعود حسین خان ایڈووکیٹ کی راجہ ریاض سے 34 سالہ قربت تھی اور وہ قربت، خلوص، نظریہ، جرأت اور سچّائی پر مبنی تھی۔ راجہ ریاض تھے پنجابی مگر ملیر میں جن 99.9 فیصد لوگوں کے لیے کام کیا وہ اردو بولنے والے محنت کش، طلبا اور نوجوان تھے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ رنگ و نسل، فرقہ، مذہب اور زبان سے بالاتر مزدور طبقے کی عالمی یکجہتی اور عالمی انقلاب کے حامی تھے۔
وہ اپنی روح کی گہرائیوں سے ایک سچّے سوشلسٹ تھے۔ کامریڈ راجہ ریاض کی پیدایش جہلم میں ہوئی تھی جہاں سے عظیم مزدور اور کمیونسٹ رہنما دادا میر داد کا تعلق تھا اور وہ ممبئی میں محنت کشوں کے ایک جلوس کی رہنمائی کرتے ہوئے گولیوں سے شہید ہوئے تھے۔ راجہ ریاض جہلم میں پیدا ہوئے اور کراچی میں محنت کشوں کے حقوق کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ وہ دادا میرداد کے وارث تھے۔ جہاں تک شہادت کی بات ہے تو چند روز قبل امان اﷲ خان جو کہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سابق رکن تھے،کراچی میں نامعلوم دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، ان کا آبائی تعلق بلوچستان سے تھا۔ ان کی شہادت پر بھی ہماری آنکھیں پرنم ہیں۔ راجہ ریاض جامعہ ملیہ ملیر کے طالب علم تھے۔
وہ انٹر کالیجیٹ باڈی کے بھی رہنما رہے۔ انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد مشین ٹولز فیکٹری لانڈھی میں ملازمت اختیار کرلی۔ وہاں انھوں نے مزدوروں کو منظم کیا اور یونین کے رہنما بن گئے جب کہ اس وقت مشین ٹولز فیکٹری (یہ اسلحہ سازی کی فیکٹری ہے) میں سندھی، پنجابی، ہزارہ، پشتون، مہاجر اور بلوچ وغیرہ کے نسلی اور قومی ناموں سے مزدوروں نے اپنی الگ الگ انجمنیں بنا رکھی تھیں۔ راجہ ریاض نے ان کے خلاف ’’اعلان جنگ‘‘ کردیا۔
ان کے علاوہ مشین ٹولز فیکٹری میں دیگر انقلابی، سوشلسٹ اور کمیونسٹ کارکنان جن میں جعفر، علمدار حیدر، جاوید شکور اور رشید جیسے سرگرم کارکنان برسرپیکار تھے۔ انھوں نے ان سب کے ساتھ مل کر مزدور طبقے کی یکجہتی کے لیے اور قومیتی ونسلی تنگ نظری کے خلاف جدوجہد کی۔ کراچی میں اس وقت مزدوروں کی ہونے والے جدوجہد سب سے نمایاں مختلف فیکٹریوں میں تھی۔ جن میں مشین ٹولز فیکٹری کے مزدوروں کی جدوجہد زیادہ ریڈیکل تھی۔ جب کامریڈ راجہ ریاض نے لاء کرلیا تو انھوں نے وکالت کرنے کی ٹھانی۔
جب وکیل بنے تو وکیلوں کی جدوجہد میں اتنے نمایاں ہوئے کہ کراچی بار کے سالانہ انتخابات میں نائب صدر کا انتخاب لڑے اور سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ وہ عجیب سادے انسان تھے۔ ان کے پاس کبھی بھی منی بیگ اور بریف کیس نہیں ہوتا تھا۔ موکل (کلائنٹ) کی پہلے صلح کرانے کی کوشش کرتے تھے اور جب وہ نہ مانتے تھے تو مقدمہ لڑتے تھے ۔ وہ مزاجاً بہت سچّے اور بہادر انسان تھے۔ ایک بار کراچی سٹی کورٹ میں ایک وکیل نے ایک موچی بچّے کو ماں بہن کی گالی دے دی، جس میں کامریڈ راجہ ریاض نے اس وکیل سے کہا کہ آپ اس غریب بچّے کی ماں کو کیوں گالی دے رہے ہیں؟
جواب میں اس وکیل نے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے؟ جیسے ہی یہ بات کہی تو کامریڈ ریاض نے اپنی فائل دور رکھی اور اس وکیل کو گھما کے ایک زوردار تھپڑ رسید کردیا۔ پھر راجہ ریاض کے سارے دوستوں نے اس مزدور دشمن وکیل کی خوب خبر لی۔ یہ تھے ان کے ذاتی کردار۔ راجہ ریاض یوم مئی کے جلسے، جلوس اور حسن ناصر اور نذیر عباسی کی برسی پر جلسوں میں شرکت کو اپنا اوّلین فریضہ سمجھتے تھے۔
کامریڈ راجہ ریاض کی شہادت کو 5 سال گزر گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بھی قائم ہوگئی ۔ راجہ ریاض کا خاندان راولپنڈی منتقل بھی ہوگیا، مگر اب بھی قاتلوں کا پتا چلا اور نہ ہی شہید کے مقدمے میں کوئی پیش رفت ہوئی۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ قتل نہیں چھپتا مگر کراچی میں تو چھپتا آرہا ہے۔
تحریر: زبیر رحمن ٭٭٭٭٭٭٭٭ بشکریہ : ایکسپریس

8/19/2012

عید مبارک

آپ تمام احباب کو عید مبارک!!
ملک اور ملک سے باہر ہر جگہ عید و عیدی کے چرچے ہیں عید کی مناسبت سے چند شعر ذیل میں ہیں اور اگر آپ کو کوئی یاد ہو تو ہم سے شیئر ضرور کیجئے گا۔

غم کے بادل تھے فصاؤں میں کچھ ایسے چھائے
دل کی دنیا میں منور نہ ہوا عید کا چاند

ہیں میرے ساتھ ساتھ ازل سے اُداسیاں
تو کس لئے اُداس ہے آخر اے ہلال عید

غم آنکھوں میں اور تن پہ ناامیدی کا لباس
غریب شہر نے بھی عید کی تیاری کر لی

تیرے کہنے پہ لگائی ہے یہ مہندی میں نے
عید پر اب تو نہ آیا ، تو قیامت ہو گی

کتنی مشکلوں سے فلک پر نظر آتا ہے
عید کے چاند نے بھی انداز تمہارے سیکھے

اس سے پوچھو کہ میرے بچوں کے لئے کپڑے لائی؟
دیکھو پھر عید غریبوں کو ستانے آئی

غریب ماں اپنے بچوں کو بڑے پیار سے یوں مناتی ہے
پھر بنا لیں گے نئے کپڑے یہ عید تو ہر سال آتی ہے

7/21/2012

رمضان اسپیشل

“بیٹا اب کے اس رمضان میں تو میں کہتا ہو کہ تم نماز کی پابندی کو اپنی عادت بنا لو، یہ ایک نیک عادت ہے، زندگی کی کئی الجھنیں اس ایک عادت سے دور ہوجاتی ہیں، پھر یہ ہے بھی برکتوں والا مہینہ”
جی بہتر ابو جی! میں کوشش کرو گا کہ جس قدر ممکن ہو خود کو اس جانب راغب کرو
“اور ہاں بیٹا آج بینک سے خلیل صاحب کا دوبارہ فون آیا تھا کہہ رہے تھے اُس نے تمہیں بھی کال کی تھی دو چار دن پہلے مگر تم نے اُن کی بات کو شاید توجہ نہیں دی”
جی آیا تو تھا مگر مجھے اُن کی بات سمجھ نہیں آئی! کسی نئے اکاؤنٹ کی کوئی بات کر رہے تھے۔ “ہاں ایسا کرنا کل آفس کے بندے کو بھیج کر ایک حلفیہ بیان جمع کروا دینا کہ ہماری زکوۃ نہ کاٹی جائی وکیل صاحب کو میں نے کہہ دیا تھا کہ وہ ایسا ایک حلف نامہ بنا کر رکھ دیں صبح اُن کے منشی سے لے کر خلیل صاحب کو دے دینا”
مگر ابو کیا یہ ٹھیک ہو گا؟ رمضان میں تو زکوۃ دینے کا ثواب ذیادہ نہیں ہو گا!
“اب ذیادہ مولوی بنے کی ضرورت نہیں! مجھے معلوم ہے تم جتنے مسلمان ہو، جو کہا ہے وہ کرو”
مگر ابو یہ ٹھیک نہیں ہے
“اب تماری اس ضد کے پیچھے میں ساٹھ ستر ہزار کا نقصان نہیں برداشت کر سکتا”
یہ نیکیوں کا مہینہ ہے
“نیکیوں کا ماما! تو نے نہیں کرنا تو نہ کر میں کل خود کسی اور کے ذمہ یہ کام لگا دوں گا”

7/11/2012

بلا عنوان

میں ملک کے لئے اپنی جان تک دے سکتا ہوں! یہ جھوٹ نہیں سچ ہے ایسے دعوی وہ کرتے رہے ہیں جو عمل سے ایسا نہیں کر سکتے۔ دوسرے کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ میں سچا ہو بات کے آغاز میں کلمہ پڑھنے والے اکثر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ جو کہتے ہیں اخلاقیات بہت اہم ہیں وہ خود اس کی تردید اکثر اپنے عمل سے کرتے ہیں اور سوال کرنے پر اپنے اشارے، عمل اور کئی بار زبان سےہی کہہ دیتے ہے کتابی باتیں کتابوں میں اچھی لگتی ہے۔
اُوپر سے منظور شدہ “میرٹ” لیسٹ میں سے اب چناؤ اہلیت و قابلیت کا نہیں ہوتا جہالت کا ہوتا ہے جو کم جاہل ہو گا نوکر ہو جائے گا البتہ کم جہاہل کے چناؤ کے عمل میں کئی اہل و قابل افراد کو اس لئے مدعو کر لیا جاتا ہے کہ اُن میں مایوسی کے بیج کو بو کر اُن کو کسی قابل نہ رہنے دیا جائے۔
قانون معاشرتی اخلاقیات و رواجات سے جنم لیتے ہیں، جب اخلاقیات و رواجات بہتر تھے تو جو قانون بنے وہ اب اہل اقتدار کے راہ میں دشواریاں پیدا کرتے ہیں لہذا نئے “میعار” کی روشنی میں ترمیمات کی جائیں گی کہ کوئی “گرفت” میں نہ آئے۔

7/06/2012

انعامی لا قانونیت

یہ ایک عام تاثر ہے کہ انعامی اسکیم میں جن کی بڑی رقم نکلتی ہے اُن کا وجود نہیں ہوتا! اس سے ذیادہ اہم بات یہ کہ اپنے مال یا سروس کی تشہیر کے لئے انعام کا لالچ دینا کیا اخلاقی طور پر درست ہے؟
آپ کا خیال و جواب کچھ بھی ہو مگر یہ سلسلہ میرے ملک میں زور و شور سے جاری ہے، اور ادارے خواہ وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری خود ایسی اسکیموں کی تشہیر کے لئے زور بھی لگاتے ہیں اور شور بھی مچاتے ہیں۔
اس وقت میڈیا میں ٹیلی کام کمپنیاں سب سے ذیادہ انعامی لالچ کی ترغیب کے ذریعے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں! بغیر کسی شک شبہ کے ایسی کوئی بھی اسکیم شرعی نقطہ سے ناجائز ہے خواہ انعام پانے والے اپنی انٹرویو میں یہ ہی کہے میں نے انعام کا سن کر دو رکعات شکرانے کے ادا کئے :)
کیاملکی قانون کے تحت یہ جائز ہیں؟
یہ سوال عموما سامنے آتا ہے اور وہ بھی اس رائے کے ساتھ اگر اجازت نہ ہو تو کیوں ایسی اسکیمیں متعارف ہوں؟ جواب سادہ ہے تعزیرات پاکستان کی دفعہ294 بی کے تحت کاروباری معاملات کے سلسلے میں انعامات کا لالچ دینا قابل گرفت جرم ہے۔
اس دفعہ کے لفاظ یوں ہیں!
Whoever offers, or undertakes to offer, in connection with any trade or business or sale of any commodity, any prize, reward or other similar consideration, by whatever name called, whether in money or kind, against any coupon, ticket, number or figure, or by any other device, as an inducement or encouragement to trade or business or to the buying of any commodity, or for the purpose of advertisement or popularising any commodity, and whoever publishes any such offer, shall be punishable, with imprisonment of either description for a term which may extend to six months, or with fine, or with both.

ہاں کہنے کو سزا صرف چھ ماہ ہے مگر بات یہ ہے کہ ملکی قانون میں انعامی ترغیب کے ذریعے کاروبار کا فروغ ایک غیر قانونی عمل ہے اور یہ لاقانونیت باقاعدہ ہمارے ملک میں چل رہی ہے۔ 1965 میں یہ دفعہ تعزیرات پاکستان میں داخل کی گئی۔ دلچسپ یہ کہ نہ صرف عام کمپنیاں و ادارے اس قانون کی پابندی نہیں کر رہے بلکہ مختلف ادوار میں ریاستی مشینری و حکومتی سرپرستی میں اس قانون کے خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔
معاشرے و ریاستوں کی تنزلی کا اندازہ قانون کی پاسداری سے لگایا جاتا ہے اور ہمارا معاشرہ قانون شکنی کو معیوب نہیں سمجھتا! کیوں؟

7/05/2012

قانون کو بدل دیتے ہیں!

کیا کریں طاقت ہاتھ میں ہیں! اہل اقتدار ہیں! جو چاہے آپ کی کابینہ کرے! آپ نہیں ہوں گے تو آپ کے بچے ہوں یہ ملک بنا ہی آپ کی حکمرانی کے لئے ہے انگریز نہ سہی انگریز کے ملک کی شہریت ہی سہی!! ایسے ہی تو نہیں ہم کہتے کالے انگریز!! آپ میں اور اُن میں ایک ہی فرق ہے وہ باہر سے گورے ہیں اندر سے تو دونوں کا حال ایک سا ہی لگتا ہے! جی بلکل ایسا جیسا ہمارا باہر سے ہے، کالا!! اندر کا رنگ دیکھنے کے لئے کوئی خاص ٹوٹکا نہیں کرنا پڑتا بس سامنے والے کے قول و فعل کو دیکھا و پرکھا جاتا ہے۔
اب آپ سے کیا پردہ! بلکہ یہ کہہ لیں آپ کا کیا پردہ سب صاف صاف نظر آ رہا ہے مگر کوئی نا سمجھ بچہ ہجوم میں نظر نہیں آ رہا جو کہہ سکے “بادشاہ بے لباس ہے” ہم تو یہ ہی کہیں گے نہایت عمدہ لباس ہے جو آپ نے پہن رکھا ہے، واہ واہ سرکار واہ واہ۔
قانون کا شکنجہ سب کے لئے ہوتا ہے یہ سب میں سب ہی تھوڑا شامل ہیں۔ سب سے مراد تو عوام ہے عوام! عوام یعنی ہے عام۔
وہ قانون جو اپنی گردن پر فٹ ہوتا ہو جو تو نظام میں فٹ نہیں لہذا قانون بدل دو لہذا فیصلہ ہوا بدل دیا جائے گا!
دوسری ملک کے شہری یہاں کی شہریت لے کر اور یہاں کے "اہل وفا" اُن سے عہد وفا کر کے بھی حکمرانی کا حق رکھیں گے اور وہ عدلیہ کی حکم عدولی پر قابل سزا نہ ہو گے!

7/02/2012

ہون میں کی کراں؟

ایک تو عرصہ ہوا ہم سے رٹا نہیں لگتا دوسرا کبھی بھی ہم سے یہ نہیں ہو پایا کہ امتحان میں سوالات کے جوابات کو لمبا کرنے کے لئے بلاوجہ الفاظ کی جُگالی کریں۔ اس لئے اکثر سوالات کے جوابات کا مواد مقدار میں مقرر نمبروں کے مقابلے میں کم ہی ہوتا ہے ۔مگر خوش قسمتی یہ کہ ہمیں کبھی کسی تحریری امتحان میں ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا یعنی جس طرح کبھی انٹرویو میں پاس نہیں ہوئے بلکل اس ہی طرح تحریری امتحان میں خواہ کس کی نوعیت کا ہو ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔
ہمارا خیال تھا کہ زندگی میں ملنے والی چند نئی کامیابی و ناکامیوں میں اس بار بلا آخر امتحانی پرچوں میں ناکامی کا سنگ میل عبور کرنے کا موقعہ ملے گا مگر ہائے رے قسمت!!! ہر پرچے پر کالج پہنچنے پر معلوم ہوتا کہ پرچہ ملتوی ہو گیا !! وفاقی اردو میں طلباء تنظیموں کے جھگڑے کی بناء پر تمام پرچے ایک ایک کر کے ملتوی ہوتے رہے جن کا ہمیں بروقت علم نہ ہوا اخبار میں خبر آتی مگر اخبار میں وہ صحفہ پڑھنے کی ہمیں عادت نہ ہے لہذا ابو جان سے ڈانٹ پڑی ہے کہ تجھے باقی ساری خبروں کی جزیات تک کا علم ہوتا ہے مگر اپنے پرچوں کی خبر نہیں۔
سچی بات تو یہ ہے بغیر تیاری امتحان کو جانے کو دل نہیں کرتا مگر اُس سے ذیادہ دکھ اُس وقت ہوتا ہے جب منزل امتحان پر پہنچ کر علم ہو کہ امتحان ملتوی ہو گیا ہے تو دل پر ایک چوٹ سی لگتی ہے !!! کیوں ؟ یہ سمجھ نہیں آتی!

6/15/2012

ایف ایم پر موضوع نکاح اور ہم

اپنا نیٹ ورک پر اس بار ہم نکاح کے موضوع پر بات کرنے کو گئے تھے!! قانونی راءئے تو ہم نے تمام درست دی ہیں مگر بات وہ ہی ہے لگتا ہے ریڈیو پر بولنا ہمیں نہیں آئے گا!

6/05/2012

ہم ایف ایم پر

ہماری این جی او کو ایف ایم پر قانونی مشورے دینے کی افر آئی گزشتہ ہفتہ ہم اہنی این جی او کی طرف سے نامزد ہوئے دوستوں کا خیال ہے ہم نے "آہ آہ" بہت کی ہے گفتگو میں اس پر ہمیں قابو پانا چاہئے۔ آپ اپنی رائے دیں ذرا



4/04/2012

کامیاب امیدوار

حسن اتفاق جب وہ اپنے دیگر آفس کولیگ کے ساتھ انٹرویو میں کامیاب امیدوار کا انتخاب کر رہا تھا جب ہم اُس سے ملاقات کو اُس کے دفتر جا پہنچے! کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ دوبارہ آپس میں “مطلوبہ” امیدوار کے بارے میں مشورے میں مصروف ہو گئے! اُسے اپنے آفس کے لئے ایک آفس سیکریٹری کی ضرورت تھی!

اُن کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ آج ہی اس سیٹ کے لئے اُمیدواروں کے انٹرویو کئے گئے ہیں! تمام پینلسٹ امیدوار کی صلاحیتوں سے متعلق اپنی اپنی رائے دے رہے تھے! وہ اپنی گھومنے والی کرسی پر بیٹھا جھول رہا تھا اور تمام افراد کی رائے کو غور سے سن رہا تھا! آخر میں اُس کے ایک ساتھی نے اُس سے اُس کی رائے معلوم کی تو وہ اپنی کرسی پر سیدھا ہو میز پر رکھے قلم کو ہاتھ میں پکڑ کر انگلیوں میں گھماتے ہوئے حتمی لہجے میں بولا!


ایسا کرو وہ لڑکی نہیں تھی نشیلی آنکھوں اور کھلے بالوں والی، جس نے لال رنگ کی تنگ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی! اور بال ڈائی کئے ہوئے تھے اُس کا آفر لیٹر نکال دوں میرے کام کی تو وہ ہی ہے! بولڈ ہے بندہ بولڈ کر سکتی ہے “ایک موٹی گالی” “

معیار کی جانچ کی ایک مثال یہاں بھی ہے۔

3/28/2012

نوشتہ دیوار

جب ہم پی ایف کالج میں پڑھتے تھے تو زندگی بہت عمدہ تھی! فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا!! کر تو ہم اب بھی عیش ہی رہے ہیں مگر تب کی بات اور تھی۔

ایک دن کالج آئے تو ایک خاتون کا نام اور فون نمبر کالج کی تمام دیواروں پر لکھا ہوا تھا! شدید حیرت ہوئی! اگلے پورا ماہ اہم موضوع بحث یہ اسٹوڈنٹ ہی رہی تمام کالج میں! وہ اسٹوڈنٹ تو اگلے دن سے کالج نہیں آئی!! جن کے ناموں کو تفتیش کے دائرے میں لایا گیا اُن میں ہمارا نام بھی تھا جب ہی مجرم پکڑنے کی ذمہ داری Vice Principle نے ہمیں دے دی!! ایسے کیسوں کے مجرم پکڑ میں آتے ہیں کیا؟

تب ہم نے جانا ایک کام کا چور ہر کام کا چور مانا جاتا ہے! ہمارا جرم بس اتنا تھا کہ ہم نے کالج کی ایک سابقہ روایت کو دوبارہ زندہ کیا تھا اور وہ تھی کلاس یا کالج سے bunk مارنا!! اس ہی بناء پر کوئی بھی دو نمبر کام ہوتا ہمارا نام مجرمان کی فہرست میں آتا تھا!! وہ تو شکر ہے نہ تو ہمارا کبھی bunk پکڑا گیا نہ کسی اور جرم کی پاداش میں ہم کالج سے نکالے گئے۔

آج فلکر پر ایک تصویر دیکھ پر کالج کا یہ قصہ یاد آ گیا!

3/25/2012

لاؤڈ اسپیکر کا استعمال!

ایک دور تھا عالم دین اس رائے پر اختلاف کا شکار تھے کہ آیا لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز ہے یا نہیں اور ابتدا میں تو وہ صرف مسجد میں اس کا استعمال خطیب کے خطبہ تک محدود رکھتے تھے مگر بعد میں جب دوبارہ دنیاوی تعلیم رکھنے والوں نے دین کی طرف رغبت کی اور شرعی علم کے حامل افراد نے بھی ایک بار پھر خواہ محدود تعداد میں ہی دنیا کے علم کو سمجھنے کی سہی کی تو تب لاؤڈ اسپیکر کو مساجد میں دیگر دینی امور جیسے نماز وغیرہ کے لئے استعمال کیا جانا شروع کر دیا گیا!
قریب تمام علماء بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر متعفق ہیں کہ اذان کے علاوہ کسی بھی دیگر استعمال کے لئے مساجد کے باہر لگے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اسلامی شعائر کے مخالف ہے!وجہ لاؤڈ اسپیکر کا غیر اسلامی ہونا نہیں بلکہ عوام الناس کے تکلیف پہنچنے کا امکان ہے۔
علماء کی اس رائے کے برخلاف یہ ہمارے معاشرے کی عام روش ہے کہ مخصوص دینی ایام و تقریبات میں لاؤڈ اسپیکر مساجد و تقریب کی مقام سے باہر بھی استعمال کر کئیے جاتے ہیں جو کہ اہل علاقہ و محلہ کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا یہ غلط استعمال صرف دینی حلقوں کی جانب سے ہی نہیں ہوتا بلکہ سیاسی جماعتوں و خود کو “روشن خیال” کہلانے والے دیگر مختلف طبقے بھی روش پر گامزن نظر آتے ہیں۔
اونچی آواز میں اسپیکرز(کہ اہل محلہ و علاقہ تک آواز جائے) پر گانے سننے یا نعت و نوحہ چلانے و پڑھنے کی یہ غیر اخلاقی حرکت معاشرے میں اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ اب کئی احباب اس بارے میں اس رائے کا شکارہیں کہ شاید یہ کوئی غلط بات نہیں! اور اس سلسلے میں ہر طبقہ دوسرے کو مثال بنا کر پیش کرتا نظر آتا ہے کہ “ارے وہ بھی تو 'فلاں''فلاں' موقعہ پر ایسا کرتے ہیں تب تو کوئی کچھ نہیں کہتا”۔
لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے عوام کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو نہ صرف یہ کہ اخلاقی و دینی اعتبار سے قابل گرفت ہے بلکہ ملکی قانون بھی ایسے حالات میں اس عمل کو “جرم” تصور کرتا ہے۔ مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کے تحت یہ ایک جرم ہے! یہ متعلقہ قانون کل آٹھ دفعات پر مشتمل ہے! اس قانون کی دفعہ پانچ کے تحت یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہے!
لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ 2 کے تحت عوامی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جرم تصور کیا جائے گا اگر اُس سے عام افراد کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو! مزید یہ کہ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، عدالتوں، مختلف دفاتر کے قریب کام کے اوقات میں نیز مساجد و دیگر دینی مقامات (چرچ و مندر) کے قریب عبادات کے اوقات میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال منع ہے۔
یہ ہی نہیں قانون کی دفعہ 2 میں مزید بیان ہے کہ مساجد، چرچ ، مندر اور دیگر دینی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے ان کے قریب کے رہائشی متاثر ہو کی بھی ممانعت کی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی عوامی و ذاتی مقام ہر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے فرقہ واریت و نفرت انگیز پھیلنے یا نظم و ضبط متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو بھی یہ عمل قابل گرفت تصور ہو گا۔ تاہم اس دفعہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ اذان دینے، عبادات (قانون میں لفظ prayers استعمال کیا گیا ہے جس سے نمازیں مراد لیا جائے گا) اور جمعہ و عید کے خطبہ کے لئے لاؤڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت ہے۔
اس قانون کی دفعہ 3 کے تحت جو کوئی بھی اس قانون کی قانون کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا اُس کو ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جا سکتے ہیں!
وہ لاؤڈاسپیکر جو اس غیر قانونی عمل میں استعمال کیا گیا ہو گا علاقہ تھانہ کا سب انسپکٹر یہ اس سے اونچے عہدے کا افسر اپنے قبضہ میں لینے کا مجاز ہو گا اور پابند ہو گا کہ جس قدر جلد ممکن ہو اُسے عدالت علاقہ کے روبرو پیش کرے۔
لہٰذا کوئی سیاسی تقریر، مذہبی وعظ، نعت خوانی ، جلسہ اور کسی بھی قسم کا کوئی موسیقی کا کوئی پروگرام اگر لاؤڈ اسپیکر پر اس طرح نشر کیا جائے کہ محلے والوں کی نیندیں خراب ہوں، سوتے بچے ڈر نے لگ جائیں، مریضوں کو اختلاج قلب شروع ہوجائے، یا دن کے وقت اُس کی روزمرہ زندگی متاثر ہو تو یہ عمل قانونی طور پر قابل گرفت ہے اور مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ تین کے تحت متعلقہ بندے کے خلاف رپٹ درج کروائی جا سکتی ہے۔
(یہ تحریر مفاد عام کے تحت لکھی گئی ہے)

3/17/2012

کاروباری رقابت

کاروباری مسابقت کبھی نا کبھی کاروباری رقابت میں تبدیل ہو جاتی ہے! خاص کر جب دوسرا آپ کے علاقے میں آپ کے کاروبار ی منافع یا حصہ میں سے کچھ نا کچھ سمیٹنا شروع کر دے! رقابت دشمنی میں کب بدل جائے اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں مگر جب رقابت کا آغاز ہوتا ہے دشمنی خود با خود ہی اُمنڈ آتی ہے۔

میرے شہر میں کئی طرح کے لوگ کاروبار کرتے ہیں! کہتے ہیں معاشرہ میں موجود ایک فرد کی مجبوری دوسرے کا روزگار ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ہم ایک مشہور ہسپتال میں ایک دوست کے میڈیکل شک اپ کے لئے گیا تو وہاں ایک دل کا ڈاکٹر دوسرے ساتھی سے یوں کہہ رہا تھا "آج کل کام کافی مندہ ہے نہ معلوم کیا چکر ہے مین تو آج صبح اپنی بیوی سے کہہ کر آیا ہوں کوئی صدقہ وغیرہ نکالو" ہم مسکرا کے رہ گئے!

ہمارے ماموں نے ایک بار اپنا قصہ ایسے ہی واقعہ کے سلسلے میں یوں بیان کیا کہ ایک بندے جو اُن کے ساتھ جاب کرتا تھا نے اُن سے قرضہ لیا ایک بار ماموں سے اُن سے پیسے کی واپسی کو کہا تو ان صاحب نے جواب میں کہا "یار کاروبار نہیں چل رہا دعا کرو کاروبار میں تیزی آءے تو میں آپ کو رقم لوٹا دوں گا" ماموں نےکہا چلو اللہ آپ کے کاروبار میں دن دگنی رات چگنی ترقی دے تب قریب بیٹھے مشترکہ دوست نے کہا معلوم ہے اس کا کاروبار کیا ہے؟ ماموں جو کہ انجان تھے نے انکار میں سر ہلا دیا تب اُس نے آگاہ کیا یہ کفن فروخت کرتا ہے ۔

میرے شہر میں ایک کاروبار بد بھتہ لینے کا ہے ، آج کراچی ایک بار پھر بند ہے وجہ یہ کہ شہر میں ایک بار پھر ایک کاروباری مسابقت جو کہ رقابت سے کب کی دشمنی میں بدل چکی ہے ! اور یوں ماضی کی طرح دوبارہ بھتہ مافیا نے بھتہ خوروں کے خلاف جنگ کا نعرہ لگایا ہے!

ہم ماضی میں بیان کردہ اپنی بات کو دوبارہ آپ سے آج کے دن کی مناسبت سے شیئر کرتا ہوں کہ وہ تب بھی سچ تھی اب بھی درست ہے۔
"

دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔

کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!

ایک دور تھا کہ شہر کا تاجر اپنے علاقے کے تھانے کو تو monthly دیتا تھا ہی مگر ایک آدھ مثال میں علاقائی بدمعاش کو اس لئے بھی چندہ کے نام پر کچھ نہ کچھ تھما دیتا تھا کہ وہ دیگر بدمعاشوں سے اُسے تحفظ دے گا! تاجر یہ بدمعاشی بھی اپنے کاروبار کی بقاء کے لئے خوف کے زیر اثر دیتا تھا! اور یہ بھتہ اُسے یوں ایک چوکیدار مہیا کر دیتا!

مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!

اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!

آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!

اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!

"

3/16/2012

ارتقاء میرٹ

معیار بدلتا جا رہا ہے! ایک دور تھا ملک میں میرٹ کی تعریف کچھ تھی اور اب کچھ ہے! پہلے انتخاب یوں ہوتا کہ مقابلہ کم تھا لہذا آپ مطلوبہ معیار کی حد کو نہیں بھی آتے تھے تو بھی انتخاب میں آ جاتے تھے! نوکری دینے والا پوچھتا میاں تم قابل معلوم ہوتے ہو کیا فلاں ڈگری ہے؟ ادھر آپ نے ہاں کہا اُدھر وہ آپ کو نوکری کی آفر کر دیتا آپ انکاری ہوتے تو اُس کے پاس آپ کو اُس نوکری کے فوائد بتانے کے لئے بے شمار دلیلیں ہوتے پھر معیار بدلہ اور ڈگری والے کو سفارش کی ضرورت پڑنے لگی تب ڈگری و سفارش میرٹ بن گیا! وقت کے گزرنے کے ساتھ زر کی اہمیت معاشرتی زندگی میں نظر آنے لگی تو نوکری کے خواہش مندوں نے سفارش کا توڑ رشوت سے کیا یوں لوگ جاننے لگے کہ کس سیٹ کی کیا قیمت ہے یوں ڈگری ، سفارش اور رشوت کبھی انفرادی طور پر اور کہیں اجتماعی طور پر معیار ٹھہرے اور قابلیت کہیں پیچھے رہ گئی! اب معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ یار دوست ایک ہاتھ میں ڈگری لے کر کسی سفارشی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جا کر التجاء کی جاتی ہے کہ “ہمارا بندہ قابلیت کے اعلی معیار پر ہے کسی سے سفارش کر دیں کہ رشوت لے کر اُسے یہ نوکری دلوا دے امیدوار نے مطلوبہ ڈگری کے حصول میں امتحانات میں “یہ” پوزیشن لی “ضلع/شہر” میں، نوکری کے لئے دیئے گئے تحریری امتحان میں بھی اچھے مارکس لے لے گا”

3/14/2012

ملک کی خدمت؟

نو عمری میں اکثر نوجوان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ عموما یہ خیال کرتے ہیں کہ ضروری ہے کہ فوج، پولیس، سیاست، ویلفیئر یا اس طرح کی کوئی عوامی خدمت کے شعبہ کا انتخاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


ضروری ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ ملک کی خدمت یا ملک کے لئے کچھ کرنے کے لئے فقط اتنا ضروری ہے کہ ہم جہاں کہیں ہیں ایمانداری کے ساتھ اپنے کام یا ذمہ داری کو انجام دیں ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں جس بھی شعبہ( جو ملکی قانون کے تحت جائز ہو) سے منسلک ہیں! اور ہر ممکن کوشش کریں کہ متعلقہ شعبہ کی ممکنہ مہارت حاصل کریں! یقین جانے نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا یہ عمل نہ صرف خود ہمیں اپنے شعبہ میں کمال عطا کرے گا بلکہ درحقیقت یہ اپنے ملک، علاقے، محلہ، خاندان کے افراد کے لئے باعث فخر ہو گا!

3/11/2012

مانگے کا عذاب

ہمارے معاشرے میں ذاتی دشمنیاں پالنا ایک روایت سے بن گئی ہے! زندگی کا کوئی شعبہ و رشتہ دیکھ لیں یہ عام سے بات ہے لوگ انا و ضد کے تحت دشمنی پیدا کرتے ہیں اور اُسے زندہ رکھتے ہیں!


دنیا پوری سے ہٹ پر یہ صرف جنوبی ایشیاء کے باسیوں کی روش ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف جھوٹی مقدمے بازی کی جائے! اور مخالف کو عدالتوں کے چکر لگوائے جائے! یوں اس ضد و انا کی جنگ میں دوسرے کو معاشی نقصان پہنچانے کی خواہش میں خود اپنا معاشی قتل کرنا بھی لازم ٹہرا!


عدالتی طریقہ کار کے تحت عدالت ہر کیس میں پیش ہونے والے گواہ سے گواہی کے پیش کرنے سے قبل “حلف” لیتی ہے کہ میں جو کچھ کہو گا سچ کہو گا! قانون حلف کے تحت گواہ کٹہرے میں کھڑا ہونے کے بعد اپنے مذہبی عقیدے کے تحت کلمہ پڑتا ہے یعنی مسلمان کلمہ طیبہ پڑھے گا، عیسائی اپنے یسوع مسیح کی قسم لے گا اور اسی طرح دیگر مذاہب کے افراد اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق مذہبی کلمات ادا کرت ہیں اُس کے بعد یہ الفاظ “میں خدا کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں جو کچھ کہو گا سچ کہو گا اگر میں جھوٹ بولو تو مجھ پر خدا کا عذاب و قہر نازل ہو” اور پھر پیش ہونے والے گواہان میں عموما قریب اسی فیصد افراد اپنے بیان میں جھوٹ کی ملاوٹ کرتے ہیں! اور دیئے گئے بیان میں بولے گئے جھوٹ پر قائم رہنے کو جرح کے دوران جھوٹ پر جھوٹ بولتے جاتے ہیں اور مانگے گئے عذاب کو بڑھاتے جاتے ہیں!


ان سب کے باوجود کئی ایسے بندے موجود ہیں جو کٹہرے میں منت سماجت کے باوجود بھی جھوٹ نہیں بولتے! خواہ انہیں اپنے بیان سے خود کس قدر ہی دنیاوی نقصان کیوں نہ ہو!


عدالت میں جھوٹ بولنے والے اکثریت افراد “تعلیم یافتہ” افراد کی فہرست میں آتے ہیں جبکہ کہ عموما قسم کھا کر جھوٹ نہ بولنے والے دنیاوی تعریف کے اعتبار سے “ان پڑھ و جاہل” کی تعریف میں اترنے والے افراد ہوتے ہیں تب ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ یہ بگاڑ تعلیم کی وجہ سے ہے یا گھر کی تربیت کی وجہ سے یا وہ ماحول جو ہمارے تعلیمی درس گاہوں میں دنیاوی کامیابی تک کامیابی کے تصور کو مقید کرنے کی بناء پر ہوا ہے؟

3/04/2012

عقیدت و نفرت

ہمارے رویے ہمارے معاشرتی و نظریاتی سوچ کا عکاس ہوتے ہیں! آپ لاکھ چاہے مگر اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے! جسے ہم اچھا جانے اُس کی برائی سے آگاہی کے باوجود اُس وقت تک اُس فرد سے بدظن نہیں ہوتے جب تک کہ اُس کی ذات سے ہمیں خود یا ہمارے کسی نہایت عزیز کو نقصان نہ ہو۔

اپنے معاشرے میں پائے جانے والے سیاسی کرداروں کو ہم رہبرو رہنما سے آگے کا درجہ دے دیتے ہیں اور جو نا پسند ہو اُسے بُرے القاب سے نوازتے ہیں!

آج والد صاحب نے ایسے ہی رویے سے متعلق ایک تازہ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا! کہنے لگے کل میں دفتر سے واپس آنے رہا تھا تو ایک صاحب نے لفٹ مانگی! میرے ڈپارٹمنٹ کا تو نہیں تھا مگر چونکہ وہ بھی یونیفارم میں تھا لہذا میں نے اُسے لفٹ دے دی راستے میں ایک جگہ “بے نظیر بھٹو” کی تصویر دیکھ کر جناب نے دونوں ہاتھ اُٹھا اور انکھوں سے لگا کر عقیدت سے بولے “رانی! شہید ہے!” اور ہاتھوں کو چوم لیا! کچھ اور آگے گاڑی بڑھی تو زرداری صاحب کے پوٹریٹ کو دیکھ کر بولے “تھو! یزید ہے”

کیا کہتے ہیں؟

2/26/2012

لسّے دا کیہہ زور؟

لسّے دا کیہہ زور محمد!! نس جانا یا رونا!! میاں محمد بخش نے لاچار کے رونے ہا بھاگ جانے کو اُس کی کمزوری بتا کر طاقت ور کی برتری کا راز افشاء کر دیا ہے اور اس کی مثال اب تک ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔

گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات ہوئے! جن کئی ایک مقامات پر اسلحے کی نمائش و تشدد و دھاندلی کی بازگشت سنائی دی!
اُن واقعات میں سب سے دلچسپ خبر ایک خاتون امیدوار وحیدہ شاہ کا اپنے حلقے کے ایک پولنگ اسٹیشن کی دو پریذائیڈنگ آفیسرز کو طمانچے دے مارے ذیل میں ایک خبر کی ویڈیو موجود ہے۔



محترمہ اپنے اس حلقے سے الیکشن جیت کر اپنی پارٹی کے کو چیئرمین کے دعوے کے تحت “جمہوریت بہترین انتقام” کے نظریے کو تقویت دینے کو اسمبلی کا حصہ بن گئی ہیں۔


محترمہ کی قابلیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن پریذائیڈنگ آفیسرز نے پولنگ بوتھ میں اپنے چہرے نہیں چھپائے وہ پریس کانفرنس میں باپردہ حالت میں موجود تھی! جبکہ اندر کی خبر والے بتاتے ہیں اُس ہی لمحے متعلقہ پریذائیڈنگ آفیسرز اپنے گھروں میں موجود تھی۔

منتخب حکمرانوں کے یہ رویے ہوں تو کیا تبدیلی ممکن ہے؟

2/23/2012

مداخلت کیسی؟

میاں کیا منہ بنا کر پھر رہے ہوں کیا ہوا؟
“ابے ان امریکیوں کی تو ایسی کی تیسی!”
ابے اب کے کیا ہوا؟ جو ایسی تیسی کرنے کا خیال آیا؟
“دیکھو ذرا تو قرارداد پیش کرتے پھرتے ہیں پاکستان کو توڑنے کی”
اجی کون سے قرارداد پیش کر دی؟
“ابے وہ ہی پاکستان، ایران اور افغانستان میں سے ایک نئی ریاست بنانے کی تاکہ بقول خالق قرارداد کے وہ ریاست یہاں انتہا پسند کے خلاف اُن کی معاون ہو”
تو پھر؟
“تو پھر یہ کہ ہم ایسی کوئی امریکیوں کی حرکت برداشت نہیں کریں گے ہماری حکومت نے بھی ہر سطح پر امریکیوں کو یہ بتا دیا ہے”
(جواب میں زور دار قہقہہ)
“تم یوں کیوں ہنس رہے ہو اس بات پر؟”
بھو لے بادشاہ کس حکومت نے؟ وہ جو ڈراؤن حملے نہیں روک سکی؟ وہ اپنی فوج کے خلاف خود امریکیوں کو خط لکھتی ہے؟ اور وہ جو ہر وقت ہر شعبہ میں امریکی کی امداد وصول کر رہی ہے؟ جو مانگ کر کھاتے ہیں وہ بتاتے ہیں بلکہ بتائی بات پر عمل کرتے ہیں”

2/22/2012

قائداعظم اور مولانا اشرف علی تھانوی

برادر عزیز، ہارون الرشید نے اپنےایک کالم میں لکھا ہے کہ ”روایت ہے مولانا اشرف علی تھانوی کا بھیجا ہوا علماء کا ایک وفد قائداعظم کی خدمت میں پہنچا اورملاقات میں دو نکات پر زرو دیا۔ اول سیاست اور مذہب اور دوم جھجکتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ذاتی بات ہے مگر انہیں نماز پڑھنی چاہئے“۔ اسی کالم میں ہارون الرشید نے مجھ سے تفصیل لکھنے کی فرمائش کی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ محض روایت نہیں بلکہ مستند واقعہ ہے اور تاریخ کا حصہ ہے۔ میں نے 2001ء میں محترم ارشاد احمد حقانی صاحب مرحوم سے قلمی بحث میں اس کا حوالہ دیا تھا اور پھر افتخار احمد چودھری کے ساتھ یوم قائداعظم کے حوالے سے جیو کے پروگرام ”جوابدہ“ میں بھی عرض کیا تھا کہ قائداعظم کی مذہبی تربیت مولانا اشرف علی تھانوی کی ہدایت پرا ن کے ساتھیوں اور خواہر زادوں نے کی تھی جن کی قائداعظم سے طویل ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ان ملاقاتوں کا نتیجہ تھا کہ انگلستان سے واپسی کے بعد قائداعظم کی تقریروں پر واضح مذہبی رنگ نظر آتا ہے، ان کی تقریروں میں جا بجا اسلام کے حوالے ملتے ہیں، خدا کے سامنے جوابدہی کے خوف کا خوف طاری ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ قائداعظم کی تقاریر کو بغور پڑھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ 1934ء کے بعد ان کے نظریات میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے، مذہب کی جانب جھکاؤ محسوس ہوتاہے اور ان کے تصور قومیت اور سیاست میں بنیادی تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ قائداعظم کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھے اور نہ ہی علامہ اقبال کی مانند ان کی مذہبی تربیت ہوئی تھی۔ وہ ایک کھرے اور سچے مسلمان تھے اور اسلام کی تعلیمات میں یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے طور پر اسلامی نظام، سیرت نبوی اور قرآن حکیم کا گہرا مطالعہ کیا تھا جس کے حوالے سے ان کی تقاریر میں جا بجا ملتے ہیں۔ وہ قرآن حکیم پر غور و فکر کرتے تھے اور اس کی گواہی نہ صرف منیر احمد منیر کی کتاب ”دی گریٹ لیڈر“ کے عینی شاہدین دیتے ہیں بلکہ جنرل محمد اکبر کی کتاب ”میری آخری منزل“ سے بھی ملتی ہے۔ گنتی کے مطابق قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 101دفعہ اور قیام پاکستان کے بعد چودہ دفعہ اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے اور نظام کی بنیاد اسلامی اصوبوں پر رکھی جائے گی اور انہوں نے یہ بات تو کئی بار کہی کہ ”قرآن مجید“ ہمارا راہنما ہے۔ حتیٰ کہ سٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریر میں بھی اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اقتصادی نظام تشکیل دینے کی آرزو کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے، مذہبی ریاست ہرگز نہیں کیونکہ اسلام میں تھیوکریسی کا کوئی تصور موجود نہیں۔ افسوس تو اس بات پر ہوتا ہے کہ ہمارے سیکولر دانشوروں نے قائداعظم کی تقاریر کو پڑھا ہی نہیں اور نہ ہی ان کی روح کو سمجھا ہے۔ وہ فقط چند ایک تقاریر پڑھ کر اپنا مطلب نکال لیتے ہیں اور اس پہلو پر غور کرنے کی زحمت نہیں فرماتے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کب اور کیسے قائداعظم کے نظریات میں تبدیلی آتی گئی اورانہوں نے مسلمانوں کے حوالے سے ”اقلیت“ سے ”قومیت“ تک کا سفر کیسے طے کیا۔ اقبال کا فکری ارتقاء بھی اسی حقیقت کی غمازی کرتا ہے۔ اسلام مخالف اور دین بیزار حضرات قائداعظم کو سیکولر ثابت کرتے رہتے ہیں اور ان کے علم کاحال یہ ہے کہ وہ ا کثر دعوے کرتے پائے جاتے ہیں کہ قائداعظم نے کبھی پاکستان کو اسلامی مملکت بنانے کا اعلان نہیں کیا۔ یہ سطحیت کی حد ہے کیونکہ قائداعظم نے فروری 1948ء میں امریکی عوام کے نام براڈ کاسٹ میں پاکستان کو ”پریمیئر اسلامک اسٹیٹ“ قرار دیا تھا۔ (بحوالہ قائداعظم کی تقاریر جلد چہارم صفحہ 1064تدوین خورشید یوسفی) البتہ سیکولر کا لفظ کبھی ان کی زبان سے نہیں نکلا۔ قائداعظم کے نظریات کیا تھے اور وہ پاکستان کو کیسی ریاست بنانا چاہتے تھے، یہ میرا ذاتی مسئلہ نہیں لیکن دین بیزار حضرات اس حوالے سے جب قائداعظم کومولوی محمد علی جناح کہتے اور مجھ پر پھبتی کستے ہیں تو میں محظوظ ہوتا ہوں اور دعا مانگتا ہوں کہ اللہ انہیں قائداعظم کی تقاریر پڑھنے کی توفیق دے۔ رہا آج کا پاکستان تو وہ نہ اسلامی ہے نہ جمہوری ہے اورنہ ہی فلاحی ہے بلکہ آمریت اور جمہوریت کا ملغوبہ ہے ،جہاں اقتدار اور سیاست پر دولت کی اجارہ داری ہے، نیم خواندہ، نظریاتی منافق اور ہوس زدہ طبقے چھائے ہوئے ہیں اور عوام کے نام پر عوام کے لئے بنائے گئے پاکستان میں عوام پس رہے ہیں۔

بات چلی تھی مولانا اشرف علی تھانوی اور قائداعظم کی مذہبی تربیت کے حوالے سے اور قدرے دور نکل گئی۔ اس ضمن میں جس تفصیل کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ منشی عبد الرحمن خان مرحوم کی کتاب ”تعمیر پاکستان اور علمائے ربانی میں“ تفصیل سے موجود ہے اور پڑھنے کے لائق ہے۔ منشی عبد الرحمن مرحوم نے بڑی محنت اور تحقیق سے مواد جمع کیا ہے اور قائداعظم کے حوالے سے ان گوشوں پر روشنی ڈالی ہے جن کا ذکر نہ ہماری تحریک پاکستان پر لکھی گئی کتابوں میں ملتا ہے اور نہ ہی مغربی سکالرز قائداعظم کی سوانح لکھتے ہوئے انہیں قابل توجہ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ انہیں ”سوٹ“ (Suit)نہیں کرتا۔ آج کا نوجوان تو یہ بھی نہیں جانتا کہ مولانا اشرف علی تھانوی بہت بڑے سکالر، تفسیر قرآن اور سیرت نبوی کے عظیم مصنف اور بڑی روحانی شخصیت تھے۔ ایسی شخصیت کا مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں متفکر رہنا قابل فہم ہے۔ مولانا شبیر علی تھانوی کی ”روئیداد تبلیغ“ کا حوالہ دیتے ہوئے منشی عبد الرحمن مرحوم نے لکھا ہے ”حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی دوپہر کا کھانا نوش فرما کر قیلولہ کے لئے خانقاہ میں تشریف لائے اور مجھے آواز دی۔ حاضر ہوا تو حضرت متفکر تشریف فرما تھے۔ (یہ مئی 1938کا واقعہ ہے) اس زمانہ تک قرارداد پاکستان منظور نہیں ہوئی تھی مگر کانگرس اورہندوؤں کی ذہنیت بے نقاب ہوچکی تھی… حضرت نے دو تین منٹ کے بعد سر اٹھایا اور ارشاد فرمایا ”میاں شبیر علی ہوا کا رخ بتا رہا ہے کہ لیگ والے کامیاب ہو جاویں گے اور بھائی جو سلطنت ملے گی وہ ان ہی لوگوں کو ملے گی جن کو آج ہم فاسق فاج کہتے ہیں، مولویوں کوتو ملنے سے رہی۔ لہٰذا ہم کو یہ کوشش کرنا چاہئے کہ یہی لوگ دین دار بن جاویں۔ آج کل کے حالات میں اگر سلطنت مولویوں کو مل بھی جاوے تو شاید چلا نہ سکیں گے… ہم کو تو صرف یہ مقصد ہے کہ جو سلطنت قائم ہو وہ دیندار اور دیانتدار لوگوں کے ہاتھ میں ہو اور بس…“
میں نے ارشاد سن کر عرض کیا کہ پھر تبلیغ نیچے کے طبقہ سے شروع ہو یا اوپر کے طبقہ یعنی خواص سے۔ اس پرارشاد فرمایا کہ اوپر کے طبقہ سے کیونکہ وقت کم ہے اور خواص کی تعداد بھی کم ہے۔ اگر خواص دیندار بن گئے تو انشاء اللہ عوام کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔ اس پس منظر اور اس جذبے کے تحت مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک وفد ترتیب دیا،نواب محمد اسماعیل کے ذریعے قائداعظم سے ملاقات کا انتظام کیا جس کا احوال اگلے کالم میں بیان کروں گا انشاء اللہ… فی الحال اتنا ذہن میں رکھیں کہ نواب محمد اسماعیل مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر تھے اور دسمبر 1947میں جب مسلم لیگ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ہندوستان کے لئے انڈیا مسلم لیگ بنائی گئی تو نواب اسماعیل اس کے پہلے صدر تھے۔


جیسے کہ اوپر لکھا کہ قائداعظم نے الگ وطن کا مطالبہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ مسلمان ہر لحاظ سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور ان کا مذہب، کلچر، تاریخ،معاشرت اور انداز فکر ہندوؤں سے بالکل مختلف ہے۔ ان کی 1934ء سے لے کر1948ء تک کی تقاریر پڑھی جائیں تو ان پرقرآنی تعلیمات کا گہرا اثر نظر آتا ہے، پاکستانیوں کو تو نہ قائداعظم کی مستند اور معیاری سوانح عمری لکھنے کی توفیق ہوئی ہے اور نہ ہی ان کی سیاسی فکر کا تجزیہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے لیکن ایک برطانوی شہری محترمہ سلینہ نے ”سیکولر جناح اینڈ پاکستان“ نامی کتاب لکھ کر یہ حق ادا کر دیا ہے۔ اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں سلینہ نے قرآنی آیات کے حوالے دے کر تحقیق اور عرق ریزی کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ جناح کے اکثر تصورات اور افکار قرآن حکیم سے ماخوذ تھے اور یہ کہ کاؤس جی سے لے کر پروفیسر پرویز ہوڈ بھائی تک جتنے لکھاریوں نے انہیں سیکولر قراردیا ہے وہ بددیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی تحریروں کی بنیاد جسٹس منیر کی کتاب میں دی گئی قائداعظم کی جس تقریر پر رکھی ہے وہ الفاظ قائداعظم کے نہیں بلکہ جسٹس منیر مرحوم کے اپنے ہیں اور ان کی ”انگریزی“بھی غلط ہے جوقائداعظم کی نہیں ہوسکتی۔ وزیرآباد کے محمد شریف طوسی بنیادی طور پر مدرس تھے ،انہوں نے انگریزی اخبارات میں پاکستان کے حق میں اتنے مدلل اور زوردار مضامین لکھے کہ قائداعظم نے متاثر ہو کر انہیں بمبئی بلایا اور چھ ماہ اپنے پاس رکھ کر ان سے ”پاکستان اینڈ مسلم انڈیا“ اور ”نیشنلزم کنفلیکٹ ان انڈیا“ جیسی معرکة الاراء کتابیں انگریزی زبان میں لکھوائیں۔ طوسی صاحب نے اپنی چھ ماہ کے قیام کی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ قائداعظم ہر روز صبح علامہ یوسف علی کے قرآن حکیم کے انگریزی ترجمے کا مطالعہ کیا کرتے تھے اور سید امیر علی کی کتاب ”سپرٹ آف اسلام“ پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے شبلی نعمانی کی کتاب ”الفاروق“ کے انگریزی ترجمے کو بغور پڑھ رکھا تھا۔ یہ ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا تھا۔ ان کی لائبریری میں سیرت نبوی، اسلامی تاریخ اور قرآن حکیم کے تراجم پر بہت سی کتابیں موجود تھیں جو ان کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔


میں ذکر کر چکا ہوں کہ جب حکیم الامت مولانا اشرف تھانوی نے محسوس کیا کہ انگریزوں کی رخصتی کے بعد اقتدار مغربی تعلیم یافتہ لیڈران کو ملے گا توانہوں نے ان کی مذہبی تربیت کا پروگرام بنایا اور اس ضمن میں قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات کے لئے ایک وفد ترتیب دیا جس کے سربراہ مولانا مرتضیٰ حسن تھے اور اس وفد میں مولانا شبیر علی تھانوی ، مولانا عبد الجبار، مولانا عبد الغنی، مولانا معظم حسنین اور مولانا ظفر احمد عثمانی شامل تھے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی سگے بھائی اور مولانا اشرف تھانوی کے بھانجے تھے جبکہ مولانا شبیر علی تھانوی مولانا اشرف تھانوی کے بھتیجے تھے۔ دسمبر1938ء میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس پٹنہ میں ہونا تھا۔ مولانا شبیر احمدعثمانی والدہ کی علالت کے سبب جا نہ سکے چنانچہ دوسرے حضرات وفد کی صورت میں پٹنہ پہنچے، نواب اسماعیل خان کے ذریعے قائداعظم سے رابطہ ہوچکا تھا۔ پٹنہ میں نوابزادہ لیاقت علی خان کے ذریعے قائداعظم سے پٹنہ جلسہ عام سے پہلے کا وقت مانگا گیا کیونکہ علماء قائداعظم سے ملے بغیر مسلم لیگ کے اجلاس میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ 25دسمبر 1938کو شام پانچ بجے یہ وفد قائداعظم سے ملا۔ ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی جس کی تفصیل مولانا شبیر علی تھانوی کی ’روئیداد‘ میں موجود ہے اور اس کا ذکر منشی عبد الرحمن کی کتاب کے صفحات 61-62میں بھی ملتا ہے۔ وفد کے تاثرات ان الفاظ میں جھلکتے ہیں ”ہم ان کے (قائداعظم ) کے جوابات سے متاثر ہوئے۔ ان کے کسی دینی عمل کی کوتاہی کے متعلق عرض کیا گیا توبغیر تاویل و حجت اپنی کوتاہی کو تسلیم کیا اور آئندہ اصلاح کا بھی وعدہ کیا۔ یہ صرف حضرت تھانوی کا روحانی فیض کام کر رہا تھا ورنہ جناح صاحب کسی بڑے سے بڑے کا اثر بھی قبول نہ کرتے تھے“۔ تفصیل اس ملاقات کی دلچسپ اور فکر انگیزہے جس میں قائداعظم نے کہا ”میں گناہگار ہوں… وعدہ کرتا ہوں، آئندہ نماز پڑھا کروں گا“ (بحوالہ منشی عبد الرحمن صفحہ26)چنانچہ اس وفد نے پٹنہ میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں شرکت کی جہاں مولانا اشرف تھانوی کا تاریخی بیان پڑھا گیا۔ اس کے ذریعے ارباب و ارکان مسلم لیگ کو اسلامی شعائر کی پابندی کی تلقین کی گئی تھی۔ دوسری ملاقات 12فروری1939ء کو دہلی میں شام سات بجے ہوئی۔ اڑھائی گھنٹے کی اس ملاقات کے بعد قائداعظم نے کہا کہ ”میری سمجھ میں آگیا ہے کہ اسلام میں سیاست سے مذہب الگ نہیں بلکہ مذہب کے تابع ہے“ (بحوالہ روائیداد از مولانا شبیر علی تھانوی، صفحہ نمبر7)۔ اس ملاقات میں مولانا شبیر علی تھانوی کے ساتھ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب بھی تھے جن کا ذکر قیام پاکستان کے بعد آئین سازی اور علماء کے اتفاق رائے کے حوالے سے ملتا ہے۔ مختصر یہ کہ مولانا اشرف علی تھانوی کے نمائندے مئی 1947ء تک قائداعظم سے ملتے رہے اور ان کی دینی تربیت کرتے رہے جس کے نتیجے کے طور پر قائداعظم کا مولانا تھانوی کے گھرانے سے ایک پائیدار تعلق قائم ہوگیا۔ مولانا ظفر احمد عثمانی اپنی روائیداد میں لکھتے ہیں ”ایک مجلس میں قائداعظم سے کہا گیا کہ علماء کانگرس میں زیادہ ہیں اور مسلم لیگ میں کم۔ قائداعظم نے فرمایا ”تم کن کو علماء کہتے ہو“۔ جواباً مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ اور مولانا ابوالکلام کا نام لیا گیا۔ قائداعظم نے جواب دیا ”مسلم لیگ کے ساتھ ایک بہت بڑا عالم ہے جس کا علم و تقدس و تقویٰ سب سے بھاری ہے اور وہ ہیں مولانا اشرف تھانوی جو چھوٹے سے قصبے میں رہتے ہیں مسلم لیگ کو ان کی حمایت کافی ہے“۔


یہی وہ پس منظر تھا جس میں قیام پاکستان کے وقت جب 15اگست 1947ء کو پاکستان کے پرچم کی پہلی رسم کشائی ہوئی تو قائداعظم خاص طور پر مولانا شبیر احمد عثمانی کو ساتھ لے کر گئے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے تلاوت اور دعا کی اور پھر پاکستان کا جھنڈا لہرایا جسے پاکستانی فوج نے سلامی دی۔ یہ رسم کراچی میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں ادا کی گئی جبکہ مشرقی پاکستان کے صوبائی دارالحکومت ڈھاکہ میں مولانا شبیر احمد عثمانی کے بھائی اور مولانا اشرف تھانوی کے بھانجے مولانا ظفر احمد عثمانی نے پاکستان کا پرچم لہرایا۔


اس تحریر کا مقصد نوجوان نسل کو تحریک پاکستان کے ایک پہلو سے روشناس کرانا تھا جسے عام طور پر قابل ذکر نہیں کہا جاتا، اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں اس مقصد میں کامیاب ہوا یا نہیں

تحریر : قائداعظم ڈاکٹر صفدر محمود.

2/19/2012

بے تکی باتوں کو چھ سال ہوئے!

19 فروری 2005 کو جب ہم نے “بے طقی باتیں، بے طقے کام” کے نام سے یہ بلاگ بنایا تھا تو ہم نہیں جانتے تھی کہ دراصل یہ بلاگ شے کیا ہے؟ سچی بات ہے یہ ناسمجھی اب بھی قائم ہے۔ ہمارے بلاگ پر پہلا تبصرہ دانیال نے کیا تھا۔

تب سے اب تک چھ سال ہو گئے بلاگنگ کے۔ اب چھ سالوں میں پانچ سو سے اوپر تحریریں لکھی جن پر قریب دو ہزار تبصرے ہوئے جن میں سے ساٹھ کے قریب تبصرے ہم نے سنسر کئے ۔

اکثر دوست اب بھی پوچھتے ہیں کہ بلاگ کا نام بے طقی کیوں ہے وجہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں آپ دوبارہ پڑھ لیں اور جس قدر تھوڑی بہت ہمیں انگریزی آتی ہے ہم نے یہ ہی جان پائے ہیں کہ Pensive کا مطلب سنجیدہ و گہری و اُداس سوچ و خیال ہوتا ہے اس مناسبت سے Pensive Man سے مراد ایک فکر میں ڈوبا ہوا فرد ہونا چاہئے۔

اس عرصہ میں ایک بار ہم بلاگ اسپاٹ سے ورڈ پریس کی طرف گئے اور اپنا کافی سارا ڈیٹا ضائع کر کے پھر بلاگ اسپاٹ کی طرف لوٹ آئے اور اب اس ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس عرصہ میں کئی ساتھی بلاگر نہایت عمدہ انداز تحریر و خیالات کے ہمراہ اردو بلاگنگ کا حصہ بنے اور غائب ہوئے۔ اس ہی سفر کی یادوں پر مشتمل “اردو بلاگرز” سے متعلق سوال جواب کا سلسلہ فیس بک کے اردو بلاگرز گروپ میں شروع کیا گیا ہے کیا بھی اس کھیل میں شریک ہو سکتے ہیں۔

اور کچھ درکار ہے؟

*بی بی سی اردو نے خبر لگائی “بلوچستان کی آزادی کے حق میں قرارداد” ہم نے یوں سمجھا “پاکستان کو توڑنے کے حق میں قرار داد”!! اپنی اپنی سمجھ و سوچ کی بات ہے۔۔

بلوچستان پر لکھنے والے اکثر یہ خیال کرتے ہیں کہ اہل بلوچستان سے باقی پاکستان کو کوئی ہمدردی نہیں مگر حقیقت ایسی نہیں! جن دشواریوں میں بلوچستان میں بسنے والے ہیں اُن کی مشکلات کا شکار باقی پاکستان ہے۔ کہتے ہیں موجودہ نئے بد ترین حالات کا آغاز بلوچستان میں 2004 سے شروع ہوا یہ تب ہی کی بات ہے جب پڑوس میں امریکی اُتر آئے تھے اور تازہ تازہ امریکیوں کا بھارت سے طالبان کے خلاف خفیہ اتحاد ہوا تھا اور را کو افغان سر زمین پر جگہ ملی مگر سچ یہ ہے کہ اُن پر الزام لگانے سے پہلے ہمیں اپنی کمزوریوں پر نظر رکھنی چاہئے۔

2007 سے پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر بلوچستان میں بیرونی مداخلت کا کئی مرتبہ ذکر کیا اور اس سلسلے میں بھارت کو قصوروار بتلایا مگر اتنی ہمت نہ کر سکے کہ نیٹو و امریکہ کو بھی شریک کار بتلائے۔ ہم بین الاقوامی معاملات سے نا واقف ہیں مگر امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کے نمائندے ڈینا روبا کی پیش کردہ قرارداد کو ہر گز صرف ایک فرد کا ذاتی فعل سمجھنے سے قاصر !

ذاتی فعل بتاتے ہوئے ڈینا روبا کی پاکستان مخالفت بیان کرتے ہوں اس حرکت سے قبل بھی دو معاملات کا ذکر کیا جاتا ہے اول 2009 میں کانگریس میں کیری لوگر بل کے خلاف ووٹ ڈالنا دوئم گزشتہ سال پاکستان میں امداد روکنے کو “Defund United States Assistance to Pakistan Act of 2011” نامی بل ایوان نمائندگان میں پیش کرنا۔

ڈینا روبا سے آگے کی بات اس سلسلے میں یوں کہی جا سکتی ہے کہ اس سال پہلے مرتبہ 13 جنوری کو امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان Victoria Nuland نے بلوچستان کے معاملے میں اظہار ان الفاظ میں کیا!۔


The United States is deeply concerned about the ongoing violence in Balochistan, especially targeted killings, disappearances, and other human rights abuses. This is a complex issue. We strongly believe that the best way forward is for all the parties to resolve their differences through peaceful dialogue. We take the allegations of human rights abuses very seriously, and we have discussed these issues with Pakistani officials and also urged them to really lead and conduct a dialogue that takes this issue forward. Thank you

جسے اُس وقت ہی نیٹ پر کافی ڈسکس کیا گیا تھا۔

پھراسی سال 16 جنوری کو Louie Gohmert اور Dana Rohrabacher ایک تحریر “اوبامہ کی افغان پالیسی طالبان کو مضبوط کر رہی ہے” میں افغانستان میں انتہاپسند قوتوں سے نمٹنے کو پاکستان سے بلوچستان کی علیدگی کی تجویز ان الفاظ میں پیش کی۔


Perhaps we should even consider support for a Balochistan carved out of Pakistan to diminish radical power there also. Surely, leaving Afghanistan to the same terrorist thugs who enabled the September 11th attacks is the very definition of insanity.The way forward should not include the current Obama plan of putting our future in Taliban hands that are covered with American blood.


اس کے علاوہ 8 فروری کو کانگریسی بحث رکھی جس میں دیگر چار افراد کے ہمراہ علی حسن (ہیومن رائیٹ کمیشن، ڈائریکٹر پاکستان)بھی شریک تھے۔ جس میں آزاد بلوچستان کی تجویز بھی سامنے آئی اور اب یہ قرارداد۔ کیا اور کچھ بھی درکار ہے سالمیت پر حملے کو؟

2/14/2012

ویلنٹائن ڈے بارے

حقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ویلنٹائن ڈے پو 85 فیصد کارڈ خواتین خریدتی ہیں اور 15 فیصد مرد۔ کل خریداروں کی تیس فیصد تعداد ایسے ہے جو ایک سے ذیادہ کارڈ خریدتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ویلنٹائن ڈے پر پھول خریدنے والوں میں 75 فیصد مرد اور 25 فیصد خواتین ہوتی ہیں جبکہ 18 فیصد خواتین ایسی ہیں جو خود اپنے لئے پھول خریدتی یا منگواتی ہیں خریدتی ہیں۔

قریب ایک تہائی مرد ویلنٹائن ڈے پر تحفہ وصول کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے اوی 22 فیصد کے قریب خواتین ایسی ہوتی ہیں۔

ہر ویلنٹائن ڈے پر قریب 55 سے 60 فیصد امریکن خواتین اس عزم کا اظہار کرتی ہیں کہ اگر اُن کے پاٹنر نے اُنہیں اس ویلنٹائن پر تحفہ نہ دیا تو وہ اُسے چھوڑ دے گی پھر بھی اکثر مردوں کی جان نہیں چھوٹتی اور اکثریت خواتین اپنے طور پر وجہ تراش کر انہیں معاف کردیتی ہیں۔

ویلنٹائن ڈے پر سب سے ذیادہ کارڈ بچوں کی جانب سے اپنے ٹیچر کو موصول ہوتے ہیں۔

ایک اور تحقیق کے مطابق ویلنٹائن ڈے کے موقعے پر کئی نو عمر بچے و بچیاں ویلنٹائن نہ ہونے پو احساس کمتری کا شکار ہوتی ہیں جن میں سے ایک مخصوص تعداد خودکشی کی کوشش بھی کرتی ہے۔

ایک رائے کے مطابق چالیس فیصد افراد ویلنٹائن سے متعلق منفی رائے رکھتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 10 ملین افراد ویلنٹائن ڈے پر خریدا گیا تحفہ دراصل اپنے پالتو جانور کو دیتے ہیں۔

26 فیصدویلنٹائن ڈے کی مخالفت کرنے والے گھر کی چار دیواری میں کسی ناں کسی کو ہیپی ویلنٹائن کہتے ہیں اسی طرح 13 فیصد تعداد ایسی ہے جو صرف اپنے پاٹنر سے ویلنٹائن کی مخالفت کرتے ہیں۔

(اس کے علاوہ بھی انٹرنیٹ پر کئی دلچسپ فیٹ تھے مگر وہ قابل سنسر تھے لہذا اُن کا ذکر نہیں کر رہے)

2/10/2012

وجہ

پوچھتے کیا ہو؟

بہانے اور بھی بہت ہیں

بات! مگر بس اتنی ہے

مجھے محبت کرنی تھی
<
اُسے محبت ہونی تھی


(ذاتی چول)

2/07/2012

زخمی فرد کو میڈیکل سہولت

ناواقفیت کی بناء پر معاشرے میں کئی مرتبہ کچھ ایسی روایات جنم لے لیتی ہے جو نقصان کا باعث بنتی ہیں، اور عمومی طور پر ہم میں عام معاملات سے متعلق جستجو کی عادت نہیں ہے اس لئے بہتر تبدیلی کافی دشوار ہوتی ہے۔


ایک عمدہ حل اس سلسلے میں قانون سازی کا ہے مگر قانون سازی بھی ایسی ہو جس میں اول نہ تو کوئی سقم ہو کہ عملدرآمد مشکل ہو اور نہ ہی کچھ ایسا کہ نئی خرابی کو جنم دے۔ فرض کریں کہ قانون سازی میں کوئی خامی رہ گئی ہو تو پھر عدالت کا فرض بنتا ہے کہ اپنے فیصلوں سے کچھ ایسے اصول واضح کرے کہ وہ نقص دور ہو جائے۔


ایسی ہی ایک خامی جو ہم میں داخل ہو گئی تھی وہ کسی زخمی کی مدد نہ کرنا تھا۔ دلچسپ معاملہ یہ کہ کسی فرد کو جس قدر سخت چوٹ یا زخم لگتا اُس قدر دشوار اُس کے لئے ڈاکٹر کی سہولت حاصل کرنے میں پیش آتی یوں حادثہ کا شکار ہونے والا ایک اور حادثے سے روشناس ہوتا۔ جائے وقوع سے اسپتال تک اور پھر اسپتال میں ڈاکٹر تک ہر ایک پولیس کی تفتیش کے خوف سے مدد کو نہ آتا۔


اس لئے 2004 میں پارلیمنٹ نےInjured Person (Medical Aid) Act پاس کیا اس قانون کے ابتدائیہ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ چونکہ طبی امداد(medical aid ) کے سلسلہ میں طبی قانون ( medico-legal ) کے بابت عمومی غلط فہمی ہے جس کی وجہ سے کئی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے لہذا طبی امداد کے سلسلے میں یہ قانون پاس کیا جا رہا ہے۔ یہ قانون 14 دفعات پر مشتمل ہے۔


اس قانون کے تحت ایک(رجسٹر) ڈاکٹر جو کسی (رجسٹر) اسپتال میں ڈیوٹی پر ہو پابند ہے کہ کسی زخمی کو ابتدائی طبی امداد دینے کا پابند ہوگا کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی کا انتظار کئے بغیر۔


قانون کی دفعہ 2 (d) کے تحت زخمی سے مراد کوئی بھی ایسا فرد جو کسی ٹریفک حادثے، حملے یا کسی بھی دیگر وجہ سے زخمی ہو ہو اور جسے فوری علاج کی ضرورت ہو۔


قانون کی دفعہ 7 کے تحت حکومت نوٹس گزٹ کرے گی جس میں آگاہ کیا جائے گا کہ کون سے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی سہولت ہے کہ وہ زخمی افراد کو طبی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔


قانون کی دفعہ تین کے تحت اسپتال میں لائے گئے فرد کو کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگیوں میں پڑے بغیر ترجیحی بنیاد پر طبی مدد فراہم کی جائے گی۔


قانون کی دفعہ چار کے تحت پابند کیا گیا ہے کہ جب تک زخمی فرد زیر علاج ہو کوئی پولیس افسر اسپتال کے انچارج کی تحریری اجازت کے بغیر مداخلت نہیں کر سکتا ایسی اجازت بھی تب ہی مل سکتی ہے جبکہ زخمی سے تفتیش اسپتال ہی میں ممکن ہو۔
قانون کی دفعہ پانچ کے تحت جب کوئی زخمی ایمرجنسی میں لایا جائے اور ڈاکٹر کے لئے زخمی کے عزیز کا انتظار ممکن نہ ہو تو وہ بلا اجازت اُسے طبی سہولت فراہم کرے یا آپریشن کر سکتا ہے، زخمی کے رشتہ دار کی موجودگی کی صورت میں اُس کی اجازت لے لینا بہتر ہے۔


دفعہ چھ کے تحت جب تک زخمی کی حالت سنبھل نہ جائے اُسے دوسرے اسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ اُس ہسپتال میں متعلقہ سہولت نہ ہو منتقل کرنے سے قبل متعلقہ ڈاکٹر تمام کاغذی کاروائی مکمل کرے گا اور تمام دستاویزات مریض کے ساتھ منتقل ہوں گی اگر ضروری ہو تو دوران سفر ایک ڈاکٹر مریض کے ساتھ رہے۔


دفعہ آٹھ کے تحت پابند کیا گیا ہے کہ کوئی پولیس والا کسی بھی حالت میں مریض کو پولیس اسٹیشن نہیں لے جا سکتا اور نہ ہی ڈاکٹر پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔


دفعہ نو کے تحت زخمی کو انسانی ہمدردی کے تحت اسپتال میں لانے والے کو ڈرایا نہیں جا سکتا اُسے اُن کا نام پتہ پوچھ کر اگر مناسب ہو تو شناختی کارڈ کی کاپی لے کے جانے دیا جائے ساتھ ہی وضاحت کر دی گئی اس بناء پر اُسے چھوٹ حاصل نہ ہو گی اگر وہ وجہ حادثہ ہوا تو۔


قانون کی دفعہ گیارہ کے تحت اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والا کو دو سال تک کی سزا و دس ہزار روپے جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں مزید یہ کہ عدالت ڈاکٹر کے لائسنس کو منسوخ بھی کر سکتی ہے۔


یہ تحریر مفاد عام تحت لکھی گئی ہے ایک پرانے سلسلے کی کڑی کے طور پر

2/02/2012

Have a nice Date

یہ کہنا مشکل ہے کہ کون ٹھیک نہیں؟ مگر یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ کیا ٹھیک نہیں!مگر روکیے کیا ٹھیک نہیں اس کا تعین کرنا بھی اب ممکن نظر نہیں آتا! کیونکہ آپ کا ٹھیک ممکن ہے ہے میرا ٹھیک نہ ہو؟ اور میرا ٹھیک آپ کے لئے قابل برداشت نہ ہو۔ یوں غلط و ٹھیک کی تعریف ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی حد کو جا پہنچے۔

ہماری با حیثیت مجموعی کچھ ایسی عادت بن گئی ہے کہ ہم عمل کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ فرد کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ معاشرتی طور پر کچھ ایسا مزاج بنا چکے ہیں کہ کسی کو غلط سے روکنے کے لئے غلط رستے کا انتخاب کرتے ہیں یا شاید ہم جو کرنا چاہتے ہیں وہ ظاہر نہیں کرتے۔

جب ہم ایل ایل بی میں پڑھتے تھے تو ایس ایم لاء کالج کے قریب ہی جیو چینل کا دفتر کھلا، اُن کے چند ایک پروگرام کی ریکارڈنگ وہاں ہوتی تھی، ہم ایک دو پروگرام کی ریکارڈنگ میں بطور ناظرین جاتے ان میں ایک پروگرام تھا “اُلجھن سلُجھن” عوامی مسائل پر گفتگو ہوتی تھی، ایک مرتبہ گئے تو ٹرک ڈرائیوروں کے “دلبروں” کی بات ہو رہی تھی۔ یہ ٹاپت نہایت واہیات لگا لہذا واپس کالج چلے گئے ایک مرتبہ پھر گئے تو خواتین کی آپسی کشش سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل پر روشنی ڈالی جا رہی تھی گفتگو سن کر ہتھیلی تک میں پسینہ آ گیا جبکہ اسٹو دیو فل ایسی تھا۔ ٹاک شو میں ایسے ٹاپک پر ہونے والی گفتگو پر ہم نے جانے سے توبہ کر لی۔

جب کبھی ایسے افراد سے جو میڈیا میں ان ٹاپک پر بات کرتے سے بات ہوت کہ کیا ایسے پروگرام ہونے چاہئے یا یہ کہ ان ٹائمنگ میں ٹی وی پر چلنے چاہئے جس میں چلتے ہیں تو وہ بہت زور دار انداز میں اس کی حمایت کرتے اور انوکھا جواب یہ ہوتا کہ جب ہم نے اس مسئلے پر کام شروع کیا تو مولویوں نے بہت شور کیا ہمیں بہت مشکل پیش آئی مگر اب تو لوگوں میں “شعور” آ گیا ہے۔ میں اس argument سے کبھی بھی مطمئین نہیں ہوا۔

ان تمام باتوں کے باوجود ہمیں کبھی اُن افراد سے ذاتی نفرت نہیں ہوئی میرے چند ایک دوست (جو جانتے ہیں) حیران ہوتے ہیں کہ میری حلقہ احباب میں چند ایک ایسے افراد بھی رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو ایسی سرگرمیوں میں مبتلا ہیں جو معاشرتی و اخلاقی اعتبار سے درست نہیں اور میرا اُن سے تعلق اُس وقت تک رہا جب تک کہ انہوں نے مجھے اُن عمل میں شریک کرنے کی کوشش نہ کی جب دعوت گناہ ہوا جو یا تو دعوت واپس لی گئی یا تعلق اختتام کو پہنچا۔ مگر کبھی کسی محفل میں ملاقات ہوئی تو ہیلو ہائے کر لی۔ اس بات پر ہم خود کو منافق بھی کہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا میں مایا خان ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ معاملہ پارکوں میں چھاپے تھے۔ یار لوگ چھاپہ مارنے سے ذیادہ مایا خان کو ننگی گالیاں دینے میں ذیادہ دلچسپی لیتے نظر آئے۔ دوسری بات جو مجھے سمجھ میں نہیں آئی وہ یہ کہ عوامی مقامات پر کیا گیا کوئی عمل یا حرکت کسی کا ذاتی معاملہ ہوسکتی ہے؟ اگر ہاں تو کیسے؟ اور کس حد تک؟ خواہ وہ اُن کا لباس کا انتخاب ہو! ! گھر کی چار دیواری میں تو آپ کی privacy ہو سکتی ہے مگر گھر سے باہر اور عوامی مقامات پر اس کا تعین کرنا ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ کچھ احباب اس سلسلے میں ملکی قانون تک اپنے رائے کا اظہار کرتے ہیں اور چند “انتہا پسند” مذہبی نقطہ نظر سے اس معاملے کو سُلجھانے کی کوشش کریں گے اور کچھ تو بین الاقوامی قوانین کو بھی اس سلسلے میں کھینچ لاتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر یار لوگ International Covenant on Civil and Political Rights کی دفعہ 17 کا حوالہ دیتے ہے جو کچھ یوں ہے:

1. No one shall be subjected to arbitrary or unlawful interference with his privacy, family, home or correspondence, nor to unlawful attacks on his honour and reputation. 2. Everyone has the right to the protection of the law against such interference or attacks.

یعنی ہر کسی کو تحفظ حاصل ہے نجی معاملات میں کسی دوسری کی غیرقانونی مداخلت سے خواہ وہ خاندانی نوعیت کے ہو یا گھریلو یا کسی قسم کی کوئی خط و کتابت جبکہ ایسی مداخلت اُس کی معاشرہ میں مقام و عزت کو متاثر کرے. اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ نجی معاملات کی کی وسعت کیا ہے؟ نجی معاملات میں وہ سے مراد وہ زندگی کے پہلو وہ خالص و بیادی طور پر فرد کی ذات سے متعلق ہیں۔

یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پرائیویسی کسی فرد کی زندگی کے وہ پہلو و تعلقات ہیں جو وہ نہ صرف عوام کی نظروں سے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ جس میں مداخلت اُس فرد کو قبول نہیں۔ اسے ایک بنیادی حق تسلیم کیا جا چکا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ پہلوو تعلقات جو کوئی فرد عوام سے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے کیا عوام کے درمیان یا عوامی مقامات پر ظاہر کرے گا خواہ اُس کی کوئی بھی صورت ہو؟ ممکنہ جواب ہاں نہیں ہوسکتا مگر مباحث میں یہ ایک متنازعہ موضوع رہا ہے اور ممکن رہے مگر اکثریت مقامات پر جواب باں نہیں ہوتا، اگر مگر کے ساتھ چند احباب اسے ہاں کہہ دیتے ہیں۔

چار دیواری کے اندر ہونے والی حرکات تسلیم شدہ طور پر پرائیویسی کے ذمرہ میں آتی ہے اخلاقی، مذہبی، قانونی اور معاشرتی طور پر اسے تسلیم کیا جا چکا ہے۔ ملکی آئین کی دفعہ 14 اس ضمن میں قابل توجہ ہے۔

The dignity of man and, subject to law, the privacy of home, shall be inviolable.

اس ہی لئے جب پولیس کسی چاردیواری کے اندر سے “جوڑے” پکڑ کر ایف آئی آر کاٹتی ہے تو آغاز ایف آئی آر میں گھر میں داخل ہونے کی وجہ اُس عمارت میں مفرور ملزم کے موجود ہونا قرار دیتی ہے۔ مذہبی نقطہ نظر سے گھر کی چار دیواری میں کسی کی پرائیویسی میں دخل اندازی کی ممانعت کو سمجھنے کے لئے حضرت عمر کا وہ واقعہ ہی کافی میں جس میں رات کے پہر میں ایک گھر سے اس لئے معذرت کر کے باہر نکل گئے کہ اُن کا گھر کی چار دیواری میں تجسس کے زیر اثر بلا اجازت داخل ہونا غلط تھا جبکہ صاحب مکان کے پاس اُس وقت شراب و شباب موجود تھا۔

مایا خان پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ انہیں یوں اپنی ممکنہ اپنی اخلاقی اقدار کی تبلیغ کرنے کا اختیار نہیں یا نافذ کرنے کا۔ تبلیغ تو انسان کی فطرت بھی ہے اور بلا شک و شبہ جز ایمان بھی اور جن نظریات و اقدار کو آپ حق تسلیم کرتے ہو وہ خود با خود آپ پر لاگو ہو جاتی ہے۔ تبلیغ فطرت یوں ہے کہ اگر میں کہو کہ آپ اپنی اخلاقی اقدار کسی پر لاگو نہیں کو سکتے تو بنیادی طور پر میں اپنی اخلاقی اقدار کی تبلیغ کر رہا ہو اور چاہتا ہون کہ آپ اس” اخلاقی” اصول کو خود پر لاگو کریں۔

اس پورے معاملے میں ایک عنصر ایسا ہے تو قابل گرفت ہے اور وہ یہ کہ آیا کسی فریق کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے؟ اگر ہاں تو مایا خان اس سلسلے مین قابل گرفت ہو گی مگر اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار ملکی عدالت کے پاس ہے عدالت کا دروازہ متاثرہ فریق ہی کھٹکا سکتا ہے آپ یا میں نہیں!

آخری بات یہ کہ اگر آپ چار دیواری میں اپنے پریمی کے ساتھ وقت گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہم آپ کو کہیں گے “Have a nice Date”.

1/27/2012

اللہ جانے کون بشر ہے؟

بڑے بزرگ کہتے ہیں انسانوں میں ہونا ایک بات اور انسان ہونا دوسری بات ہے۔آبادی میں میں درندے بھی ہوتے ہیں اور فرشتے بھی! انسان سب سے کم ہوتے ہیں! مگر شکلیں سب کی ایک جیسی! اس انسان نما مخلوق میں ایک گرہ ایسا بھی ہے جو عمر میں مختلف مراحل میں ان تینوں درجات سے گزرتا ہے۔ جس کی کوئی ممکنہ ترتیب نہیں ہے۔ بہروپئے بھی پائے جاتے ہیں جو انسان یا فرشتے کا روپ اپنا کر اپنی درندگی کی تسکین کرتے ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جیت حق و سچ کی ہوتی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کئی بار باطل کی حکمرانی کئی تہذییوں و نسلوں کو برداشت کرنی پڑتی ہے اور جب تک حق سچ کا پلڑا بھاری ہوتا ہے آبادی میں موجود بہروپئے ایک مخصوص تعداد کو گمراہ کر کے یہ باور کروا چکے ہوتے ہیں کہ دراصل باطل ہی حق ہے۔
یہ ہی تباہی کا نقطہ عروج کہ ایک گروہ گمراہی کی اُس نہج پر ہو کہ خود کو درست جان کر باطل کی کامیابی کے لئے ایک مخلص جدوجہد کرے۔

1/25/2012

فیس بک کا like بٹن

like کا مطلب ہے پسند! یعنی کچھ اچھا لگے تو آپ اُسے پسند کر لیں! ہم تو یہ ہی سمجھے ہیں! کتاب چہرہ میں ہر چہرہ کتابی نہیں اور نہ ہر بندہ! ہر بات و ہر خبر پسند نہیں آتی!
آج جب ہم حقیقی زندگی کے ساتھ ساتھ virtual زندگی کے بھی باسی ہو چکے  ہیں اور سوشل میڈیا کی قید میں یوں جکڑے جا چکے ہیں کہ اپنی ہر بات یا حرکت یا احساس و خبر اپنے سوشل میڈیا کی نیٹ ورک پر share کرتے ہیں ایسے میں اس سوشل میڈیا کا ایک بڑا کردار فیس بک یا کتاب چہرہ ہے۔
فیس بک والوں نے کسی کے اسٹیٹس پر تبصرہ کرنی کی سہولت کے ساتھ ساتھ اُسے پسند کرنے کو اپنے صارف کو like کرنے کی سہولت بھی دی ہے مگر dislike کرنے کا کوئی طریقہ نہیں رکھا، آپ unlike کر سکتے ہیں مگر like کرنے کے بعد۔
کئی احباب اس سہولت کا بہت عجیب استعمال کرے ہیں میری سمجھ سے باہر ہے کہ کسی افسوس ناک خبر یا اطلاع کو یار دوست کیوں like کرتے ہیں؟ یقین جانے دل کو ایک ضرب سی لگتی ہے اس عمل سے۔

1/15/2012

پرکھ

کئی تجربے بہت عجیب ہوتے ہیں اتنے کہ بیان سے باہر، کچھ عرصہ پہلے تک ہم یہ ہی سمجھتے تھے کہ کسی آدمی کی تعریف اُس کی شرافت و نیک سیرت شخصیت ہی کے بناء پے کی جاتی ہے اس کے باوجود کہ ہم نے یہ معقولہ ایک مخصوص کلاس کی نمائندے سے سن رکھا تھا کہ “یاری یا تو کلاس (طبقے) کی ہوتی ہے یا گلاس (شراب کے جام )کی باقی سب تو مجبوریاں ہوتی ہیں”۔
گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی محفل میں جہاں “لبرل کلاس” کے نمائندے موجود تھے اور ہم بھی اپنی تمام تر منافقت کو سمیٹے بیٹھے تھے تو حاضرین محفل اپنے طور پر مختلف ممکنہ امیدواروں میں سے ایک کام کے بندے کے چناؤ میں مصروف تھے۔ تب اہل محفل نے ایک نے موزوں فرد کی خوبیاں کچھ ان الفاظ میں بیان کی:-
“میرا ووٹ تو 'فلاں' کے حق میں ہے آزاد منش ہے، باہر سے تعلیم لے کر آیا ہے، کھاتی پیتی فیملی کا ہے، دقیانوس خیالات سے پاک ہے، کلب جاتا ہے، Saturday Night کی محفلوں میں بھی ریگولر ہے، لوکل برانڈ کی وسکی کو ہاتھ نہیں لگاتا اپنے “فلاں نمبر 2” کی طرح نہیں کہ دیسی برانڈی پر دوستوں کو ٹرخا دے، اُس کی محفل میں شباب کا بھی بھرپور انتظام ہوتا ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس کے خاندان میں کوئی بھی مولوی ٹائپ کا بندہ نہیں کہ ڈر ہو وہ بھی پٹری سے اُتر کر مولوی ہو جائے”

1/14/2012

نشان زدہ

جی جناب عمار کے کھیل میں ہماری شمولیت کی وجہ محترمہ عنیقہ ناز اور محترمہ شاہدہ اکرام کی طرف سے نشان زدہ کرنا تھا۔ افسوس اردو بلاگرز کی اقلیت یعنی خواتین بلاگرز نے تو ہمیں اس کھیل میں شامل کیا مگر کسی مرد بلاگر کو یہ توفیق نہیں ہوئی۔ خیر اب حسب روایت سوالات کے جوابات عرض ہیں۔

سوال نمبر 1- ۲۰۱۲ میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
وہ سب کچھ جو گزشتہ سال کرنا چاہتا تھا مگر کچھ حالات و واقعات و مجبوریوں کی بناء پر نہیں کرسکا۔
سوال نمبر 2- ۲۰۱۲ میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
ایسا کچھ نہیں جس کا انتظار ہو مگر یہ دعا ضرور ہی کچھ بُرا نہ ہو۔
سوال نمبر 3- ۲۰۱۱ میں کوئی کامیابی ؟
زندگی آگے بڑھ رہی ہے اور جہاں چند خواہشات حسرت کا روپ دھار لیتی ہیں وہاں ہی کئی خواہشات و تمنائیں پوری ہو جاتی ہیں مگر گزشتہ برس ایسی کو کئی کامیابیاں تھی جن پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں مگر یہاں بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔
سوال نمبر 4- سال ۲۰۱۱ کی کوئی ناکامی ؟
جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے اور جو اچھے کے لئے ہو وہ ناکامی نہیں ہوتی۔
سوال نمبر 5- سال ۲۰۱۱ کی کوئی ایسی بات جو بہت دلچسپ اور یادگار ہو؟
ناقابل بیاں
سوال نمبر 6- سال کے شروع میں کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
ایک لفظ میں!!! بُرا۔ سال کا آغاز اچھا نہیں رہا پہلے ماہ کے پہلے عشرے میں اوپر نیچے دو تین بُرے واقعات و حادثات سے دوچار ہونا پڑا!
سوال نمبر 7- کوئی چیز یا کام جو ۲۰۱۲ میں سیکھنا چاہتے ہیں؟
“اللہ کی رضا میں راضی ہونا”


تو جی جناب اب ہم کس کس کو اس کھیل میں شامل کریں؟؟ چلیں جناب بلال میاں،محترم شاکر عزیز، محترم عمیر ملک،محترم فہد میاں، عدنان مسعود اور راشد کامران!!!! بات روایت کی ہے اردو بلاگرز کی روایت۔