12/14/2012

نوٹس ملیا تے کراچی ہلیا

کون نہیں جانتا کہ سیاست دان جو کہتا ہے وہ نہیں کرتا!! اور بدمعاش اپنے “کارکنان” کو جب صبر کی تلقین کرنے کو کہے تو مطلب جو ہوتا ہے اُس کو اہل شہر پندرہ منٹ میں جان جاتے ہیں اور باقی ملک اُس کا گواہ بن جاتا ہے۔ِ
اہل علم نے بتایا ہے کہ امن دو جنگوں کا درمیانی وقفہ ہوتا ہے اِن اہل دانش کے دور میں “ہمارا کراچی” جیسا شہر نہ تھا تو ایسے شہر میں ٹیلیفوں پر خطاب بھی نہیں ہوتا تھا ، سائنس نے اتنی ترقی جو نہ کی تھی، ورنہ تو ماہرین بتا دیتے کہ امن کی ایک قسم وہ ہے جو ٹیلیفونک خطاب سے صبر کی تلقین سے پہلے پائی جاتی ہے۔
طاقت کا حصول طاقت ہی کے مرہون منت ہوتا ہے؟
طاقت دیکھانے والا سامنے والے کو خوف میں مبتلا کرتا ہے! خوف میں مبتلا ہونے والا کوئی بھی ہو ڈھیر تو ہو سکتا ہے، ہار تو مان سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ خوف جان و مال میں مبتلا کرنے والے کو چاہے۔ عوام کو خوف سے آزاد کرنا اور رکھنا منتخب نمائندوں کا کام ہے اور جو انہیں اس خوف جان و مال میں ڈال دیں وہ حاکم نہیں قابض ہوتے ہیں۔
خود دیکھیں کون قابض ہے!
قابصین عدالتوں کا احترام نہیں کرتے بلکہ عوام کو حراساں کر کے منصفوں کو بلیک میل کرنے کی کاوش کرتے ہیں!

4 تبصرے:

  1. آٌپ اس طرح کی تحریریں لکھ کر رسک لے رہے ہو، اور ہم ادھر تبصرہ کرکے، ویسے الطاف سائیں آرہے عدالت کے کہنے پر کہ انکی بھی جان کو ہی خطرہ ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بالکل ٹھیک کہا۔ کراچی میں رہنے والے فوری طور پر سمجھ جاتے ہیں کہ بدامنی کی نئی لہر کے پیچھے کون ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بار اس لہر کے پیچھے عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے نتیجہ خیز مراحل ہیں۔۔۔
    لیکن ایک سوال تمام بلاگر حضرات سے ہے۔۔۔
    کہ اگر اس نئی لہر کے پیچھے ایم کیو ایم ہے اور صاف نظر آرہا ہے کہ ایم کیو ایم ہے تو پھر ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے کون ہے؟
    ایم کیو ایم؟؟؟ ۔۔۔ جی ہاں
    ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی اور؟؟؟
    کوئی نہیں؟؟؟؟

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔