ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: August 2012

عید مبارک

آپ تمام احباب کو عید مبارک!!
ملک اور ملک سے باہر ہر جگہ عید و عیدی کے چرچے ہیں عید کی مناسبت سے چند شعر ذیل میں ہیں اور اگر آپ کو کوئی یاد ہو تو ہم سے شیئر ضرور کیجئے گا۔

غم کے بادل تھے فصاؤں میں کچھ ایسے چھائے
دل کی دنیا میں منور نہ ہوا عید کا چاند

ہیں میرے ساتھ ساتھ ازل سے اُداسیاں
تو کس لئے اُداس ہے آخر اے ہلال عید

غم آنکھوں میں اور تن پہ ناامیدی کا لباس
غریب شہر نے بھی عید کی تیاری کر لی

تیرے کہنے پہ لگائی ہے یہ مہندی میں نے
عید پر اب تو نہ آیا ، تو قیامت ہو گی

کتنی مشکلوں سے فلک پر نظر آتا ہے
عید کے چاند نے بھی انداز تمہارے سیکھے

اس سے پوچھو کہ میرے بچوں کے لئے کپڑے لائی؟
دیکھو پھر عید غریبوں کو ستانے آئی

غریب ماں اپنے بچوں کو بڑے پیار سے یوں مناتی ہے
پھر بنا لیں گے نئے کپڑے یہ عید تو ہر سال آتی ہے