ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: December 2012

رن مریدوں کا سانجہ پیر

پہلے لطیفہ سنے بعد میں بات !! لطیفہ سنے گے کیسے؟ پڑھ لیں۔
ایک جگہ پولیس نا کا لگا کر گھڑی تھی کہ پولیس کے ہاتھ چار بدمعاش لگے،علاقہ ایسا تھا جہاں کی پیری مریدی کا سلسلہ رہتا تھا لہذا پولیس آفیسر نے شغل کے طور پر کہا کہ تم میں سے جس کا پیر سب سے ذیادہ طاقت والا ہوتا گا وہ آزاد ہو گا باقی حوالہ جیل۔ لہذا اُن بدمعاشوں نے اپنے اپنے پیروں کا تعارف و تعریف کی۔
پہلا بولا کہ میرے پیر کا نام “لمبا پیر” ہے ، بہت کرامت والا ہے اُس نے لوگوں کو بہت فیض دیا ہے۔
دوسرا بولا کہ میرے پیر کا نام “کھمبا پیر” ہے اور اُس کے مزار پر جا کر منت مانگی جائے تو دنیاوی معاملات میں فائدہ ہو تا ہے۔
تیسرا بولا میں تو “کرامتی پیر” کا مرید ہوں اور ایک دنیا اُس کی کرامات کی گواہ ہے۔
جب چوتھے کی باری آئی تو اُس نے جھجگتے جھجگتے ہوئے کہا میں تو “رن مرید” ہوں۔
اُس نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ اچانک ہے پولیس والے نے اُٹھ اُس کو گلے سے لگا لیا اور کہا “اوئے ساڈا تے سانجا پیر اے”
بات یہ تھی دونوں ہی رن مرید تھے مگر رن دونوں کی الگ الگ تھی!!!
اتنا تو ہم نے سُن رکھا ہے کہ پیر کے ہاتھ پر بیعت ہوتی ہے، بیعت ایک طرح سے عہد اطاعت ہوتی ہے۔
یار لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا وجہ ہے کینیڈین اور برطانوی پاکستانی “رہنماؤں” میں پائے جانے والی محبت کی وجہ کیا ہے تو اب ہم یہ کہہ دے ہے دونوں کا پیر سانجا ہے تو لوگوں کو بات ہم ہی سمجھ آتی ہے۔ ایسے لیڈر رن مرید ہو ں کوئی ماننے کو تیار نہیں مگر مزید دلچسپ صورت حال تب پیدا ہوتی ہے جب یہ بتا جائے کہ وہ ایک ہی “رن” کے “مرید” ہیں تو یار لوگوں کو یقین نہیں آتا لہذا ہم آپ کی آسانی کے لئے دونوں کے اٹھائے گئے ممکنہ بیعت پیش کر دیتے ہیں۔
کینیڈا کا بیعت!!!

I swear (or affirm) that I will be faithful and bear true allegiance to Her Majesty Queen Elizabeth II, Queen of Canada, Her Heirs and Successors, and that I will faithfully observe the laws of Canada and fulfil my duties as a Canadian citizen.

برطانوی بیعت
I, [name], [swear by Almighty God] [do solemnly, sincerely and truly affirm and declare] that, on becoming a British citizen, I will be faithful and bear true allegiance to Her Majesty Queen Elizabeth II, her heirs, and successors, according to law.

نوٹس ملیا تے کراچی ہلیا

کون نہیں جانتا کہ سیاست دان جو کہتا ہے وہ نہیں کرتا!! اور بدمعاش اپنے “کارکنان” کو جب صبر کی تلقین کرنے کو کہے تو مطلب جو ہوتا ہے اُس کو اہل شہر پندرہ منٹ میں جان جاتے ہیں اور باقی ملک اُس کا گواہ بن جاتا ہے۔ِ
اہل علم نے بتایا ہے کہ امن دو جنگوں کا درمیانی وقفہ ہوتا ہے اِن اہل دانش کے دور میں “ہمارا کراچی” جیسا شہر نہ تھا تو ایسے شہر میں ٹیلیفوں پر خطاب بھی نہیں ہوتا تھا ، سائنس نے اتنی ترقی جو نہ کی تھی، ورنہ تو ماہرین بتا دیتے کہ امن کی ایک قسم وہ ہے جو ٹیلیفونک خطاب سے صبر کی تلقین سے پہلے پائی جاتی ہے۔
طاقت کا حصول طاقت ہی کے مرہون منت ہوتا ہے؟
طاقت دیکھانے والا سامنے والے کو خوف میں مبتلا کرتا ہے! خوف میں مبتلا ہونے والا کوئی بھی ہو ڈھیر تو ہو سکتا ہے، ہار تو مان سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ خوف جان و مال میں مبتلا کرنے والے کو چاہے۔ عوام کو خوف سے آزاد کرنا اور رکھنا منتخب نمائندوں کا کام ہے اور جو انہیں اس خوف جان و مال میں ڈال دیں وہ حاکم نہیں قابض ہوتے ہیں۔
خود دیکھیں کون قابض ہے!
قابصین عدالتوں کا احترام نہیں کرتے بلکہ عوام کو حراساں کر کے منصفوں کو بلیک میل کرنے کی کاوش کرتے ہیں!

ٹیکسوں پر پلنے والے ٹیکس نہیں دیتے

جب ہم چھوٹے تھے تو اپنے بڑوں کی زبانی معلوم ہوا کہ جن کو زکوۃ دی جاتی ہے یا جن کو زکوۃ لگتی ہے اُن پر زکوۃ کی ادائیگی فرض نہیں ہوتی۔ مگر یہ کنفرم تھا کہ یہ صاحب نصاب کے ساتھ ساتھ صاحب حیثیت ہی ہوتا ہے جو زکوۃ دیتا ہے! ابو نے سمجھاتے ہوئے اُس وقت ایک جملہ بولا تھا “بیٹا یہ ایک طرح سے اللہ کا لگایا ہوا ٹیکس ہے جس سے مال پاک ہو جاتا ہے اور اُس میں برکت آ جاتی ہے”۔ یوں ہم جان گئے کہ صاحب نصاب پر اللہ کا ٹیکس دینا ضروری ہے اور یہ بندہ واقعی “صاحب” ہوتا ہے۔
لگتا ہے ہمارے “صاحب” اقتدار لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ ٹیکسوں پر پلنے والے ٹیکس نہیں دیتے ۔ اور اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ ٹیکس ملکی ٹیکس ہو!!! عمر چیمہ صاحب نے ایسے ہی محنت کر کے “صاحب اقتدار (نمائندگان) بغیر ٹیکس کے” جیسی رپورٹ مرتب کی!!!