ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 2010

دلچسپ قصہ

یہ 20 دسمبر کی بات ہےسندھ بلکہ ملک کی ایک بااثر شخصیت سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سندھ کی عدالت میں اپنے کیس کی باری کا انتظار کر رہے تھی بتا دوں یہ شخصیت سندھ کے چیف منسٹر رہ چکی ہے، اس کے علاوہ یہ چند ایک صوبائی وزارتوں کا مزا بھی چکھ چکے ہیں! بہرحال اتنے میں ایک شخص جو خود بھی اپنے کسی کیس کے سلسلے میں عدالت میں تھا اُس شخصیت کی طرف بڑی حیرانگی سے دیکھنے لگا،
پھر اُس سے مخاطب ہوا "سر میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے"
وہ شخصیت کچھ تذذب کا شکار ہوئے اتنے میں اُن کے برابر میں بیٹھے اُن کے اسسٹنٹ حرکت میں آئے اور اُن شخصیت کے بارے میں گویا ہوئے "یہ 'فلاں' شخص ہیں"
وہ بندہ بولا "نہیں میں نام سے نہیں شکل سے پہچان رہا ہوں"
(اُس وقت میری ہنسی چھوٹنے والی تھی مگر عدالت کے احترام میں خود پر قابو پانا پڑا)
وہ پی اے پھر گویا ہوا "یہ سابق چیف منسٹر سندھ رہ چکے ہیں! وہ فلاں فلاں وزارت بھی ان کے پاس رہی ہے"
وہ اُس بندے نے کہا "اچھا اچھا تب ہی ان کی شکل کچھ دیکھی دیکھی لگی، ٹی وی پر دیکھا ہو گا پھر، سمجھ گیا!! ابھی والے چوروں سے پہلے آپ کو بھی ایک موقعہ مل چکا ہے"
(یہ سننا تھا اور میں عدالت سے باہر آ گیا وجہ صاف تھی میرے لئے اب ہنسی کو قابو رکھنا ممکن نہیں ہو رہا تھا)

تھانے میں گدھا!

آج ملیر کورٹ میں بہت دلچسپ مکالمہ سننے کو ملا! معاملہ یوں تھا کہ پولیس والون نے کسی کا گدھا چوری کے شبہ میں بند کر لیا تھا تو گدھے کے مالک نے اُس کی واگذاری کے لئے درخواست لگائی تھی! جس پر جج نے تھانے سے رپورٹ طلب کی جو ایک پولیس آفسر لے کر آیا!
جج: ہاں بھائی تھانے مین کتنے گدھے ہیں؟
پولیس: سر ایک ہی ہے۔
جج: تھانے میں ہی ہے یا یہاں آ گیا ہے؟
پولیس: سر وہ تھانے میں ہی ہے۔
جج: ہاں ٹھیک ہے گدھا تھانے میں ہی ہوتے ہیں! چلو ٹھیک ہے اس بندے کو لے جاؤ یہ تھانے والے گدھے کا مالک ہے اپنا والا پہچان کر لے جائے گا، (پھر دوسری طرف متوجہ ہو کر) اپنا گدھا پہچانتے ہو ناں!
مالک گدھا: جی سر پہچانتا ہوں!
جج: ٹھیک ہے اپنا والا ہی لے کر جانا! ورنہ تھانے کا نظام خراب ہو جائے گا!
مالک گدھا: جی بہتر سر! شکریہ!
جج: تم اسے ساتھ لے جاؤ اور اس کا والا گدھا اس کے حوالے کر دو۔
پولیس: ٹھیک ہے سر۔

عید مبارک




زخمی کراچی

آج  کراچی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا او معافی چاہتا ہوں آج یوم سوگ تھا کراچی میں۔ طاقت کی لڑائی ہے، کراچی ایک بڑا شہر ہے بڑے شہر کو ہاتھ میں رکھنا ضروری ہے، خواہ "اُن" کو اس کے لئے "کچھ" بھی کرنا پڑے۔
افواہوں کا بازار گرم ہے، اور خوف سے شہریوں کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے، شہر میں خبروں کے مطابق کوئی پاکستانی نہیں مر رہا بلکہ مرنے والوں کی گنتی اُن کرتے وقت اُن کا پنجابی، پٹھان، مہاجر، سندھی اور بلوچی ہونا دیکھا جاتا ہے مارنے والوں کی پہچان بھی اس ہی فارمولے سے کی جا رہی ہے، اور تہذیبی انداز الزام لگانے کا یہ اپنایا گیا ہے کہ آپ لسانیت کے اس جھگڑے کو سیاسی گروہوں کی بنیاد پر یوں بتائے کہ کون ANP کا ہے، کتنے MQM کے اور کو پیپلز امن کمیٹی کا!
یہ لسانیت کی سیاست شہر سے انسانیت کو کھا رہی ہے، لسانیت و تشدد کے ملاپ سے پروان چھڑنے والی یہ سیاسی نفرت نے شہر میں بسنے والوں کو آپس کے خوف میں مبتلا کرنا شروع کردیا ہے، جیسے ہی میڈیا نے خوف کی اس فضاء میں کرفیو کی کی غیر مستند خبر نشر کی اہل فساد نے ساتھ ہی آپریشن کا شوشا بھی چھوڑ دیا۔اختلاف کو نفرت کے روپ میں سینوں میں پالنے والوں نے اپنی نفرت کے زیر اثر اُس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا!
خدا خیر کرے لندن سے اسلام آباد تک سب مفاد کی جنگ میں طاقت کے حصول کے لئے لسانیت کی سیاست میں مبتلا ہیں۔ اور اُن کے اندھے پیروکار اس لڑائی میں "قوم" و "قومیت" کا تصور سمیٹ کر "بولی" تک کی طرف سفر میں گامزن ہے۔

لہو کے رنگ سے رنگین ہیں دیوارو در میرے
شہر سے ناگہانی موت کا سایہ نہیں جاتا
جواں لاشے ،تھکے کاندھے،لزرتے قدم ہیں میرے
الہٰی، کرم فرما،بوجھ اب یہ اٹھایا نہیں جاتا


میرے وطن کے اُداس لوگو!


میرے وطن کے اُداس لوگو، نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو
کہ کوئی تم سے حساب مانگے، خواہشوں کی کتاب مانگے

نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو، کہ کوئی اُٹھ کے کہے یہ تم سے
وفائیں اپنی ہمیں لوٹا دو، وطن کو اپنے ہمیں تھما دو

اُٹھو اور اُٹھ کر بتا دو اُن کو، کہ ہم ہیں اہل ایماں سے
نہ ہم میں کوئی صنم کدہ ہے، ہمارے دل میں تو اک ِخدا ہے

جھکے سروں کو اُٹھا کے دیکھو، قدم تو آگےبڑھا کے دیکھو
ہے ایک طاقت تمہارے سر پر، کرے گی سایہ جو اُن سروں پر

قدم قدم پر جو ساتھ دے گی، اگر گرو تو سنبھال  دے گی
میرے وطن کے اُداس لوگو، اُٹھوں چلو اور وطن سنبھالو

زمانے کے انداز بدلے گئے!


اور ہیرو کیسا رہا آپ کا دورہ؟
“ارے مت پوچھو دورہ تو اچھا رہا مگر واپسی پر بہت تلخ تجربہ ہوا یار"
ارے ایسا کیا ہو گیا تمہارے ساتھ جو ایسے برتاؤ کر رہے ہو!
“یار واپسی میں ڈاکوؤں کے ہاتھ چڑھ گئے تھے"
ارے نہیں یار! کیسے؟ اور کیا ہوا!
“کیسے کیا بس ہو گیا ناں! اب کیا تفصیل بتاؤ!”
ہمم چلو کیا نقصان ہوا؟
“کچھ ذیادہ نہیں بس بیس پچیس ہزار ہی گیا ہے مگر کئی لوگوں کا ذیادہ بھی ہوا ہے نقصان"
چلو جان ہے تو جہان ہے زندہ بچ گئے یہ ہی کافی ہے! نقصان کو پورا ہو ہی جاتا ہے۔
“ہاں یہ تو ہے، مگر اس لوٹ مار میں ایک عجیب معاملہ دیکھنے کو ملا"
وہ کیا؟
“یار ڈاکو مسافر سے اُس کا نام و قبیلہ پوچھتے تھے! پھر اُس کے مطابق اُس سے سلوک کرتے! پہلے پہل سید مسافروں کو ایک طرف کر دیا! میں نے دیکھا کہ سیدوں کے ساتھ کچھ نرم سلوک ہے تو میں بھی سید بن گیا"
شاباش! بڑی ذہانت دیکھائی، ویسے یہ تو ہے ہمارے یہاں سیدوں کا لوگ کافی احترام کرتے ہیں۔
“ارے کہاں بھائی! جب ڈاکوؤں نے سیدوں کو چھوڑ کر سب کو لوٹ لیا تو ایک ڈاکو کو مخاطب کر کے اُن کے لیڈر نے کہا '۽ اسان پنهنجو ڪم ڪري ڇڏيو، هاڻي اوهان پنهجي رشتیدارن سان نڀايو' (ترجمہ: ہم نے اپنا کام کر لیا ہے اب تم اپنے رشیداروں سے نمٹو)"
او نہیں یار!! مطلب سید ڈاکو؟
“ہاں بھائی"
مگر یہ آئیڈیا اُن کے دماغ میں کہاں سے آیا؟
“ممکن ہے موجودہ حکومت سے! بڑا وزیر بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔"

نوٹ: اگر کسی کو یہ تحریر پسند نہ آئے تو اس تحریر نوٹ کو معذرت کے طور پر قبول کرے۔

کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے


دل ناز کی کشمیر کی دلخراش باتیں






برکت

"جی سنتری صاحب کیسے ہیں"
ارے نہ پوچھو! وکیل صاحب کیا حال ہے
“کیوں بادشاہوں کیا ہوا؟"
یار لگتا ہے کمائی سے برکت ہی ختم ہوتی جا رہی ہے، پیسہ کہاں جاتا ہے سمجھ ہی نہیں آتی!
“جی جناب یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں! سمجھ ہی نہیں آتی جو کماؤں خرچ ہو جاتا ہے بچت ہو ہو ہی نہیں پا رہی"
یار کس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے! شاید مہنگائی یا کچھ اور؟
“بہت سی وجوہات ہیں جن میں ایک مہنگائی بھی ہے! اس کے علاوہ سنا ہے حاکم وقت کا بھی اثر ہوتا ہے"
یہ بات ٹھیک کی تو نے! اب ہمارے تھانے کا ایس ایچ او تو تو علاقے کا حاکم ہی ہوتا ہے ناں!
“اچھا"
ہاں ناں اور جب سے یہ نیا ایس ایچ او آیا ہے تب سے تو واقعی لگتا ہے کمائی سے برکت کہیں غائب ہو گئی ہے!
“کیوں سنتری صاحب کیا ہو ہے تب سے"
یار دیکھو ناں جب پہلے والا ایس ایچ او تھا ناں تو میں نے کبھی تنخواہ کو ہاتھ ہی نہیں لگایا تھا بس روزانہ پانچ سات سو دیہاڑی لگ جاتی تھی اُس سے ہی گھر کا خرچ چل جاتا تھا!مگر جب سے نیا ایس ایچ او آیا ہے تنخواہ بھی خرچ ہو جاتی ہے!
“سنتری بادشاہ کیا کہنے"

اخبار میں بولتا اشتہار!۔

یہ تصور بہت دلچسپ ہے! اخبار مین بولتا اشتہار۔ آن لائن اخبارات میں تو بولتے اشتہار تو ایک طرف ویڈیو اشتہار تک ہوتے ہین مگر پڑوسی ملک میں گاڑیاں بنانے والی بین الاقوامی کمپنی Volkswagen نے وہاں کے مشہور اخبار ٹائم آف انڈیا میں آوازی اشتہار کا ایک کامیاب تجربہ کیا ہے۔ جسے درج ذیل ویڈیوز میں دیکھ سکتے ہیں!۔


وجہ گرفتاری؟ لطیفہ یا مذہب؟

آج کل کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ بینڈکٹ شازدہم برطانیہ کے سرکاری دورے پر ہیں! معلوم ہوا اُن کے قتل کے منصوبہ بنانے والے چھ مسلمان دہشت گرد آخری وقت میں پکڑے گئے! چلو جی پھر شروع قیاس آرائیاں کہ القاعدہ کے بندے ہوں گے! ڈیلی ایکسپریس نے تو یہ ہیڈلائن لگائی "مسلمانوں کا پوپ کو قتل کرنے کا منصوبہ" (یہ تو روشن خیالی ہو گی ناں؟؟ انتہا پسندی یا تعصب تو نہیں کہلائے گا!!)۔

اس ہی طرح سنا ہے دیگر برطانوی اخبارات میں بھی کسی نا کسی شکل میں اسلام و مسلمان کا عنصر ضرور پیش کیا خبر میں!!
اب اُنہیں برطانوی پولیس نے بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیا ہے، اور معلوم یہ ہوا کہ کسی لطیفہ کی بنیاد پر گرفتاریاں عمل میں آئی! ایک نے لطیفہ سنایا اور باقی سے سنا! جیسے آج کل پاکستانی آج کل ایس ایم ایس پر وہ z سے شروع ہونے والے نام سے متعلق لطیفہ بھیجتے ہیں!
تو ایسے میں اپ کیا خیال ہے؟ گرفتاری کی اصل وجہ کیا تھی؟ لطیفہ یا ۔۔۔۔۔۔ دہشت گردی کی عالمی جنگ جس میں ممکنہ دہشت گرد کون ہو گا؟
میڈیا ٹرائن ہونے کے بعد یہ میڈیا اُس کا ازالہ کیوں نہیں کرتا؟ یوں تو نہیں چلے گا!! اخبارات کو تو ایک طرف رکھے آپ اس قصہ پر لکھے جانے والے بالگ تو زرا تلاش کر کے پڑھے! اور دیکھے قیاس کے ان گھوڑوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہیں!

مسلمانوں کا عروج و زوال از جاوید چوہدری


عید اور سیلاب زدگان

دُکھ کی برسات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
غم کی بہتات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
گھات ہی گھات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
دن نہیں، رات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
برملا حرکت مزموم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



ایسا منظر نہ کبھی چرخ نے دیکھا توبہ
گھر کی چھت ہے، نہ میسر کوئی سایا، توبہ
بھوک اور پیاس نے ہر سمت سے گھیرا توبہ
لقمے لقمے کو ترستی ہے رعایا توبہ
آہ کو واہ کامقسوم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



لے گیا پانی بہا کر سبھی تاثیریں ہیں
بے مزہ خواب ہوئے، لٹ گئی تعبیریں ہیں
ان میں رانجھے ہیں کئی اور کئی ہیریں ہیں
آج سب غربت و افلاس کی تصویریں ہیں
عدل کو عدل سے محروم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



مانگ کر دل سے دعا کام بحالی کا کرو
ہو چکا رقصِ بلا کام بحالی کا کرو
توڑ کر کاسہ ذرا کام بحالی کا کرو
کچھ کرو خوف خدا کام بحالی کا کرو
فکرِ شفاف کو موہوم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو

شاعر: جان کاشمیری


عید مبارک

چلو امداد کھائے!

ایک طرف تو ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے۔ کراچی میں اگر آپ کہیں کسی شاہراہ پر افطار کے وقت ہوں تو آپ کو بے شمار لوگ اللہ کی خوشنودی کے لئے روزہ دار کے انتطار میں روزہ افطار کروانے کے لئے نظر آئیں گے! صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے اور ثواب کا لالچ میں۔
اس ہی طرح ایسےبھی افراد کی تعداد بھی بے شمار ہے جو چیریٹی کے نام پر لوٹ مار کرتے ہیں! خواہ وہ مذہب کے نام پر ہو یا سیاست کے پردے میں! چلتی گاڑیوں میں کسی دور دراز کی مسجد و مدرسے کے نام پر چندہ لینا، اپنی مظلومیت و پریشانی کی روداد سنا کر پیسے مانگنا اور بھتہ سے فطرے تک کا سفر بھی ہم نے اپنے شہر میں ہوتا دیکھا! مقصد روپیہ ہے خلق کی خدمت نہیں!
ملک میں سیلاب آ گیا ہے! کوئی شک نہیں اپنوں کو مدد کی ضرورت ہے اور امداد ہمارا فرض ہے مگر ایسے میں بھی کچھ بُری خبریں دل کو دُکھ دیتی ہیں!
جب سے یار لوگوں کو معلوم ہوا ہے کہ بیرونی امداد حکومت کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے خرچ کی جائے گی، امدادی رقم کے تخمینے اور طریقہ استعمال بھی ایجاد کیئے جانے لگ پڑے ہیں! یار لوگ علاقے کے رجسٹرار اور ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اپنا ٹرسٹ اور نئی این جی او رجسٹر کروانے پہنچ گئے ہیں! اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار رشوت کے نام پر 20 سے 50 ہزار روپے طلب کر رہے ہیں!! اور دینے والے خوشی خوشی دے رہے ہیں کہ بعد میں سود سمیت واپس لے لیں گے!! اس عمل میں وزیر و مشیر اور اُن کے اہل خانہ، میڈیا کے افراد، مذہبی گروپ اور عام افراد میں سے موقع پرست سب ہی شامل ہے! اس بات کا مشاہدہ ہمیں گزشتہ دنوں ایک ویلفیئر آرگنائزیشن کی رجسٹریشن کے موقع پر ہوا!
امداد کو لوٹنے کی تیاری ابھی مکمل نہیں ہوئی شاید!!

بھارتی فریب کا جال

پروپیگنڈہ میں بھارتی مہارت اور ان ہمسایہ ملکوں کیخلاف تیزی سے حرکت میں آنا جو اسکی خواہشات کی تعمیل نہیں کرتے یقیناً حیران کن ہے۔ پاکستان درحقیقت اس سے گرانقدر سبق سیکھ سکتا ہے کہ بھارت اپنی ظاہرہ ڈپلومیسی کو آگے بڑھانے کیلئے کس طریقے سے بیرونی پروپیگنڈہ کرتا ہے اور اس میدان میں امریکہ بھی اپنے اس سٹریٹجک اتحادی سے ایک یا دو سبق سیکھ سکتا ہے۔ بہرحال اس نے 60سال سے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف کشمیری عوام پر ظلم و جبر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ یہ سب کچھ وہ اقوام متحدہ سے کئے گئے اپنے اس وعدے جو کسی حقیقت کے باوجود کر رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کو حق خودارادی کے استعمال کی اجازت دیگا۔ بعض لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ عملی سیاست سے بڑھ کر تمام تر منڈیوں کا معاملہ ہے جو بھارت کی طاقت کے بجائے اسکے پروپیگنڈہ سے اندھا کرنے کا معاملہ ہے اس چیز نے عالمی طاقتوں کو اس بات سے روک رکھا ہے کہ وہ بھارت کو کشمیر پر اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کیلئے مجبور کریں اگرچہ یہ بھی وضاحت کا حصہ ہو سکتی ہے تاہم اس میدان یا کسی دیگر معاملے میں بھارت کے تیزی کیساتھ اور موثر پروپیگنڈہ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو سمندر پار خصوصاً مغرب میں بہت سے مبصرین کی حمایت حاصل ہے۔ کسی ایک یا دوسری وجہ کے باعث بھارتی ریاست کیلئے صلیبی جنگجو بننے کے راستے کا انتخاب کر رکھا ہے۔
محض حال ہی میں رونما ہونے والی پیشرفتوں پر نظر ڈالنے سے ہی اس کی وضاحت ہو جائیگی جسے میں اجاگر کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ چین نے اس بھارتی جنرل کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا جو ناردرن ایریا کا کمانڈر ہے۔ اس کمانڈ کے دائرے میں جموں و کشمیر بھی شامل ہے جسے چین متنازع علاقہ تسلیم کرتا ہے۔ چینیوں نے کہا کہ وہ جنرل جسوال کو خوش آمدید نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ جموں و کشمیر کے متنازع علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں بلاشبہ بھارت نے دوٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے دو چینی افسروں کو نیشنل ڈیفنس کالج کے کورس میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور ایک بھارتی فوجی وفد کا دورہ بیجنگ منسوخ کر دیا لیکن زیادہ دلچسپ جواب بہت پوشیدہ اور نہ صرف چین بلکہ پاکستان کیلئے بھی کہیں زیادہ نقصان دہ تھا۔ یہ بھارت نواز اور پاگل پن کی حد تک پاکستان مخالف تجزیہ نگار سیلگ ہیریسن کا میدان عمل میں کودنا تھا۔ 80ء کے عشرے میں وہ نئی دہلی میں امریکہ کے ایک بڑے اخبار کا بیوروچیف تھا اور اس وقت سے اس نے ایشوز پر بھارتی موقف کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا تھا‘ وہ لوگ جو افغانستان میں امریکہ کی زیرقیادت لڑی جانیوالی جنگ کو یاد کر سکتے ہیں وہ ان دنوں پاکستان کیخلاف سیلگ ہیریسن کی ہرزہ سرائیوں کو بھی یاد کرینگے۔
اب کیا یہ دلچسپ حسن اتفاق نہیں کہ وہ 26اگست کو نیویارک ٹائمز میں ایک نیا تنقید سے بھرا مضمون لکھتے ہیں جسے بہت سے پاکستانی میڈیا آئوٹ لیٹس دیکھتے ہیں لیکن بیشتر ہیریسن کے ماضی کے پیش نظر اسے محض پروپیگنڈہ خیال کرتے ہوئے نظرانداز کر رہے ہیں۔ یہ مضمون بھارتی جنرل کو ویزا دینے کے چینی انکار کے فوری بعد پاکستان اور چین کے بارے میں تحریر کیا گیا تھا۔ اچانک نیویارک میں بیٹھے ہوئے اس نے ایک انتہائی تصوراتی مضمون تحریر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان میں علاقے کے حقیقی کنٹرول کیلئے 7ہزار سے 11ہزار تک چینی فوج پہنچ گئی ہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس پورے علاقے میں پاکستان کے خلاف بغاوت ہو چکی ہے۔ یہ بے سروپا دعویٰ ہے کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح علاقے کے لوگوں کو پہلی بار قومی سیاست کے دھارے میں لایا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا کیلئے اس علاقے کو بند کر دیا گیا ہے لیکن پھر بھی وہ اس علاقے میں رونما ہونیوالے تمام واقعات تک کھلی رسائی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا یہ ایک مکمل جائز ایجنڈا ہے کہ گوادر پورٹ سے شمال کی جانب چین کے اندر سڑک اور ریل کے رابطے تعمیر کئے جائیں جس سے شاہراہ قراقرم کی اہمیت بڑھے گی۔ درحقیقت متواتر پاکستانی حکومتیں کوشش کر رہی ہیں کہ بحیرہ عرب سے چین تک ریل اور سڑک کے ذریعے زیادہ روابط قائم کئے جائیں اور اب ایران سے چین تک انرجی پائپ لائن کا منصوبہ بھی ہے یہ بتاتے ہوئے کہ چینی کس طرح بھارت کے اندر اپنے ریل رابطوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہیریسن آخر کیوں پاکستان چین مواصلاتی روابط پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے فکرمند ہیں جبکہ کوئی انکے حد سے زیادہ پاکستان مخالف ذہنی رجحان کو بخوبی سمجھتا ہے کہ اگرچہ ہیریسن تسلیم کرتا ہے کہ بعض فوجی وہاں روڈ اور ریل انفراسٹرکچر کی تعمیر کے مقصد کیلئے مقیم ہیں جیسے شاہراہ قراقرم کیلئے وہاں رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ خود کو بھارتی پراپیگنڈہ کار کے اس نقطہ نظر سے نہیں بچا سکا کہ وہاں ضرور کوئی اور کام بھی ہو رہا ہے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی سیلگ ہیریسن اپنی سوچ کے گھوڑے کو بے لگام دوڑاتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ ’’خفیہ مقام‘‘ میں 22 سرنگوں کے گرد پراسراریت چھائی ہوئی ہے جہاں جانے کی پاکستانیوں کو بھی ممانعت ہے لیکن انکے بارے میں ایک بار پھر وہ اتنی آسانی سے رازدار بنا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ وہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ سرنگیں براستہ گلگت قراقرم سے گزرنے والی ایران چین گیس پائپ لائن کیلئے ضروری ہو سکتی ہیں۔ انکی بھارتی غلبہ رکھنے والی سوچ میں یہ تصور ابھرتا ہے کہ یہ سرنگیں میزائل ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ آیا یہ مقامات چینی میزائلوں یا پاکستانی میزائلوں کیلئے ہیں‘ اگر یہ بعدالذکر ہے تو اس پر تشویش کیوں ہے جبکہ بھارت خود سٹریٹجک مقامات پر میزائل نصب کر رہا ہے جہاں تک چین کا معاملہ ہے تو اسے بھارت کو نشانہ بنانے کیلئے ان مقامات کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنے علاقے سے بھارت تک خاصی رسائی رکھتا ہے اور چین کی یہ تاریخ ہے کہ امریکہ کے برعکس اس نے سمندر پار فوجی اڈے بنانے کی کوشش نہیں کی اپنی بھرپور قیاس آرائیوں کے بعد ہیریسن نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ چونکہ پاکستان چین کو خلیج تک رسائی کی سہولت دے رہا ہے اس لئے یہ امریکہ کا اتحادی نہیں ہے۔ یہ انتہائی بیہودہ بات ہے کہ پاکستان مخالفت میں حد سے بڑھے ہوئے تجزیہ کار کو یہ بات لکھنے سے پہلے دو بار ضرور سوچنا چاہئے۔ آخر پاکستان نے امریکہ کیلئے اسکی گمراہ کن دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں اگر امریکہ پھر بھی پاکستان کو اپنا اتحادی نہیں سمجھتا تو پھر یہ ٹھیک ہے۔ کسی بھی معاملے میں بیشتر پاکستانیوں نے امریکہ کو حقیقی طور پر کبھی اپنا اتحادی تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بے وفا امریکہ سے اتحادی تسلیم کرانے کیلئے اپنے سٹریٹجک اور دائمی اتحادی چین سے قطع تعلق کر لے ایک مضحکہ خیز مطالبہ ہے اور پاکستان میں اس وقت موجود حد سے زیادہ امریکہ نواز حکومت بھی خود کشی پر مبنی ایسا قدم اٹھانے کا حوصلہ نہیں کر سکتی۔ ہیریسن جس واحد دانشمندانہ نتیجے پر پہنچتے ہیں‘ وہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن وہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کے خود مختاری کے مطالبات کا حوالہ دیتے ہیں جس سے پتہ چلتا کہ وہ کتنی غلط بات کر رہے ہیں۔ جو کچھ انہیں کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ انہیں اپنی آنکھوں پر بندھی بھارتی پٹیاں اتار دینی چاہئیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیری خودمختاری نہیں بلکہ آزادی چاہتے ہیں اور اس آزادی کیلئے ہی کشمیریوں کو ایک کے بعد دوسری نسل مدت کو گلے لگا رہی ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ امریکہ کشمیر میں اعتدال پسندانہ کردارادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ درحقیقت امریکہ یہ اعلان کرنے کے بعد اپنی تمام تر ساکھ کھو چکا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کے بہیمانہ قتل بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارت کے کشمیر کو خودمختاری دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا کیونکہ کشمیری نوجوانوں کی نئی تحریک غضبناک دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کی طرح جو تحریک آزادی کا حامی ہے۔ بھارت کے پرجوش حمایتی بھی تسلیم کریں گے کہ پتھرائو کرنیوالے نوجوانوں کی حالیہ تحریک قطعی طور پر انکی اپنی ہے۔ اور یہ کسی بیرونی کنٹرول میں نہیں ہے۔ غالباً یہ وقت ہے کہ مسٹر ہیریسن اس خطے کے حقائق جانیں بجائے اسکے پاکستان اور بھارت کے بارے میں محض اپنے تخیلات کے اسیر بن کر رہیں۔ ان کا نقطہ نظر زمینی حقائق سے ہر گز میل نہیں کھاتا اور اس وقت انکی ادھوری سچائیوں اور خفیہ ایجنڈا کے تمام اطراف پول کھل چکا ہے۔ بھارت کے ماہرانہ پروپیگنڈہ کی تکمیل کیلئے ہیریسن کے مضمون کی اشاعت کے فوری بعد بھارت حرکت میں آیا اور اس نے گلگت بلتستان کے واقعات اور وہاں چین کی مداخلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ واقعات کا تسلسل دیکھئے! چین کی طرف سے بھارتی جنرل کو ویزا دینے سے انکار ہیریسن کے مضمون کی اشاعت، بھارت کو سفارتی طور پر معاملہ اٹھانے کا بہانہ مل جانا کیا نان ایشو ہے؟ دریں اثناء ہم جو کچھ کر رہے ہیں ہمارے اردگرد فریب کاری کے ایسے ہی جال بنے جا رہے ہیں؟


دل جیت لیا جس نے!!۔

بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین محترم ملک ریاض حسین نے سی این این کے پروگرام میں یہ کہا کہ وہ اپنی جائیداد کا 75 فیصد سیلاب زدگان کو دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو کہ قریب دو ارب ڈالر کے قریب بنتی ہے!۔پروگرام کے کمپئر کا دعوے ہے کہ یہ رقم مختلف ادراوں کی طرف سے دی گئی امداد سے ذیادہ ہے جو کہ 75 کروڑ روپے ہے! پروگرام کی ریکارڈنگ ذیل میں ہے۔



بس یہی بات بُری لگتی ہے


تحریر: عبداللہ طارق سہیل




احترام رمضان آرڈیننس!

ضیاء کو جب تازہ تازہ ملک میں اسلام نافذ کرنے کا شوق چڑھا تب ہی اُس نے مختلف قوانین نافذ کئے اُن میں ایک احترام رمضان آرڈیننس 1981 ہے جس کا ایک مختصر تعارف ذیل میں ہے!
احترام رمضان آرڈیننس 1981 کُل دس دفعات پر مبنی ہے! اس قانون میں سب سے پہلے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ آیا پبلک پلیس کیا ہے! قانون کی دفعہ 2 کے مطابق کوئی بھی ہوٹل، ریسٹورنٹ، کینٹین، گھر، کمرہ، خیمہ، یا سڑک، پُل یا کوئی اور ایسی جگہ جہاں عام آدمی کو با آسانی رسائی ہو پبلک پلیس میں آتا ہے!
اور آرڈینس کی دفعہ 3 کے تحت کوئی بھی ایسا فرد جس پر اسلامی قوانین کے تحت روزہ رکھنا لازم ہے اُسے روزے کے وقت کے دوران پبلک پلیس پر کھانا، پینا اور سگریٹ نوشی کی ممانعت ہوگی! اور اگر کوئی ایسا کرتا پکڑا گیا تو اُسے تین ماہ کی قید یا پانچ سو روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
آرڈینس کی دفعہ 4 کے تحت روزے کے وقت کے دوران کسی ریسٹورنٹ، کینٹین یا ہوٹل کے مالک، نوکر، منیجر یا کسی اور پبلک پلیس پر کسی فرد کو جانتے بوجھتے رمضان میں کھانے کی سہولت دینا یا دینے کی آفر کرنا منع ہے جبکہ اُس فرد پر روزہ لازم ہو اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ تین ماہ کی قید، یا پانچ سو روپے جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا حقدار ہو گا۔
دفعہ 5 میں وضاحت کہ گئی ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری اسپتال کے باورچی جانہ میں کی جاسکتی ہے اور مریضوں کو کھانے کا بندوبست کرنا کی ممانعت نہیں ہے، نیز ریلوے اسٹیشن، ایئرپورٹ، بحری آڈہ، ٹرین، جہاز یا بس اسٹینڈ پر پابندی نہیں ہے مزید یہ کہ پرائمری اسکول کے احاطے میں موجود کچن بھی اس پابندی سے آزاد ہے۔
دفعہ 6 کے تحت تمام سینما ہال، ٹھیٹر، یااس قسم کے دیگر ادارے سورج غروب ہونے کے بعد سے لے کر دن چھڑنے کے تین گھنٹے بعدتک بند رہے گے اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو ادارے کے مالک، منیجر، نوکر یا دوسرے ذمہ دار شخص کو چھ ماہ کی قید یا پانچ ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
دفعہ 7 کے تحت مجسٹریٹ، ضلعی کونسل کا چیئرمین، زکوۃ و عشر کمیٹی کا ممبر، میونسپل کارپوریشن کا میئر جب یہ خیال کریں کہ اس آرڈیننس (احترام رمضان آرڈینس 1981) کے تحت کو جرم سرزدد ہو رہا ہے تو انہیں اختیار کے کہ وہ ایسے جگہ میں داخل ہو کر ملزمان کو گرفتار کر لیں کسی اور کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے۔

دفعہ 9 کے تحت بنائے گئے قواعد کی رو سےاسپتال کی کینٹن سے وہ افراد کھانا لے کر کھا سکتے ہیں جو خود مریض ہوں اور ہوئی اڈہ، ریلوے اسٹیشن ، بحری اڈہ اور بس اسٹنڈ پر سے وہ افراد کھانا کھا سکتے ہیں جن کے پاس ٹکٹ یا ایسا واؤچر ہو جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ وہ فرد یا افراد 75 کلومیٹر سے ذیادہ کا سفر کر رہے ہیں بمعہ اُس سفر کے جو وہ طے کر کے آچکے ہیں نیز پرائمری اسکول میں موجود کینٹن سے صرف وہ طالب علم کھانا لے کر کھا سکتے ہیں جو ابھی بالغ نہیں ہوئے!!!
سمجھ آئی کہ شہر میں ہوٹل، کینٹین اور ریسٹورینٹ کیوں بند ہیں!! اور بیکری والے کیسے بچ جاتے ہیں پابندی سے!!
جی جناب یہ ہے احترام رمضان آرڈینس!!! آسان الفاظ میں۔ سوچ رہا ہوں اپنے بلاگ میں مختلف قوانین کو آسان زبان میں لکھ دوں کیا رائے ہے!! اور نئے آنے والے قوانین خاص کر! اور وہ جو نافذ ہیں مگر لوگوں کے علم میں نہیں، اس لئے اُن کے بارے میں آگاہی بھی نہیں۔

لاقانونیت + درندگی+ تاویل= المیہ

یہ آج سے تین سال قبل کی بات ہے ہم گھر میں بیٹے ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ باہر محلے میں شور کی آواز آئی وجہ جاننے کے لئے باہر گئے تو معلوم ہوا کہ اہل محلہ ایک ڈاکو/چور کو پکڑے بیٹھے ہیں! جس کا ایک ساتھی بھاگ گیا اور وہ قابو آ گیا محلے کی دوکان پر ڈاکہ ڈالنے آئے تھے، پکڑے جاننے والے کی حالت یہ تھی کہ چہرہ لہولہان تھا! سیدھے ہاتھ پر بھی چوٹ لگی ہوئی تھی جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس ہاتھ میں پسٹل تھی جسے جھڑوانے کے لئے ہاتھ پر بلاک مارا گیا جس سے زخم آیا ہے، پولیس کو فون کیا گیا مگر جب تک پولیس نہیں آئی ہم نے دیکھا کہ جمع ہجوم کی اسی فیصد نے اُسے ضرور تھپڑ رسید کیا! چند ایک نے ٹھوکریں بھی ماری،چند ایک نے پتھر بھی مارے،ہر آنے والا قصہ معلوم کر کے دو چار گالیاں نکال کر اُسے مارنے کا فتوی جاری کرتا اور تھپڑ یا گونسہ کی شکل میں اپنا حصہ ڈالتا! کسی بھی ملزم کے ساتھ اہل محلہ کا یہ سلوک میرے لئے پہلا تجربہ تھا۔ بعد میں پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی تو اہل محلہ کے اس تشدد سے اُسے نجات ملی۔ بعد میں اہل محلہ کی طرف کیس کی پیروی بطور وکیل ہم نے عدالت میں کی اور اُسے ڈھائی سال کی سزا ہوئی مگر سزا پا کر بھی وہ ہمارا ہی شکر گزار تھا کہ اُس رات ہم نے اُس کی جان بچائی پولیس کو بلوا کر۔
اس کے علاوہ میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ چور/ڈاکو جو علاقے کے لوگ پکڑ کر پولیس کے حوالے کرتے ہیں عام طور اُس پر اہل علاقہ اپنا غصہ اُتار چکے ہوتے ہیں مارنے والوں کے ذہین میں یہ بات ہوتی کہ اس نے قانون کے شکنجے سے بچ جانا ہے لہذا ابھی اس کے ساتھ جو سلوک کرنا ہے کر لو دوئم ایک خاص سوچ جو مختلف وجوہات ہی بناء پر عام افراد میں شعوری یا لا شعوری طور میں پروان چڑ چکی ہے وہ یہ کہ یہ افراد اس ہی سلوک کے حقدار ہیں وہ کسی نا کسی نقطہ یا بحث میں ایسے افراد یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ تشدد کا یہ عمل قانون، اخلاق اور انسانیت کی رو سے غلط ہے مگر لاشعوری طور پر اس کے ہامی ہوتے ہیں ایسا کیوں؟
اس کی بہت سے وجوہات ہو سکتی ہیں!اول اول تو یہ تاثر کہ قانون کی عملداری نہیں ہے! کسی بھی جرم کے مجرم کے بارے مین عام آدمی کا یہ تاثر کہ یہ تو بچ جائے گا! اس تاثر میں مکمل سچائی نہیں! مگر چونکہ لوگ ایسا ہونا سچ مانتے ہیں اس لئے وہ عدلیہ کے بجائے خود سزا دینا ٹھیک جانتے ہیں!
اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ معاشرہ کا عام شہری عدالت سے ملنی والی سزا کو اپنے مخالف کے لئے نا کافی سمجھتا ہے! مثلا ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جہاں بچوں کی لڑائی پر لوگ مخالفین کو دس دس سال سزا دلوانا چاہتے ہیں جو انتہا پسندی ہے! یا معمولی تکرار پر اگلے کو پھانسی لگوانا!
ایک اور چیز یہ کہ ہمارے معاشرے نے تشدد کو قبول کر لیا ہے! اگر معاشرہ کے ہر طبقے یا گروہ کو دیکھے تو کسی نا کسی شکل میں وہ تشدد کو اپنائے ہوئے ہے، ہم اپنے پسندیدہ مذہبی رہنماء کے قتل/ قاتلانہ حملہ میں زخمی ہونے پر ملک/شہر میں ردعمل میں دس بارہ گاڑیوں کے جل جانے، بیس تیس کے قتل ہونے، دو چار دن شہر بند ہونے اور بدلہ لینے کا بیانات کو فطری ردعمل جاننے لگ پڑے ہیں!نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسے غلط جان کر بھی لاشعوری طور پر اسے اپنا چکا ہے۔ معمولی یا غیر معمولی دونوں صورتوں میں!
تشدد پر آمادہ ہونے اور اسے قبول کرنے کی جانب گامزن ہونے میں میڈیا کا بھی رول ہے! کیسے؟ آپ گذشتہ بیس سال کی کہانیاں، ڈرامے اور فلمیں دیکھ لیں آپ کو ان مین اکثریت خاندان دشمنی یا باہمی جھگڑوں پر بنے والی وہ فلمیں ملیں گی جن میں فلم/کہانی کا نام نہاد ہیرو اپنے دشمن کو عدالت کے کہٹرے مین لانے یا عدالتی سزا دلوانے کے بجائے خود بدلہ لینے کو ترجیح دیتا ہے! اور اُس کے اس عمل کو گلیمرائز کر کے دیکھایا/لکھا جاتا ہے! نہ صرف یہ بلکہ جرم و سزا کی کہانیوں و فلموں میں کسی ایک کی جان کو مرکزی کردار کے لئے اہم بتا کر باقی کرداروں کو مارنے کو عظیم کارنامے کے طور پر دیکھایا جاتا ہے! کیا ایسے میں یہ ممکن ہے کہ معاشرہ تشدد کی طرف راغب نہ ہو؟
اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں مستقبل میں سیالکوٹ جیسے واقعات و المیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے تو ضروری ہے کہ ہم ہر سطح پر لاقانونیت کو ختم کرنے کی عملی کاوش کا حصہ ہوں، اپنے اردگرد یہ آگاہی دے کہ ملزم کے گناہگار اور بے گناہی کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، یہ کہ ایک بُرے کام کی تاویل دوسری بُرائی نہیں ہوسکتی! نیز یہ جانے کہ انسانی جان کی حرمت کیا ہے!
جب میں ایسے واقعات کا ٹھنڈے ذہین سے تجزیہ کرتا ہوں تو یہ محسوس ہوتا ہے اس درندگی، حیوانیت اور ظلم میں کہیں میں بھی قصور وار ہوں۔

سیلاب کا المیہ بیان کرتی ایک تصویر




کاغذوں پرسلوٹیں ڈال کر تیار کردہ شاہکار

جرمن آرٹسٹ سائمن کے کاغذ کر سلوٹیں ڈال کر تیار کردہ شاہکار!!۔
















سیلابی پروپیگنڈہ

کچھ باتیں ہماری قوم کے مزاج میں بہت عجیب ہیں، یہ ناواقف ہیں یا نا سمجھ اس سے خدا ہی آشنا ہے۔ کچھ برائیاں ہم میں ہیں مگرحرکات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کچھ ہم خود میں دیکھانا چاہتے ہیں!
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سر سے پیر تک خود کو اور اپنوں کو بُرا ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں!اس بات کو میں نے پہلی بار تب محسوس کیا جب میں سعودی عرب گیا! پھر تب تب جب کوئی یار دوست یا رشتہ دار باہر سے آیا!!
سعودی عرب میں میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگ معاشرتی برائیوں میں ہم سے ذیادہ مبتلا ہے مگر ایک خاص چیز جو اُن میں خوبی کی شکل میں ہے وہ برائی کی تشہیر نہ کرنا! وہاں ہمارے وہ عزیز جو بھٹو دور میں جا کر آباد ہوئے اور اُن کی ایک نسل وہاں ہی پروان چڑھی کی زبانی جو باتیں معلوم ہوئی اُنہیں سُن کر شکر ادا کیا کہ ہماری قوم عملا اتنی خراب نہیں! ہمارے ہاں یہ عام تاثر لیا جاتا ہے کہ سعودیہ میں ہیروہین کے اسمگلر کو موت کی سزا دے دی جاتی ہے اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی! مگر ایسا وہ اپنے سعودی شہریوں کے ساتھ نہیں کرتے! اور نہ ہی اپنے اُن دوستوں کو جن کو وہ اپنا "جگری" مانتے ہوں! مگر باقی افراد کے لئے اُن کا قانون نہایت سخت ہے!! یہ بات ہم قریبی مشاہدے کی بناء پر کر رہے ہیں کہ ایسے ایک دو قصے ہمارے علم میں ہیں! باقی اگر آپ اُس معاشرے میں اجنبی ہیں تو لازم ہے کہ جرم سرزد ہونے پر آپ قانون کے شکنجے میں جکڑے جائے بغیر کسی رعایت کے۔
اس سے ملتی جلتی صورت حال مجھے تو کم از کم یورپ و امریکہ میں بھی نظر آتی ہے ایسے معاملات کا علم ہوا کہ مقامی پولیس اپنے ہم نسل کو دوران تفتیش کئی معاملات میں آسانیاں فراہم کرتی ہے جس میں معمولی جرم کی صورت میں گرفتار نہ کرنا یا تفتیش میں سست روی دیکھانا وغیرہ۔ مگر ہمیں اُن میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ ایسا نئی نسل ہی میں نہیں بلکہ بزرگوں میں بھی نظر آتا ہے۔ جیسے کہ ایک بار کا قصہ یوں کہ اہم ایک بزرگ وکیل کے پاس بیٹھے تھے (کہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کو مل جاتی ہیں)، اُن کے ایک ہم عمر دوست و کلائینٹ آ گئے پہلے پہل تو اپنے بیٹوں کہ پاکستان سے پردیس ہجرت کر جانے کے عمل کو سراہنے لگے پھر ملک کے حالات کا رونا رویا یہاں تک ٹھیک تھا! اچانک کہنے لگے یہ ملک ان حکمرانوں سے نہیں چل سکتا انگریز ہی ٹھیک تھا!میں تو کہتا ہوں اب بھی اُن کو بلا کر حوالے کرو دیکھو کیسے ٹھیک ہو جائے گا! اس بات پر اُس سے جو بحث ہوئی وہ ایک خاص نقطہ پر جا کر بلا شبہ بدتمیزی کے ذمرے تک پہنچ گئی مگر نہ معلوم مجھے اُس پر افسوس نہیں ہے، اور  مجھے لگتا ایسے افراد مجھ سے خواہ وہ چھوٹے ہو یا بڑے! عالم ہوں یا جاہل!  میں بدتمیزی، خاص کر جو میرے ملک اور یہاں کے لوگوں کو بُرا سمجھیں با حیثیت قوم، ہونا  اُن کا حق ہے!

بات کہاں سے کہاں نکل گئی میں یہ کہہ رہا تھا کہ خود میں برائی کا احساس ہونا بُرا نہیں مگر اس کی یوں تشہیر اچھی نہیں! 2005 کے زلزلے میں یقین حکمران جماعتوں اور مختلف این جی اوز نے امداد کے سامان میں خُردبرد کیا مگر اس قدر نہیں کتنی آپسی دشمنی کی بناء پر تشہیر کی گئی اور یہاں سے خبریں بنا بنا کر عالمی میڈیا کے ذریعے بدنامی کمائی گئی تھی اب یہ حال ہے وہ بدنامی عالمی سطح پر بے اعتباری کی شکل میں مدد میں رکاوٹ کا روپ لیئے ہوئے ہے غیروں میں ہی نہیں اپنوں میں بھی اور وہی سیاست اب بھی جاری ہے!! سیلابی پروپیگنڈہ کے روپ میں کیا ایسے معاملات میں اپنوں کو گالی دے کر اپنا نام کمایا جا سکتا ہے؟جبکہ محسوس ہو کہ یہ گالی حقیقت کے بیان کے بجائے اندرونی نفرت کے زیراثر جھوٹ کا فروغ ہے! اور اس جھوٹ کے فروغ میں شعوری و لاشعوری طور پر شریک احباب بھی برابر کے شریک ہیں! پچھلے دنوں کراچی کے حالات خراب ہوئے تب بھی اور اب جب ملک میں سیلابی آفت نازل ہےتو بھی آپسی نفرت کے زیر اثر موبائل پر ایس ایم ایس کی شکل میں اور انٹرنیٹ پر ای میل و دیگر انداز میں خود اپنوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی تشہیر کی جا رہی ہے، نہایت افسوس تب ہوتا ہے جب اہل عقل بھی اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں! اب یہاں دینی حوالہ دوں گا تو کئی احباب کو خود کو مومن کی فہرست سے باہر کرنے پرتکلیف ہو گی!۔
(یہ تحریر عنیقہ ناز کی تحریر پر ایک "بے نام" تبصرے میں بلا ثبوت ہوائی اُڑانے پر لکھی گئی ہے، اُس تبصرہ میں فوج مخالف پروپیگنڈہ تھا! جس کی حمایت خود عنیقہ ناز نے ثبوت فراہم کئے بغیر کی!میرے علم کے مطابق اُس پورے تبصرہ میں صرف ایک بات سچی تھی کہ امدادی سرگرمی میں شامل فوجیوں کو ہنگامی حالات کے اختتام پر چند دن کی چھٹی دیی جائے گی! میں سمجھتا ہوں بے نام اور بے ہودہ تبصرے بلاگرز کو اپنے بلاگ سے ہٹا دینے چاہئے! یہ خود صاحب بلاگ کے لئے اچھا ہے)


امدادی تو بہرحال آپ کو اور مجھے بننا ہے

میں سمجھ رہا تھا یہ احساس ہم میں نہیں رہا کہ اپنوں کی مدد کرنی ہے مگر جب اردگرد نظر ڈالی، یاروں دوستوں سے بات کی تو دل میں ایک نامعلوم سا احساس جاگا کہ جو سمجھ رہا ہوں ویسا نہیں ہے بس دیکھایا جا رہا ہے کہ ہم میں احساس نہیں ہے! بتایا جا رہا ہے کہ ہم سنگ دل ہو چکے ہیں!
معذرت کے ساتھ اس میں جہاں خود ہماری غلطی ہے وہاں میڈیا نے بھی کچھ ایسا رول ادا کیا کہ دلوں میں سختی پیدا ہو گئی جو اب سیلاب کی تباہ کاریوں کی آگاہی سے کم ہوتی جا رہے ہے دوسرا عنصر بے اعتباری کا ہے! امداد کرنے کو دل کرے بھی تو یہ بے اعتباری کہ کس کے ذریعے امداد حقدار تک پہنچےگکی؟ سیاسی پارٹیاں تو ویسے بھی بے اعتبار ہو چکی ہیں! ہم لوگوں کا اعتبار اب تو امدادی اداروں پر نہیں رہا!خواہ وہ حکومتی ہوں یا غیرسیاسی! ایسی کہانیاں میڈیا میں 2005 کے زلزلہ کے امدادی سامان کی آئی تھیں اس بات سے ہٹ کر کہ آیا و سچی تھیں یا جھوٹی آج ہم منتظر اپنوں کی مدد میں سستی کے مرتکب ہوئے ہیں!
اگر آج ہم نے سستی کی تو کل ہمیں اس کا اور بڑا نقصان دیکھنا پڑے گا! کوئی تاویل کوئی بہانہ نہیں بات سیدھی سی ہے ہم میں سے ہر کسی کو اس مشکل گھڑی میں امدادی تو بننا پڑے گا!! کہ منتظر ہیں جو وہ میرے اپنے ہیں!

امداد سے متعلق چند تحریریں بلاگستان سے!!
سیلاب زدگان کی مدد کیجیے
آپ کی مدد کے منتظر
آؤمتاثرین کی امدادکریں


یہ صحفہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے!