9/26/2010

برکت

"جی سنتری صاحب کیسے ہیں"
ارے نہ پوچھو! وکیل صاحب کیا حال ہے
“کیوں بادشاہوں کیا ہوا؟"
یار لگتا ہے کمائی سے برکت ہی ختم ہوتی جا رہی ہے، پیسہ کہاں جاتا ہے سمجھ ہی نہیں آتی!
“جی جناب یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں! سمجھ ہی نہیں آتی جو کماؤں خرچ ہو جاتا ہے بچت ہو ہو ہی نہیں پا رہی"
یار کس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے! شاید مہنگائی یا کچھ اور؟
“بہت سی وجوہات ہیں جن میں ایک مہنگائی بھی ہے! اس کے علاوہ سنا ہے حاکم وقت کا بھی اثر ہوتا ہے"
یہ بات ٹھیک کی تو نے! اب ہمارے تھانے کا ایس ایچ او تو تو علاقے کا حاکم ہی ہوتا ہے ناں!
“اچھا"
ہاں ناں اور جب سے یہ نیا ایس ایچ او آیا ہے تب سے تو واقعی لگتا ہے کمائی سے برکت کہیں غائب ہو گئی ہے!
“کیوں سنتری صاحب کیا ہو ہے تب سے"
یار دیکھو ناں جب پہلے والا ایس ایچ او تھا ناں تو میں نے کبھی تنخواہ کو ہاتھ ہی نہیں لگایا تھا بس روزانہ پانچ سات سو دیہاڑی لگ جاتی تھی اُس سے ہی گھر کا خرچ چل جاتا تھا!مگر جب سے نیا ایس ایچ او آیا ہے تنخواہ بھی خرچ ہو جاتی ہے!
“سنتری بادشاہ کیا کہنے"

3 تبصرے:

  1. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی منہ سےیہ لگی ہےکہ چھٹتی نہیں۔ دراصل پولیس کی اتنی تنخواہیں ہوگئيں ہیں لیکن رشوت کابازارابھی تک گرم ہے۔

    والسلام
    جاویداقبال

    جواب دیںحذف کریں
  2. سنتی بادشاہ کو زيادہ گھبرانے کی ضرورت نہيں ۔ جلد معطل نہيں تو تبديل کر ديا جائے گا انيا ايس ايچ او اگر اس نے ديانتدار بننے کی کوشش جاری رکھی

    جواب دیںحذف کریں
  3. السلامُ علیکم بھائی !
    بہت اچھی بات لکھی ہےآپ نے لیکن ایک بات ہے کہ اگرچہ محکمہ پولیس کی تنخواہیں بڑھ گئیں ہیں لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا رشوت پہ تو میرے خیال سے ایک تو پولیس کے ٹریننگ سکولز اور کالجز کا معیار بہتر بنانا ہوگا اور دوسرا عوام کو بتانا ہوگا کہ وہ اپنے جائز کام کے لئے کسی بھی پولیس والے کو رشوت نہ دیں ۔اور اگر کوئی پولیس والا ان سے رشوت مانگے تو اس کی شکایت کریں۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔