4/04/2012

کامیاب امیدوار

حسن اتفاق جب وہ اپنے دیگر آفس کولیگ کے ساتھ انٹرویو میں کامیاب امیدوار کا انتخاب کر رہا تھا جب ہم اُس سے ملاقات کو اُس کے دفتر جا پہنچے! کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ دوبارہ آپس میں “مطلوبہ” امیدوار کے بارے میں مشورے میں مصروف ہو گئے! اُسے اپنے آفس کے لئے ایک آفس سیکریٹری کی ضرورت تھی!

اُن کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ آج ہی اس سیٹ کے لئے اُمیدواروں کے انٹرویو کئے گئے ہیں! تمام پینلسٹ امیدوار کی صلاحیتوں سے متعلق اپنی اپنی رائے دے رہے تھے! وہ اپنی گھومنے والی کرسی پر بیٹھا جھول رہا تھا اور تمام افراد کی رائے کو غور سے سن رہا تھا! آخر میں اُس کے ایک ساتھی نے اُس سے اُس کی رائے معلوم کی تو وہ اپنی کرسی پر سیدھا ہو میز پر رکھے قلم کو ہاتھ میں پکڑ کر انگلیوں میں گھماتے ہوئے حتمی لہجے میں بولا!


ایسا کرو وہ لڑکی نہیں تھی نشیلی آنکھوں اور کھلے بالوں والی، جس نے لال رنگ کی تنگ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی! اور بال ڈائی کئے ہوئے تھے اُس کا آفر لیٹر نکال دوں میرے کام کی تو وہ ہی ہے! بولڈ ہے بندہ بولڈ کر سکتی ہے “ایک موٹی گالی” “

معیار کی جانچ کی ایک مثال یہاں بھی ہے۔