ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: February 2013

ہر گھر سے بھٹو نکلے گا!!

اڑے سنا کچھ تم نے کیا؟
“کیا کچھ نیا ہو گیا ہے؟”
نہیں کچھ نیا تو نہیں ہے مگر نئے نئے جیسا ہی سمجھو!!
“اچھا! کیا ہوا اب کے “
سنا ہے کہ ایوان صدر سے قائداعظم کی تصویر اُتارنے کی ناکام کوشش کی بعد سرکار نے اب پمز اسپتال کا نام بھٹو کے نام پر رکھنے کا ارادہ کیا ہے
“اوہ! اس معاملے کی بات کر رہے ہو”
تو تمہارے لئے یہ کوئی بات ہی نہیں؟
“بات تو ہے مگر ٹیشن کیو ں لیتا ہے”
کیوں نہ لو؟
har gar say bhutto nikly ga
“ابے نام تبدیل کرنے والوں نے یہ کام اپنے گھر سے شروع کیا ہے اور اس کا کوئی مقصد ہے جناب!”
کیا کہہ رہا ہے؟ گھر سے کیسے شروع کیا اُنہوں نے؟
“یار سب سے پہلے ایوان صدر والوں نے اپنی سب سے اہم شے پر بھٹو کا لیبل لگایا تھا”
کیا شے؟
“اوہ! اللہ کے بندے اولاد کی بات کر رہا ہوں! اُس کا نام بھی بدل کر بھٹو کیا تھا ناں”
اور مقصد؟
“یار تجھے ان کا نعرہ نہیں یاد کیا؟”
کون سا وہ روٹی کپڑا اور مکان والا؟
“نہیں یار وہ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا والا”
اچھا!! ویسے یہ اولاد سے لے کر اداروں اور اداروں سے عمارتوں تک کے نام بھٹو کرنے والے اپنے روش بندل لےتو اچھا ہے کہیں ایسا نہ ہو ہر گھر سے واقعی بھٹو نکل باہر ہو!!

ہائے اوئے تیری سیاست!!

آئینی پٹیشن کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسے معاملے پر ہو جس سے متعلق ملک میں رائج قوانین میں کوئی حل موجود نہ ہو دوئم یہ کہ اُس معاملے سے آپ کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہوں!یعنی یہ کہ آپ متاثرہ فریق (aggrieved person) ہوں!اور جب بھی آپ عدالت میں کوئی آئینی درخواست لے کر جاتے ہیں تو آُپ کو یہ چند ایک باتیں ثابت کرنی ہوتی ہیں! اول یہ کہ اس پٹیشن کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا قانون کو حرکت لانے کا یا اگر تھا تو ایسا کہ اُس کو اپنانے سے متاثرہ فریق کو ممکنہ انصاف ملنا ممکن نہ تھا! دوئم یہ کہ عدالت کو آنے والا شخص متاثرہ فریق ہے یعنی اُس کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں! اس کے علاوہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ متاثرہ فریق کی بدنیتی اُس معاملے میں نہ ہو، اور اس کے علاوہ یہ کہ فریق ہی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر عدالت سوال کرے تو وہ عدالت کوبتائے کہ کیسے درخواست پرعدالت کو Jurisdiction حاصل ہے اس کے علاوہ چند دیگر کسوٹیاں بھی ہیں ۔ ان تمام امتحانوں کو پاس کرنے کے بعد عدالت معاملے کی جانچ کی طرف جاتی ہیں آیا اُس کا کیا ممکنہ حل ہو گا اور کیسے؟ اور متاثرہ فریق کی کیسے دادرسی کی جائے ورنہ کیس یا درخواست خارج ہو جاتی ہے۔
سپریم کورٹ اور طاہر القادری
گزشتہ دنوں ہمارے ایک دھرنے والی شخصیت نے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن سے متعلق ایک ایک درخوست پیش کی اور وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ وہ کیسے متاثرہ فریق ہیں؟ خود کو متاثرہ فریق بتانے کے لئے یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ ممکنہ امیدوار ہو سکتے ہیں آئندہ الیکشن کے, واقعی الیکشن لڑنا ضروری نہیں تھا خود کو متاثرہ فریق بنانے کو! یہ درخواست جناب ذاتی حیثیت میں دی تھی ۔ جناب کی دوہری شہریت ہے پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کینیڈا کے شہری بھی ہے اس بنا پر وہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 63 (1) (c) میں اس کی ممانعت ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے الیکشن کا ممکنہ امیدوار ہی الیکشن کمیشن کی تشکیل پر سوال اُٹھا سکتا ہے ووٹر نہیں!لہذا درخواست خارج کردی گئی! اگر محترم واقعی اپنے مقصد کے حصول کے لئے مخلص ہیں تو دوہری شہریت کو چھوڑ پر خالص پاکستانی شہریت پر بھروسہ کرتے ہوئے دوبارہ میدان میں اُتر جائیں! مگر قانونی اعتبار سے تب بھی اُن کو اپنی نیت نیتی ثابت کرنا ہو گی! جس پر اُن کے اُس بیان سے شبہ پیدا ہوجاتا ہے جسے مصطفے ملک صاحب نے “”ساڈا ایہہ حال اے تے ساڈی امت دا کی حال ہووے دا“ والی مثال سے دیا۔
درخواست خارج ہونے پر ان صاحب نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ دوہری شہریت والے پاکستانی کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اور چند میڈیا پرسنز اور تجریہ نگار بھی کچھ ایسا ہی تاثر دے یا لے رہے ہیں۔ یہ ایک غلط بات ہے جیسا اوپر بیان کیا ہے۔ مختصر فیصلہ اور اخباری رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف محترم نے نہ صرف عدالت میں ایسے برتاؤ کے مرتکب ہوئے جو توہین عدالت کے ذمرے میں آتا ہے بلکہ باہر میڈیا کے سامنے اب تک ایسا اقدام اُٹھا رہے ہیں! معلوم ہوتا یہ دوہری شہریت کے ہی نہیں بلکہ دوہری شخصیت کے بھی مالک ہیں!

اسلامی جمہوریہ پاکستان – مگر کونسا اسلام ؟

اب تو بنیاد پرست ہونا ہی نہیں مسلمانوں میں رہتے ہوئے بھی اسلام کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کی سہی کرنا یا ایسی کسی خواہش کا پورے معاشرے کے لئے کرنا ایک مخصوص طبقے میں طعنہ سمجھا جاتا ہے۔ یار دوست اسلام کے نفاذ کو فرقوں کے نفاذ کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کس کا اسلام نافذ کرو گے؟
یہ طبقہ ہر فورم، پروگرام، جگہ ایک عام پاکستانی کو یہ ہی کہہ کر زچ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ “اس ملک میں درجنوں فرقوں کے لوگ آباد ہیں نہ صرف سنی شیعہ بلکہ انکے درمیان بیشمار فرقے ہیں.بریلوی، اہل حدیث وہابی، دیوبندی، اسماعیلی شیعہ، اثنا عشری شیعہ وغیرہ وغیرہ. تو تم کس کا اسلام نافذ کرو گے؟”

پاکستان میں کون سا اسلام نافذ ہو گا؟
“ملا” یا “مولوی” نامی ذات سے اسے اس قدر چڑ ہوتی ہے کہ یہ ان کی مخالفت میں وہ جہالت دیکھاتے ہیں کہ خیال آتا ہے کہ یہ لفظ جہالت ان کی اس حالت کو مکمل طور پر بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اس طبقے کو عموما پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 2 (الف) کے ان الفاظ سے خاص چڑ ہے.
The principles and provisions set out in the Objectives Resolution reproduced in the Annex are hereby made substantive part of the Constitution and shall have effect accordingly.
یعنی “ضمیمہ میں نقل کردہ قرارداد مقاصد میں بیان کردہ اصول اور احکام کو مذیعہ ہذا دستور کا مستقل حصہ قرار دیا جاتا ہے اور وہ باقاعدہ موثر ہوں گے” اب سوال یہ ہے کہ آخر اس “قراردار مقاصد” کے مقاصد کیا ہے۔ مقاصد جاننے کے لئے اس پر ایک نظر ڈال لیں! اس کے الفاظ یہ ہیں!!
”ہرگاہ کے اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیر حاکم مطلق ہے اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیار حکمرانی اپنے مقررکردہ حدود کے اندر نیابتاً عطا فرمائی اور یہ اختیار حکمرانی مقدس امانت ہے۔
”جمہور پاکستان کی نمائندہ یہ مجلس دستور سازفیصلہ کرتی ہے کہ آزاد خود مختار مملکت پاکستان کے لئے ایک دستور مرتب کیا جائے۔“
”جس کی رو سے مملکت جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے جملہ اختیارات و حقوق حکمرانی استعمال کرے۔“
”جس میں جمہوریت آزادی مساوات رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصولوں کو جس طرح کہ اسلام نے ان کی تشریح کی پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے“
”جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق جو قرآن و سنت نبوی میں متعین ہیں ڈھال سکیں۔“
”جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے کہ اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں۔“
”جس کی رو سے وہ علاقے جو پاکستان میں شامل یا ملحق ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو آئندہ پاکستان میں شامل یا اس سے الحاق کریں گے مل کر ایک وفاقیہ بنائیں جس کی وحدتیں مقررہ حدود اربعہ متعینہ اختیارات کے تحت خود مختار ہوں۔“
”جس کی رو سے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو جن میں مرتبہ مواقع کی برابری اور قانون کے روبرو معاشرتی اقتصادی اور سیاسی انصاف اور قانون اخلاق عامہ کے تحت خیال، بیان، عقیدے، ایمان ، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہو جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقوں کے جائز مفادات کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے۔“
”جس کی رو سے عدلیہ کی آزادی کامل طور پر محفوظ ہو۔“
”جس کی رو سے وفاقیہ کے علاقوں کی سلامتی، اس کی آزادی ، اس کے جملہ حقوق کا ، میں برو بحر اور فضا پر حقوق اقتدار شامل ہیں، تحفظ کیاجائے ۔“
اس قرارداد کے کس لفظ، جملے، پیراگراف یا مقصد سے کسی صاحب شعور شخص کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ اس میں اسلامی ریاست کے بنیادی مقاصد کو بہت عمدہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ اگر ہم بغور جائزہ لیں تو اسلام کی بنیادی تعلیمات کی بنیاد اس قدر قوی اور مضبوط ہے کہ ملک میں پائے جانے والے تمام مکاتبہ فکر کا ان پرمکمل اتفاق ہے اور جو اختلافات ہے وہ صرف انفرادی معاملات پر ہے۔لہذا اجتماعی سطح پر اس کا نفاذ ممکن ہے۔ اور انفرادی سطح پر اس کے نفاذ کا حل بھی پاکستان کے آئین کی دفعہ 227 کی وضاحت میں موجود ہے۔
All existing laws shall be brought in conformity with the Injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah, in this Part referred to as the Injunctions of Islam, and no law shall be enacted which is repugnant to such Injunctions. [Explanation:- In the application of this clause to the personal law of any Muslim sect, the expression "Quran and Sunnah" shall mean the Quran and Sunnah as interpreted by that sect.]
یعنی یہ کہ ملک میں موجود کوئی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہو گا! نیز یہ کہ عام زندگی میں اس قانون کا نفاذ کسی بھی فرد پر اُس مکتبہ فکر کے مطابق ہو گا جس سے اُس کا تعلق ہے! مگر کیا کریں جھگڑا کرنے والے ، سوال کرنے والے تو جھگڑے گے سمجھے گے نہیں!۔ ویسے قوانین کا بنانا اور اُن کا اس طرح نفاذ کہ ہر مکتبہ فکر اُس سے مطمئن ہو ہز گز نا ممکن نہیں۔ مگر یہ ہماری بدنیتی ہے جو معاملات کو اس قدر گھمبیر و دشوار بنا دیتی ہے اور یہ ہماری ذاتی خواہش ہے جو موجود و نافذعمل قوانین کو متنازع بناتی ہے۔ ہم دین و دنیا کے قوانین کو ایسا نہیں چاہتے جو ہماری ذات کے لئے بے فائدہ اور ہماری مرضی کے خلاف ہوں، ہمیں ایسے قوانین چاہئے جو صرف ہماری ذات کے لئے فائدہ مند ہوں!

فاصلہ رکھیں ورنہ!!!!

باقی شہروں کا تو ہمیں علم نہیں مگر شہر کراچی میں تنظیم اسلامی نے ویلنٹائن ڈے کے خلاف انگریزی زبان میں BillBoard پر اشتہارات لگائے ہیں اس سے قبل یہ شہر میں خواتین کے لباس سے متعلق بھی ایسی اشتہاری مہم چلا چکے مگر اُس وقت چونکہ یہ اصل نام سے سامنے نہیں آئے تھے اس لئے ایک مخصوص طبقہ نے اسے نوٹس کیا اور دونوں طرح کے رد عمل سامنے آئے تھے مگر اس کی کاوش سے یوں بے خبر رہا کہ یہ کون ہے جس سے اصل مقاصد پس پشت چلے گئے۔
BillBoard پر درج قرآنی آیات و احادیث ایسی ہیں جو صاحب شعور کو یہ سمجھا دیتی ہیں کہ دینی تعلیمات سے کی رو سے یہ دن ہمارے معاشرتی اقدار سے ٹکراؤ کا سبب بنتا ہے ۔ جیسے سورۃ النور میں بیان ہے “اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے اُن کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے” اور یہ فرمان رسول اللہ “جب تم حیا نہ کرو تو جو جہ چاہئے کرو”۔
بات یہ ہے جیسے ہدایت منتخب لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ایسی ہی کچھ ایسے بھی ہوں گے جہیں گمراہی کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا ہو گا۔
جن لوگوں کے دلوں پر قفل لگ جائیں انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی اور ایسے لوگ نہ صرف یہ کہ احکامات ماننے سے انکاری ہوتے ہیں بلکہ اُن کا مذاق بناتے ہیں اُن کا یہ مذاق اُڑانا اُن کے باطل کو پہچاننےمیں مدد دیتا ہے ایسے لوگوں پر غصہ نہیں کرنا چاہئے یہ قابل رحم لوگ ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔
سبین محمود اینڈ کمپنی نے ان آیات و احادیث والے BillBoards کے ساتھ کھڑے ہو کر ٹرک آرٹ بنانے والا حیدر علی کے بنائے بینر کے ساتھ کُل آٹھ سے دس تصاویر اُتار کر اپنی فیس بک وال پر یہ تصاویر چپسا کی جہاں سے بلال لکھانی نے انہیں ایکسپریس ٹریبون کے فیس بک اکاؤنٹ پر لگایا۔

قرآنی آیات و احادیث کی غلط تشریح کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے والے اور ان آیات کا مذاق اُڑانے والے دونوں ایک ہی صف میں ہیں دونوں کے اسپانسر و آقا بھی ایک ہی ہیں!ایک دین دار بن کر اور دوسرے دین سے بیزار ہو کر خود کو گمراہی کے راستے پر ڈالتے ہیں۔ روشنی کے نام پر اندھیرے پھیلانے والے اور آگاہی کے نام پر بھکانے والےیہ لوگ اس قابل نہیں کہ ان پر اپنا وقت برباد کیا جائے ہاں یہ ضرور ہے کہ ان سے فاصلہ رکھا جائے ورنہ دل بیمار ہو جائے گا! اور یہ بیماری پیار نہیں کرواتی گمراہی لاتی ہے!!
فاصلہ رکھیں ورنہ !!!! دل گمراہ ہو جائے گا
ہمیں تو یہ ہی لگتا ہے آپ کو نہیں لگتا کیا؟

یہ میرے شہر کو کیا ہوا!!!

لاہور کی ایک میں نماز ظہر کی فرض رکعاتیں کے بعد نمازی بقایا نماز کی ادائیگی کر رہے تھے کہ مسجد کےء باہر اچانک فائرنگ شروع ہو گئی! تمام نمازی جان بچانے کو مسجد میں لیٹ گئے۔ چند ایک راہ گیر جان بچانے کو مسجد کے اندر کو دوڑے۔ مگر ایک قریب چالیس سے اوپر عمر کا بندہ مکمل طور پر نماز کی ادائیگی میں مصروف رہا تمام افراد اُس کی اس حالت پر رشک کر رہے تھے کہ کیا اللہ کا بندہ ہے اس حالت میں بھی اپنی نماز میں مگن ہے!! جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو ایک بندے نے نہایت عقیدت سے دریافت کیا محترم کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسجد سے باہر ابھی فائرنگ ہو رہی تھی!! نمازی نے مسکراتے ہوئے اطمینان بخش لہجے میں کہا جی ہاں! بندے نے بات آگے بڑھائی تو جناب ایسا کیا کہ آپ بلاخوف نماز میں مگن رہے!! وہ بولا “میں کراچی والا ہوں”.
فیس بک پر یہ لطیفہ کچھ دنوں سے گردش میں ہے جوبنیادی طور پر دو باتوں کی طرف اشارہ کرتا یا سے آگاہ کرتا ہے اول دین اور عبادات کی طرف ہمارا رجحان واجبی سا رہ گیا ہے دوئم کراچی کے لوگوں کی نفسیات کہ اب یہاں کے افراد ایسے حالات کے عادی ہوتے جا رہے ہیں ایسے کسی بھی واقعہ کے بارے اب عام سا رد عمل ظاہر کرتے ہیں یوں تو پوری قوم میں ہی اب احساس کا مرتا جا رہا ہے مگر چونکہ ہم کراچی شہر کے باسی ہیں اس لئے یہاں ہمیں اپنے اردگرد موجود دوستوں، ساتھیوں اور لوگوں کے احساسات و نفسیات ذیادہ متاثر کرتی ہے۔
اس شہر کا مزاج ایسا ہو گیا ہے کہ اگر کہیں کسی جگہ کوئی قتل ہو جائے یا بڑا حادثہ ہو جائے تو یار لوگ اُس پر افسوس چند سیکنڈ سے ذیادہ نہیں کرتے! بلکہ اگر ایسا واقعہ اُن کے گھر جانے کے راستے میں ہوا ہو تو وہ عموما اس پر غصہ کرتے ہیں کہ میں نے گھر جانا تھا اور یہ حادثہ پیش آ گیا یا یوں کہ اب دوسرے راستے سے گھر جانا پڑے گا! یا اگر کوئی ممکنہ دوسرا راستہ گھر کو نہیں جاتا تو وہ ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے وہ عذاب میں پھس گئے ہوں “یار یہ کیا! اب دس پندرہ منٹ اور انتظار کرنا پڑے گا چلو چائے پہتے ہیں پھر نکلے گے” ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
گزشتہ ساڑھے چار سال میں اس شہر کے قریب پانچ ہزار کے قریب شہری ٹارگٹ کلینگ میں جان سے گئے گزشتہ ماہ یہ تعداد ڈھاسی سو کے لگ بھگ تھی یہ تعداد اس ہی عرصہ میں ڈرون حملوں میں مرنے والے ہم وطنوں سے ذیادہ ہے!
کراچی شہر میں ہونے والی قتل و غارت نے یہاں کے شہریوں پر ایک الگ طرح سے اثر کیا ہے۔ مجھے رہ رہ کر احساس ہوتا ہے کہ میرے شہر کے لوگ کس طرف جا رہے ہیں۔ ہم کس طرح کے ہوتے جا رہے ہیں! اور ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابھی ہم میں جو کچھ “ہم” والا احساس ہے وہ ختم ہی نہ ہو جائے!

سنسرسپ اور خاموشی!!

تخلیق کا کتنا تعلق سنسر شپ سے ہے؟ کیا سنسرشپ کسی عمدہ نظم، غزل، شعر، افسانے، کہانی، مضمون، گیت، تصویر، یا فنون لطیفہ کیسی اور شکل کی تخلیق کو وجود میں آنے سے روک سکتی ہے؟ میرا نہیں خیال ایسا ممکن ہو!
پابندی اظہار! اظہار کو تخلیق ہونے سے نہیں روک سکتی۔اظہار شکل بدل کر دوسرے راستے سے سامنے آ جاتا ہے! زبان پر پہرے سوچ کو پابند نہیں کرسکتے۔
ہاں اگر کوئی خود سے اپنے گرد ایک دائرہ بنا لے تو ممکن ہے کہ اُس کی تخلیق کی طاقت پرواز کی قوت سے محروم ہو جائے اور وہ کوئیں کا مینڈک ہو کر رہ جائے! مگر حکومت و معاشرے جب اظہار پر پابندی لگاتے ہیں تو تخلیق اہل سمجھ کو وہ دھچکا دیتی ہے جو سیدھی بات بھی نہیں دے سکتی.

اردو بلاگر پھر اردو بلاگر ہے!!

یار لوگوں نے تو قسط وار کہانیاں شروع کر رکھی ہیں!لاہور میں ہونے والی اردو بلاگرز کے اجتماع عام پر!! اردو بلاگرز جنہوں نے اس میں شرکت کی وہ اس اجتماع کو کانفرنس کے نام سے یاد کرتے ہوں گے مگر ہم اسے ساتھی اردو بلاگرز سے ملاقات کا سبب یا بہانہ مانتے ہیں!
یہ کانفرنس ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کے صدر محسن عباس صاحب نے کروائی تھی! یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ جنوری کی 26 اور 27 کو یہ کانفرنس منعقد ہوئی اور ٹھیک جب تمام اردو بلاگرز اپنے گھروں کو پہنچے ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کی ویب سائیٹ انٹرنیٹ کی دنیا سے غائب ہو گئی!! البتہ ڈائیورسٹی رپورٹر یہ صفحہ ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کے لئے مختص ہے!
اس کانفرنس یا اجتماع میں ہماری ملاقات چند عمدہ دوستوں سے ہوئی! اردو بلاگر جتنا نیٹ پر بے باک ہے اتنا ہی محفل میں ہو سکتا ہے یہ تاثر مکمل طور پر سچ نہ ثابت ہوا! م بلال م جتنی عمدہ اردو لکھتا ہے اتنا ہی اعلی بندہ ہے، نہایت مخلص و سادہ! مگر لہجہ میری طرح دیسی ہے! لاہور دیس میں بسے پردیسی صاحب لاہوریوں کی طرح بڑی دل اور عمدہ اخلاق والے بندے ہیں۔ شاکر عزیز کی شخصیت اُس کے بلاگ سے مختلف سنجیدہ لکھنے والا یہ شخص بظاہر نہایت ہنس مکھ بندہ ہیں، اس کی جھگتیں اس کے فیصلا آبادی ہونے کی دلیل دیتی ہیں! فیصل آباد سے دوسری آنے والی شخصیت جناب مصطفےٰ ملک تھے ہم ابتدا میں اُن کے سامنے ایسے پیش آنے کی کوشش کرتے رہے جیسے بچے بڑوں کے سامنے دبے دبے رہتے ہیں مگر وہ تو ہم سے ذیادہ زندہ دل و جواں نکلے! پھر کیا محفل لگی ہو گی آپ کو اندازہ ہوگا!! جس بندے کی شخصیت نے مجھے سب سے ذیادہ متاثر کیا وہ ریاض صاحب کی شخصیت تھی جسے گفتگو کا سلیقہ آتا ہے، دلیل سے بات دل میں اُتارنی آتی ہے۔ جو دوسرے کو سُن کر سمجھنا جانتا ہے! فخر نوید کے کیا کہنے بندہ اُس کی صحبت کو بھول نہیں سکتا یہ شخص واقعی ایسا ہے جس پر فخر کیا جا سکے اس سے دوستی کسی نوید سے کم نہیں۔ خرم ابن شبیر!!! کیا بات ہے اس بندے ہیں دل کا صاف آدمی اور محبت کرنے والا۔ کانفرنس میں موجود تین پپو بچو میں سے ایک یہ تھا باقی دو تو میں ایک نو وارد نعیم خان جن کا تعلق سوات سے ہے مگر رہتے وہ پشاور میں ہیں!اور دوسرے حسن معراج ڈان نیوز کے “خوب است خوب است” کرتے پائے گئے۔ زھیر چوھان ممکن ہے کئی دوستوں کو شرمیلا لگا ہو مگر یہ بندہ جس انداز میں مجھ سے آکر ملا دل باغ باغ ہو گیا! لگا ہی نہیں کہ پہلے ملاقات ہے یوں لگا جیسے ہم کئی بار مل چلے ہیں! حیرت تو مجھے محمد سعد سے پر ہوئی نیٹ پر جتنی بے تکلفی سے بات کرتا ہے اتنا ہے تعارف کروانے سے اجتناب کرتا محسوس ہوا ابتدا میں۔ بنیادی طور پر یہ بندہ ریکٹ لیٹ کرتا ہے جیسے ربورٹ نہیں کرتے! ویسے “مولبی ربورٹ” کہہ لیں! مجموعی طور پر ایک اچھے اخلاق کا مالک! عباس میاں کے کیا کہنے ایک دن ہی ہمارے ساتھ رہے مگر اپنی شخصیت کا اثر چھوڑ گئے اور جاتے جاتے اپنے دوستوں عبدالستاراور عاطف مرزا کو بھی لے گئے!!! راجہ اکرام یہ مکمل پاکستانی کسی بھی قسم کے خوف اور پریشانی سے پاک نظر آنے والا!! سادہ۔ ساجد امجد ساجد سے مل کر بھی اچھا لگا اور اُن سے ہمیں جو شکایتیں اردو وکیپیڈیا سے تھی یا ہیں بیان کر دیں۔ اس کے علاوہ مذثر لندی کوتل سے، جن کا لندی کوتل سے ہونا دوستو کے چہرے پر پر مسکراہت کی وجہ بنا اور محترم مسرت اللہ جان پشاور سے تھے ایک کھلے دل کے!! اور فرحت عباس شاہ صاحب کے بارے کون نہیں جانتا! خادم اعلی کے لئے نادم اعلی کا اصلاح استعمال کرنے والا کتنا بے باک بندہ ہو گا !مہتاب عزیز بھی اسلام آباد سے آنے والا ایک نہایت اچھا انسان ہے۔
آخر میں محسن صاحب جو اس کانفرنس کے اسپانسر بھی تھے اور میرے آبائی شہر لاہور کے!!
کانفرنس اردو بلاگرز کے لئے مجموعی طور پر اچھی رہی ہے اگر کسی کے اپنے مقاصد ہو تو ہوں مگر اردو بلاگرز کے مفاد میں جو اچھا ہو گا ہم اُسے اچھا کہیں گے! یہ کانفرنس اتنی اہم تھی کہ اس کے مخالف بھی اس میں خود کو اس میں شرکت سے نہ روک سکے! سو باتوں کی ایک بات اردو بلاگر پھر اردو بلاگر ہے جو اہنی دنیا آپ بناتے ہیں وہ اپنی قیمت نہیں لگاتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں ہمارے انمول ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ ہم اردو بلاگر ہیں! کوئی لاکھ کوشش کرے مگر ہم رضیہ نہیں ہیں بلکہ کچھ کے لئے “بلا” ہیں جو سچ کہنے کا “گُر” جانتے ہیں!!
باقی آپ سمجھ دار ہیں !!!
پہلے دن کی کاروائی کی کچھ ویڈیو جھلکیاں یہاں موجود ہیں!