1/23/2009

ہولوکاسٹ کل و آج

یہودی اپنی مظلومیت کی کہانی کا آغاز و اختتام ہولوکاسٹ سے کرتے ہیں! اور کئی لوگ ہولوکاسٹ کے حقیقت ہونے پر شک کا اظہار کرتے ہیں!
اگر ہولوکاسٹ ویسا ہی ہے جیسا اہل یہود باور کراتے ہیں تو ایک نظر موازنہ کرتے ہیں کہ آیا ہولوکاسٹ سے یہودیوں نے کیا سیکھا!!!

لوگوں کو مقید رکھنے کیلئے فصیل و دیوار کی تعمیر

 

آزادانہ تقل و حمل پر بندش کیلئے چیک پوائینٹ کا قیام

گرفتاریاں و تشدد

 

گھر و رہائش گاہوں کو مسمار کرنا

اور نشل کشی!

اب آپ خود بتائیں یہ تصاویر کیا بتا رہی ہیں!!!

1/22/2009

زید حامد، یوسف کذاب اور آڈیو ٹیپ

Brasstrack والے زید حامد کے متعلق یہ بات کنفرم کی حد تک ثابت ہو چکی ہے کہ وہ یوسف کذاب کے خلیفہ تھے!‌ توہین رسالت کے مرتکب!‌یوسف کذاب اِصے صدیق اکبر کہا کرتا تھا!‌ آج islamabadobserver کی اس پوسٹ‌ سے ایک آڈیو ٹیپ کا حؤالہ ملا جس میں‌یو سف زید حامد کا تعارف کرواتا ہے اور یہ کوئی ایک منٹ کے لئے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہیں!!!‌ساتویں‌ منٹ‌ میں‌تعارف ہے!

آگے اللہ بہتر جانتا ہے!!!

1/18/2009

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے

اسرائیل کا غزہ پر فوجی دہشت گردی کا تیسرا ہفتہ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے اور ہنوز اس جارحیت کو روکنے کی تمام کاوشیں ناکام ہوئی ہیں، نیز اوباما کی حلف برداری تک یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر نہیں آتی! ممکن ہے اُس وقت اس جارحیت کو روک کر اسرائیل اِس کا سہرا اوبامہ کے سر ڈال دے اور ساتھ ہی آنے والے الیکشن میں اسرائیل کی حکمران پارٹی مخصوص فائدہ اُٹھائے۔

ان تین ہفتوں میں روزانہ پچپن کی اوسط سے اب تک قریب ایک ہزار ستر فلسطینی مسلمان شہید ہوئے، جن میں پانچ سو  تک بچے و خواتین شامل ہیں جو کُل شہادتوں کا قریب پنتالیس فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ پانچ ہزار تک زخمی ہوئے ہیں اور پانچ لاکھ کی تمام  آبادی متاثر و قریب نوے ہزار سے ایک لاکھ  بے گھر ہو چکے ہیں ۔

جبکہ  جواب میں صرف چودہ اسرائیلی مارے گئے! ہلاکتوں کی تعداد و فرق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آیا یہ جنگ ہے یا اسرائیلی ریاست کی طرف سے کھلی دہشت گردی؟ اسرائیلی افواج نے پورے غزہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے! ایک ایک رات میں قریب قریب ساٹھ ہوائی حملے غزہ پر ہوتے ہیں اور اسرائیل جواب میں چند حماس کے راکٹ کے حملوں کو جواز بناتا ہے جبکہ خود جون دوہزار آٹھ سے امن معاہدہ کے اختتام تک گاہے بگاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جن دوسو پچاس افراد کو شہید کرنے کا جرم اُسے یاد نہیں۔

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے!

اسرائیل نے قریب صرف چار سو دس فلسطینی بچے اپنی وحشت کا شکار بنائے ہیں اور قریب دوہزار زخمی کئے ہیں، یہ وہ تعداد ہے جو جمسانی طور پر متاثر ہوئے ہیں مگر نفسیاتی بیمار ہوئے یا متاثر اُن کا ابھی علم ہی نہیں! اب اسرائیل کو مستقبل میں خود کُش حملوں کی شکایت نہیں کرنی چاہئے کہ خودکُش بمبار تو وہ خود گزشتہ تین ہفتوں سے تیار کر رہا ہے۔

اپنوں کی لاشوں پر نا معلوم کتنے لوگوں نے بدلے کا عہد کیا ہو! اور کتنے آزاد فلسطین کی عملی جدوجہد کے راہی بننے کے خود سے آمادہ ہو چکے ہوں!۔ اسرائیل اس دوران غزہ کی آبادی کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر لے کر اُس پر اپنا جدید اسلحہ استعمال کر رہا ہے جو پہلے دیکھنے میں یوں نہیں آئے ظالم وہ بم گرا رہا ہے جن سے انسانی جسم بری طرح سے جھلس جاتا ہے اور انسان ایڑیاں رگڑرگڑ کر اپنی جان دے دیتا ہے۔

اس کے علاوہ  سفید فاسفورس (اس کا ستعمال جنیوا کنونشن کے تحت ممنوع ہے، 1995 میں اسرائیل نے اس پر دستخط کئے تھے)  بم جو انسانی گوشت کو ہڈیوں تک جلا دیتا ہے اُن کے زیراستعمال ہے ، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے زخمی ہسپتال میں لائے جا رہے ہیں جن کے جسم بری طرح سے جھلس چکے ہوتے ہیں (جس کا مشاہدہ محتلف جاری ہونے والے تصاویر سے ہوتا ہے)۔

امریکہ و اسرائیل کو حماس سے شکایت ہے جو ایک جمہوری عمل سے اقتدار میں آئی تھی اور ہے،  شکایت وہ اُن مسلم حکمرانوں سے کررہے ہیں جو اپنے اپنے ملک میں عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں!

اِسے کیا کہا جائے؟

چند مسلم حکمرانوں کے گھروں میں یہودی بیویاں ہیں! اہل بنی اسرائیل میں اگر مرد باہر شادی کر لے تو خارج مگر اگر عورت ایسا کرے تو اُس کی اولاد بنی اسرائیل کی اولاد کہلاتی ہے! اس لئے انہیں اعتراض نہیں ہوتا اپنی عورتوں پر۔ اس کا ثمر مصر کی پالسی کی صورت میں نظر آ رہا ہے! جہاں کے تاجروں کی بڑی تعداد یہودی بیویاں رکھتے ہیں۔

آج جب اہل فلسطین کو ضرورت ہے تو مصر نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں!

کسی بھی قسم کی تقل حمل بند ہے، خواراک و ادویات کے لئے منتظر فلسطینی سرحد کے اُس پار جبکہ خوارک و ادویات سرحد کے اس پار ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھی مصر فلسطین میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا صرف اٹھائیس زخمی مصر میں داخل ہو پائے ہیں۔ منافقت دیکھے اسرائیل سے ہر طرح معاہدے و کاروبار جاری ہیں مصر کے وہ فلسطینوں کو تیل دینے سے انکاری ہے مگر قابض اسرائیل سے اگلے پچیس سال تک آج کی کی قیمت میں تیل کی فراہمی کا وعدہ ایفا کر رہا ہے!

یار لوگ پُر امید ہیں مستقبل قریب میں سب اچھا ہو جائے گا!

اور آج کی صورت حال کا ذمہ دار حکمرانوں کو دیتے ہیں!

مگر میں نا امید ہوں ، آگے کچھ نہیں ہونے والا، ممکن ہے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام رُک جائے مگر مسلمانوں کا نہیں رکتا نظر آتا۔ ان کی آواز سننے والا بھی کوئی نہ ہو گا!

او آئی سی بھی صفر جمع صفر کا مجموعہ ہے اور بقول ضمیر جعفری یو این او میں یو دراصل یو ایس اے (امریکہ) کا ہے باقی سب کے لئے نو(NO) ہی نو ہے۔

جب تک عوام کے اعمال درست نہیں ہوں گے حکمران بھی اچھے نہیں ملیں گے، خود تو ہم ہر طرح کی برائیوں میں مبتلا رہے اور حاکم پاکباز ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟

کہیں غزہ کو سزا خود ہماری ھی وجہ سے تو نہیں مل رہی ہے

 

عالمی اخبار کے لئے لکھی گئی میری ایک تحریر!!

1/16/2009

تذکیر وتانیث


امیر حیدر خان ہوتی

خان صاحب کیسے ہو!
“بس صاحب اللہ کی کرم ہے“
خان صاحب اللہ کا کرم ہوتا ہے اللہ کی کرم نہیں
“بس بس یہ ہمارا مجبوری ہے!“
خان صاحب کیسی مجبوری؟
“دیکھو تمھارا وزیراعٰلی ہوتا ہے ناں!“
ہاں
ہمارا تو مرد وزیراعٰلی بھی ہوتی ہے

گھر بنانا سہل نہیں اور میرے آٹھ گھر!

<(ڈفر نے ہمیں ٹیگ کیا تھا کہ اپنے (مطلوبہ) آٹھ گھروں کے بارے میں بتائے اُس ہی سلسلے میں یہ تحریر ہے)
ہماری پیدائش لیاری کی ہے! ‘اڑے تم مانو! نہیں تو دے گا ایک ہاتھ‘، نیوی کے سرکاری فلیٹ کی! والد صاحب بے شک پی آئی اے میں تھے مگر وہ رہتے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ تھے جو نیوی میں تھے! وہاں سے گرین ٹاؤن میں ایک کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئے، یہاں سے انہیں ڈیوٹی آنے جانے میں آسانی رہتی تھی! بچپن میں اپنے گھر کی اُنسیت سے ہم ناواقف تھے!
جب ہم آٹھ برس کے ہوئے تو والد صاحب نے ماڈل کالونی میں ایک سو بیس گز کا ایک پلاٹ خریدا، چاردیواری کی پھر دو کمروں اور ایک کچن اور باتھ روم کا اسٹکچر کھڑا کیا، اُن پر سیمنٹ کی چادریں ڈال کر وہاں شفٹ ہو گئے! یہاں سب سے پہلے تو صحن میں وہ ٹینک بہت عجیب لگا جس پر کوئی چھت نہیں تھی، ہمارے ذہین میں جو پہلی چیز اُسے دیکھ کر سمجھ میں آئی وہ یہ کہ یہ نہانے کے لئے ہے مگر ایسا نہیں تھا! کیونکہ وہاں شفٹ ہونے کے کوئی ہفتہ بھر کے اندر ابو نے اُس پر چھت ڈلوا دی تھی، اہم وجہ خود ہماری ذات تھی کہ ہم و ہماری بہنیں اُس میں گر ہی ناں جائے! پہلی رات اُس گھر میں ہم کافی دیر تک جاگتے رہے، وجہ اُس کا نیا ہونا نہیں بلکہ، وہ آسمان کے تارے تھے جن سے ہماری واقفیت اُس ہی رات ہوئی تھی، مجھے وہ بہت بھلے لگے! اس سے قبل فلیٹ و کرائے کے مکان میں یوں کھلے آسمان کو دیکھنے سے ہم محروم رہے تھے، ہمارے اُس اشتیاق و خوشی کا ذکر اب بھی والد صاحب کبھی کبھی کرتے ہیں۔ ایک اور چیر ہم نے اس گھر میں قریب دو ماہ بغیر بجلی کے گزارے تھے اور چھ ماہ بجلی کے کنکشن کے بغیر!
ایک سو بیس گز کوئی بڑی جگہ نہیں مگر اُس وقت ہمیں بہت بڑی معلوم ہوتی تھی! ہم یہاں کرکٹ بھی کھیل لیتے، لوکن میٹی بھی کھیلی اور باغ بانی بھی کی! کوئی چالیس گز کی کچی جگہ پر ہم نے بنڈیاں، لوکی، آلو، مرچیں، توری، ٹماٹر اور کریلے جیسی سبزیاں وغیرہ، چیکو، آم، امرود، پپیتا اور انار جیسے پھل، گنا بھی نیز گلاب، موتیا، رات کی رانی و دن کا راجہ اور نہ معلوم کون کونسے دیگر پھول وغیرہ کی کامیاب کاشت کی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مکان کے نقشہ و حالت میں اُس وقت موجود بجٹ و سوچ و خواہش کے مطابق تبدیلیاں کی جاتی رہیں! کبھی پلستر کروا لیا، کبھی لینٹر ڈلوا لیا، کبھی کچھ اور کبھی کچھ، ہر بار کسی بڑی تبدیلی کے بعد گھر کے بجٹ میں روزمرہ کے آمور کی تبدیلی سے اس کے پہلے جیسے نہ رہنے کا پتا چلتا! جیسے جب لینٹر ڈلوایا یا یوں کہہ لیں جب چھت پکی ہوئی تو امی اگلے تین سال پنجاب میں اپنے میکے نہیں گئی! کیونکہ ایسے ایک چکر کے لئے بھی تو اچھے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔`
گھر میں اب بھی کئی تبدیلیاں متوقعے ہیں! اب یہ دوسوپچاس گز کا ہے، اس میں اب بھی ایک باغیچاں ہے، اس کی موجودہ حالت کی چند تصاویر درجہ ذیل ہیں!






چند مزید تصاویر یہاں ہیں! اس کی سٹیلائیٹ تصویر یہاں دیکھ لیں!
جب ہم اپنے اس علاقے میں آئے تھے تو یہ علاقہ نہایت غیر آباد تھا! رات آٹھ بجے کے بعد سواری نہیں ملتی تھی، مگر اب یہ ایک اچھے علاقوں میں شمار ہوتا ہے! ہر سہولت یہاں موجود ہے! لہذا آٹھ گھروں کی گنتی میں اسے پہلے نمبر پر رکھے کیونکہ اس گھر کی تعمیر میں وقت و پیسے کے ساتھ ساتھ میری فیملی کی محبت و الفت بھی شامل ہے۔
دوسرا گھر میرا میرے اپنے آبائی گاؤں میں ہے، یہ میرے پیدائش سے پہلے سے وہاں موجود ہے مگر اب اُس کی شکل بھی پہلی سی نہیں رہی، میرے تایا زاد کزن کی شادی کے موقع پر اُس کی ایک بار پھر نئے سرے سے تعمیر کی گئی ہے! مکمل جدید طرز کی، پہلے اُسے حویلی کہا جاتا تھا، اب مکان کہہ لیں! یہ ہمارے دونوں تایا و ابو کا مشترکہ مکان ہے جو ہزار گز (ایک کنال) سے کچھ اوپر جگہ پر ہے۔ گاؤں میں ہماری جتنی زمین ہے مجھے اس کا اندازہ نہیں! البتہ اُس کے ٹھیکہ کی مد میں اتنے چاول آ جاتے ہیں کہ ہمیں بازار سے خریدنے نہیں پڑتے پورے سال! اور ساتھ میں آنے والی رقم پورے سال کے ٹھیکے کی مد میں البتہ ابو کی ایک ماہ تنخواہ سے آدھی یا ہماری ایک ماہ کی کمائی سے کچھ اُوپر ہوتی ہے!
کوئی اور گھر نہیں ہے! البتہ اسلام اباد میں گلشن کشمیر نامی اسکیم میں ایک کنال کا پلاٹ ہے خواہش ہے کہ خدا پیسے دے تو وہاں بھی ایک اچھا سا مکان تعمیر کر لو!!!
یہ تو ہو گئے وہ مکان جو درحقیقت ہیں، آٹھ میں سے تین آپ ان ہی کو گن لیں، اب خواہش یا خوابوں کی بات ہو تو باقی کی پانچ بھی کہیں ناں کہیں بنا لیتے ہیں! شرط پاکستان (جس ملک میں رہائش والی شرط کی روشنی میں) کی حدود کے اندر کی خوامخواہ میں لگا دی ہے! ہم تو ویسے بھی یہاں سے باہر کا سوچتے ہی نہیں ہیں!
چوتھا مکان! سیف الملوک جھیل کے کنارے پر ہونا چاہئے! اایسی خوبصورت جگہ پر مکان کے جگہ اور کئی فائدے ہیں وہاں یہ امکان بھی ہے کہ شائد پریوں سے ملاقات وغیرہ ہو جائے! کوئی پری ہماری محبت میں گرفتار ہو جائے اور یوں ہماری کہانی بھی بچے اپنی اپنی دادی کی زبانی سنا کریں گے!! ٹھیک ہے ناں!
پانچواں مکان مالم جبہ کے آس پاس ہونا چاہئے! تاکہ کبھی سیف الملوک پر نہانے کے لئے آنے والی پریوں سے دور جانے یعنی اُن کی نظروں سے چھپنا ہو تو بندہ مالم جبہ پر چھٹیاں گزارنے چلا جایا کرے! شہر کے ہنگاموں اور پریوں کی صحبت ے دور!
چھٹاں مکان جا کر مری میں بنایا جائے تاکہ کبھی اسلام آباد سے نکل کر قریب قریب تفریح کا ارادہ ہو تو اِدھر کا رُخ کیا جائے! کچھ ہمارے دوسرے (سمجھا کریں ناں) جاننے والوں کو بھی فائدہ ہو!
ساتواں مکان ہونا چاہئے کشمیر میں! خواہش تو سری نگر کی ہے مگر ابھی مظفرآباد پر ہی گزارا کرتے ہیں!!!
اور آٹھوں مکان _______ میں ہونا چاہئے! بھائی یہ بھی بتا دیا تو ہم چھپے گے کہاں؟؟؟ یہ نہیں بتانا! کوئی ایسی بھی تو جگہ ہونی ہو ناں جہاں _____________!!! سمجھا کریں ناں!
اچھا اب آٹھ بلاگرز کو ٹیگ بھی کرنا ہے تو جناب بدتمیز، جہانزیب، عمار، ابوشامل، شاکر، مارواء، ساجد اقبال اورشاہ فیصل کو ٹیگ کرتا ہو!!!! ہون تسی لکھو!

میرا قائد

1/15/2009

ڈیجیٹل احتجاج

احتجاج کی کئی شکلیں ہیں، وقت کے ساتھ مزید صورتیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں! ان میں ایک شکل انٹرنیٹ پر ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار ہے! لہذا یہاں آپ اپنی رائے دیں کر احتجاج ریکارڈ کروالیں! آیا فلسطین یا ۔۔۔۔۔۔! نیزاپنے برطانوی دوستوں کو یہ پٹیشن سائن کرنے کی طرف راغب کریں!!

1/12/2009

ٹوٹ پھوٹ

بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں
دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں
اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر
بھول بد گمانی کے
اس طرح سے کھلتے ہیں
زندگی سے پیارے لوگ اجنبی
سے لگتے ہیں
غیر بن کے ملتے ہیں
عمر بھر کی چاہت کو
آسرا نہیں ملتا
دشتِ بے یقینی میں
راستہ نہیں ملتا
خاموشی کے وقفوں میں
بات ٹوٹ جاتی ہے اور آسرا نہیں ملتا
معذرت کے لفظوں میں
روشنی نہیں ملتی
لذت پذیرائی پھر کبھی نہیں ملتی
پھول رنگ وعدوں کی منزلیں سکڑتی ہیں
راہ مڑنے لگتی ہیں
بے رخی کے گارے سے بے دلی
کی مٹی سے
فاصلوں کی اینٹوں سے
اینٹ جڑنے لگتی ہے
خاک اُڑنے لگتی ہے
واہموں کے سائے سے
عمر بھرکی محنت کو
پل میں توڑجاتے ہیں
اِک ذرا سی رنجش سے ساتھ
چھوٹ جاتے ہیں
خواب ٹوٹ جاتے ہیں

شاعر؛ امجد اسلام امجد

غلاموں کے لئے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر
دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو
ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بناء پر تعمیر
حُرف اُس قوم کا بے سود، عمل زار و زبوں
ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!

شاعر؛ علامہ اقبال

یقین محکم

مکہ میں قیام کے دوران میرے قریب بوڑھے میاں بیوی کے ساتھ ان کی جوان بہو کا قیام تھا۔ ساس اور بہو کے درمیان طویل لڑائی ہوتی تھی۔ شکست اکثر بہو کی ہوتی تھی۔ ہارنے کے بعد وہ روتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوتی اور ساس سے کہتی۔
“اچھا تو تم نے جتنا ظلم کرنا ہے کر لو‘ میں ابھی طواف کرتی ہوں اور اللہ کے پاس اپنی فریاد پہنچاتی ہوں“۔ یہ دھمکی سن کر ساس پسیج جاتی، معافی مانگتی اور کہتی کہ طوف کے وقت جو منہ سے نکل جائے پورا ہو جاتا ہے۔
ایک روز شدید آندھی آئی اور تیز بارش ہونے لگی۔ نالے کے کنارے مقیم حاجیوں کا سامان کیچڑ میں لت پت ہو گیا۔ ساس نے بہو کی چوٹی پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولنے لگی۔
“یہ حرام زادی کہہ رہی تھی، اللہ بڑی گرمی ہے۔ اللہ بارش، اللہ بارش، تمہیں پتا نہیں یہاں ہر دعا قبول ہو جاتی ہے۔“
ذرا ہٹ کر ایک جوان بے اولاد جوڑے کا بسیرا تھا۔ پہلے طواف کے بعد بیوی نے بڑے وثوق سے کہا کہ اِس نے اپنے خداوند تعالٰی سے بچہ مانگا ہے اور اس کی یہ مراد ضرور پوری ہو گی۔
“لڑکا مانگا تھا یا صرف بچہ“ خاوند نے وکیلوں کی طرح جراح کی۔
“لڑکے کی بات تو میں نے نہیں کی ، فقط بچہ مانگنے کی دعا کی۔“ بیوی نے جواب دیا۔
“رہی نا اونٹ کی اونٹ!“ خاوند بگڑ کر بولا۔
اب اللہ کی مرضی ہے چاہے لڑکی دے یا چاہے لڑکا دے۔ اب وہ تجھ سے پوچھنے تھوڑی آئے گا۔اس وقت اگر لڑکے کی شرط لگا دیتی تو لڑکا ملتا۔ یہاں مانگی ہوئی دعا کبھی نا منظور نہیں ہوتی۔“ یہ سن کر بیوی کف افسوس ملنے لگی۔
پھر چہک کر بولی۔ “تم فکر نہ کرو، ابھی بہت طواف باقی ہیں ۔ اگلی بار اپنے خداوند کو لڑکے کے لئے راضی کر لوں گی۔“
ان سیدھے سادے مسلمانوں کا ایمان اس قدر راسخ تھا کہ خانہ کعبہکے گردطواف کرتے ہوئے وہ کوہ طور کی چوٹی پر پہنچ جاتے اور اپنے حقیقی معبود سے رازونیاز کر کے نفس مطمئنہ کا انعام پاتے اور بڑی بے تکلفی سے اپنی اپنی فرمائش رب کعبہ کے حضور پیش کرکے کھٹا کھٹ مہر لگوا لیتے تھے۔ ان کے مقابلے میں مجھے اپنی عمر بھر کی نمازیں، اپنے طواف اور دعائیں بے حد کھوکھلی ، سطحی، بے جان، نقلی، اور فرضی نظر آنے لگیں۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں اس لڑاکا ساس اور بہو اور اس نوجوان کی بے اولاد بیوی کے پاؤں کی خاک تبرک کے طور پر اپنے سر پر دال لو تا کہ کسی طرح مجھے بھی ان کے یقین محکم کا یاک ذرہ نصیب ہو جائے۔

( خود نوشت = قدرت اللہ شہاب کی کتاب= شہاب نامہ)

فتنہ خانقاہ

اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہروماہ۔۔۔۔. پہنچی نظر جھکائے ہوئے سُوئے خانقاہ
زہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ ۔۔۔۔..ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضربِ لاالہ
براپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں دلوں میں مَیں لرزہ براندام ہو گیا
ہاتھ اس نے فاتحہ کو اٹھائے جو ناز سے۔۔۔۔ آنچل ڈھلک کے رہ گیا زلِف دراز سے
جادو ٹپک پڑا نِگہ دلنواز سے۔۔۔۔. دل ہل گئے جمال کی شان نیاز سے
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
زاہد حدودِ عشق خِدا سے نکل گئے۔۔۔۔ انسان کا جمال جو دیکھا پھسل گئے
ٹھنڈے تھے لاکھ حُسن کی گرمی سے جل گئے۔۔۔ گرنیں پڑیں تو برف کے تودے پکھل گئے
القصہ دین، کفر کا دیوانہ ہو گیا!
کعبہ ذرا سی دیر میں بُت خانہ ہو گیا!


(جوش ملیح آبادی)

کمرہ عدالت

جج ساحب نے وکیل سے کہا “ وکیل صاحب آپ اپنی  Limit Cross کر رہے ہیں“

وکیل نے جج کی بات سن کر کرخت لہجے میں جوابن کہا “ کون سالا یہ کہتا ہے؟“

جج نے وکیل کا جواب سنتے ہی اپنی سیٹ پر اپنی پوزیشن تبدیل کی اور وکیل کی جانب دیکھتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں کہا “تو آپ مجھے سالا کہہ رہے پے“

حلات کی سنگینی کا اندازہ لگا کر وکیل نے پینرہ بدلا اور کہا“ مائی لارڈ میں تو کہہ رہا تھا کون سا لاء (Law) کہتا ہے“

امبی دے بُوٹے تھلے

اِک بُوٹا امبی دا، گھر ساڈے لگا نی
جِس تھلے بہنا نی، سُرگاں وِچ رہنا نی
کیہ اوس دا کہنا نی، ویڑھے دا گہنا نی
پر ماہی باجھوں نی، پردیسی باجھوں نی
ایہہ مینوں وڈھدا اے، تے کھٹا لگدا اے
ایس بُوٹے تھلے جے، میں چرخی ڈاہنی آں
کوئل دِیاں کُوکاں نی، مارن بندوقاں نی
پِیڑھے نُوں بھناں میں، چرخی نُون پُھوکاں نی
پِھر ڈردی بھابو توں، لَے بہاں کسیدہ جے
یاداں وِچ ڈُبی دا، دِل کِدھرے جَڑ جاوے
تے سُوئی کسیدے دی، پوٹے وَچ پڑ جاوے
پِھر اُٹھ کے پیڑھے توں، بھنجے بہہ جاواں
چیچی دھر ٹھوڈی تے، وہناں وِچ ویہہ جاواں
سُکھاں دِیاں گلاں نی، میلاں دِیاں گھڑیاں نی
کھیراں تے پُوڑے نی، ساون دِیاں جھڑیاں نی
سوہنے دے ترلے نی، تے میریاں اڑِیاں نی
جان چیتے آ جاون، لوہڑی ہی پا جاون
اوہ کیہا دیہاڑا سی، اوہ بھاگاں والا سی
اوہ کرماں والا سی، جِس شُبھ دیہاڑے نی
گھر میڑا لاڑا سی، میں نہاتی دھوتی نی
میں وال دودھائے نی، میں کجلا پایا نی
میں گہنے لائے نی، مَل مَل کے کھوڑی میں
ہیرے لشکائے نی، لا لا کے بِندیاں میں
کئی پھند بنائے نی، جاں ہار شنگاراں تو
میں ویہلی ہوئی نی، آ امبی تھلے میں
پھیر پُونی چھوہی نی، اوہ چند پیارا بھی
آ بیٹھا ساہویں نی، امبی دی چھاویں نی
اوہ میریاں پریتاں دا، سوہنا ونجارہ نی
قصے پردیساں دے، لاماں دِیاں چھلاں نی
گھمکار جہازاں دی، ساگر دی چھلاں نی
ویری دے ہلے نی، سوہنے دی دِیاں ٹھلاں نی
اوہ دسی جاوے تے، میں بھراں ہنگارا نی
ایس گلاں کردے نُوں، پتیاں دی کھڑ کھڑ نے
بدلاں دی شُوکر نے، ونگاں دی چھن چھن نے
چرخی دی گُھوکر نے، پٹیاں دی لوری نے
کوئل دی کُو کُو نے، منجے تے پا دِتا
تے گُھوک سُلا دِتا
تک سُتا ماہی نی، چرخی دی چرخ توں
میں کالکھ لاہی نی، جا سُتے سوہنے دے
متھے تے لائی نی، میں کُھل کے ہسی نی
میں تاڑی لائی نی، میں دوہری ہو گئی نی
میں چُوہری ہو گئی نی، اوہ اُٹھ کھلویا نی
گھبرایا ہویا نی، اوہ بِٹ بِٹ تکے نی
میں کِھڑ کِھڑ ہساں نی، اوہ مُڑ مُڑ پُچھے نی
میں گل نہ دساں نی
تک شیشہ چرخی دا، اوس گُھوری پائی نی
میں چُنگی لائی نی، اوہ پِچھے بھجا نی
میں دیاں نہ ڈاہی نی، اوس مان جوانی دا
میں ہٹھ زنانی دا، میں اگے اگے نی
اوہ پِچھے پِچھے نی، منجی دے گِردے نی
نسدے وی جائیے نی، ہسدے وی جائیے نی
اوہدی چادر کھڑکے نی، میری کوٹھی دھڑکے نی
اوہدی جُتی چیکے نی، میری جھانجر چھنکے نی
جاں ہف کے رہ گئی نی، چُپ کر کے بہہ گئی نی
اوہ کیہا دیہاڑا سی؟ اوہ بھاگاں والا سی
اوہ کرماں والا سی، جس شُبھ دیہاڑے نی
گھر میرا لاڑا سی
اج کھان ہواواں نی، اج ساڑن چھاواں نی
ترکھان سداواں نی، امبی کٹواوِان نی
توبہ میں بھلی نی، ہاڑا میں بھلی نی
جے امبی کٹاں گی، چڑھ کِس دے اُتے
راہ ڈھول دا تکاں گی

قریب 1941 میں یہ نظم موہن سنگھ نے لکھی جو بعد میں ان کی کتاب “ساوے پتر“ میں چھپی!!!! میرے کزن (بھائی) نے مجھے سنائی تھی!!!! اس نظم میں منظر کشی اچھی ہے!!! ایک عورت کی اپنی مرد کو یاد کرنا ایک شرارت اور گھر میں لگے درخت کو بہانہ بنا کر

سنو تم لوٹ آؤ ناں۔۔۔۔۔

سنو تم لوٹ آؤ ناں
میری منتظر آنکھیں
دعا مانگتی آنکھیں
تمہیں ہی سوچتی آنکھیں
تمہیں ہی ڈھونڈتی آنکھیں
تمہیں واپس بلاتی ہیں
یہ دل جب بھی دھڑکتا ہے
تمہارا نام لیتا ہیں
یہ آنسو جب بھی بہتے ہیں
تمہارے دکھ میں بہتے ہیں
کہ بارش جب بھی ہوتی ہے
تمہیں ہی یاد کرتی ہیں
خوشی کوئی جو آئے بھی
تمہارے بن اُدھوری ہے
سنو تم لوٹ آؤ ناں۔۔۔۔۔

باہر کا جھگڑا اور گھر کی مار

بعض باتیں کافی دلچسپ ہوتی ہیں!!! لڑائیاں بھی!!!مار بھی!!! بچپن میں جو پہلا جھگڑا میرا ہوا تھا اس میں میں مار کھا کر آیا تھا!!! پھر گھر آ کر مار کھائی گھر آنے پر پہلا سوال یہ ہوا کہ بھائی غلطی کس کی تھی جب بتایا کہ دوسرے کی تو اگلی کاروائی ہوئی  کہ اگر لڑائی ہوئی تھی تو میں مار کھانے والا کیوں بنا مارنے والا کیوں نہیں!!! اس کے بعد پھر کبھی لڑائی نہ ہوئی!! پھر جب ہم آٹھویں جماعت میں تھے ایک دن ابو نے اپنے سگریٹ لینے کے لئے دکان ہر بھیجا نیا نیا شوق ویڈیو گیم کا چڑھا ہوا تھا کوئی ماہ دو ماہ ہوئے ہوں گے!!! لہذا ویڈیو گیم کی دکان میں جا کھڑے ہوئے!!! گیم دیکھنے (چونکہ ابھی اُس میں ماہر نہیں ہوئے تھے) میں اس قدر مگن کہ کچھ خبر ہی نہیں ، ایک لڑکا پاس آیا کہنے لگا آپ کی جیب میں پچاس روپے تھے؟ جو جیب دیکھی تو ابو کے دیئے ہوئے پیسے غائب تھے!!! فورا کہا ہاں یار تمہیں کیسے پتا؟؟ کہنے لگا وہ لڑکا نکال کر لے گیا ہے!!! میں نے جا اس لڑکے کو کہا “تم نے میری جیب سے جو پیسے نکالے ہیں وہ واپس کرو“ وہ انکاری ہو گیا!!! اور میرا ہاتھ غصہ سے اُٹھ گیا، اور لڑائی شروع ہو گئی بمشکل مار کھانے سے بچے!!! معاملہ پچاس روپے سے ذیادہ ابو کی ڈانٹ (ومار) کا خوف تھا!!!! آس پاس موجود لڑکوں نے اُس لڑکے کی پٹائی کرنے پر داد تو دی مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر جان نکال دی کہ اس کا بھائی تو “فلاں“ پارٹی کا ہے اب تیری خیر نہیں!!!! پچاس کا نوٹ اُس لڑکے سے تو نہیں ملا مگر گیم کی دکان کے مالک نے مجھے اپنے پاس بلا کر پچاس کا نوٹ دے دیا اور کہا کہ اُس لڑکے کے واپس آنے سے پہلے پہلے میں وہاں سے نکل جاؤ!!! کہ غالب انکان ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ آ سکتا ہے!!! لہذا ہم وہاں سے فرار ہو کر گھر لوٹ آئے!! گھر میں امی اور بہنوں نے تو ہماری حالت کا پوچھا تو ہم ٹال گئے البتہ ابو نے اُس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا!!! شام میں دوستوں سے اس جھگڑے کا ذکر کیا تو اُں کے بیانات خون خشک کر دینے والے تھے!!! کہ وہ لڑکا تو جب تک بدلہ نہیں لیتا معاف نہیں کرتا!!! لہذا اگلے دن ہم نے چھٹی کر لی!!! اور اُس دن شام میں کھیلنے جانے سے پہلے ابو نے گزرے دن ہماری خراب حالت کے بارے میں پوچھ لیا!!! ہم نے ساری بات صاف صاف بتا دی!!! والد صاحب نے باقی باتیں تو جیسے سنی ہی نہیں اور گیم کی دکان پر جانے سے منع کر دیا اور “عزت“ (سمجھ گئے ہوں گے) کی گیم کی دکان پر جانے پر!!! “عزت“ سے فارغ ہو کر بس اتنا کہا کہ کل اسکول لازمی جانا ار اُس لڑکے سے ڈرنے والی کوئی بات نہیں اگر لڑائی کرے تو کسی خوف میں مبتلا ہوئے بغیر اُس کی پٹائی کر دینا اور اُس کا بھائی اُس کے ساتھ ہو تو اُس سے کہہ دینا کہ میرا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں !!! اتفاق ایسا ہوا کہ اگلے دن وہ وہ صاحب ہمیں اپنے اسکول کے باہر “آدھی چھٹی“ میں مل گئے مگر اس نے مجھے سے کوئی بات نہیں کی!!!!
نویں جماعت میں تھے کہ ہماری کلاس کا جھگڑا دسویں کلاس سے ہوا!!! دونوں کلاسوں میں کافی ٹھیک ٹھاک قسم کا جھگڑا ہوا!!! ہماری شرٹ کی جیب پھٹ گئی دوسرا گلی کے ایک لڑکے نے اس جھگڑے کا تمام احوال گھر میں بتا دیا!!! اب کے ہمیں اس لڑائی کی وجہ سے ابو سے مار پڑی کہ اسکول مجھے پڑھنے کے لئے بھیجا جاتا ہے اِس کام کے لئے نہیں!! دوسرا میں غلط بعد پڑ جھگڑا ہوں!!!
اُس دن کے بعد ہم کسی بھی معاملہ میں اُس وقت تک لڑائی میں نہ پڑتے جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ میں ٹھیک طرف ہوں!!!! ویسے والد سے کیا کبھی آپ کو مار پڑی ؟؟؟؟مجھے ڈانٹ تو پڑتی رہتی ہے!!! مجھے آخری بار ابو نے کوئی تین برس پہلے (تھپڑ) مارا تھا !!! ڈانٹ تو کوئی ایک ماہ ہو گیا پڑی ہے!!! اور سچی بات ہے اُن کی یہ ڈانٹ و مار میری زندگی کا سرمایہ ہیں!!! انہوں نے کبھی بھی بلاوجہ ایسا نہیں کیا!!! والدین کی مار مار نہیں ہوتی تربیت ہوتی ہے وہ کھا لینا ہی اچھاہے

لا یغیرُ ما۔۔۔

بُرائی سے نفرت ہی کرتا تھا پہلے
کہ بزرگوں سے مَیں نے یہی کچھ سنا تھا
پھر اک وقت آیا_______کہ اوروں کی خاطر،
بُری چیز کو بھی بُری چیز کہتے ہوئے
مَیں جھجکنے لگا!
اب بُرائی کو اچھا سمجھنے لگا ہُوں
یہی “ارتقا“ کی وہ دلدل ہے جس سے بچانا
کسی کے بھی بس میں نہیں ہے
اگر مَیں نہ چاہوں!

شاعر: محسن بھوپال

1/11/2009

غزہ؛ تصویر کہانی

غزہ تصویر کہانی میں یہ کہانی ایک ماں و بیٹے کی ہے! دونوں اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم رہتے تھے اور پھر۔۔۔۔