1/12/2009

لا یغیرُ ما۔۔۔

بُرائی سے نفرت ہی کرتا تھا پہلے
کہ بزرگوں سے مَیں نے یہی کچھ سنا تھا
پھر اک وقت آیا_______کہ اوروں کی خاطر،
بُری چیز کو بھی بُری چیز کہتے ہوئے
مَیں جھجکنے لگا!
اب بُرائی کو اچھا سمجھنے لگا ہُوں
یہی “ارتقا“ کی وہ دلدل ہے جس سے بچانا
کسی کے بھی بس میں نہیں ہے
اگر مَیں نہ چاہوں!

شاعر: محسن بھوپال

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔