ملزم ظہیر، یوتھیاپا اور لبرلز

ہمیں اپنے زمانہ طالب علمی اور پھر دور وکالت میں کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کہ نوکری کی جائے شادی کے بعد ہم میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ جج بنا جائے مگر وہ نہ بنے سکے البتہ سرکاری وکیل بن گئے۔ نوکری لگنے کے بعد معلوم ہوا وکالت میں آزادی و انکم نوکری سے ذیادہ ہے کہ مئی 2014 میں جتنی ہماری اوسط انکم تھی اگست 2020 کو ہماری تنخواہ اتنی ہوئی، کل ملا کرچھ سال بعد!!
جج کے امتحانات کی تیاری ہم ملیر کورٹ (کراچی) کی لائبریری میں یا پھر اپنے آفس میں کرتے تھے۔ لائبریری میں آٹھ سے بارہ افراد کا گروپ تھا جن میں ایک فرد ابھی وکالت کر رہا ہے ، ایک سرکاری وکیل یعنی کہ میں و باقی سب ججز ہیں۔ ہمیں سب سے خوش قسمت وہ وکلالت والا لگتا ہے ۔
دوران اسٹیڈی مختلف نوعیت کے قانونی معاملات کو بشکل کہانی ان پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ تبہی ایک بار نیا نیا سندھ میں پاس ہونے والا کم عمری کی شادی والا قانون بھی زیر بحث آیا دوران بحث یہ دلچسپ نقطہ سامنے رکھا گیا کہ کیا ہو اگر ایک سولہ اور آٹھارہ سال کے درمیانی عمر کی لڑکی سندھ سے نکل کے پنجاب میں جا کے کورٹ میرج کر لے، کیونکہ یہ عمل یہاں سندھ میں نکاح خواہ اور دولہے کے لئے تو قابل گرفت ہے مگر پنجاب میں یہ جرم ہی نہیں ہے کہ وہاں سولہ سال سے اوپر کی لڑکی کی شادی قانونًا درست ہے۔ اس وقت اندازہ نہیں تھا نو سال بعد اس طرح کا ایک اصل مقدمہ ملک میں اس قدر مشہور ہو گا کہ ہر فرد اس کیس کے تمام کرداروں کے نام تک واقف ہو گا۔ یہ کیس اس کی کم عمر مبینہ مغویہ کے نام سے ہی مشہور ہے ہر یو ٹیوبر، شوشل میڈیا صارف اور روایتی میڈیا اس کیس کا ذکر کرتے ہوئے اس کم عمر مغویہ کا نام لیتے ہیں جبکہ قانون ایسے کیسوں میں “مظلومہ" یعنی victim کا نام پریس میں لینے سے منع کرتا ہے اور اسے قابل سزا عمل بتاتا ہے مطلب کہ جرم۔ اس بات پر بحث ممکن ہے کہ آیا واقعی کم عمر مبینہ مغویہ "مظلومہ" ہے یا نہیں اور اول اول اس نے خود جب میڈیا پر انٹرویو دیئے اب اس کے بعد بھی یہ قانون لاگو ہو گا یا نہیں۔ میری ذاتی رائے ہے قانون تو لاگو ہوتا ہے کیونکہ اس سلسلے میں کسی قسم کی چونکہ چونانچے والی کوئی شرط نہیں ہے قانون میں۔
جب کم عمری کی شادی کے اس قانون کے سلسلے میں مشاورت اور ورکشاپ ہو رہی تھیں تو ایک ایسی ہی ورکشاپ میں ہم نے سوال کیا آج آپ قانون تو پاس کروا رہے ہیں کہ کم عمر دلہن کے والدین، دولہے اور نکاح خواح کو سزا دی جائے گی مگر وہ جو نکاح ہوا ہے اسے تو آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے اس کا کیا کریں گے دولہا سزا کاٹ کر واپس آتا ہے تو وہ خاندان کی مرضی یا عدالت میں حق زناشوئی کا کیس کرے گا تب متعلقہ عدالت کیا کرے گی اس پر بھی اسی قانون سازی میں حل نکالیں نیز یہ بھی کہا تھا کہ چلیں والدین کم عمر لڑکی کی شادی کرتے ہیں تو سزاوار ہوئے مگر ایک کم عمر لڑکی اپنی مرضی سے کورٹ میرج کرتی ہے تو کیا ہو گا اس کا بھی قانونی حل نکالیں۔ مگر کسی نے اس طرف توجہ نہ دی۔ دوسری تجویز تو چند منتظمین کوبری لگی خاص ایک ظاہری لبرل کو ان سے ورکشاپ کے بعد کی ہائی ٹی پر خوشگوار انداز میں تلخ باتیں بھی ہوئیں تھیں اس تجویز کی بناء پر کیونکہ وہ اسی ہفتے ایک کورٹ میرج کی پٹیشن میں سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں تھیں کم عمر جوڑے کی حمایت میں۔
یہ قوم یا ہجوم کسی سیاسی ، لسانی، مذہبی، مسلکی اور سوشل ایشو پر جذباتی بھی بہت ہے اور سخت بھی۔ کسی بھی موقف پر جذباتی انداز میں ڈٹ جانے کا نتیجہ عدم برداشت اور بدتمیزی ہی نکلتا ہے۔ جو رویوں میں پختہ ہوتا جا رہا ہے خاص کر جب یہ خیال ہو کہ پکڑ نہیں ہو گی۔ ایسا ہی اس کیس میں بھی ہے اس کیس کو رپورٹ کرنے والے اور اس رپورٹ کو فالو کرنے والے دونوں اخلاقیات سے عاری رپورٹنگ کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی دونوں طرف کے احباب جھوٹ کی آمیزش بھی کرتے ہیں جانے انجانے میں۔ فرد کو اپنے موقف پر ڈٹ جانا چاہئے اول جب وہ درست ہو دوئم جب اس سے کسی فرد کو اور خاص کر پورے معاشرے کو نقصان نہ پہنچتا ہو مگر ہم اپنی انا کی تسکین کے لئے یہ سب کرتے ہیں تو یہ تباہی ہے۔
لڑکی کے باپ یا فیملی کی سختی کی تو سمجھ آتی ہے اپنے مسلکی و سوشل بیک گراونڈ کی وجہ سے۔ وکالت کے دوران ہر پانچ میں سے ایک کورٹ میرج میں ہمیں لڑکی کی ایسی ہی فیملی سے واسطہ پڑتا تھا اور نتیجہ لڑکی اپنے خاندان سے مزید دور ہو جاتی تھی یوں راوبط دوبارہ بننے کے امکانات خاتم ہو جاتے ہیں۔ سو فیصد کیسوں میں جو لڑکی کورٹ میرج کے لئے گھر چھوڑتی ہے اس کی فیملی کی کسی ناں کسی خاتون (فیمیل ممبر) کو معاملات کا پہلے سے علم ہوتا ہے وہ کوئی بھی رشتہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے ایک کورٹ میرج کروائی جس میں لڑکی کی فیملی لڑکے کی فیملی سے کئی گناہ طاقتور تھی اور معاشی طور پر مضبوط بھی۔ ابتداء میں باپ اور دیگر فیملی ممبر نے مخالفت کی مگر ملک سے باہر رہنے والے لڑکی کے بھائی نے ہم سے رابطہ کیا ملاقات ہوئی ، جوڑے کی ملاقات اپنے دفتر میں کروائی طے پایا لڑکی واپس آئے چونکہ خاندان کے باہر کے لوگوں کو علم نہیں لہذا ہم اس سلسلے میں ابتداء سے رخصتی تک کے تمام لوازمات کرتے ہیں کہ معاشرے میں عزت قائم رہے لڑکی لڑکا خوفزدہ تھے۔ ان کی ویڈیو بیانات و دیگر کاروائی کر کے واپس اپنے خاندانوں میں بھیجا گیا۔ پھر رشتہ مانگنے سے لے کر نکاح و رخصتی تک کے تمام ضروریات انہوں نے مکمل کی یہ دونوں خاندانوں و جوڑے کے لئے اچھا ہوا۔ شادی کے لئے یقینًا ہمارے معاشرے میں خاندانوں کا رضامند ہونا لازم ہے مگر وہ جو الگ خاندان بنانے کی بنیاد بنے گے انہیں بھی اہمیت دی جائے تو بہتر نتائج آئیں گے۔
عدالتی و قانونی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بات سیدھی سی ہے میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ یہاں قاضی نکاح والا سمجھ لیں یا انصاف کرنے والا دونوں ٹھیک ہیں۔ لڑکی جس کے حق میں بیان دے گی وہ ہی کامیاب ہو گا۔ لڑکی کو کراچی لانے کا مقصد اسے ظہیر سے دور کرنا ہے مگر کیا ایسے میں وہ اپنے باپ کاظمی صاحب کے قریب ہو جائے گی؟
ہم اپنی خواہش و مرضی کو درست و ٹھیک بات پر فوقیت دیتے ہیں ۔ خواہش، مرضی و مفاد تو بدلتا رہتا ہے مگر حق و سچ دائمی ہے۔ انا کی جیت میں رشتے کچلے جاتے ہیں کچلے جا رہے ہیں اور ایسے معاملات میں ہم پارٹی بن کر کسی ایک کا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ ان کے درمیان جو خونی رشتہ رکھتے ہیں میں مزید دوریاں پیدا کر رہے ہیں۔ قانون میں ایسے کیسوں کی "مظلومہ" کے نام کی پریس میں ممانعت کافی نہیں بلکہ خاندانوں کے نام اور مقدمات کی کوریج پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ تب ہی انصاف ہو پائے گا ورنہ سیاسی کیسوں کی طرح ایسے معاملات میں بھی پہلا قتل سچ و انصاف کا ہو گا۔

فیصلہ

عدالتیں سائلین کی مرضی کے فیصلے کرنے کو نہیں بلکہ جو انہیں عین انصاف لگے اپنی قانونی سمجھ بوجھ کے تحت آزادانہ فیصلے دینے کو ہیں۔ 
 جج کی مرضی و خواہش ممکن ہے کبھی انصاف کے متضاد ہو مگر وہ پابند ہے کہ قانون و حقائق (جو عدالت کے سامنے ہوں) کے مطابق فیصلہ دے۔ تاریخ بہت ظالم ہے یہ آگاہ کر دیتی ہے کون سا فیصلہ انصاف کے مطابق تھا اور کون سا خواہش کے زیر اثر۔ یوں پردہ فاش ہوتا ہے کون سا منصف ایماندار تھا اور کون سا قاضی بے ایمان۔ 
کسی سائل کا فیصلے کو ناانصافی کہنا اسے غلط فیصلہ نہیں بناتا۔

اپنی ایک لا علمی کا اعتراف!!

آج 2016 میں پارلمنٹ میں زنا سے متعلق ہونے ترامیم کا مطالعہ کرتے وقت "علم" ہوا (اور افسوس بھی کہ پروسیکیوٹر اور وکیل ہونے کی بناء پر مجھے اس بارے میں آگاہ ہونا چاہئے تھا نہ جانے پہلے اس ترمیم کو یوں کیوں نہ دیکھا) کہ اس میں ایسی ترامیم بھی ہیں جن کا اطلاق صرف "زنا" سے متعلقہ جرائم تک نہیں ہے بلکہ ان کے اثرات بڑے گہرے اور در رس ہیں اگر عدالتیں اس کو استعمال کریں اگرچہ اب تک اس کا استعمال ہوتے دیکھا نہیں پہلی ترمیم تعزیرات پاکستان کی دفعہ 166 میں ذیلی دفعہ 2 میں اس انداز میں ہوا 

Whoever being a public servant, entrusted with the investigation of a case, fails to carry out the investigation properly or diligently or fails to pursue the case in any court of law properly and in breach of his duties, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years, or with fine, or with both.
 یعنی کہ ناقص تفتیش پر تفتیشی آفیسر کو تین سال تک کی سزا ہو سکتی ہے 
پہلے پہلے یہ ترمیم دفعہ 218 اے کے طور پر صرف زنا سے متعلق تفتیش تک محدود کر کے شامل کرنے کی تجویز تھی، اگر تفتیشی آفیسرز کو ناقص تفتیش پر سزا کا رجحان پیدا ہو تو ممکن ہے کہ "انصاف" کے اسباب پیدا ہوں مگر دہشت گردی سے متعلق قانون کی دفعہ 27 کا استعمال(جو اسی مقصد کے تحت موجود ہے) بھی ججز کی نرم دلی کے باعث بے اثر ہوئے پڑی ہے۔ اسی طرح اسی ترمیم میں دفعہ 186 کی ذیلی دفعہ 2 میں شامل کیا گیا کہ
 Whoever intentionally hampers, misleads, jeopardizes or defeats an investigation, inquiry or prosecution, or issues a false or defective report in a case under any law for the time being in force, shall be punished with imprisonment for a term which may extend to three years or with fine or with both.
 یعنی کہ تفتیش و استغاثہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے، گمراہ کرنے یا خراب کرنے میں شامل ہوا یا جھوٹی یا غلط رپورٹ کسی مقدمہ میں جاری کرے وہ بھی تین سال کی سزا کا مستعحق ہو گا۔ پہلے شاید زنابلجبر سے متعلق ترامیم کو پڑھتے ہوئے لاشعور میں یہ تھا کہ یہ ترامیم زنا جیسے جرم تک محدود ہے مگر اب اسے دوبارہ اتنے وعرصے بعد ایک نظر دیکھنے سے یہ آگاہی ہوئی کہ اس کے اثرات دور رس ہیں۔
ایک بار ایک ریٹائر جسٹس جو بعد میں قانون کی تدریس سے جڑ گئی تھے سے ایک محفل میں سنا تھا "قوانین کی اس دفعات کا اطلاق میں عمر کے بڑے حصے عدالت میں کرتا رہا ہو مگر اب جب پڑھانے کی نیت سے پڑھتا ہوں تو ان کے نئے معنی مجھ پر آشکار ہوتے ہیں" آج کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا ہے۔

※※※اقسام وکیل با زبان وکیل ※※※

(نوٹ یہ تحریر مجھے بذریعہ وٹس اپ موصول ہوئی لکھاری کا علم نہیں مگر حسب حال ہے)

‎ہم پر یہ راز کھلا کہ دیگر مخلوقات کی طرح وکیلوں کی بھی کئی اقسام پائ جاتی ہیں ۔

‎جن کی حتمی تفصیلات بارکونسل کے مستقل  افسران کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔کچھ ناکام وکیلوں کی مدد سے ہم تاحال وکیلوں کی جن اقسام کو دریافت کر پا ۓ وہ درج زیل ھیں

اصلی وکیل:

‎سب سے پہلے تو اصلی وکیل، یہ وکیلوں کی وہ کمیاب قسم ہے جو شاذ شاذ ہی نظر آتے ھیں۔یہ ھر نۓ قانون سے واقفیت کی کوشش میں سرگرداں نظر آتے ھیں۔ عموماََ ان کے جلو میں دو نہایت تابع فرماں قسم کے ننھے وکیل یعنی جونیئر ہوتے ہیں، جن میں سے ایک کے ہاتھ می مقدموں کی فائلیں اور دوسرے کے ہاتھوں میں کوئی پی ایل ڈی کی موٹی سی کتاب یا اصل وکیل کی ڈائری ہوتی ہے ، جو اس کے لئے کسی کتاب سے کم نہیں ہوتی یہ دونوں اصل وکیل کے دائیں بائیں چلتے ہوئے انتہائی ہنر مندی سے ایک ایسی مثلث تشکیل دے لیتے ہیں جس میں اصلی وکیل اور انکے درمیان شرقاََ غرباََ ڈیڑھ قدم کا فاصلہ اور آپس میں شمالََ جنوباََ ٹھیک تین قدم کا فاصلہ برقرار رہتا ہے ۔

‎اصلی وکیل اپنے مقدمات کی پیروی خود کریں یا کسی جونیئر کو بھیجیں ہر دو صورت میں انہیں مقدمے کی ٹھیک ٹھیک صورتحال معلوم ہوتی ہے ۔ اور یہ مقابلے کے وکیل سے ایک قدم آگے کی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں گفتگو کم کرتے ہیں سوچتے زیادہ ہیں ان کے منہ سے نکلنے والا ایک ایک جملہ آئین کی پُر پیچ ندیوں میں نہایا ہوا، اور قانون کی موٹی موٹی کتابوں کی ہوا سے سکھایا ہوا ہوتا ہے ۔ اس پہلی قسم کے وکیلوں کو انسانوں کے بجائے کتابوں کے درمیان رہنا زیادہ پسند ہوتا ہے۔۔۔دفتر ان کا وقت زیادہ گزرتا ھے ۔سوائے جج حضرات کے ، یہ عام زندگی میں کسی سے نہیں الجھتے ، چونکہ یہ قسم شاذ و نادر نظر آتی ہے لہذا ان کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔

قبلی وکیل:

یہ عموماً میرون ٹائ میں ملبوس نظر آئیں گے اور اس تکلیف کے پیش نظر کے ان کو مقدمہ میں پیش ھو نے کی ابھی اجازت نہ ھے ان کا خیال ھوتا ھے کہ اگر موصوف استاد کی جگہ یہ ھوتے تو ان کی شعلہ بیانی قابل سماعت ھوتی جبکہ مستقبل میں اس کے بالکل برعکس ھوتا ھے اور دوران بحث اپنی آواز بمشکل سنائ دیتی ھے۔

منتھلی وکیل:

یہ قسم سرکاری دفاتر میں پائ جاتی ھے جن کو منتھلی تنخواہ کی ترسیل ان کے بینک اکاونٹ میں مل جاتی ھی اور ان کا کام صرف عدالتوں کے باھر کھڑے  ھو کر اس وکیل کا انتظار کرنا ھوتا ھے جس کو اس سرکاری ادارے نے متعین کیا ھوتا ھے۔  ان کے پاس ایک سرکاری گاڑی ھوتی ھے جس میں پیٹرول ڈلتا ھی رھتا ھے۔ ان کا قوانین کی تشریح سے کوئ واسطہ نہیں ھوتا اور الیکشن کے دن بھی وارد ھوتے ھیں۔

الیکشنلی وکیل:

یہ جوائنٹ سیکرٹری سے لے کر صدر تک کا الیکشن لڑتا ھے اور  وہ کچھ کرتا ھے جو ساری اقسام کے وکیل مل کر بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔  میرا مطلب بار کی خدمت۔۔۔۔۔ کرتا ھے۔۔۔

جبلی وکیل:

جبل عربی میں پہاڑ کو کہتے ھیں ۔۔۔تو شاھیں ھے بسیرا کر لا فرموں کی چٹانوں پر۔۔۔۔ اس وکیل کو اس کے علم کے عوض دس گنازیادہ  ڈالر ملتے ھیں۔ اس کی زندگی پرتعیش اور اکثر رنگین ھوتی ھے۔۔۔ فکر معاش اس کا مسلۂ نہیں ھوتا بلکہ مزید تر معاش از خود اس کی تلاش میں ھوتا ھے۔۔۔۔ویک اینڈ پر اس کا خرچہ ایک سول جج کی ماہانہ تنخواہ کے برابر ھو جایا کرتا ھے۔۔۔ یہ اکثر سوال کرتا پایا جاتا ھے کہ آجکل ھائ کورٹ کی عمارت کہاں واقع ھے۔۔۔وجود زن سے ان کی تصویر کائنات میں رنگ سنبھالے نہیں سنبھلتے۔۔۔۔۔پردہ پوشی درست است

نسلی وکیل:

‎ان کے علاوہ وکیلوں کی ایک قسم نسلی وکیل بھی ہے ، یہ وکیلوں کی وہ قسم ہے جو نسل در نسل
‎وکالت سے وابستہ ہے ان میں کچھ صرف ددیال کی طرف سے واکالت ورثے میں پاتے ہیں اور کچھ نجیب الطرفین وکیل ہوتے ہیں ادھر ابا اور دادا وکیل اور ادھر اماں اور نانا وکیل ۔ وکالت ان کی رگوں میں دوڑ تی ہے ۔ اور اگر انہیں وکالت سے دلچسپی نہ بھی ہو تب بھی یہ کامیاب وکیل ثابت ہوتے ہیں ۔ گھرانے کا گھرانا وکیل ہوتا ہے نہار منہ مقدموں کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ خاندان میں کوئی جج بھی ہوجائے تو سونے پہ سہاگہ ۔ نسلی وکیلوں کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی، انہیں بچپن ہی سے وکالت کے داؤ پیچ سکھائے جاتے ہیں جس سے یہ اسکول میں اساتذہ اور ساتھ پڑھنے والے بچوں کی زندگی مشکل کردیتے ہیں بعد کو یہی مشق شدہ تربیت جج صاحبان کے لئے دردِ سر بنتی ہے ۔ ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ بھر ی عدالت میں مقدمے کی پیروی کے دوران دلائل دیتے ہوئے وکیل صاحب نے "آئی آبجیکٹ مائی لارڈ" کے بجائے روانی میں " آئی آبجیکٹ بڑے ماموں" کہہ دیا۔

‎ایک اعتبار سے یہ مظلوم بھی ہوتے ہیں کہ کسی مقدمے کی بیروری میں تاخیر سے پہنچنے پر جو ڈانٹ جج صاحب سے کمرہِ عدالت میں پڑتی ہے وہی ڈانٹ رات کو کھانے کی میز پر انہیں جج صاحب سے بحثیت والدِ محترم دوبار سننے کو ملتی ھے

کسلی وکیل:

‎نسلی وکیلوں کو جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں بہت سے نقصانات بھی ہیں ، ان کے مقابلے میں وکیلوں کی ایک دوسری قسم جسے "کسلی وکیل" کہا جاتا ہے ہمیشہ آرام سے رہتی ہے ۔ ان کی نسبت ان کی کسل مندی کی بنیاد پر ہے ۔ یہ انتہائی سست اور کاہل قسم کے وکیل ہوتے ہیں ، ایک تو عدالتی نظام کی رفتار پر پہلے ہی تنقید کی جاتی ہے ، کسلی وکیل اس رفتار کو اور سست کردیتے ہیں ، ذرا ذرا سی بات بلکہ بات بے بات پیروئی کی نئی تاریخ لینا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ " تاریخ پہ تاریخ ۔۔۔ تاریخ پہ تاریخ"جیسے مشہور فلمی ڈائیلاگ انہیں کسلی وکیلوں کی مرہونِ منت ہیں ۔ یہ زیادہ تر وقت اپنے دفاتر میں گزارتے ہیں بار کونسل میں کم آتے ہیں ۔ عدالتوں میں اس سے بھی کم جاتے ہیں ۔ یہ کبھی کبھی بار کونسل کے سوفوں میں یوں دھنس کے بیٹھے نظر آتے ہیں کہ کوٹ پشت سے اٹھ کر گدی سے ہوتا ہوا سر کے اوپر آکر ایک موکلہ سا بنا لیتا ہے جس سے منہ نکال کر یہ بے دلی اور نفرت سے چاک و چوبند وکیلوں کو گھورتے ہیں ۔ ویسے تو یہ تمام لوگوں کو گھورتے ہیں مگر ان کےغضب کا سب سے زیادہ شکار ، "پسلی وکیل " ہوتے ہیں ۔

پسلی وکیل:

‎جی ہاں ، "پسلی وکیل"یہ وہ وکیل ہیں جن کیلئے محاورے کا ڈیڑھ پسلی بھی زیادہ معلوم ہوتا ہے ۔ معصوم معصوم چہروں والے یہ ننھے وکیل ، اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے پڑھائی میں بہت آگے ہوتے ہیں ۔ یہ بچپن میں غذا سے حاصل ہونے والی توانائی کا بڑا حصہ، اپنی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں استعمال کرتے ہیں لہذا جسمانی نشونما کی رفتار سست پڑجاتی ہے ۔ اگر ایسے چار چھ پسلی وکیل ایک جگہ جمع ہوں اور پس منظر سے عدالت کی عمارت ہٹا دی جائے ، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسکول کے بچے سالانہ ٹیبلو کی تیاری کررہے ہیں ۔

‎ایسے وکیل عموماََ جرائم کے مقدموں سے دور رہتے ہیں ، عموماََ ایسے مقدمات کا انتخاب کرتے ہیں جس میں کسی زور آور موکل سے واسطہ نہ پڑےمثلاََ مالی بے ضابتگی، نام کی تبدیلی ، ملکیت کی منتقلی، اور صلاح نامہ وغیرہ

ٹسلی وکیل:

‎ ۔ان کے بالکل مخالف ، وکیلوں کی ایک سب سے خطرناک قسم پائی جاتی ہے جسے "ٹسلی وکیل " کہا جاتا ہے ۔ یہ "ٹسلی" لفظ ٹسل سے ہے ۔ بمعنی اڑ جانا، ضد کرنا، کینہ رکھنا، جھگڑا کرنا ، دشمنی رکھنا، اس لفظ میں یہ تمام کیفیات یکجا ہیں ۔ اس نوع کے وکلا ء کے پاس زیادہ تر مقدمات اپنے ہی قائم کردہ ہوتے ہیں ۔جو انہوں نے اپنے قرب و جوار کے لوگوں پر مختلف اوقات اور مختلف کیفیات میں دائر کئے ہوتے ہیں ۔جن میں عام طور سے محلے کا دھوبی ، حجام، گاڑی کا مکینک، بچوں کے اسکول کا ہیڈ ماسٹر، سسرالی رشتہ دار، الغرض جہاں جہاں ان کی ٹسل ہوجائے یہ وہیں مقدمہ داغ دیتے ہیں ۔ یہ وکیل اپنی وکالت کی سند کا بے دریغ استعمال اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں ۔ بعض اوقات تو مقدمہ ہارنے کے بعد مقابلے کے وکیل تک پر مقدمہ داغ دیتے ہیں ۔

وصلی وکیل:
‎البتہ وکیلوں کی سب سے زرخیز قسم وصلی وکیل ہوتے ہیں ۔ یہ صرف عدالتی شادیاں یعنی کورٹ میرج کرواتے ہیں۔ ان کے پاس کبھی مقدمات کی کمی نہیں ہوتی ۔ بلکہ عدالتی شادیوں کے نتیجے میں عداوتی مقدمات کا ایسا بیج بو تے ہیں جس سے دوسرے وکیلوں کا دال دلیہ بھی جاری ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ بارکونسل میں ان کی زیادہ آؤ بھگت نہیں ہوتی مگر اعداد و شمار سے ثابت کرنا مشکل نہیں کہ یہی طبقہء وکیلاں ساٹھ فیصد وکیلوں کیلئے معاشی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

قانون کو بدل دیتے ہیں!

کیا کریں طاقت ہاتھ میں ہیں! اہل اقتدار ہیں! جو چاہے آپ کی کابینہ کرے! آپ نہیں ہوں گے تو آپ کے بچے ہوں یہ ملک بنا ہی آپ کی حکمرانی کے لئے ہے انگریز نہ سہی انگریز کے ملک کی شہریت ہی سہی!! ایسے ہی تو نہیں ہم کہتے کالے انگریز!! آپ میں اور اُن میں ایک ہی فرق ہے وہ باہر سے گورے ہیں اندر سے تو دونوں کا حال ایک سا ہی لگتا ہے! جی بلکل ایسا جیسا ہمارا باہر سے ہے، کالا!! اندر کا رنگ دیکھنے کے لئے کوئی خاص ٹوٹکا نہیں کرنا پڑتا بس سامنے والے کے قول و فعل کو دیکھا و پرکھا جاتا ہے۔
اب آپ سے کیا پردہ! بلکہ یہ کہہ لیں آپ کا کیا پردہ سب صاف صاف نظر آ رہا ہے مگر کوئی نا سمجھ بچہ ہجوم میں نظر نہیں آ رہا جو کہہ سکے “بادشاہ بے لباس ہے” ہم تو یہ ہی کہیں گے نہایت عمدہ لباس ہے جو آپ نے پہن رکھا ہے، واہ واہ سرکار واہ واہ۔
قانون کا شکنجہ سب کے لئے ہوتا ہے یہ سب میں سب ہی تھوڑا شامل ہیں۔ سب سے مراد تو عوام ہے عوام! عوام یعنی ہے عام۔
وہ قانون جو اپنی گردن پر فٹ ہوتا ہو جو تو نظام میں فٹ نہیں لہذا قانون بدل دو لہذا فیصلہ ہوا بدل دیا جائے گا!
دوسری ملک کے شہری یہاں کی شہریت لے کر اور یہاں کے "اہل وفا" اُن سے عہد وفا کر کے بھی حکمرانی کا حق رکھیں گے اور وہ عدلیہ کی حکم عدولی پر قابل سزا نہ ہو گے!

سوات معاہدہ اور نظام عدل!

جب سے حکومت و صوفی محمد میں معاہدہ ہوا ہے یار لوگوں نے خیالات کے گھوڑے ڈوڑانا شروع کر دیئے ہیں کسی نے حمایت کی اور کوئی مخالف ہے۔  معاملات کو اُس وقت تک سمجھنا ناممکن ہو گا جب تک فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدہ و اُس کے نتیجے میں جاری ہونے والے نظام عدل کا نہ دیکھ لیا جائے!!
معاہدہ کے اعلان پر کُل نو افراد کے دستخط ہیں، جن میں چھ (صوبائی) حکومت کے نمائندے اور تین تحریک تنظیم نفاذ شریعت کے ممبران کے! دلچسپ یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں یہ انوکھا واقعہ ہے کہ حکومت وقت نے ایک ایسی تنظیم سے معاہدہ کیا جسے وہ کالعدم قرار دیتی ہے۔
اگر اعلان کے متن کو دیکھے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ نیا عدالتی نظام رائج کیا جائے گا!
“ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ کے نظام عدالت کے تعلق میں جتنے غیر شرعی قوانین یعنی قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں وہ موقوف اور کالعدم تصور ہونگے یعنی ختم ہونگے۔ اسی نظام عدالت میں شریعت محمدی جس کی تفصیل اسلامی فقہ کی کتابوں میں موجود ہے اور اس کے ماخذ چار دلائل ہیں، کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع، قیاس و جو اب بافذالعمل ہونگے اس کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں ہو گا۔ اس کی نظرثانی یعنی اپیل کی صورت میں ڈویژن کی سطح پر درالقضاء یعنی شرعی عدالت بینچ قائم کر دیا جائے گا جس کا فیسلہ حتمی ہو گا۔“
یعنی دونوں فریقین ضلعی سطح پر نظرثانی کے لئے حتمی عدالت کے قیام پر متعفق ہیں جسے وہ دارلقضاء کا نام دیا گیا!۔ نیا نظام عدل حکومت تنہا لاگو نہیں کرے گی درج ہے کہ
“حضرت صوفی بن حضرت حسن کے باہمی مشورے سے عدالتی شرعی نظام کے ہر نقطے پر تفصیلی غور کرنے کے بعد اس کا مکمل اطلاق ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ میں امن قائم کرنے کے بعد باہمی مشورے سے کیا جائے گا۔“
مطلب یہ کہ جو بھی عدالتی نظام نافذ ہو گا وہ جناب کے مشورے سے ہو گا! اور شرط امن ہے شاید تب ہی امن ہو گیا! اس اعلان کے علاوہ کسی اور دستاویز پر میرے علم کے مطابق دونوں فریقین میں سے کسی نے کوئی دستخط نہیں کئے!! لہذا غیر مسلح ہونے والی بات نامعلوم کیوں کی جاتی ہے؟ کہیں اور باتیں بھی منسوب کی جاتی ہیں اگر کوئی ہے تو منظرعام پر کیوں نہیں لایا جاتا؟
اب اگر اس اعلان (معاہدہ) کے نتیجے میں نافذ ہونے والے “نظام عدل ریگولیشن“ پر ایک نظر ڈالے تو بھی کافی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں! مثلا دفعہ 2 (b)  کے تحت “دارلدارلقضاء“ سپریم کورٹ کے بنچ کو کہا گیا!  دفعہ 2 (c) کے تحت “دارلقضاء“ دراصل ہائی کورٹ کا بنچ ہو گا!  دفعات ذیل میں ہیں!

دفعہ 2 (b)

Dar-ul-Dar-ul-Qaza” means the final appellate or revisional court, in the said area, designated as such, under this Regulation in pursuance of clause 2 of Article 183 of the Constitution of the Islamic republic of Pakistan

دفعہ 2 (c)

“Dar-ul-Qaza” means appellate or revisional Court constituted by Governor of North West Frontier Province in the said area, under clause 4  of the Article 198 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan

دفعہ 2 (g) کے تحت جج کو قاضی کہا گیا ہے، اس دفعہ کی روشنی میں District and Sessions Judge  کو ضلع قاضی، Additional District and. Sessions Judge  کو اضافی ضلع قاضی، Senior Civil Judge/Judicial  کو اعلیٰ علاقہ قاضی اور Civil Judge/Judicial Magistrate  کو علاقہ قاضی کہا جائے گا! یوں درحقیقت ایک طرح سے لگتا ہے کہ یہ انگریزی اصلاحات کو اردو ترجمہ کیا گیا! مگر اصل اضافی خاصیت (لازمی نہیں) جو اس رکھی ہے جج (قاضی) کے لئے وہ یہ کہ اُس نے شریعہ کا کورس کیا ہو دفعہ 6 (1) میں درج ہے

Any person to be appointed as Illaqa Qazi in the said area shall be a person who is a duly appointed judicial officer in the North-west Frontier Province and preference shall be given to those judicial officers who have completed Shariah course from a recognised institution


اور دفعہ 2 (h) میں یہ بیان کر دیا گیا ہے تسلیم شدہ ادارے سے مراد وہ ادارہ جو بین الاقوامی اسلامک یونی ورسٹی آردینس 1985 کے تحت بنے یا کوئی بھی دوسرا ادارہ جسے حکومت تسلیم کرتی ہو! اورقاضی اپنے فیصلوں کے سلسلے میں نہ صرف دیگر قوانین (جن کی فہرست نظام عدل ریگولیشن کے شیڈول اول کے کالم دو میں دی گئی ہے)  کا پابند ہو گا بلکہ دفعہ 9 (1)  کے تحت وہ پابند ہو گا کہ وہ کیس کا فیصلہ قرآن کریم، سنت رسول، اجماع اور قیاس کی روشنی میں کرے دفعہ میں درج ہے!

A Qazi or Executive Magistrate shall seek guidance from Quran Majeed, Sunna-e-Nabvi (PBUH), Ijma and Qiyas for the purposes of procedure and proceedings for conduct and resolution of cases and shall decide the same in accordance with Shariah. While expounding and interpreting the Quran Majeed and Sunna-e-Nabvi (PBUH) the Qazi and Executive Magistrate shall follow the established principles of exposition and inter2001pretation of Quran Majeed and Sunna-e-Nabvi (PBUH) and, for this purpose, shall also consider the expositions and opinions of recognised Fuqaha of Islam


اور (قاضی) عدالتی کاروائی کی جانچ پرتال دفعہ 6 (3) کے تحت دارلقضاء (ہائی کورٹ) اور ضلع قاضی ماتحت عدالتوں کرے گے! یاد رہے قاضی عدالتوں کا قیام دفعہ 5 کے تحت عمل میں آئے گا اور دفعہ 11 کے تحت نظام عدل کے نفاذ کے بعد جتنی جلد ممکن ہو حکومت عدالتیں قائم کرے گی (جو قائم ہو چکی ہیں بس دارلقضاء کا قیام باقی ہے جس کی پہلے آخری تاریخ 23 اپریل تھی اب مزید وقت بڑھا دیا گیا ہے)۔ اور دفعہ 12 کے تحت دارلقضاء کے فیصلوں کے خلاف اپیل دارلدارلقضاء (سپریم کورٹ) کے پاس ہو گی دفعہ میں درج ہے

Subject to the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, appeal or revision against the orders, judgment or decrees of the Dar-ul Qaza shall lie to the Dar-ul-Dar-ul-Qaza established for the purposes of this Regulation.


اس قانون کی دفعہ 19 کے تحت نظام عدل کے نفاذ کےساتھ ہی ضابطہ فوجداری آرڈینس 2001 ختم ہو جائے گا اور مزید جو میرے لئے دلچسپ تھا کہ سابقہ شرعی نظام عدل ریگولیشن 1999 بھی ختم یعنی کہ پہلے بھی جو قانون نافذ تھا اُس کا نام شرعی نظام عدل ہے!
“نظام عدل ریگولیشن“ کا اطلاق آئین پاکستان کے آرٹیکل 247 کے تحت عمل میں آیا ہے! یاد رہے آئین کے آرٹیکل 246 کے تحت سوات کا شمار “قبائیلی علاقے“ میں کیا جاتا ہے۔ اور آرٹیکل 247 قبائیلی علاقوں میں انتظامی امور سےمتعلق ہے۔ آرٹیکل 247 (3) میں صاف درج ہے کہ مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) و صوبائی اسمبلی کے دار اختیار سے وفاقی و صوبائی قبائیلی علاقے باہر ہیں اور صوبے کا گورنر صدر کی ہدایت یا اجازت سے کوئی قانون یا حکم کسی قبائلی علاقے پر نافذ کرے گا!

No Act of Majlis-e-Shoora (Parliament)] shall apply to any Federally Administered Tribal Area or to any part thereof, unless the President so directs, and no Act of Majlis-e-Shoora (Parliament)] or a Provincial Assembly shall apply to a Provincially Administered Tribal Area, or to any part thereof, unless the Governor of the Province in which the Tribal Area is situate, with the approval of the President, so directs; and in giving such a direction with respect to any law, the President or, as the case may be, the Governor, may direct that the law shall, in its application to a Tribal Area, or to a specified part thereof, have effect subject to such exceptions and modifications as may be specified in the direction


مزید آرٹیکل 247 (4)  کے تحت صدر کسی ایسے معاملے سے جس کے متعلق پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہو اور گورنر صدر کی اجازت سے کسی اسے معاملے سے جس کے متعلق صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار  ہو ایک ریگولیشن بنا کرصوبائی  قبائلی علاقے میں لاگو کر سکتا ہے! (اس سلسلے میں پارلیمنٹ یا صبوبائی اسمبلی کی اجازت کی ضرورت نہیں)۔

Notwithstanding anything contained in the Constitution, the President may, with respect to any matter within the legislative competence of Majlis-e-Shoora (Parliament)], and the Governor of a Province, with the prior approval of the President, may, with respect to any matter within the legislative competence of the Provincial Assembly make regulations for the peace and good government of a Provincially Administered Tribal Area or any part thereof, situated in the Province


اور ایسا ہی اختیار وفاقی قبائلی علاقوں سے متعلق صدر کو  آرٹیکل 247 (5) کے تحت حاصل ہے۔ یاد رہے  آرٹیکل 247 (3) (4) کے تحت ہی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ عمل میں آیا ہے! اور  آرٹیکل 247 کے تحت بنائے جانے والے اور نافذ کئے جانے والے حکم سے متعلق پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی سے تو نہیں البتہ متعلقہ قبائلی علاقے کے رہائشیوں کی مرضی معلوم کرنا ضروری ہے  آرٹیکل 247 (6) میں درج ہے۔

Provided that before making any Order under this clause, the President shall ascertain, in such manner as he considers appropriate, the views of the people of the Tribal Area concerned, as represented in tribal jirga


لہذا صدر کا اس ریگولیشن کو اسمبلی میں پیش کرنے کا مقصد اسے ایکٹ آف پارلیمنٹ بنانا نہیں بلکہ بین الاقوامی دباؤ سےبچنے کا ایک راستہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ ریگولیشن جاری کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے اجازت کی ضرورت نہیں مگر اب یہ کہ جا سکات ہے کیا کریں پارلیمنٹ نے اسے منظور کیا ہے! ورنہ یہ مکمل صدر کا صوابدیدی اختیار تھا۔
اچھا ایک اور دلچسپ بحث ملک میں متوازی عدالتوں کے قیام سے متعلق سننے کو ملتی ہے کہ حکومت کی رٹ قائم نہیں رہتی اور الگ عدالتی نظام رائج ہو رہا ہے! اس سلسلے میں آئین کا آرٹیکل  247 (7) دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اُس میں درج ہے

Neither the Supreme Court nor a High Court shall exercise any jurisdiction under the Constitution in relation to a Tribal Area, unless Majlis-e-Shoora (Parliament)] by law otherwise provides


یعنی آئین پاکستان پہلے ہی کہہ رہا ہے سپریم کورٹ و ہائی کورٹ اپنے اختیارات قبائیلی علاقوں میں استعمال نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ پارلیمنٹ اس سے متعلق کوئی راہ نہ نکالے۔۔۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا رزلٹآتا ہے؟ حکومت نے نظام عدل کے ذریعے ہائی کورٹ (دارلقضاء) اور سپریم کورٹ (دارل دارلقضاء) کا اختیار سماعت ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ تک قائم کیا ہے مگر صوفی محمد سے ہونے والے معاہدہ (اعلان) کی روشنی میں دارلقضاء وہ شرعی عدالت ہوگی جو ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ کی سب سے بڑی عدالت ہو گی۔ فیصلہ وقت پر ہے ۔

نظام عدل ریگولیشن ۲۰۰۹

آئین پاکستان کی دفعات 246, 247۔

swat-agreement