ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: September 2008

اگر اجازت ہوتو لپٹ جاؤں؟

بقول سی این این کے پاکستان کے صدر نے تو Alaska کی گورنر اور نائب صدر کی امیدوار سے بس اتنا کہا تھا
“آپ تو بہت ذیادہ حسین ہے جتنا کہ آپ دیکھتی ہیں (آواز مدہم) پر“
“شکریہ، کرم نوازی آپ کی“ سارہ پالین
“اب میں سمجھا سارا امریکہ آپ کو دیوانہ کیوں ہے“ زرداری
(جب سارہ اور زرداری ہو تصاویر کے لئے دوبارہ ہاتھ ملانے کو کہا تو)
“میں سمجھتی ہوں دوبارہ ہاتھ ملانے کا انداز اپنانا پڑے گا“ سارہ پالین
“اگر اس نے مجبور کیا تو، ممکن ہے میں گلے لگا لو“ زرداری!

بس اتنی سی بات! اور یار لو ہو گئے ناراض! پریشان ہو گئے ہیں، یہ اپنے زرداری صاحب کیا کر بیٹھے؟ کیا ہوا بھائی؟ اس میں ناراض ہونے والی کیا بات؟ جس پر تبصرہ ہوا وہ تو خوش ہے؟ سارہ پالین نے تو صحافیوں سے ملاقات کو very informative اورhelpful قرار دیا ہے!
ویسے بھی یہ کوئی بات نہیں پالین جی کو تو بالغان کے رسالے کے لئے بھی آفر آئی تھی! اور جان میکن کی صدرارتی مہم کو کو نشانہ بنایا گیا ہے!
یہ تو کچھ بھی نہیں یا! بے شک زرداری اسلامی جمہوریہ کے صدر ہیں!!! مانا کہ رمضان چل رہے ہیں!
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! (شریف حضرات ذیل کی تصویر کو دیکھنے سے پر ہیز کریں! روزہ خراب ہونے کی صورت میں آپ خود ذمہ دار ہوں گے، آرام نہ آنے کی صورت میں مولوی سے رجوع کریں)!

Sarah

صدراور Spelling bee

ہمارے صدر صاحب ہمارے باقی صدور سے یوں مختلف ہیں کہ جیسی شہرت باقی پاکستان کے سابقہ صدروں کو اپنے آخری دور میں حاصل ہوئی انہیں اپنے اقتدار کے آغاز میں ہی مل گئی! یہ پہلی دفعہ ہے کہ ایک آنے والے صدر کو یار لوگ اُن ہی کلمات سے یاد کر رہے ہیں جیسے جانے والوں کو یاد کیا جاتا ہے! وہ تمام “خوبیاں“ ابتدا میں ہی سامنے آنے لگ پڑی ہیں جو عام طور تحت سے ان سربراہان مملکت کے بچھڑ جانے پر یاد آتی ہیں!
یار لوگ ہم انگریزی کے ماروں کو ویسے بھی بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں مگر ہمیں کیا ہم تو ہیں ہی اردو میڈیم (لو انگریزی کا لفظ استعمال کر لیا) کے مارے ہوئے،لہذا ہم سے غلطی ہو تو کوئی کفر نہیں ہوتا! پھر یاروں نے اپنے وزیراعظم کی انگریزی پر تنقید کی تو ہم نے آگاہ کردیا جناب یہ ملتانی بھی اردو میڈیم کا مارا ہوا ہے!
ابتدا میں ہمیں اپنے صدر کے گریجویٹ ہونے پر شبہ تھا مگر اُن کے اہل بیت نے ہمیں آگاہ کیا جناب وہ نہ صرف گریجویٹ ہیں بلکہ برطانیہ کے ڈگری تافتہ ہیں! ساری ٹینشن دور ہوگئے چلو حکمرانی کا سرٹیفکیٹ لے کر آیا ہے! ورنہ تو کیا مزا! پہلے ہی ہمیں لوکل سربراہ پسند نہیں، مغربی ذرائع ابلاغ کو جب جناب میں انٹرویو دیئے تو اچھی بھلی انگریری بولی! مگر یار لوگ پیچھا نہیں چھوڑتے! کہتے ہیں کہ انگریزی لکھنے کی قابلیت صدر صاحب میں نہیں!
زرداری کی قابلیت

پچھلے دونوں جناب کراچی آئے اس لئے قائداعظم کے مزار پر بھی حاضری دی وہاں موجود ڈائری پر لکھی گئی تحریر کی تصاویر اتار کر یار لوگ صدر کی انگریزی کی قابلیت کو نشانہ بنا رہے ہیں! کہتے ہیں کہ GOD اور STRENGTH کی Spelling جناب نے غلط لکھی ہیں! حد ہو گئی ہمارا صدر ہے کوئی Spelling bee تو نہیں!

اب آپ کہے گے “منزل انہیں ملی جو شریک حیات تھے“ غلط بات ہے! قابل بھی ہیں!

سمجھو!

کتاب کی عزت کرنا سیکھے! اگر اسے نہ پڑھیں تو یہ تمہاری ماں اور پڑھ لیں تو یہ تمہاری اولادیں!

امداد و قوت

جب ہم چھوٹے تھے تو بچوں کی کہانیاں کافی شوق سے پڑھا کرتے تھے! کئی کہانیاں ہمیں سمجھ بھی نہیں آتی تھیں! ایک ایسی ہی کہانی کچھ یوں تھی!
کہتے ہیں ایک ملک خداداد میں رعایا کافی سکون سے رہ رہے تھے، ملک کی آبادی توحید کی قائل تھی! جو کچھ بھی مانگنا ہوتا رب تعالٰی سے طلب کرتی! ایک بار مشہورہو گیا کہ ملک خداداد کے گنجان جنگل میں ایک درخت ہے اُس کے سامنے کھڑے ہو کر جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی، کئی لوگوں نے دعا مانگی اور وہ قبول ہو گئی، ہوتے ہوتے یہ سلسلہ اس قدر بڑھ گیا کہ عوام گمراہ ہو کر اُس درخت کی عبادت کرنے لگ پڑے۔ جب اس کا علم اُس علاقے کے ایک چھوٹے دوکاندار بہادر ہو ہوا تو اُسے بہت غصہ آیا اُس نے اپنی کلہاڑی لی اور درخت کاٹنے کے لئے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا! کہ نہ درخت ہو گا نہ یہ گمراہی مزید پھیلے گی! جب وہ جنگل کے قریب پہنچا تو شیطان ایک پہلوان کے روپ میں اُس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا! پہلے شیطان نے اُسے پیار محبت سے روکنے کی کوشش کی لیکن بہادر نے اُس کی ایک نہ مانی اور وہ اپنے ارادے پر قائم رہا! پھر شیطان اُسے دھمکیاں دینے لگ پڑا مگر بہادر ٹس سے مس نہ ہوا، آخر دونوں میں کُشتی ہوئی اور بہادر سے پہلے ہی وار میں شیطان کو اُٹھا کر دور دے مارا! شیطان کو سمجھ آ گئی کہ لڑائی میں اس شخص کو مات دینا ممکن نہیں لہذا شیطان نے فورا نیا تیر چلایا! اُس نے اُسے آفر کی کہ اگر تم اُس درخت کو نہ کاٹو تو میں تمہیں پانچ سو درہم دوں گا! بہادر نے انکار کر دیا! اُس نے کہا میں ہر ماہ تمہیں اتنی رقم ادا کرو گا! بہادر لالچ میں آ گیا اور پانچ سو درہم اُس ہی وقت لے کر واپس چلا آیا!
قریب پانچ ماہ تک شیطان نے اُسے ہر ماہ پانچ سودرہم دیئے! پھر اچانک یہ سلسلہ رک گیا! ابتدا میں بہادر کو پانچ سو درہم کا انتظار رہا پھر اُسے اندر سے ملامت ہونے لگی! لہذا ایک بار پھر وہ کلہاڑی لے کر وہ درخت کاٹنے کے لئے نکل گیا! اب کی بار پھر پرانے والے مقام پر شیطان اُس ہی پہلوان کے روپ میں اُسے ملا، اُس نے پرانے والئے انداز نے پہلے پیار سے پھر ڈرا دھمکا کر اُسے روکنا چاہا، آخر دونوں میں لڑائی ہوئی اور بہادر نے شیطان کو چاروں شانے چت کر دیا! آخر میں شیطان نے پھر لالچ والی ترتیب آزمائی اور بہادر نے انکار کر دیا! شیطان نے انکار کیا تو شیطان نے سو درہم بڑھا دیئے، پھر ہوتے ہوتے بہادر آٹھ سو درہم پر درخت نہ کاٹنے پر راضی ہو گیا!
اب کے کوئی تین ماہ بعد ہی شیطان نے رقم کی ادائیگی روک لی، بہادر اب کے جو گھر سے نکل کر جنگل کی طرف بڑھا تو شیطان نے راستہ روک لیا! دونوں میں لڑائی ہوئی اور شیطان نے بہادر کو وہ چاروں شانے چت کر دیا! بہادر کچھ بھی نہ کر سکا! اور شاید اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا!
کہانی لکھنے والے نے بعد میں بتایا کہ حرام کھانے سے برائی کو روکنے کی قوت ختم ہوجاتی ہے! میں یہ سمجھا کہ جس سے مانگ کر کھایا جائے اُس کے خلاف لڑنا ممکن نہیں ہوتا نہ ہی سکت ہوتی ہے! یہ انفرادی واجتماعی سطح دونوں صورتوں میں درست ہے؟
ہم بیرونی دنیا سے امداد کے طالب رہے ہیں! لیتے رہتے ہیں! ہماری نئے وزیراعظم بھی امریکہ کا ایک دورہ اس لئے کر چکے، ہمیں فوجی و سویلین امداد لینی ہوتی ہے!ایسی میں وہ کیا ہے جو ہم رہن رکھ کر آتے ہیں؟؟؟ خوداری و عزت!
یار لوگ ناراض ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر زمینی حملہ کیا بیس افراد جان بحق یا ہلاک (اب شہید کہوں گا تو اپنے ہی مارے گے) ہوئے، اور پاکستان نے کیا کیا؟ ارے بابا پارلیمنٹ نے قرارداد مذمت پاس کردی، دفتر خارجہ نے مذمتی و احتجاجی بیان کافی نہیں ہے کیا! اور بھی امداد لینی ہے! بند ہو گئی تو پھر؟ دہشت گردی کی یہ جنگ جاری رکھنی ہے ناں!
War on?
ویسے آج یوم دفاع ہے آپ کو مبارک ہو! یوم دفاع!

ٹیم ورک

زندگی میں ہر کسی کو کسی وقت دوسرے کی مدد درکار وہتی ہے!

زندگی میں ہر کسی کو کسی وقت دوسرے کی مدد درکار ہوتی ہے!