10/20/2010

زخمی کراچی

آج  کراچی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا او معافی چاہتا ہوں آج یوم سوگ تھا کراچی میں۔ طاقت کی لڑائی ہے، کراچی ایک بڑا شہر ہے بڑے شہر کو ہاتھ میں رکھنا ضروری ہے، خواہ "اُن" کو اس کے لئے "کچھ" بھی کرنا پڑے۔
افواہوں کا بازار گرم ہے، اور خوف سے شہریوں کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے، شہر میں خبروں کے مطابق کوئی پاکستانی نہیں مر رہا بلکہ مرنے والوں کی گنتی اُن کرتے وقت اُن کا پنجابی، پٹھان، مہاجر، سندھی اور بلوچی ہونا دیکھا جاتا ہے مارنے والوں کی پہچان بھی اس ہی فارمولے سے کی جا رہی ہے، اور تہذیبی انداز الزام لگانے کا یہ اپنایا گیا ہے کہ آپ لسانیت کے اس جھگڑے کو سیاسی گروہوں کی بنیاد پر یوں بتائے کہ کون ANP کا ہے، کتنے MQM کے اور کو پیپلز امن کمیٹی کا!
یہ لسانیت کی سیاست شہر سے انسانیت کو کھا رہی ہے، لسانیت و تشدد کے ملاپ سے پروان چھڑنے والی یہ سیاسی نفرت نے شہر میں بسنے والوں کو آپس کے خوف میں مبتلا کرنا شروع کردیا ہے، جیسے ہی میڈیا نے خوف کی اس فضاء میں کرفیو کی کی غیر مستند خبر نشر کی اہل فساد نے ساتھ ہی آپریشن کا شوشا بھی چھوڑ دیا۔اختلاف کو نفرت کے روپ میں سینوں میں پالنے والوں نے اپنی نفرت کے زیر اثر اُس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا!
خدا خیر کرے لندن سے اسلام آباد تک سب مفاد کی جنگ میں طاقت کے حصول کے لئے لسانیت کی سیاست میں مبتلا ہیں۔ اور اُن کے اندھے پیروکار اس لڑائی میں "قوم" و "قومیت" کا تصور سمیٹ کر "بولی" تک کی طرف سفر میں گامزن ہے۔

لہو کے رنگ سے رنگین ہیں دیوارو در میرے
شہر سے ناگہانی موت کا سایہ نہیں جاتا
جواں لاشے ،تھکے کاندھے،لزرتے قدم ہیں میرے
الہٰی، کرم فرما،بوجھ اب یہ اٹھایا نہیں جاتا


5 تبصرے:

  1. وکیل صاحب، آج دن کو خبروں میں سنا کہ ملیر میں غالباّ جلوس پر فائرنگ ہوئی ہے۔ خبر سنتے ہی آپ کا خیال آیا، آپ ملیر میں ہی ہیں ناں؟ خدارا اپنا خیال رکھیں اور احتیاط کریں۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ لسانیت کي جنگ کراچی میں سب سے پہلے کب شروع ہوئی اور کس نے شروع کی۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. پتہ نہیں کس کی اس روشنیوں کےشہرکی نظرلگ گئی ہےجوشہرامن کاتھااس کولسانیت کےعمیق گڑھےمیں پھینک دیاگیاان جماعتوں کواتنی چھوٹ کیوں دی گئي کہ وہ اس طرح طاقت حاصل کرلیں کہ حکومت بھی ان کابال نہ بیکاکرسکے۔ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم وکرم کردے۔ آمین ثم آمین

    جواب دیںحذف کریں
  4. میرا پاکستان صاحب، لسانیت کی جنگ کی بنیادیں ایوب خان کے زمانے میں انکے بیٹے گوہر ایوب نے رکھی۔ جسے بھٹو کے زمانے میں شہہ دی گئ۔ بعد میں ضیاءالحق ، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ حصہ بقدر سیاسی جثہ۔
    اب آپ کہیں گے اس میں آپ نے تو ایم کیو ایم کو نکال دیا۔ تو جواب یہ ہے کہ ایم کیو ایم ان سارے عوامل کا نتیجہ ہے۔ انگلش کا محاورہ ہے ٹیٹ فار ٹیٹ اور اردو میں کہتے ہیں اینٹ کا جواب پتھر سے۔ اب پتھروں کا سامنا کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ جو بویا ، جسکی آبیاری کی اسکا سامنے کرنے سے کیا گھبرانا۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔