12/24/2010

دلچسپ قصہ

یہ 20 دسمبر کی بات ہےسندھ بلکہ ملک کی ایک بااثر شخصیت سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سندھ کی عدالت میں اپنے کیس کی باری کا انتظار کر رہے تھی بتا دوں یہ شخصیت سندھ کے چیف منسٹر رہ چکی ہے، اس کے علاوہ یہ چند ایک صوبائی وزارتوں کا مزا بھی چکھ چکے ہیں! بہرحال اتنے میں ایک شخص جو خود بھی اپنے کسی کیس کے سلسلے میں عدالت میں تھا اُس شخصیت کی طرف بڑی حیرانگی سے دیکھنے لگا،
پھر اُس سے مخاطب ہوا "سر میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے"
وہ شخصیت کچھ تذذب کا شکار ہوئے اتنے میں اُن کے برابر میں بیٹھے اُن کے اسسٹنٹ حرکت میں آئے اور اُن شخصیت کے بارے میں گویا ہوئے "یہ 'فلاں' شخص ہیں"
وہ بندہ بولا "نہیں میں نام سے نہیں شکل سے پہچان رہا ہوں"
(اُس وقت میری ہنسی چھوٹنے والی تھی مگر عدالت کے احترام میں خود پر قابو پانا پڑا)
وہ پی اے پھر گویا ہوا "یہ سابق چیف منسٹر سندھ رہ چکے ہیں! وہ فلاں فلاں وزارت بھی ان کے پاس رہی ہے"
وہ اُس بندے نے کہا "اچھا اچھا تب ہی ان کی شکل کچھ دیکھی دیکھی لگی، ٹی وی پر دیکھا ہو گا پھر، سمجھ گیا!! ابھی والے چوروں سے پہلے آپ کو بھی ایک موقعہ مل چکا ہے"
(یہ سننا تھا اور میں عدالت سے باہر آ گیا وجہ صاف تھی میرے لئے اب ہنسی کو قابو رکھنا ممکن نہیں ہو رہا تھا)

8 تبصرے:

  1. بھائی آپکے بلاگ پر یہ میرا پہلا تبسرہ ہے۔۔۔۔
    آپکی تحاریر پڑح کر کافی لطف اندوز ہوا ہوں۔۔۔۔ آپ کے پاس واقعات کی بہت ورائٹی ہے جو آپ یہاں بیان کرتے ہیں اور پڑھ کر ہم جیسے لوگ بہت لطف اٹھاتے ہیں۔۔۔
    امید ہے یہاں آنا جانا لگا رہے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت خوب!

    اچھی بے باکی کا مظاہرہ کیا موصوف نے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. میری رائے میں یہ بے باکی نہیں ہی نہیں بلکہ موصوف نے ایک چور کو بھرے بازار(عدالت) میں چور کہا ہے۔ اگر پاکستانی قوم اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کر لے کہ چوروں انکے منہ پہ چور کہہ دے تو آہستہ آہستہ چوروں سے نجات پانے کی ہمت بھی بھی ہم میں در آئے گی۔ مگر ادہر تو یہ عالم ہے کہ جو سب سے بڑا چور اسے سب سے بڑا وی آئی پی سمجھتے ہوئے ۔ ہٹو ۔ بچو کی اسقدر ہا ہا کار مچائی جاتی ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ پولیس اور دیگر اداروں کی اٹھان حکومت وقت کے چوروں کی چاپلوسی کرنے کے لئیے کی جاتی ہے مگر اس ہٹو بچو کی ہاہا کار میں اکثر بیشتر عوام بھی ایسے چور لوگوں کی خوشامد اور چاپلوسی کرنے میں نظر آتے ہیں ۔ جس سے اس طرح کے لوگ اپنی کرپشن پہ بجائے ایک چور کی سی ندامت محسوس کرنے کے اپنے آپ کو فعون سمجھنے لگتے ہیں۔

    عوام کی یہ ذہنیت بدلے جانے کی ضرورت ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. اچھا کیا وکیل صیب کورٹ میں ہنستے تو۔۔۔
    آپ کا کورٹ وہ کیا ہوتا ھے جی۔۔۔۔۔
    آپ کا کورٹ جارنڈ ہوجاتا شاید جج صیب گھنٹی بجاتے ہیں۔کورٹ جارنڈ کہتے وقت۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. @Javed Gondal
    You are absolutely right...people praise these corrupt people...

    جواب دیںحذف کریں
  6. بہت دلچسپ - صرف اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے کہ موصوف سابق توپچی کے چہرے پر کیا تاثرات ہونگے

    جواب دیںحذف کریں
  7. آپ کی ہمت کی داد دینی پڑے گی

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔