ہمارے رویے ہمارے معاشرتی و نظریاتی سوچ کا عکاس ہوتے ہیں! آپ لاکھ چاہے مگر اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے! جسے ہم اچھا جانے اُس کی برائی سے آگاہی کے باوجود اُس وقت تک اُس فرد سے بدظن نہیں ہوتے جب تک کہ اُس کی ذات سے ہمیں خود یا ہمارے کسی نہایت عزیز کو نقصان نہ ہو۔
اپنے معاشرے میں پائے جانے والے سیاسی کرداروں کو ہم رہبرو رہنما سے آگے کا درجہ دے دیتے ہیں اور جو نا پسند ہو اُسے بُرے القاب سے نوازتے ہیں!
آج والد صاحب نے ایسے ہی رویے سے متعلق ایک تازہ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا! کہنے لگے کل میں دفتر سے واپس آنے رہا تھا تو ایک صاحب نے لفٹ مانگی! میرے ڈپارٹمنٹ کا تو نہیں تھا مگر چونکہ وہ بھی یونیفارم میں تھا لہذا میں نے اُسے لفٹ دے دی راستے میں ایک جگہ “بے نظیر بھٹو” کی تصویر دیکھ کر جناب نے دونوں ہاتھ اُٹھا اور انکھوں سے لگا کر عقیدت سے بولے “رانی! شہید ہے!” اور ہاتھوں کو چوم لیا! کچھ اور آگے گاڑی بڑھی تو زرداری صاحب کے پوٹریٹ کو دیکھ کر بولے “تھو! یزید ہے”
کیا کہتے ہیں؟
پہلی بات سے اتفاق کریں نہ کریں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریںہم بھی یہی کہتے ہیں ۔۔ “تُھو! یزید ہے”
میرا خیال ہے اس فوجی نے کافی حد تک درست کہا ۔ وجہ ؟
جواب دیںحذف کریںبینظیر موت کے وقت حقیقی مسلمان تھی یا نہیں یہ تو صرف اللہ ہی جانتا ہے لیکن بظاہر وہ مسلمان تھی چنانچہ شہادت کا نچلا درجہ جو قتل کی صورت میں مسلمان کو ملتا ہے اس کے مطابق اس آدمی کا خیال درست ہے
رہا آصف علی زرداری تو اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں
میں نے کب کہا ہے وہ بندہ فوجی ہے ?
حذف کریںجناب نے دونوں ہاتھ اُٹھا اور انکھوں سے لگا کر عقیدت سے بولے “رانی! شہید ہے!” اور ہاتھوں کو چوم لیا! کچھ اور آگے گاڑی بڑھی تو زرداری صاحب کے پوٹریٹ کو دیکھ کر بولے “تھو! یزید ہے”
جواب دیںحذف کریںواہ رے عقیدت تیرے کیا کہنے۔