7/11/2012

بلا عنوان

میں ملک کے لئے اپنی جان تک دے سکتا ہوں! یہ جھوٹ نہیں سچ ہے ایسے دعوی وہ کرتے رہے ہیں جو عمل سے ایسا نہیں کر سکتے۔ دوسرے کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ میں سچا ہو بات کے آغاز میں کلمہ پڑھنے والے اکثر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ جو کہتے ہیں اخلاقیات بہت اہم ہیں وہ خود اس کی تردید اکثر اپنے عمل سے کرتے ہیں اور سوال کرنے پر اپنے اشارے، عمل اور کئی بار زبان سےہی کہہ دیتے ہے کتابی باتیں کتابوں میں اچھی لگتی ہے۔
اُوپر سے منظور شدہ “میرٹ” لیسٹ میں سے اب چناؤ اہلیت و قابلیت کا نہیں ہوتا جہالت کا ہوتا ہے جو کم جاہل ہو گا نوکر ہو جائے گا البتہ کم جہاہل کے چناؤ کے عمل میں کئی اہل و قابل افراد کو اس لئے مدعو کر لیا جاتا ہے کہ اُن میں مایوسی کے بیج کو بو کر اُن کو کسی قابل نہ رہنے دیا جائے۔
قانون معاشرتی اخلاقیات و رواجات سے جنم لیتے ہیں، جب اخلاقیات و رواجات بہتر تھے تو جو قانون بنے وہ اب اہل اقتدار کے راہ میں دشواریاں پیدا کرتے ہیں لہذا نئے “میعار” کی روشنی میں ترمیمات کی جائیں گی کہ کوئی “گرفت” میں نہ آئے۔

1 تبصرہ:

  1. حضور اس کا بیج تقریباً چار دہائیاں قبل بویا گیا تھا جو اب تناور درخت بن چکا ہے ۔ ایک نعرہ تھا روٹی کپڑا مکان ۔ اسلام آباد میں ایک روٹی پلانٹ نجی شعبہ مں لگوا کر نعرے لگائے گئے کہ ایک وعدہ پورا ہو گیا ۔ دوسرا تھا کہ ملازمیں میں چار کلاسیں ہیں ہم انہیں ختم کر دیں گے پھر چپراسی بھی فیڈرل سیکریٹری بن سکے گا ۔ بنا دیں 23 یا 24 کلاسیں اور جو پہلے قابلیت کی بنا پر سیکریٹری بن جاتے تھے وہ ایڈیشنل سیکریٹری بھی بننے سے رہ جاتے ہیں
    لیکن عوام ہے کہ ووٹ لُٹیروں کو ہی دیتی ہے

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔