2/14/2012

ویلنٹائن ڈے بارے

حقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ویلنٹائن ڈے پو 85 فیصد کارڈ خواتین خریدتی ہیں اور 15 فیصد مرد۔ کل خریداروں کی تیس فیصد تعداد ایسے ہے جو ایک سے ذیادہ کارڈ خریدتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ویلنٹائن ڈے پر پھول خریدنے والوں میں 75 فیصد مرد اور 25 فیصد خواتین ہوتی ہیں جبکہ 18 فیصد خواتین ایسی ہیں جو خود اپنے لئے پھول خریدتی یا منگواتی ہیں خریدتی ہیں۔

قریب ایک تہائی مرد ویلنٹائن ڈے پر تحفہ وصول کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے اوی 22 فیصد کے قریب خواتین ایسی ہوتی ہیں۔

ہر ویلنٹائن ڈے پر قریب 55 سے 60 فیصد امریکن خواتین اس عزم کا اظہار کرتی ہیں کہ اگر اُن کے پاٹنر نے اُنہیں اس ویلنٹائن پر تحفہ نہ دیا تو وہ اُسے چھوڑ دے گی پھر بھی اکثر مردوں کی جان نہیں چھوٹتی اور اکثریت خواتین اپنے طور پر وجہ تراش کر انہیں معاف کردیتی ہیں۔

ویلنٹائن ڈے پر سب سے ذیادہ کارڈ بچوں کی جانب سے اپنے ٹیچر کو موصول ہوتے ہیں۔

ایک اور تحقیق کے مطابق ویلنٹائن ڈے کے موقعے پر کئی نو عمر بچے و بچیاں ویلنٹائن نہ ہونے پو احساس کمتری کا شکار ہوتی ہیں جن میں سے ایک مخصوص تعداد خودکشی کی کوشش بھی کرتی ہے۔

ایک رائے کے مطابق چالیس فیصد افراد ویلنٹائن سے متعلق منفی رائے رکھتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 10 ملین افراد ویلنٹائن ڈے پر خریدا گیا تحفہ دراصل اپنے پالتو جانور کو دیتے ہیں۔

26 فیصدویلنٹائن ڈے کی مخالفت کرنے والے گھر کی چار دیواری میں کسی ناں کسی کو ہیپی ویلنٹائن کہتے ہیں اسی طرح 13 فیصد تعداد ایسی ہے جو صرف اپنے پاٹنر سے ویلنٹائن کی مخالفت کرتے ہیں۔

(اس کے علاوہ بھی انٹرنیٹ پر کئی دلچسپ فیٹ تھے مگر وہ قابل سنسر تھے لہذا اُن کا ذکر نہیں کر رہے)

3 تبصرے:

  1. اور فار ایور الون کے بارے تو آپ نے کچھ لکھا ہی نہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. يہ ميلے ٹھيلے دراصل حقائق سے چشم پوشی يا پھر يوں کہہ ليجئے کہ احساسِ کمتری کا مداوہ ہوتے ہيں ۔ ماں کو سب سے زيادہ پير اپنے بچے سے اور اس کے بعد يا برابر بچوں کے باپ سے ہوتا ہے ۔ اپنے والدين بالخصوص ماں سے بھی بہت پيار ہوتا ہے ۔ ميں نے آج تک ان ميں سے کسی کو ويلنٹائن مناتے نہيں ديکھا

    جواب دیںحذف کریں
  3. یہ کہیں نہیں لکھا تھا کہ کتنے فیصد اس دن ٹھنڈی آہیں بھر کر دن گزارتے ہیں؟؟

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔