6/19/2011

یہ کیا بات ہوئی؟

دنیا میں اب تک تمام کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کی مشہوری کرتی ہی وہ بتاتی ہے کہ ہماری اس پروڈکٹ میں یہ خوبی ہے آپ اسے ضرور استعمال کریں اور اگر آپ اس کو وافر مقدار میں استعمال کریں گے تو آپ کو یہ یہ رعاتیں دی جائِں گی۔ صارف تک پہنچنے کے لئے وہ باقاعدہ تشہیر کے لئے الگ بجٹ مختص کتی ہیں مگر۔۔۔۔۔ اس کے بر عکس اپنے پیپکو والے اپنی پروڈکٹ کے بارے میں کہتے ہیں کم سے کم استعمال کرو، لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ کم سے کم بجلی استعمال کرو اور وافر استعمال کرع گے تو اور مہنگی ملی گی باقاعدہ تشہیر کرتے ہیں اور اپنے اس پیغام کو بذریعہ تشہیر عوام تک پہنچانے کے لئے باقاعدہ رقم مختص کرتے ہیں مگر عوام ہے کہ مانتی ہی نہیں!! یہ کیا بات ہوئی؟ چلیں رہنے دیں اشتہار دیکھے!

;

اور یہ گانا بھی



++++++++++++

ماہرین نے بلاتحقیق یہ بات ثابت ہونا تسلیم کر لی ہے کہ دنیا میں ہونے والی تمام طلاقوں کی پہلی اہم وجہ دراصل کوئی اور نہیں بلکہ خود شادی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ تمام شادیوں کا انجام طلاق نہیں ہوتا مگر اس حقیقت سے انکار کیا جانا نہ ممکن ہے کہ بغیر شادی ہے طلاق دی جا سکے، اس ہی سلسلے میں پروفیسر نا معلوم نمبر 1 نے تحقیق کئے بغیر زبان کھولی کہ شادی طلاق کی واحد وجہ نہیں مگر اولین وجہ ضرور ہے اُن کا کہنا تھا کہ ہم جو طلاق پر بلا تحقیق یہ بات کہہ رہے ہیں اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم خود شادی شدہ ہیں یا ہم میں سے اکثر کے نہایت قریبی رشتہ دار یا دوست وغیرہ، ماہر نامعلوم نمبر 2 کا کہنا تھا کہ طلاق کی تعداد میں ہم دوسری و تیسری وجہ یا دیگر وجوہات کو دور کر کے ہی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ طلاق پہلی وجہ یعنی شادی کے اختتام کا موجب بنتی ہے یوں پھر باقی وجوہات ثانوی ہو جاتی ہیں پروفیسر نامعلوم نمبر 3 نے پروفیسر نامعلوم نمبر 2 کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہان یہ بات درست ہے کہ اول وجہ شادی ہی ہے طلاق کی لہذا اگر اس سلسلے میں شادی کا نہ ہونا طلاق کے نہ ہونے کی اولین گارنٹی ہے!! جب اس رپورٹ پر ملک کے مشہور ماہر نامعلوم نمبر 4 سے پوچھا گیا تو انہون نے ماہرین کے ناموں کے بارے میں جاننا چاہا جب بتایا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کے خوف سے نام بتانے سے گریذہ ہیں تو پروفیسر نامعلوم نمبر 4 نے کہا یہ کیا بات ہوئی؟ بعدازہ انہوں نے ہمارے رپوٹر نامعلوم کو فون کر کے اپنا نام شائع نہ کرنے کو کہا کہ دراصل میری بیوی کہیں یہ رپورٹ نہ پڑھ لے ویسے بات ٹھیک ہی ہے۔

7 تبصرے:

  1. بہت خوب، بہت اچھی تحریر ہے مزہ آیا پڑھہ کے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. ہر چیز کا مذاق بن جاتا ہے اور لوگ ہنس کے خوش ہوتے رہتے ہیں جبھی تو حکومت توجہ نہیں دیتی کہ ہر حال میں خوش رہ ہی لینا ہے عوام نے ۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت خوب جناب۔ ۔ ۔
    بہت شگفتہ پیرائے میں بات کہی۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. اگر ان اشتہارات پر خرچ ہونے والا کروڑوں روپیہ کسی تعمیری مقاصد میں استعمال کیا جاتا تو ان اشتہارات کی ضرورت نا پیش آتی

    جواب دیںحذف کریں
  5. عبدالقدوس کی بات سے اتفاق کرتا ہوں اگر یہی کروڑوں روپیہ کسی تعمیری کام پر لگایا جاتا تو اس طرح کے اشتہارات کی نوبت ہی نہ آتی۔
    ویسے ”میرے ملک کی بجلی“ سن کر مزہ آیا بلکہ دو دفعہ سنا۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. یہی تو اس ملک کا علمیہ ہے پیپکو کی تشہیری مہم کو تو چھوڑیئے جناب یہاں تو اپ بجٹ کی تشہیر کے لیے بھی کڑوڑں روپے لگاے جاتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  7. المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ہم خود بھی یہ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔۔اربوں ٹن کے کوئلے کے ذخائر کوئلہ ہو رہے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔