6/15/2011

سماجی میڈیا کانفرنس

گزشتہ ہفتہ ہم نے آواری ٹاور میں پاکستان (منتظمین کے بقول) کی پہلی بین الاقوامی سماجی میڈیا کانفرنس میں شرکت کی!!۔ اس کو کو امریکی قونصلیٹ نے منعقد کیا تھا، ہاں جی خرچہ اُن ہی کا تھا، اور شرکاء کو دیئے جانے والے اکثر تحفے بھی۔ اس تقریب کو بظاہر پی سی ورلڈ نامی گروپ کی طرف سے منعقد کیا گیا! یعنی کہ International Data Group, Inc نے۔تقریب کا دعوتی و ادارے کے تعارف کا پیج اب اُن کی ویب سائیٹ سے نہ صرف غائب ہے بلکہ فرنٹ پیج بھی ہٹا لیا گیا ہےمزید یہ کہ  ان کے ٹویٹر آکاونٹ میں بھی آخری اپ ڈیٹ آٹھ جون یعنی کانفرنس سے دو دن قبل کی ہیں مزید جس سے کچھ اچھا تاثر نہیں اُبھرتا! اور یوں لگتا ہے کہ سب کچھ ایک "خاص پریکٹس" کے لئے کیا گیا۔

اس کانفرنس میں تین اردو بلاگر بھی شریک تھے ایک محمد اسد (جو اپنی نیوز ایجنسی کی طرف سے اس کی کوریج کرنے آئے تھے بطور بلاگر نہیں)، عمار اور میں (ہم اُن کی دعوتی لسٹ میں نہیں تھے اول اول مگر پھر دعوتی میل مل گیا!!)، اس کانفرنس کی روداد عمار نے تحریر کرنی (پہلا حصہ وہ تحریر کر چکے ہیں) ہے دیکھے باقی کا کب مکمل کرتے ہیں! اس کانفرنس کی دوران ایک ویڈیو بطور پرومو چلتی رہی جس میں بیان کی گئی معلومات نہایت عمدہ ہیں اور کام کی مگر اس میں ایک خامی تھی جو مجھے اچھی نہیں لگی!!! پاکستان کے نقشہ میں کشمیر نہیں تھا!! ویڈیو دیکھ لیں!

اس کانفرنس کو اٹینڈ کر کے میں نے محسوس کیا کہ اردو بلاگنگ سے متعلق ایک ورک شاپ نہ لے کر (اس سلسلے میں سستی کا مظاہرہ کر کے) ہم نے غلطی کی ورنہ ایسا کرنا مشکل نہ تھا۔

اپڈیٹ:- پی سی ورلڈ پاکستان کی ویب سائیٹ واپس آ گئی ہے۔

8 تبصرے:

  1. یہ وہی کانفرنس تھی جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں چونتیس لاکھ بلاگر ہیں ؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. اچھا تو آپ نے شرکت کی تھی میں نے تو اس پر پوسٹ بھی لگا دی کہ اردو بلاگر کو پتہ نہیں دعوت بھی دی گئی تھی کہ نہیں لیکن جو ویڈیو انھوں نے بی بی سی پر لگائی ہے اس میں تو آپ اور عمار کہیں نظر نہیں آ رہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. جب میں تقریب میں پہنچا دوسرے دن تو بی بی سی والے اپنی ریورٹ بنا کر واپس ہو رہے تھے!! شاید اس لئے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. یہ بھی ہو سکتا ہے اور ہاں پاکستانی نقشہ میں کشمیر کا نا ہونا سن کر حیرت ہوئی تھی لیکن گوگل پر سرچ کیا تو بہت ساری ویب سائیٹ پر جو پاکستان کا نقشہ ہے اس پر کشمیر نہیں ہے

    جواب دیںحذف کریں
  5. يورپ ہو يا امريکا نقشوں ميں پورا جموں کشمير بھارت ميں دکھايا ہوتا ہے ۔ اس امر کی طرف ميں نے 1967ء ميں اپنے پہلے دورہ يورپ کے بعد متعلقہ افسران کی توجہ مبزول کی تھی ۔ غير ممالک ميں ہمارے ملک کے سفارتخانوں کو اپنی اغراض اور اپنے صاحب لوگوں کی خدمت سے فرصت ملے تو وہ وہ قومی عمور کی طرف توجہ ديں ۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. ےصحيح ۔ قومی امور کی طرف توجہ ديں

    جواب دیںحذف کریں
  7. بھائی ہم بھی سمجھے تھے کہ شاید اردو بلاگرز کو بلاگرز نہیں سمجھا جاتا اس لیے انہیں دعوت نہیں دی گی

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔