10/24/2011

جگاڑ

“جگاڑ” کا لفظ اب تک ممکن ہے اردو لغت کا حصہ نہ بنا ہو مگر یہ ہماری عام زندگی میں داخل ہو چکا ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس لفظ کے اصل خالق شہر کراچی کے آٹو مکینک ہیں۔ یہ لفظ اپنی ایک مخصوص نفسیات لیئے ہوئے ہے اس کا استعمال بذات خود ایک “جُگاڑ” کے طور پر کیا جاتا ہے یعنی ایک ایسا کام جو روائتی و رواجی انداز میں کرنا ممکن نہ ہو اور فوری طور پر اُس کا وقتی حل کچھ ایسے انداز میں کیا جائے جس سےوہ ممکنہ مسئلہ حل ہو جائے اورعموما “جگاڑ” سے اُس وقت تک کام نکالا جاتا ہے جب تک کہ مسئلہ کے مستقل حل کی جانب پیش رفت نہ ہو جائے۔ دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ جگاڑ غیر روایتی انداز میں کام کا وقتی حل ہے جبکہ قومی مزاج کے زیر اثر ہم نے اس جگاڑی رویے کو ہی روایت بنا لیا ہے۔
زندگی میں مختلف موقعوں پر “جگاڑ” لگانی پڑتی ہے۔ ہم نے بھی کافی سارے کام جگاڑ لڑا کر کئے ہیں، اس سلسلے میں دو قصہ آپ سے شیئر کرتے ہیں۔
ہم عمرہ کرنے گئے تو عصر سے مغرب کےدرمیان ہم ونڈو شاپنگ کرتے تھے، ایک بار مغرب سے کچھ پہلے ہم نے ایک شال اپنی والدہ کے لئے خریدی ہم نے سوچا یہاں سے سیدھا مسجد احرام میں نماز کے لئے جایاجائے نماز کے بعد شال کو ہوٹل میں رکھ آئیں گے ہم جو مسجد احرام میں داخل ہونے لگے تو شرتے (سعودی پولیس کا علاقائی نام) نے ہمیں داخل ہونے سے منع کیا اشارے سے سمجھانے لگا کہ تم یہ تھیلی اندر نہیں لے کر جا سکتے ہم نے تھیلی سے شال نکال کر دیکھائی تھیلی کو اُلٹ پلٹ کر دیکھایا کہ میاں اس میں کچھ نہیں مگر وہ اپنی ضد پر قائم عربی میں اور بھی بہت کچھ کہا اُس نے مگر ہمیں صرف “یعلا یعلا” یاد ہے اُس وقت ہم نے یہ جان لیا تھا کہ اس قسم کی آواز کا مطلب ہوتا ہے کہ “چلو یہاں سے” خیر ہم نے اُس دروازے کو چھوڑا اور دوسرے داخلی دروازے کی طرف کا رُخ کیا، اُس باب (دروازے) پر بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوا ہم نے اس والے شرتے کو بھی اول یہ سمجھنانے کی کوشش کی کہ ہمارے پاس صرف شال ہے مگر مجال ہے جو اُسے سمجھ آئے، پھر ہم نے اشارے سے اُس پر واضح کیا کہ مقامی افراد بھی تو مسجد احرام میں مختلف سامان لے کر جا رہے ہیں مگر صرف ہم پر ہی یہ سختی کیوں؟ مگر مجال ہے جو وہ ٹس ست مس ہوا ہو۔ دو داخلی دروازوں کے درمیان کا لمبا پیدل سفر کرنے کے بعد اب ہم تیسرے داخلی دروازے کی طرف روانہ ہوئے پہلے پہل خیال آیا کہ کسی مقامی شخص کی مدد سے اس شال کو اندر لے جایا جائے کیونکہ ہوٹل جا کر آنے کے چکر میں مغرب کی نماز قضاء ہونے کا امکان ہے ویسے تو نماز نہیں پڑھتا، یہاں تو قضاء نہ کی جائے مگر کسی عربی کو عربی زبان میں اپنا مسئلہ بتانا بھی ایک مسئلہ تھا تو ہم نے ایک اور حل سوچا ہم نے تھیلی میں سے شال نکالی تھیلی کو جیب میں ڈالا شال کو کندھے پر رکھا اور تیسرے داخلی دروازے سے مسجد احرام میں داخل ہو گئے! اب کوئی کسی شرتے نے نہیں روکا۔
دوسری بار کا قصہ یوں ہے کہ ہماری ہمشیرہ نے ایم اے پرائیویٹ میں داخلہ لینا تھا، داخلہ فارم کے ساتھ انٹر کی مارک شیٹ یا سند کی کاپی لگانا ضروری تھی، سند اُس نے ابھی بنوائی نہ تھی اور اصل مارک شیٹ گریجوایشن کے داخلے کے وقت جمع کروائی جا چکی تھی اُس پر کمال یہ کہ اُس کی کوئی فوٹو کاپی نہ تھی، اول ہم انٹربورڈ گئے تو انہوں نے کہا کہ سند بنوانے کے لئے مارک شیٹ کی کاپی لے کر آئیں، بتایا کہ نہیں ہے کاپی تو بتایا گیا کہ پہلے Duplicate مارک شیٹ بنوائے پھر سند یا، خرچہ تو دو ہزار تک تھا مگراصل گڑبڑ یہ تھی کہ وقت کم سے کم دس دن تک لگنے کے امکان تھے اس عرصے میں ایم اے کے داخلے ختم ہوجانے تھےکہ سستی کی بناء پر ہم کافی دن پہلے ہی برباد کر چکے تھے! انٹر بورڈ میں ہم نے جس جس سے ملنا ممکن تھا مل کر اپنا مسئلہ بیان کیا مگر کوئی بھی مناسب مدد کرنے کو تیار نہ تھا ہم گھر جانے کے بجائے کراچی یونیورسٹی چلے گئی وہاں سے معلومات کرتے ہوئے اُس دیپارٹمنٹ جہاں گریجوایشن کے داخلہ فارم جمع ہوتے ہیں ہمشیرہ سے فون کر کے اُس کا گریجوایشن کا انرولمنٹ نمبر پوچھا کلرک کو 200 روپے دے کر ہمشیرہ کے یونیورسٹی میں جمع کاغذات میں سے انٹر کی مارک شیٹ کی فوٹو کاپی بنوائی اور پھر کیا ایم اے کا فارم بھی جمع ہو گیاا اور سند کے لئے اپلائی بھی کر دیا۔
آپ نے بھی کبھی “جُگاڑ” لڑائی ہے؟
ویسے آج کل ملک میں بیروزگار نوکری کے لئے “جگاڑ” کی تلاش میں رہتے ہیں۔

8 تبصرے:

  1. اسی کا دوسرا نام ڈنگ ٹپاؤ پالیسی بھی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ حضور جُگاڑ کراچی کے موٹر مکينکوں کے ہاں پيدا نہيں ہوئی بلکہ وسط ہندوستان ميں پاکستان بننے سے بھی بہت پہلے شايد اِيشاپور فيکٹری ميں پيدا ہوئی تھی ۔ جب ميں نے سمجھداری کی عمر ميں قدم رکھا تو جُگاڑ کا استعمال ہر قسم کے مِستريوں کے ہاں پايا گيا
    بات داخلے کی يہ ہے کہ آج کے زمانہ ميں لوگ کہتے ہيں صدر صاحب سے بات کرنے کا خواہ وہ ٹيليفون پر ہو ايک لاکھ روپيہ فی منٹ دينا پڑتا ہے ۔ اسلئے ہر جگہ فيس عام ہو چُکی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. اس ”جگاڑ“ پر ایک لطیفہ سنا تھا شاید جاوید چوہدری صاحب نے اس کا اپنے کالم میں ذکر کیا تھا۔ اب مجھے حوالہ ٹھیک طرح یاد نہیں۔
    لطیفہ کچھ یوں تھا کہ
    امریکی صدر پاکستان آیا اور اس کی ساتھ لائی ہوئی گاڑی خراب ہو گئی۔ خراب پرزہ اتنی جلدی امریکہ سے منگوایا نہیں جا سکتا تھا تو یہیں پر اس کی مرمت کی دوڑ شروع ہوئی۔ آخر کار ایک مکینک کے پاس لے جایا گیا۔ اس نے کہا ایک گھنٹے بعد لے جانا۔ جب ایک گھنٹے بعد گئے تو اس نے پرزہ تیار کر دیا تھا۔ صدر کے سیکرٹری نے پوچھا کہ کیسے مرمت کیا ہے تو مکینک نے کہا بس ”جگاڑ“ لگا دیا ہے۔
    سیکرٹری نے فوراً امریکی صدر کو اطلاع کی کہ پاکستان والوں نے ایک خاص ٹیکنالوجی ہمیں بتائے بغیر تیار کر لی ہے اور اس ٹیکنالوجی کا نام ”جگاڑ“ ہے۔ اس پر امریکی صدر نے پاکستانی صدر کی کافی باز پرس کی کہ ہمیں بتائیے بغیر ایسا کیوں کیا اور اب یہ ٹیکنالوجی فوراً ہمارے حوالے کرو۔
    پاکستانی صدر نے کہا جناب یہ ٹیکنالوجی آپ کے بس کی بات نہیں، یہ ہمارا ہی کمال ہے اور تو اور جو ہم آپ سے قرضے لیتے ہیں وہ بھی ہم ”جگاڑ“ ہی لگاتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. میں کافی عرصے اس لفظ کے مطلب کو سمجھنے کے چکر میں تھا لیکن یہ جگاڑ لگ نہیں رہا تھا۔
    اس جگاڑ کی وضاحت کرنے کا شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  5. کہتے ہیں ایک فرانسیسی پاکستان آیا اور اس کی گاڑی یہاں پر خراب ہوگئی تو کسی مستری کے پاس چلا گیا تو مستری نے کہا یارا یہ تو یہاں نہیں بنے گی البتہ میں آپ کو ایک جگاڑ کرکہ دیتا ہوں انشاءاللہ کام چل جائے گا، خیر وہ دنیا گھومتے ہوئے فرانس پہنچا اور گاڑی کمپنی والوں کے پاس لے گیا انہوں نے گاڑی کو ٹھیک کیا مگر گاڑی چند دن بھی نہ چل سکی اور پھر خراب ہوگئی تو وہ بندہ کمپنی کے پاس گیا اور کہا اس سے بہتر تو پاکستانی جگاڑ ہے

    جواب دیںحذف کریں
  6. INTERESTING MAZMOOON.... GOOD...

    جواب دیںحذف کریں
  7. بلال بھائی امریکی صدر نے جب مشرف سے پوچھا تھا کہ یہ کون سا جگاڑ ہے تو مشرف نے جواب دیا تھا کہ اسی جگاڑ کی وجہ سے تو میں اتنے عرصے سے صدر کے عہدے پر فائز ہون۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. بہت خوب شعیب صاحب!
    میں تو سمجھا تھا کہ صرف میں ہی اس لفظ کو استعمال کرتا ہوں،،،مگر آپ نے تو آنکھیں کھول دی۔
    اچھی جگاڑ ہے۔
    محمد اسلم

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔