1/15/2010

ایک اور "الو کے پٹھے" ۔۔۔۔۔۔۔

یہ لیں ایک اور اُلو کے پٹھے اور "سنسر" کہنے والے۔۔ دوسری لسانی جماعت اور ایک سی حرکت

8 تبصرے:

  1. تو اور یہ کیا پھول برسائیں گے۔ کمی کمین لوگ جب صاحب لوگوں سے گستاخانہ انداز میں سوال پوچھیں گے تو پھر انہیں ان کی اوقات تو یاد دلانا پڑے گی نا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. ان صاحب نے الو کے پٹھے کے بعد بھی کچھ کہا ہے ذرا غور سے سنیے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. مجھے ایک بہت پرانا واقعہ یاد آیا ۔ ایوب خان صدر تھا ۔ گوجرانوالا میں ایک شادی میں بطور مہمان شریک تھا ۔ بھانڈ اپنا کھیل پیش کرتے ہیں
    ایک "موجودہ حکومت نے کمال کر دیا"
    دوسرا "وہ کیسے ؟"
    پہلا "شہر کے تمام غنڈے بدمعاش ختم کر دیئے"
    دوسرا "وہ کہاں گئے ؟"
    پہلا "سارے سیاستدان بن گئے "

    جواب دیںحذف کریں
  4. Syed Umer Rizvi1/15/2010 11:56:00 AM

    bht hi gri hui harkat hai ye, aur khurram, ye sahab log naheen hain, ye bhi awaam hain, in pe sari qaum ki zimee daari hai, agar in main zimme dari uthaney ki aur apney kye huey kam ko justify karney ki hummat naheen hai to ghar pe baithtey na kisney kaha tha k mulk ki khidmat karney niklain?

    جواب دیںحذف کریں
  5. بری بات یار، جانبداری کا الزام اتنی جلدی دھو ڈالا۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. BHAI YEH KIA HO GAYA HAY IN LOGOOON KO
    BUT ANCHORS GIVE MORE IZZAT TO THOSE WHO CALL THEM WITH SUCH WORDS.....AIK TALKH HAQEEQAT

    جواب دیںحذف کریں
  7. ایکسپریس والے تو خاص کر وزیر ریلوے کے پیچھے پڑے ہیں۔ اس سے پہلے چاند کے مسئلہ پر بھی لقمان کے پروگرام میں بلور صاحب کچھ اسی انداز سے نکل بھاگے تھے۔ جس کے بعد لقمان نے بتایا تھا کہ جناب سیاست میں ٓنے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ تو جن کو ان کا ذریعہ تجارت معلوم ہو، اس کے لیے گالی شالی معیوب بات نہیں ہوگی۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. السلام علیکم۔
    لسانی بنیادوں پر لوگوں میں نفرتیں پھیلانے والوں کو اخلاق کی پروا کہاں ہوگی۔
    ویسے آپس کی بات ہے، یہ پروگرام میں نے پورا دیکھا تھا اور مجھے یہ بات بہت شدت سے محسوس ہوئی تھی کہ میزبان کا لہجہ انتہائی سخت تھا جیسے گیس سے بھرے ہوئے دماغ والا کوئی سیٹھ اپنے نوکر کی بے عزتی کر رہا ہو۔ اگر اس کی جگہ ہم میں سے کوئی ہوتا تو وہ بھی شاید برداشت نہ کر پاتا۔ لیکن جو اتنے بڑے عہدے پر پہنچ جائے، اسے کچھ برداشت تو پیدا کرنی ہی چاہیے۔ ورنہ وہ کیسے کہے گا کہ میں اس عہدے کے قابل ہوں۔
    والسلام۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔