1/09/2011

سنجیدگی سے از جاوید چوہدری




2 تبصرے:

  1. اس پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ

    سجدے میں گر گئے “۔۔۔۔۔۔۔،“ جب وقت قیام آیا

    اب جب اصل جہاد کا وقت ہے ، تو میدان کو منافقین کے لئے چھوڑا جا رہا ہے کیوں؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. یار یہ صاحب عجیب سے ہیں ۔ انکی تحریروں کا عموما سر پیر نہیں ہوتا، انکی مندرجہ بالا تحریر یا کالم جس میں موصوف نے جان بوجھ کر پاکستان کے مذھبی لوگوں اور عام مسلمانوں کو ڈرامائی طور پہ بدنام کرنے اور اور پاکستان کے تقریبا سبھی مسالک پہ الزام تارشی کرنے کی شعوری یا لاشعوری کوشش محض اس وجہ سے کی ہے ۔ کہ موصوف کو دوسروں سے ممتاز لکھنے والا سمجھا جائے۔

    انہوں نے اپنے اس کالم میں مفروضوں کو بنیاد بنا کر وہی بات کہنے کی کوشش کی ہے جو شریر قسم کے لوگو مسلمانوں کو طعنہ دینتے ہیں کہ تم لوگ کسی کے پیچھے نامز نہیں پڑھتے ۔ آپ لوگ اپنی مساجد میں محفوظ نہیں ۔ یعنی طرف تماشہ ہے کہ اس ظلم کا بندوبست بھی جو شریر لوگ کرتے ہیں وہی ہمیں اس بات کا طعنہ بھی دیتے ہیں۔ یعنی پہلے یعنی پہلے دھوئیں کے خاکوں اور ھیولوں کو وجود عطا کیا جاتا ہے پھر اسے حقیقی بنا کر حقیقی مان کر مسلمانوںپہ تنقید کی جاتی ہے۔

    ویسے تو موصوف نے حسب عادت بہت سی باتیں محض اپنی ذات کو لاحق لایعنی خدشات اکو بنیاد بنا کر محض مفروضوں پہ بات کی ہے مثلا اسی مندرجہ بالا تحریر میں موصوف فرماتے ہیں کہ نماز چھپ کر پڑھتا ہوں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں اللہ نہ کرے اسقدر برے حالات نہیں کہ ایک اسلامی ملک میں نماز چھپ کر پڑھنی پڑھے۔ دراصل موصوف جوش خطابت اور جوش تحریر میں وہ باتیں کہہ جاتے ہیں۔ لکھ جاتے ہیں جنہیں اس بارے ان کو پھر سے وضاحت دینی پڑھتی ہے۔

    بات صرف اتنی سی کہ اگر انھیں توہین رسالت پہ عام لوگوں کی طرف سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا خدشہ ہوتا تو موصوف جاوید چوہدری حکومت کے کان کینچھتے کہ ناموس رسالت صلٰی اللہ علیہ وسلم سے متعلق توہین رسالت نامی قانون سے چھیڑ خانی بند کرے ۔ مذکورہ قانون پہ سختی سے عمل درآمد کرے ۔اس قانون پہ غیر مسلم وزیر کی سربراہی میں قائم کی کمیٹی ختم کرے۔ توہین رسالت نامی قانون میں ردوبدل یا مبینہ منسوخی کے لئیے حکومتی بنچوں سے حکومت کی سابق وزیر شیری رحمان کی قراردار واپس لے اور اس قرارداد کا واضح اعلان کرے۔ اور اپنے تمام گورنرز ، وزراء مشراء اور تمام عہدیداروں اور اہلکاروں کو سختی سے پابند کرے کہ وہ توہین رسالت نامی قانون پہ بیان بازی بند کریں۔ توہین رسالت کے مجرموں سے ہمدردی بند کریں ۔ قانون کو مکمل غیر جانبداری سے نافذالعمل کریں۔ وزیر اعظم پاکستانی حکومت کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ریڈیو ٹی وی پہ توہین رسالت قانون کی یقینی پاسداری کا واضح پالیسی بیان جاری کریں کہ یہ مبہم اور گومگو کی سی کیفیت جسکا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا اس سے عوام کو نجات ملے۔ علماء کی ایک نمائدہ کانفرنس بلا کر قانون کو بلکہ ہر قسم کے قانون کو صرف اور صرف عدالتوں سے ممکنہ سزا و جزا پہ عمل درآمد کا فتوٰی یا بیان حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اور حکومت بھی عدالتوں کو مینڈت کو تسلیم کرے اور حکومت کا کوئی عہدیدار خواہ وہ بنجاب جیسے بڑے صوبے کا گورنر ہی کیوں نہ ہو عدالتی کاروائی سے اپنے آپ کو بالا نہ سمجھے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن سے حکومتی بے وقوفیوں کی وجہ سے عوام کے بھپرے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کیا جاسکے۔ یہ تھے وہ اقدامات جو مجھ جیسا ایک عام آدمی بھی رائے لینے پہ تجویز کر سکتا ہے ۔ تو جاوید چوہدری اور اسطرح کے دوسرے کالم نگار بزرجمہر کیوں تجویز نہیں کرسکتے؟۔

    اسکی وجہ ایسے لکھنے والوں کی نیت کا فقدان ہے۔ انکے ٹاسک میں شامل ہے کہ شور کہیں اور سے اٹھے اور یہ پتھر کسی دوسرے طرف پھنکتے ہیں۔ انکو اپنے طور پہ زعم ہوتا ہے کہ یہ رائے عامہ کو ورغلانے کا فن جانتے ہیں۔ جسکی واضح مثال یہ کالم ہے ۔ جب کہ موصوف پچھلے چند ماھ سے پاکستان میں حکومت کی بدنیتی اور بے وقوفی سے پاکستان میں توہین رسالت ناہ قانون پہ عام خاص میں سیاسی اور مزھبی بڑھتے ہوئے ٹمپریچر پہ بھی کچھ ارشادات فرما دیتے۔ جبکہ ساری دنیا نے دیکھا کہ پورے پاکستان نے اکتیس دسمبر کو اپنا ووٹ توہین رسالت نامی قانون کے حق میں دیا ہے۔ مگر انھوں نے بھی اپنی ذات کو لاحق مبینہ خدشات پہ مبنی مفروضوں کو بناد بنا کر پاکستان کے مسلمانوں اور مذھب کو اپنی سی تشریح سے تختہ مشق ستم بنایا ہے جو لائق تحسین نہیں۔انکی طرح تحریریں لکھنے والے اور سوچ رکھنے والے ہی وہ لوگ ہیں جو اپنی زاتی کمزوریوں کی وجہ سے مسئلے کے اصل حل کو اپنی بیان کے زور پہ دھوئیں کے پردوں میں گُم کر کے قوم کو لا قانونیت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

    میں دعواے سے کہتا ہوں اگر حکومت اور حکومتی عہدیداروں سے عام مسلمانوں کے جزبات سے قانون توہین رسالت نامی قانون سے اگر مگر نہ کی جاتی اور پاکستان کی نوی فیصد آبادی سے زائد کے مقابلے پہ شاتموں سے بڑھ چرح کر ہمدردی نہ جتلائی جاتی تو گورنر پنجاب کی موت یوں نہ آتی۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔