Pages

5/02/2009

دل دریا

لوگوں نے کہا
اس در سے کبھی
کوئی نا اُمید نہیں لوٹا
کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا
میں بھی لوگوں کے ساتھ چلا
چہرے پر گرد مِلال لیے
اک پر امید خیال لیے
جب  قافلہ اس در پر پہنچا
میں اس گھر کو پہچان گیا
پھر خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا
اس در  سے مجھے کیا ملناتھا
وہ گھر تو میرا اپنا تھا

شاعر: سرشار صدیقی

3 تبصرے:

phrozen-in-tymz نے لکھا ہے کہ

کافی گہرِی شاعری ہے۔ ہعنی بانٹنے والا خود محتاج ہے۔

عمر احمد بنگش نے لکھا ہے کہ

واہ جناب کیا بات ہے۔
ٓآپکی پسند تو لاجواب ہے ہی، یہ تھیم کی بھی کیا بات ہے۔
کہاں سے لائے جناب یہ، زرا ہمھیں بھی تو پتہ چلے۔

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

یہ سرشار صاحب نے تو پورے سرشار ہی نکلے
یہ سانچہ اچھا ہے ۔ کہاں سے لیا ہے ؟

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔