لوگوں نے کہا
اس در سے کبھی
کوئی نا اُمید نہیں لوٹا
کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا
میں بھی لوگوں کے ساتھ چلا
چہرے پر گرد مِلال لیے
اک پر امید خیال لیے
جب قافلہ اس در پر پہنچا
میں اس گھر کو پہچان گیا
پھر خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا
اس در سے مجھے کیا ملناتھا
وہ گھر تو میرا اپنا تھا
شاعر: سرشار صدیقی
کافی گہرِی شاعری ہے۔ ہعنی بانٹنے والا خود محتاج ہے۔
جواب دیںحذف کریںواہ جناب کیا بات ہے۔
جواب دیںحذف کریںٓآپکی پسند تو لاجواب ہے ہی، یہ تھیم کی بھی کیا بات ہے۔
کہاں سے لائے جناب یہ، زرا ہمھیں بھی تو پتہ چلے۔
یہ سرشار صاحب نے تو پورے سرشار ہی نکلے
جواب دیںحذف کریںیہ سانچہ اچھا ہے ۔ کہاں سے لیا ہے ؟