5/02/2009

دل دریا

لوگوں نے کہا
اس در سے کبھی
کوئی نا اُمید نہیں لوٹا
کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا
میں بھی لوگوں کے ساتھ چلا
چہرے پر گرد مِلال لیے
اک پر امید خیال لیے
جب  قافلہ اس در پر پہنچا
میں اس گھر کو پہچان گیا
پھر خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا
اس در  سے مجھے کیا ملناتھا
وہ گھر تو میرا اپنا تھا

شاعر: سرشار صدیقی

3 تبصرے:

  1. کافی گہرِی شاعری ہے۔ ہعنی بانٹنے والا خود محتاج ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. واہ جناب کیا بات ہے۔
    ٓآپکی پسند تو لاجواب ہے ہی، یہ تھیم کی بھی کیا بات ہے۔
    کہاں سے لائے جناب یہ، زرا ہمھیں بھی تو پتہ چلے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. یہ سرشار صاحب نے تو پورے سرشار ہی نکلے
    یہ سانچہ اچھا ہے ۔ کہاں سے لیا ہے ؟

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔