ڈاکٹر عنیقہ ناز نے اپنے بلاگ پر ندیم ایف پراچہ کے مضمون سے تحریک پا کر ایک تحریر لکھی جس میں “طالبانی“ رویہ پر روشنی ڈالی، اور اس سلسلے میں دو مزید واقعات بھی شیئر کئے! یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ “طالبانی“ رویوں کہ کے یہ کردار بھی “پٹھان“ ہی تھے! عوامی میں طالبان کے تصور کے عین مطابق!! میں اسے ہر گز حسن اتفاق نہیں کہوں گا! اور ایس بھی نہیں ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہوتے! ایسے طالبان اکثر گھروں میں کسی بزرگ کے روپ میں، یا بھائی و باپ یا کسی اور رشتے کے روپ میں موجود ہوتے ہیں!
کسی خاتون کو غلط لباس پر کسی غیر مرد کے ہاتھوں بازار میں سخت رویئے کا سامنا کرنے کا ایک واقعہ ہمارے محلے کا ہے، وہ خاتون لباس کے معاملے میں درحقیقت کچھ مخضوص قسم کی “لاپرواہ“ ہیں! یہاں تک کہ ایک بار جب اُن کے ایک مرد عزیز انہیں ایئرپورٹ سے ریسیو کر کے گھر لے کر آئے اور آئندہ ان کے ساتھ بھی آنے جانے سے انکار کیا کہ اُن کے لباس کی بناء پر وہ شرمندہ ہوتے رہے!! خیر اُن خاتون نے شام میں چہل قدمی اسٹارٹ کی وجہ انہیں محسوس ہوا کہ وہ موٹی ہوتی جا رہی ہیں! کہ ایسے ہی ایک دن ایک بابا جی نے انہیں منہ پر دو تھپڑ دے مارے کہ بی بی کو شرم حیا نام کی بھی کوئی چیز ہو تی ہے اپنے لباس کو درست کرو! وہ اس قدر خوف زدہ ہوئیں کہ پھر “جاگنگ“ سے دستبردار ہو گئی! انہیں تھپڑ پڑا یہ واقعی اُن کی ساس کی زبانی ہماری والدہ اور پھر ہمارے علم میں آیا!! بہر یہ طالبانی رویہ اُس دور کا کہ جب امریکہ نے تازہ تازہ “القاعدہ“ کا بت ڈرنے و ڈرانے کے لئے تراشا تھا! طالبان کو القاعدہ کا میزبان مانا جاتا تھا۔۔
بہر حال ایک طرف یہ رویہ دوسری طرف ہمارے معاشرے کا ایک نہایت عجیب رویہ ہے جو قابل توجہ ہے، ہمارے علاقے کی ایک مسجد ہے مسجد حرا، یوں تو میرا مسلکی اختلاف ہے مسجد انتظامیہ سے لیکن ہم وہاں اکثر نماز پڑھا کرتے تھے بلکہ کچھ عرصہ اُن کے مدرسے سے بھی منسلک رہا، تو وہاں ایک موذن آئے (بعد میں خطیب و امام کی زمہ داری بھی اپنے کندھوں پر اُٹھائی) نوجوان تھے اور کافی علم تھا، چونکہ ابھی جوان تھے اس لئے کئی معاملات میں باقی انتظامیہ سے مختلف تھے جس کی بناء پر کئی احباب کے لئے عجوبہ تھے! سچی بات ہے اُس دور میں ہمیں بھی اُن کی یہ باتیں عجیب لگتی تھیں! اور آج اُس وقت کی اپنی سوچ۔۔ خیر معاملہ یہ تھا کہ وہ فجر کے بعد باقاعدہ ٹریک سوٹ پہن کر “جاگنگ“ کے لئے جاتے تھے، علاقے کے کئی لوگ یہ ہی دیکھنے کہ مولوی صاحب “جاگنگ“ کرتے ہیں صبح سویرے جاگنگ کے مقام پر پہنچ جاتے، مدرسے کے لڑکوں کو عصر سے مغرب کے درمیان کرکٹ کھلنے کی اجازت انہوں نے ہی سب سے پہلے دی تھے۔ ایک دن ہم اپنے دوستوں کے ساتھ چہل قدمی کر کے آ رہے تھے تو دیکھا کہ مسجد حرا کے سامنے والے میدان آج معمول سے زیادہ رش ہے وہاں جا کر دیکھا تو مولوی صاحب بیٹنگ کر رہے تھے! اور مجھ سمیت کئی احباب کے لئے یہ ایک عجوبہ تھا۔ ہماری تو اتنی ہمت وسوچ نہیں تھی مگر ایک ساتھ کی کھڑے ہم سے بڑے لڑکے نے کہا “ابے مولوی کو کہو جا کر نمازیں پڑھائے! یہ ان کا کام نہیں ہے“۔ جناب نے کافی اچھی بیٹنگ کی!
بہرحال بعد میں وہ کہیں اور چلے گئے! وہ خراسان والی اور کالے جھنڈوں والی حدیث سب سے پہلے ہم نے اُن ہی سے سنی تھے!
یہ ہی نہیں ایسے کئی معاملات میں ہمارا رویہ بہت تنگ نظر ہوتا ہے! ابھی پچھلے دنوں فیس بُک پر ایک ویڈیو ہم نے دیکھی جس میں ایک شخص اسپورٹ کار چلا رہا تھا حلیہ کے اعتبار سے اُس نے شرعی داڑھی رکھی ہوئی تھی، سفید شلور قمیض میں ملبوس تھا ویڈیو بنانے والوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ دیکھو مولوی کیا کر رہا ہے! جیسے کوئی انوکھا کام ہو! ایسے ہی ہمارے علاقے نے ایک لڑکی نے ایک رشتہ سے اس لئے انکار کر دیا کہ لڑکے نے داڑھی رکھی ہوئی ہے!!
وہ ضمیر جعفری نے اس معاملے کو یوں بیان کیا ہے!
مولوی اونٹ پہ جائے ہمیں منظور مگر
مولوی کار چلائے، ہمیں منطور نہیں
وہ نمازیں تو پڑھائے ہمیں منظور مگر
پارلیمنٹ میں آئے، ہمیں منظور نہیں
حلوہ خیرات کا کھائے تو ہمارا جی خوش
حلوہ خود گھر میں پکائے، ہمیں منظور نہیں
علم و اقبال و رہائش ہو کہ خواہش کوئی
وہ ہم سا نظر آئے، ہمیں منظور نہیں
احترام آپ کو واجب ہے مگر مولانا
حضرت والا کی رائے، ہمیں منظور نہیں
اب کہیں کراچی میں شرعی داڑھی کے حامل افراد کو جینز کی پینٹ شرٹ میں لوگ دیکھ کر کسی حد قبول کرتے نظر آتے ہیں ورنہ تو یہ معاملہ بھی قابل تنقید ہوا کرتا تھا وجہ شائد نوجوان نسل کے نیا رجحان ہے، مگر سچ یہ ہے کہ بیمار ذہنوں کی ایک بڑی تعداد ہمارے درمیان موجود ہے جن میں ایک گروہ زبردستی دوسروں کو اچھا مسلمان بنانے پر بصد ہے اور دوسرا بلاوجہ دینی معاملات پر عمل پیرا افراد کو جاہل سمجھتا ہے!
کیا کبھی آپ نے کسی بحث میں یہ جملہ سنا ہے۔۔۔ “اگر ایسی بات ہے تو تم چھوڑ کیوں نہیں دیتے ان بسوں میں سفر کرنا، یہ موبائل فون کا استعمال، یہ بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔“
تبصرے ()
دوسرا لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے! اس میں کوئی شک شبہ نہیں! مگر لباس شخصیت نہیں ہوتی! آپ ایک ہی لباس دو مختلف افراد کو پہنا کر دیکھ لیں آپ کو اُن میں سے دو مختلف شخصیت ہی جھلکتی نظر آئیں گی! غرارے و چوڑی دار پاجامے مخصوص انداز میں سلائی کی جائے تو عریانیت کا روپ لے سکتے ہیں! شلوار قمیض قومی لباس ہے نا مگر اس کی کئی شکلیں جسم کو چھپانے میں ناکام نظر آتی ہیں! اسے آپ کیا کہیں گی! ساڑھی ایک اچھا لبا س ہے اگر عورت کے مکمل جسم کو کور کرے جیسے وہ آرمی کی نرسس کا ہوتا ہے! مگر اگر سلیولیس ہو اور پیٹ بھی برہنہ ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ جان کر بھی کہ سنی سنائی بات پر ایمان لانے والے اورتعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ذہن استعمال نا کرنے والے لوگ ابھی بھی موجود ہیں
اس شہر میں خواتین آپ کے پیدا ہونے سے پہلے بھی سلیو لیس بلاؤز کی ساڑھیاں پہنتی رہی ہیں۔ آپ کو اس بات کا لحاظ بھی رکھنا چاہئے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ مختلف لباس پہنتے ہیں۔ اور ایک چیز جو ایک گھر میں معیوب سمجھی جاتی ہے وہ ضروری نہیں دوسرے گھر میں بھی قابل اعتراض سمجھی جائے۔
دوسری بات عنیقہ یہ نہیں کہہ رہیں کہ طالبانیت کو پختونوں سے جوڑا جائے۔ ان کی تحریر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کراچی کے دو لسانی گروہوں میں حائل کلچرل تضاد کو رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے جذبے سے کم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک اگر گروہ اپنے کلچر کو قرآنی آفاقی سمجھ کا اسے سب پر تھوپنا چاہے تو اس سے محض خوف اور تشدد جنم لیتا ہے۔
باقی جس بات کی وضاحت عنیقہ ناز نے کرنی ہے وہ انہیں ہی کرنے دیں!۔
آپ کے انداز بیان سے۔ آپ مجلے کے ایک "فرشتہ صفت" بزرگ کا قصہ بیان کرتے ہیں جس نے ایک "بے حیا" قسم کی خاتون کو سر راہ تھپڑ مار کر راہ نیک دکھائی۔ حالانکہ یہ قصہ یوں بھی بیان ہوسکتا تھا کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو بے حیا لباس پہننے پر تھپڑ مارے۔
اوپر میں نے بزرگ کو فرشتہ صفت کہاں لکھا ہے؟؟؟ میں خاتون سے واقف ہوں بزرگ سے نہیں یہ بھی بتا دوں یہ قصہ تو خاتون کی ساس کی زبانی معلوم ہوا تھا!۔ جس کی خاتون نے بھی بعد میں تصدیق کی تھی۔۔۔
ندیم فاروق پراچہ اپنے تئیں خود کو دانشور سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تحریر کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔ صرف چڑھتے سورج کا پجاری ہونے کے باعث انہیں سر پر چڑھایا جاتا ہے۔
اپنا تبصرہ دیں