5/24/2009

انتہا پسندوں یا طالبان کی ایک اور شکل!

ڈاکٹر عنیقہ ناز نے اپنے بلاگ پر ندیم ایف پراچہ کے مضمون سے تحریک پا کر ایک تحریر لکھی جس میں “طالبانی“ رویہ پر روشنی ڈالی، اور اس سلسلے میں دو مزید واقعات بھی شیئر کئے! یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ “طالبانی“ رویوں کہ کے یہ کردار بھی “پٹھان“ ہی تھے! عوامی میں طالبان کے تصور کے عین مطابق!!  میں اسے ہر گز حسن اتفاق نہیں کہوں گا! اور ایس بھی نہیں ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہوتے! ایسے طالبان اکثر گھروں میں کسی بزرگ کے روپ میں، یا بھائی و باپ یا کسی اور رشتے کے روپ میں موجود ہوتے ہیں!

کسی خاتون کو غلط لباس پر کسی غیر مرد کے ہاتھوں بازار میں سخت رویئے کا سامنا کرنے کا ایک واقعہ ہمارے محلے کا ہے، وہ خاتون لباس کے معاملے میں درحقیقت کچھ مخضوص قسم کی “لاپرواہ“ ہیں! یہاں تک کہ ایک بار جب اُن کے ایک مرد عزیز انہیں ایئرپورٹ سے ریسیو کر کے گھر لے کر آئے اور آئندہ ان کے ساتھ بھی آنے جانے سے انکار کیا کہ اُن کے لباس کی بناء پر وہ شرمندہ ہوتے رہے!! خیر اُن خاتون نے شام میں چہل قدمی اسٹارٹ کی وجہ انہیں محسوس ہوا کہ وہ موٹی ہوتی جا رہی ہیں! کہ ایسے ہی ایک دن ایک بابا جی نے انہیں منہ پر دو تھپڑ دے مارے کہ بی بی کو شرم حیا نام کی بھی کوئی چیز ہو تی ہے اپنے لباس کو درست کرو! وہ اس قدر خوف زدہ ہوئیں کہ پھر “جاگنگ“ سے دستبردار ہو گئی! انہیں تھپڑ پڑا یہ واقعی اُن کی ساس کی زبانی ہماری والدہ اور پھر ہمارے علم میں آیا!! بہر یہ طالبانی رویہ اُس دور کا کہ جب امریکہ نے تازہ تازہ “القاعدہ“ کا بت ڈرنے و ڈرانے کے لئے تراشا تھا! طالبان کو القاعدہ کا میزبان مانا جاتا تھا۔۔
بہر حال ایک طرف یہ رویہ دوسری طرف ہمارے معاشرے کا ایک نہایت عجیب رویہ ہے جو قابل توجہ ہے، ہمارے علاقے کی ایک مسجد ہے مسجد حرا، یوں تو میرا مسلکی اختلاف ہے مسجد انتظامیہ سے لیکن ہم وہاں اکثر نماز پڑھا کرتے تھے بلکہ کچھ عرصہ اُن کے مدرسے سے بھی منسلک رہا، تو وہاں ایک موذن آئے (بعد میں خطیب و امام کی زمہ داری بھی اپنے کندھوں پر اُٹھائی) نوجوان تھے اور کافی علم تھا، چونکہ ابھی جوان تھے اس لئے کئی معاملات میں باقی انتظامیہ سے مختلف تھے جس کی بناء پر کئی احباب کے لئے عجوبہ تھے! سچی بات ہے اُس دور میں ہمیں بھی اُن کی یہ باتیں عجیب لگتی تھیں! اور آج اُس وقت کی اپنی سوچ۔۔ خیر معاملہ یہ تھا کہ وہ فجر کے بعد باقاعدہ ٹریک سوٹ پہن کر “جاگنگ“ کے لئے جاتے تھے، علاقے کے کئی لوگ یہ ہی دیکھنے کہ مولوی صاحب “جاگنگ“ کرتے ہیں صبح سویرے جاگنگ کے مقام پر پہنچ جاتے، مدرسے کے لڑکوں کو عصر سے مغرب کے درمیان کرکٹ کھلنے کی اجازت انہوں نے ہی سب سے پہلے دی تھے۔ ایک دن ہم اپنے دوستوں کے ساتھ چہل قدمی کر کے آ رہے تھے تو دیکھا کہ مسجد حرا کے سامنے والے میدان آج معمول سے زیادہ رش ہے وہاں جا کر دیکھا تو مولوی صاحب بیٹنگ کر رہے تھے! اور مجھ سمیت کئی احباب کے لئے یہ ایک عجوبہ تھا۔ ہماری تو اتنی ہمت وسوچ نہیں تھی مگر ایک ساتھ کی کھڑے ہم سے بڑے لڑکے نے کہا “ابے مولوی کو کہو جا کر نمازیں پڑھائے! یہ ان کا کام نہیں ہے“۔ جناب نے کافی اچھی بیٹنگ کی!
بہرحال بعد میں وہ کہیں اور چلے گئے! وہ خراسان والی اور کالے جھنڈوں والی حدیث سب سے پہلے ہم نے اُن ہی سے سنی تھے!
یہ ہی نہیں ایسے کئی معاملات میں ہمارا رویہ بہت تنگ نظر ہوتا ہے! ابھی پچھلے دنوں فیس بُک پر ایک ویڈیو ہم نے دیکھی جس میں ایک شخص اسپورٹ کار چلا رہا تھا حلیہ کے اعتبار سے اُس نے شرعی داڑھی رکھی ہوئی تھی، سفید شلور قمیض میں ملبوس تھا ویڈیو بنانے والوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ دیکھو مولوی کیا کر رہا ہے! جیسے کوئی انوکھا کام ہو! ایسے ہی ہمارے علاقے نے ایک لڑکی نے ایک رشتہ سے اس لئے انکار کر دیا کہ لڑکے نے داڑھی رکھی ہوئی ہے!!
وہ ضمیر جعفری نے اس معاملے کو یوں بیان کیا ہے!

مولوی اونٹ پہ جائے ہمیں منظور مگر
مولوی کار چلائے، ہمیں منطور نہیں
وہ نمازیں تو پڑھائے ہمیں منظور مگر
پارلیمنٹ میں آئے، ہمیں منظور نہیں
حلوہ خیرات کا کھائے تو ہمارا جی خوش
حلوہ خود گھر میں پکائے، ہمیں منظور نہیں
علم و اقبال و رہائش ہو کہ خواہش کوئی
وہ ہم سا نظر آئے، ہمیں منظور نہیں
احترام آپ کو واجب ہے مگر مولانا
حضرت والا کی رائے، ہمیں منظور نہیں

اب کہیں کراچی میں شرعی داڑھی کے حامل افراد کو جینز کی پینٹ شرٹ میں لوگ دیکھ کر کسی حد قبول کرتے نظر آتے ہیں ورنہ تو یہ معاملہ بھی قابل تنقید ہوا کرتا تھا وجہ شائد نوجوان نسل کے نیا رجحان ہے، مگر سچ یہ ہے کہ بیمار ذہنوں کی ایک بڑی تعداد ہمارے درمیان موجود ہے جن میں ایک گروہ زبردستی دوسروں کو اچھا مسلمان بنانے پر بصد ہے اور دوسرا بلاوجہ دینی معاملات پر عمل پیرا افراد کو جاہل سمجھتا ہے!
کیا کبھی آپ نے کسی بحث میں یہ جملہ سنا ہے۔۔۔ “اگر ایسی بات ہے تو تم چھوڑ کیوں نہیں دیتے ان بسوں میں سفر کرنا، یہ موبائل فون کا استعمال، یہ بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔“

10 تبصرے:

  1. اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئ تامل نہیں ہونا چاہئیے کہ ہمارے یہاں مختلف قومیتوں نے اپنے کچھ سلوگنز بنائے ہوئے ہیں مثلاً پنجابی محنتی اور زندہ دل ہوتے ہیںاور اسلام کو زیادہ سمجھتے ہیں، بلوچ غیرتمند ہوتے ہیں۔ انہیں اسلام کے بارے میں دعوی کا شوق نہیں۔ سندھیوں کے بارے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہندءووں سے زیادہ متاثر ہیں۔ پٹھانوں کا اپنے متعلق خیال ہے کہ وہ سب سے زیادہ غیرتمند ہیں اور اسلام پہ سب سے زیادہ عمل پیرا ہیں۔ ہتھیار ان کا زیور ہے اور اگر یہ زیور ان کے علاوہ کوئ اور استعمال کرے تو وہ روٹھ جاتے ہیں۔ جب وہ روٹھ جاتے ہیں تو اتنے پیارے نہیں لگتے۔ اور رہے اردو اسپیکنگ تو ان کے متعلق پھر کبھی تفصیل سے۔ ان واقعات کے متعلق سچ ہونے ضمن میں یہ ہی کہ سکتے ہے ہم شاعر تو نہیں کہ انہونی کو ہونی کردوں۔ یہ واقعات میرے بالکل قریبی خواتین کے ساتھ پیش آئے۔ اور میرے لئے کافی شاکنگ تھے۔ میں ان لوگوں کو کراچی کی عام خواتین سمجھتی ہوں۔ ویسے تو کچھ لوگوں کو غرارے اور چوڑیدار پاجامے میں بھی عریانیت نظر آتی ہے۔ میں تو خوب پہنتیہوں۔ پنجابیوں کی اکثریت ساڑھی کو بے حیائ کا لباس سمجھتی ہے اور ہمرا یہاں یہ عام گھر میں پہنا جانیوالا لباس ہے۔ جس میں کوئ بے حیائ نہیں۔ اب آپ کیا کریں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. سب سے پہلے تو یہ عرض کر دوں کہ پاکستانی ایک قوم ہیں! پاکستان میں ایک قوم بستی ہی قومیتیں نہیں! البتہ یہ قوم محتلف گروہوں، برادیوں اور قبیلوں پر مشتمل ضرور ہے! صوبوں کی تقسیم قومیت کی تشکیل کا سبب و وجہ ہر گز نہ سمجھے جائیں!
    دوسرا لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے! اس میں کوئی شک شبہ نہیں! مگر لباس شخصیت نہیں ہوتی! آپ ایک ہی لباس دو مختلف افراد کو پہنا کر دیکھ لیں آپ کو اُن میں سے دو مختلف شخصیت ہی جھلکتی نظر آئیں گی! غرارے و چوڑی دار پاجامے مخصوص انداز میں سلائی کی جائے تو عریانیت کا روپ لے سکتے ہیں! شلوار قمیض قومی لباس ہے نا مگر اس کی کئی شکلیں جسم کو چھپانے میں ناکام نظر آتی ہیں! اسے آپ کیا کہیں گی! ساڑھی ایک اچھا لبا س ہے اگر عورت کے مکمل جسم کو کور کرے جیسے وہ آرمی کی نرسس کا ہوتا ہے! مگر اگر سلیولیس ہو اور پیٹ بھی برہنہ ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. دراصل فی زمانہ ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے اسے پرواہ نہیں کہ اس کی خود غرضی ملک کیلیے کتنی نقصان دہ ہو گی اور یہی طالبنائزیشن ہے جو کسی بھی گروہ یا فرقے میں مل سکتی ہے۔ مگر وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب سارا پاکستان کراچی بن جائے گا یعنی لبرل اور آزاد خیال اور یہی یورپی دوست چاہتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. طالبان طالبان کا شور صرف اسلئے اُٹھا کہ ہماری قوم کے وہ لوگ جن کی آواز اربابِ اختیار یا ذرائع ابلاغ تک پہنچتی ہے کی اکثریت نے فرنگی کو اپنا نصب العین بنا لیا ۔ اگر زمینی حقائق کا مطالعہ کیا جائے تو ان نام نہاد طالبان سے زیادہ انتہاء پسند ہر شہر کے مختلف گروہوں میں موجود ہین ۔ آپ السلام آباد یا لاہور یا کراچی میں کار چلاتے جا رہے ہوں ۔ کوئی اور گاڑی والا زبردستی آپکے آگے گھسنے یا لال بتی کراس کرتے ہوئے آپکی کار کو حادثہ کا شکار کر دے اور آپ اس کے پاس شکائت کیلئے جائیں ۔ وہ بجائے اپنی غلطی کی معافی مانگنے کے آپ بے عزتی کرے یا آپ کی پٹائی کر دے تو کیا یہ دہشتگردی نہیں ہے ؟ یہ ہمارے نام نہاد تعلیمیافتہ روشن خیال طبقے کا روزانہ کا معمول ہے ۔ کراچی میں تو ذرا ذرا سی بات پر گولی چلا کر جان سے مار دیا جاتا ہے یا گاڑیوں کو آگ لگا دی جاتی ہے ۔ لیکن ہم بُرا صر اُسے کہتے ہیں جسے ہمارا دل چاہے

    جواب دیںحذف کریں
  5. عنیقہ جی یہ جان کر انتہائی افسوس ہوا کہ پاکستان، پاکستان کے مختلف علاقوں اور پاکستانیوں سے متعلق آپ کی سوچ انتہائی منفی اور سطحی ہے
    اور یہ جان کر بھی کہ سنی سنائی بات پر ایمان لانے والے اورتعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ذہن استعمال نا کرنے والے لوگ ابھی بھی موجود ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  6. شعیب سلیو لیس قمیض پہنی خواتین کو سر عام مغلظات بکنا انہیں ہراساں کرنا پاکستانی قومیت کی پہچان ہے؟

    اس شہر میں خواتین آپ کے پیدا ہونے سے پہلے بھی سلیو لیس بلاؤز کی ساڑھیاں پہنتی رہی ہیں۔ آپ کو اس بات کا لحاظ بھی رکھنا چاہئے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ مختلف لباس پہنتے ہیں۔ اور ایک چیز جو ایک گھر میں معیوب سمجھی جاتی ہے وہ ضروری نہیں دوسرے گھر میں بھی قابل اعتراض سمجھی جائے۔

    دوسری بات عنیقہ یہ نہیں کہہ رہیں کہ طالبانیت کو پختونوں سے جوڑا جائے۔ ان کی تحریر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کراچی کے دو لسانی گروہوں میں حائل کلچرل تضاد کو رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے جذبے سے کم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک اگر گروہ اپنے کلچر کو قرآنی آفاقی سمجھ کا اسے سب پر تھوپنا چاہے تو اس سے محض خوف اور تشدد جنم لیتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. میں کسی بھی معاملے کو اس بناء پر درست نہیں کہہ سکتا کہ وہ میری پیدائش سے پہلے ہوتا رہا ہے!نیز میری تحریر میں یہ کہاں سے آپ نے اندازہ لگایا کہ میں خواتین کو سر عام مغلطات بکنے کے حق میں ہوں؟؟؟؟
    باقی جس بات کی وضاحت عنیقہ ناز نے کرنی ہے وہ انہیں ہی کرنے دیں!۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. شعیب لیکن جسے آپ غلط کہہ رہے ہیں کئی لوگوں کے خیال میں وہ غلط بات نہیں۔ دوسرا آپ کی پیدائش سے پہلے کا حوالہ اس لئے دیا کہ کراچی شہر میں جدید آزادانہ تراش خراش کے لباس ابھی سے نہیں پہنے جارہے۔ آپ پی ٹی وی کے بلیک اینڈ وائٹ ڈرامے دیکھیں آپ کو جابجا خواتین بغیر دوپٹے کے سلیو لیس قمیضیں پہنی نظر آئیں گی۔ شلوار قمیض چادر اور برقعہ تو بہت بعد میں پاکستانیوں پر زبردستی تھوپا گیا ہے۔

    آپ کے انداز بیان سے۔ آپ مجلے کے ایک "فرشتہ صفت" بزرگ کا قصہ بیان کرتے ہیں جس نے ایک "بے حیا" قسم کی خاتون کو سر راہ تھپڑ مار کر راہ نیک دکھائی۔ حالانکہ یہ قصہ یوں بھی بیان ہوسکتا تھا کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو بے حیا لباس پہننے پر تھپڑ مارے۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. میں کراچی میں آپ کو کئی ایسے افراد سے ملوا سکتا ہوں جو شراب پینے کو غلط خیال نہیں کرتے! کہ جب تک نشہ نہ ہو اس میں کوئی برائی نہیں ہے!۔ آپ پی ٹی وی کے پرانے بلیک اینڈ وائٹ ڈرامے دیکھ لیں ٓپن میں پارٹیوں میں شراب کا استعمال عام دیکھایا ہے!دوسرا میری پیدائش سے پہلے یہ شہر میں عام دستیاب تھی! جدید شہر کے جدید تقاضے۔ وہ یہ اب بھی شہر میں دستیاب ہے تو کیا میں اسے بھی جائز مان لو؟؟؟ سیدھی سی بات ہے کم از کم میرے لئے یہ ممکن نہیں! کوئی بہتر مثال لے کر ٓآئیں۔
    اوپر میں نے بزرگ کو فرشتہ صفت کہاں لکھا ہے؟؟؟ میں خاتون سے واقف ہوں بزرگ سے نہیں یہ بھی بتا دوں یہ قصہ تو خاتون کی ساس کی زبانی معلوم ہوا تھا!۔ جس کی خاتون نے بھی بعد میں تصدیق کی تھی۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. ہمارا مسئلہ انتہا پسندی ہے چاہے وہ مذہب کے نام پر کی جائے یا نام نہاد روشن خیالی کے نام پر۔
    ندیم فاروق پراچہ اپنے تئیں خود کو دانشور سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تحریر کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔ صرف چڑھتے سورج کا پجاری ہونے کے باعث انہیں سر پر چڑھایا جاتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔