شر پسند وہ ہی ہوتے ہیں جنہیں “شر“ پسند ہو! شریر ہر گز نہیں ہوتے! مگر شرارت کرتے رہتے ہیں! اچھے تو ہر گز نہیں ہوتے! مگر اچھے کہلاتے ہیں۔ یہ اِیسے ہی شر پسندوں کی کارستانی تھی جس کی بناء پر آج تمام سندھ چھٹی منا رہا تھا۔ ہمیں شر پسندوں کو پہچانے میں کافی ذیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا یہ کام خود شرپسندوں و حکومت وقت نے سرانجام دیا۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ مئی کے مہینے کے آغاز سے قبل کراچی شہر کے حالات کافی خراب ہو گئے!اہل بصیرت نے آگاہ کیا کہ ایسا اس بناء پر ہوا ہے کہ “کراچی کے طالبان اور شر پسندوں کا ایک گروہ“ بارہ مئی کو “عوامی طاقت“ کا سوگ منانا چاہتا تھا! لہذا “اہلیان کراچی“ کے سکون کو غارت کرنے کی اس کاوش کو ناکام بنانے کے لئے “ذمہ دار“ ہاتھ حرکت میں آئے اور اس دوران میں پنتیس افراد اپنی جان سےگئے، “صاحب علم حضرات“ نے آگاہ کیا نہ صرف یہ جانی نقصان شرپسندوں کے ہاتھوں ہوا بلکہ شہر میں خوف وحراس پھیلانے کے لئے مختلف املاک کو آگ لگانے کی کاروائی بھی شرپسندوں کی تھی۔ ہم شرپسندوں کی تلاش میں تھے جب حکومتی نمائندے نے شرپسندوں کے سربراہوں کے ہمراہ یہ نوید سنائی کہ دونوں پارٹیاں شہر میں امن ومان قائم کرنے پر راضی ہو گئی ہیں دونوں سربراہوں نے اپنے بیان میں شرپسندوں کو ناکام بنا دینے کی سارش اوہ معافی چاہتا ہوں عزم کیا۔ ہمارے دوست کا کہنا ہے یہ واحد تاریخی دعوٰٰی تھا جہاں فریقین نے خود کو ناکام کرنے کا عہد کیا ہو۔
حکومت نے شرپسندوں کی آپس میں صلح تو کروا دی مگر شر پسند اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے! لہذا حکومت یہ نے اس سے قبل کہ عوام کو علم ہو جائے کہ کراچی جیسے شہر میں بھی رٹ نہیں شرپسندوں کی رٹی رٹائی مان لی! چونکہ شرپسندوں کی چھٹی نہیں ہو سکتی تھی حکومت خود ہی چھٹی دے بیٹھی!! اب بیٹھی ہوئی حکومت تو یہ ہے نہیں! آپ کچھ اور سمجھ رہے ہیں!! “شر“ یر نہ ہو تو!!!
تبصرے ()
:(
واہ رہے افتخار اجمل واہ ۔ کسی دور آیا ہے تیرے وطن میں کہ سچ ہی گُم ہو کر رہ گیا ہے ؟
کیسا دور آیا ہے تیرے وطن میں کہ سچ ہی گُم ہو کر رہ گیا ہے ؟
اور سب سے زیادہ جاگیردارانہ ذہنیت بھی انہی بھائی لوگوںکی ہے۔۔۔
قائد کا جو غدار ہے
وہ موت کا حقدار ہے
کیا زبردست انصاف ہے جی ان کا ۔۔۔
لیکن اب یہ نعرہ بدل دینا چاہئے۔۔۔۔ ایسے۔۔۔
قائد ہم شرمندہ ہیں
آپ ابھی تک زندہ ہیں
اس لئے کوئی یہ توقع مت کرے کہ ہم اپنے پھٹے سپیکر والے گھٹیا قائد کی شان میں کوئی گستاخی کریں گے
یا ان کے اندھے اور بہرے پیروکاروں کو برا بھلا کہیں گے یا غلیظ گالیاں نکالیں گے جس کے وہ مستحق ہیں
لوگ تو ہمیں پاکستانیت کیا اسلام سے ہی خارج کر دیں گے
اور اگر یہ انسان صاحب اپنا نام اردو میں لکھ دیں تو لوگ ان کو ہمایوں سمجھنا چھوڑ دیں
مزار قائد سے یاد آیا
وہاں جانے کے لئے شائد پرٹنر شارٹنر کی بھی ضرورت ہوتی ہے
اکیلے جانا بیکار ہے
اپنا تبصرہ دیں