5/12/2009

شرپسندوں کی ہرتال اور حکومت کی چھٹی

شر پسند وہ ہی ہوتے ہیں جنہیں “شر“ پسند ہو! شریر ہر گز نہیں ہوتے! مگر شرارت کرتے رہتے ہیں! اچھے تو ہر گز نہیں ہوتے! مگر اچھے کہلاتے ہیں۔ یہ اِیسے ہی شر پسندوں کی کارستانی تھی جس کی بناء پر آج تمام سندھ چھٹی منا رہا تھا۔ ہمیں شر پسندوں کو پہچانے میں کافی ذیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا یہ کام خود شرپسندوں و حکومت وقت نے سرانجام دیا۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ مئی کے مہینے کے آغاز سے قبل کراچی شہر کے حالات کافی خراب ہو گئے!اہل بصیرت نے آگاہ کیا کہ ایسا اس بناء پر ہوا ہے کہ “کراچی کے طالبان اور شر پسندوں کا ایک  گروہ“ بارہ مئی کو “عوامی طاقت“ کا سوگ منانا چاہتا تھا! لہذا “اہلیان کراچی“ کے سکون کو غارت کرنے کی اس کاوش کو ناکام بنانے کے لئے “ذمہ دار“ ہاتھ حرکت میں آئے اور اس دوران میں پنتیس افراد اپنی جان سےگئے، “صاحب علم حضرات“ نے آگاہ کیا نہ صرف یہ جانی نقصان شرپسندوں کے ہاتھوں ہوا بلکہ شہر میں خوف وحراس پھیلانے کے لئے مختلف املاک کو آگ لگانے کی کاروائی بھی شرپسندوں کی تھی۔ ہم شرپسندوں کی تلاش میں تھے جب حکومتی نمائندے نے شرپسندوں کے سربراہوں کے ہمراہ یہ نوید سنائی کہ دونوں پارٹیاں شہر میں امن ومان قائم کرنے پر راضی ہو گئی ہیں دونوں سربراہوں نے اپنے بیان میں شرپسندوں کو ناکام بنا دینے کی سارش اوہ معافی چاہتا ہوں عزم کیا۔ ہمارے دوست کا کہنا ہے یہ واحد تاریخی دعوٰٰی تھا جہاں فریقین نے خود کو ناکام کرنے کا عہد کیا ہو۔
حکومت نے شرپسندوں کی آپس میں صلح تو کروا دی مگر شر پسند اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے! لہذا حکومت یہ نے اس سے قبل کہ عوام کو علم ہو جائے کہ کراچی جیسے شہر میں بھی رٹ نہیں شرپسندوں کی رٹی رٹائی مان لی! چونکہ شرپسندوں کی چھٹی نہیں ہو سکتی تھی حکومت خود ہی چھٹی دے بیٹھی!! اب بیٹھی ہوئی حکومت تو یہ ہے نہیں! آپ کچھ اور سمجھ رہے ہیں!! “شر“ یر نہ ہو تو!!!

8 تبصرے:

  1. چلو صاحب چھٹی تو منا لی ناں آپ نے، بغیر خون بہائے اور یہ بھی دلچسپ ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. میری بہت چاہت ہے کہ میں کراچی آو ۔۔ کوئی واقف ہی نہیں ہے یہاں

    :(

    جواب دیںحذف کریں
  3. چھٹی سے کسی کے ماتھے سے ظلم کا نشان مٹ نہیں جائے گا۔ سب جانتے ہیں کہ شرپسند ہی حکمران ہیں اور شرپسند ہی اتحادی ہیں اور ان کی موجودگی میں نہ تو احتجاج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سانحے کی تحقیقات ہو سکتی ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. بس بھئی بس ۔ زیادہ بات نہیں وکیل صاحب ۔ طالبان کا حمائتی یا بغیر داڑھی کا طالبان ہونے کا لیبل لگ جائے گا اور اگر انہین معلوم ہو گیا کہ آپ کے والدِ محترم کسی زمانہ میں پنجاب میں رہتے تھے تو اس سے بھی بڑا الزام لگ سکتا ہے ۔

    واہ رہے افتخار اجمل واہ ۔ کسی دور آیا ہے تیرے وطن میں کہ سچ ہی گُم ہو کر رہ گیا ہے ؟

    جواب دیںحذف کریں
  5. غلطی کی معذرت ۔ درست فقرہ ہے ۔
    کیسا دور آیا ہے تیرے وطن میں کہ سچ ہی گُم ہو کر رہ گیا ہے ؟

    جواب دیںحذف کریں
  6. جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف سب سے زیادہ ایم کیوایم زبانی جمع خرچ کرتی ہے
    اور سب سے زیادہ جاگیردارانہ ذہنیت بھی انہی بھائی لوگوں‌کی ہے۔۔۔
    قائد کا جو غدار ہے
    وہ موت کا حقدار ہے
    کیا زبردست انصاف ہے جی ان کا ۔۔۔
    لیکن اب یہ نعرہ بدل دینا چاہئے۔۔۔۔ ایسے۔۔۔
    قائد ہم شرمندہ ہیں
    آپ ابھی تک زندہ ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  7. ہمیں تو ہمایوں صاحب کی حسرت نے لکھنے پر مجبور کر دیا۔ کراچی کی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ آبادی میں آپ کا کوئ جاننے والا نہیں، جس کی وجہ سے وہ یہاں آسکیں۔ لیجئے یہ قائد اعظم کا مزار کس دن کے لئے کھڑا کیا گیا ہے۔ اب تو اس کے گرد پارک بھی بن گیا ہے۔ اچھا دن گذر جائے گا آپکا۔افتخار اجمل صاحب نمک ذرا کم کر دیں کھانے میں۔خاصے کام کے آدمی بن جائیں گے آپ۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. بھئی ہم تو جھوٹ بول کر غدار کہلوانا نہیں چاہتے
    اس لئے کوئی یہ توقع مت کرے کہ ہم اپنے پھٹے سپیکر والے گھٹیا قائد کی شان میں کوئی گستاخی کریں گے
    یا ان کے اندھے اور بہرے پیروکاروں کو برا بھلا کہیں گے یا غلیظ گالیاں نکالیں گے جس کے وہ مستحق ہیں
    لوگ تو ہمیں پاکستانیت کیا اسلام سے ہی خارج کر دیں گے
    اور اگر یہ انسان صاحب اپنا نام اردو میں لکھ دیں تو لوگ ان کو ہمایوں سمجھنا چھوڑ دیں
    مزار قائد سے یاد آیا
    وہاں جانے کے لئے شائد پرٹنر شارٹنر کی بھی ضرورت ہوتی ہے
    اکیلے جانا بیکار ہے

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔