پرائی جنگ جب اپنی ہو،
آنگن میں جب اپنے مریں،
دشمن دوست سمجھے جائیں،
گھر تب تباہ ہوتے ہیں،
اپنے بے گھر ہوتے ہیں،
رہنما جب جھک جائیں،
حکمراں بک جائیں،
اپنوں کی ہو قیمت وصول،
وہ زخم خود ہی لگتے ہیں،
بھیک جن پر ملتی ہے،
محافظ جب ہو بے یقین،
خود ہی پر وار کرتے ہیں،
اپنوں سے ہی ڈرتے ہیں،
انہی کو تباہ حال کرتے ہیں،
لوگ وطن میں مہاجر بنتے ہیں،
(میں اسے شاعری تو نہیں کہوں گا مگر یہ ایک خیالات کا تسلسل تھا جو آج ذہین میں آیا اور میں نے تحریر کر لیا)
بات یہ ہے کہ شعر صحیح سے یاد نہیں آ رہا۔ مگر شاعر کہتا ہے مدتوں ایک لاوا پکتا رہتا ہے اور کوئ بھی سانحہ ایک دم نہیں ہوتا۔ اگلی اور پچھلی حکومتوں سے ہٹ کر ہماری سیاست اور حکومت وہی چہرے اور خاندان پچھلے ساٹھ سالوں سے گردش میں ہیں۔ ٹہرے ہوئے پانی میں بدبو تو پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ الگ بات کہ اپنی اپنی باری پہ سب کو محسوس ہوتی ہے۔
جواب دیںحذف کریںوقت کرتا ہے پرورش برسوں
جواب دیںحذف کریںحادثہ ایک دم نہیں ہوتا
دیکھئے تو شاید یہی شعر لکھنا چاہتی تھیں آپ۔۔۔۔
شاباش جعفر ، آءندہ کچھ یاد نہ آیا تو آپ سے رجوع کریں گے۔
جواب دیںحذف کریںwo mujh se meray pyar ka hsab chahti hay FARAZ ............. jis ki khud matrc mai hisab ki supply hay
جواب دیںحذف کریں