5/25/2009

ڈر اُس کی دیر گیری سے

تحریر: اوریا مقبول جان

5 تبصرے:

  1. اوریا مقبول جان صاحب نے درست لکھا ہے ۔ وہ 1947ء کے منظر کے گواہ ہیں اور میں بھی گواہ ہون ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. سیاست اگر جذبات پر کی جانے لگے تو پھر تو نظام تباہ ہو جائے۔۔

    جذبات حکمران کے لئے سُم قاتل ہیں۔ حکمرانی کرنی ہے تو جذبات کو مارنا ہوگا۔

    ہم لوگ جو اوریا صاحب سے متاءثر ہیں، بے وقوف اور جذباتی ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہمم بہت خوب جناب،
    اچھی تحریری پیش کی ہے ، میرا متفق ہونا یا نہ ہونا الگ قصہ ہے۔
    والسلام

    جواب دیںحذف کریں
  4. قیام پاکستان کی ہجرت تھی لوگ مستقل رہنے کے لئے ایک نئے ملک میں منتقل ہورہے تھے۔ ہجرت اور نقل مکانی میں فرق ہوتا ہے۔ میرے خیال میں کسی کو ان لوگوں کی آمد پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے بشرطیکہ یہ متاثرین حالات بہتر ہونے پر اپنے علاقوں کی طرف لوٹ سکیں۔ لیکن افغان جنگ کے متاثرین آج تک کراچی میں مقیم ہیں۔ انہوں نے غیر قانونی ناجائز بستیاں بسائیں اور شہر میں منشیات اور اسلحے کی تجارت کو فروغ دیا۔ اور اتنی بڑی تعداد میں غریب آبادی میں اضافہ جرائم میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اور ہمیں یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ ان میں سے کون القاعدہ کے لوگ ہیں اور کون طالبان۔

    جنگ کے متاثرین کو کیمپوں میں رکھا جائے تاکہ وہ وقت آنے پر اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ ان کی رجسٹریشن کی جائے۔ اور انہیں صوبہ سندھ آنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. اوریا مقبول جان نے روایت کو قائم رکھا یعنیاپنے مطلب کی آدھی بات تو بیان فرما دی اور باقی آدھی بات کا تذکرہ گول کر گئے۔ جہاں انہوں نے اپنے اتنے احسانات گنوائے وہاں اگر وہ کچھ اور باتیں بھی بتا دیتے تو اچھا تھا۔ مثلاً انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جب پاکستان بناتو حالات ایسے تھے کہ حکومت پاکستان کے پاس ایک مہینے کی تنخواہ دینے تک کے پیسے نہ تھے۔ ان مہجریں نے کسطرح اپنی ذاتی املاک سے فنڈز اکٹھے کئے اس کا کوئ تذکرہ نہیں۔ ذرا دو چار نام ان کے بھی گنوا دیتے یا معلوم کر لیتے تو اچھا تھا۔ آپنے اس وقت کی وفاقی ملازمتوں میں مہاجرین کی تعداد کا تذکرہ کیا ہے۔ لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اسوقت مغربی پاکستان میں تعلیم یافتہ اور تجربے لوگوں کا کس قدر قحطالرجال تھا۔اگر وہ لوگ آکر نہ سنبھالتے تو گاندھی کی یہ پیشن گوئ کہ یہ ملک تو چند دنوں کے لئے بنا ہے اسے پورا ہونے سے کون روک سکتا تھا۔ آپ کے جاگیردار یا سردار ان میں سے بیشتر لوگوں کو حکومت پاکستان درخواست کر کے بلا یا تھا۔ اس سلسے اس وقت فوری چور پہ جو نام مجھے یاد آرہا ہے وہ بھپال کی ولعہد بیگم عابدہ سلطان ہیں۔ شہزادی بحوپال کا مھل چھوڑنے کے کراچی میں ملیر کے ایک سادہ سے گھر میں آکر رہیں کبھی موقع ملے یا دوسروں کے احسانات جاننے کا دل چاہے تو ان کی خود نوشت سوانح حیات ضرور پڑھئے گا۔ ایسے لوگوں کے ناموں می ایک لمبی لسٹ ہے بیشتر تو گمنامی کے اندھیروں مییں ڈوب گئے۔پھر جناب آپ نے کلیمز کا تذکرہ کیا ہے ان کلیمز سے پنجابی مہاجرین نے فائدہ اٹھیا ہو تو ہو۔ لیکن اگر کراچی میں رہنے والوں نے اس رفتار سے فائدہ اٹھایا ہوتا تو آج اس شہر کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اگر اسوقت آپ نے لیاقت علی خان سے آپ کے بقول محبت کا اظہار کیا تو انہیں یہی زیبا تھا۔ ایک شخص جو مرتے وقت بھی پاکستان کا نام لے اور مرنے کے بعد اس کی شیروانی کے نیچے پھٹی بنیان موجود ہو کیا آپ اپنی تاریخ سے ایسی کوئ دوسری مثال ڈھونڈ کر لا سکتے ہیں۔ افسوس آپ کے پاس صرف احسانات کی تاریخ ہے۔ اگر ان مہاجرین جس وقت وہ پاور میں تھے آپ جیس دور اندیشی دکھائ ہوتی یعنی ہر جگہ اپنے نا اہل رشتے دار یا برادری کے بندے کو ڈالا ہوت تو آج بھی ان جگہوں پہ وہی ہوتے۔ انہوں نے اپنی روشن خیالی سے آپ لوگوں کے لئَ جگہ خالی کی۔ جو بچ گئے آپ نے ان کا صفایا اس طرح کیا کہ دامن پہ کوئ داغ نہ خنجر پہ کوئ چھینٹ۔ آج آپ کے پاکستان میں ہر چیز تنزلی کی طرف ہے۔ آپ نے اسی پہ بس نہیں کی بلکہ مہاجروں کے چرے کا خم نکالنے کے لئے چودہ دسمبر ۱۹۸۶ کو پٹھانوں کے لشکر بھیج کر ان کے نہتے لوگوں کو وہ سبق سکھایا کہ اس نسل کے لوگ کے سینوں پہ نقش ہوگیا۔ نہ نہ آپ اس سلسلے میں ایم کیو ایم کا نام نہ لیں یہ جماعت تو اس وقت عملی طور پہ تھی ہی نہیںاس وقت تو اس شہر پہ آپ کا راج تھا۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں ان کا تعارف دیا۔ ہمیں بتایا کہ الطاف حسین نامی شخص بھی اس شہر میں موجود ہے۔ آپ کا شکریہ کے ہمارے نوجونوں کے دلوں سے ہتھیار کا خوف نکالا۔ آپ نے اپنے احسان فراموشوں کی ایک نسل کو تباہ و برباد کر دیا۔ ایسوں کے ساتھ تو ایس ہی کرنا چاہئیے۔ جناب ہم تو آپ کے احسانات کے بوجھ تلے کچلے ہوئے ہیں ہمیں تو ہر لحظہ جناب کے ماتھے کے بل گنتے رہنا چاہئیں۔ لیکن حضور ایسا ہے کہ ہم آپ سے ابھی تک ڈرے ہوئے ہیں کیا عال مرتبت اس کوف کو ہمارے سینوں سے نکالنے کا نیک کام کریں گے۔ یا اس شہر میں مزید پٹھانو ں کی مافیاز قائم کرنے کے منصوبے بناتے رہیں گے۔ عالی قدر سر میں تو اتنی خوفزدہ ہوں کہ سوچتی ہوں کہ کسی اور ملک کی شہریت اختیار کرلوں میری ایک چھوٹی سی خواہش ہے کہ میرے بچوں کے دل نارمل انداز میں دھڑکیں۔اور ان کے سینوں میں کوئ خوف نہ ہو۔ ۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔