10/21/2015

مردے کو اب موت نہیں ہے

آنکھ کا پانی اور تیری یاد!
پچھتاوے کی انوکھی آگ.

صبح صبح جو رو لیتا ہوں
غم کا غبار دھو لیتا ہوں

دن گزرے گا جدوجہد میں
رات پھر ہو گی تیری یاد

غلطی کا کوئی مداوا نہیں ہے
سینہ کوبی ہرگز دعوی نہیں ہے

تکلیف ہے مگر چوٹ نہیں ہے
مردے کو اب موت نہیں ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔