آنکھ کا پانی اور تیری یاد!
پچھتاوے کی انوکھی آگ.
صبح صبح جو رو لیتا ہوں
غم کا غبار دھو لیتا ہوں
دن گزرے گا جدوجہد میں
رات پھر ہو گی تیری یاد
غلطی کا کوئی مداوا نہیں ہے
سینہ کوبی ہرگز دعوی نہیں ہے
تکلیف ہے مگر چوٹ نہیں ہے
مردے کو اب موت نہیں ہے
مردے کو اب موت نہیں ہے
تبصرے ()
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔