8/20/2013

قابض فوج بمقابلہ محافظ فوج

فوج جب سرحدوں کی حفاظت کے بجائے اپنی عوام کو بندوق کے روز پر فتح کرنے نکلے تو تاریخ بتاتی ہے کہ ملک کی فاتح بیرونی طاقتیں ہوتی ہیں! ایسے ملکوں کی عوام عموما بیرونی حملہ آوروں کی آمد پر اگر قوم نہ بنے تو اُن کی رخصتی کے بعد اقوام میں بدل جاتی ہیں! حملہ آور ایسے موقعوں پر "لوٹ کا مال" جسے مال غنیمت مانا جاتا ہے سے آگے اگر حاصل کرنا چاہے تو اتنا کہ اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت اُن نئی آزاد "اقوام" سےایسے کرواتے ہیں جیسے مالک نوکر سےاپنے کام!
قابض کا قبضہ اگر لمبا ہو تو آزادی کی جدوجہد بغاوت ہوتی ہے۔ حملہ آور جب حاکم کا روپ اپنا لے تو عموما مقامی کارندے اپنوں سے غداری کو حاکموں سے وفاداری جان کر اپنی پہچان کو داغدار کر کے اپنوں کی محکومی کو طوالت بخشتے ہیں! بہادری کی داستانیں صرف بغاوتوں سے ہی جنم نہیں لیتی بلکہ آزادی کی داستانوں کو کچلنے والوں کی بہادریاں بھی بطور مثال پذیرائی پاتی ہیں!بہادر جان پر ہی نہیں کھیلتا بلکہ جانوں سے بھی کھیل جاتا ہے۔!
اچھائی و برائی کا فیصلہ عام طور پر اعمال سے نہیں نیتوں سے ہوتا ہے! کاوش سے نہیں مقصد سے ہوتا ہے! مگر منزل کے تعین کو منتخب راستہ کامیابی کا ہو تو تب بھی راستے اہم ہیں! صرف نتائج ہی نہیں طریقہ کار بھی بتاتا ہے قابض کون ہے اور محافظ کون۔ !
(لکھا تو میں نے ہی ہے مگر اگر آپ کو سمجھ آ جائے تو مجھے بھی سمجھا دینا)

3 تبصرے:

  1. وکیل صاحب ۔ لکھا تو خُوب ہے مگر آخری فقرے سے قیاس ہوتا ہے کہ آپ نے یہ تقریر خواب میں کی اور آنکھ کھُلتے ہی لکھ دی کہ کہیں بھول نہ جائے ۔ اگر واقعی اس تقریر کا متن خواب مین بنا یا جب آرام سے لیٹے یا بیٹھے تھے تو بنا پھر تو بہت ہی اعلٰی یعنی آپ کا ذہن اللہ نے پاکیزہ بنایا اور پاکیزہ ہی رکھا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بات پتے کی ہے اور سو فیصد درست ہے۔ ہمارا بھی ڈکٹیٹرشپ کے بارے میں یہی نظریہ ہے۔ ہم نے اپنے بلاگ پر اس حوالے سے کئی بار لکھا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے بھی سمجھ نہیں۔ شاید جلدی میں آپ مدعا بیان نہیں کرسکے۔ لیکن اگر آپکا مقصد وہی ہے جو ابتدائی جملوں سے ظاہر ہورہا ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ پاکستان میں معاملات الٹے ہیں۔ یہاں نوکر مالک بن جاتے ہیں۔ جسے آپ نے ہتھیار دے کر گیٹ پر بٹھایا ہوا ہوتا ہے وہ ہتھیار کے بل پر آپکو یرغمال بنا لیتا ہے اور جس کو آپ نے مینیجر بنا کر پیسہ ہاتھ میں تھمایا ہوتا ہے وہ اس پیسے سے آپکا کام کرنے کی بجائے خوب عیاشی کرتا ہے۔ پاکستان کی آزادی 70 سال بعد بھی مکمل نہیں ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔