Pages

4/03/2005

تجھےعشق ہو خدا کرے

تجھےعشق ہو خدا کرے تجھے اس سے کوئی جدا کرے تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائے تیری آنکھ پرنم رہا کرے تو اسکی باتیں کرے تو اسکی باتیں سنا کرے تو اسے دیکھ کر رُک پڑے وہ نظر جھکا کر چلا کرے تجھے ہجر کی وہ چھڑی لگے تو ہر پل ملن کی دعا کرے تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر تو کرچی کرچی چنا کرے تو نگر نگر پھرا کرے تو گلی گلی صدا کرے تجھے عشق ہو پھر یقین ہو تو تسبیہوں پہ اسے پڑھا کرے میں کہوں عشق ڈھونگ ہے تو نہیں نہیں کیا کرے

4 تبصرے:

جہانزیب نے لکھا ہے کہ

بہت خوب شعيب بھائی
ميری چند پسنديدہ نظموں ميں سے ايک
اور ہاں آپ سے يہ کہنا تھا کہ آپکا بلاگ ميرے پاس صيہ سے نہيں کھلتا ہے مجھے تو کمپيوٹر کا اتنا علم نہيں ہے شايد ام ميں کچھ سکرپٹ ايسا ہو جس کی وجہ سے يہ ہو رہا ہو ۔

Talat Mir نے لکھا ہے کہ

Salam dear
bhaei aap ki poem wazan main nai khay...

شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

بھا ئی میں خود کمپیوٹر سے خاص واقف نہیں ہو جو تھوڑا بہت آتا ہے وہ بھی میں نے انٹرنیٹ سے مختلف ٹیٹوریل پڑ کر سیکھا ہے۔ویسے میں٘ نے ایک دو جگہ اور بھی بلاگ کو چیک کیا ہے ٹھیک ہے نہ معلوم آپ کو کیوں تنگ کر ریا ہے۔
بھائی آپ کی یہ پسندیدہ نظم ہے کیا میں نے ٹھیک نہیں اتاری ؟بھائی مرزا ویسے میرا خیال ہے کہ آزاد نظم وزن میں کم ہی ملتی ہیں

Shuaibday نے لکھا ہے کہ

Dear Safadder, now your blog looks very nice. Do one thing write Tahoma after your favorite Urdu font in Template

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔