تجھےعشق ہو خدا کرے
تجھے اس سے کوئی جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائے
تیری آنکھ پرنم رہا کرے
تو اسکی باتیں کرے
تو اسکی باتیں سنا کرے
تو اسے دیکھ کر رُک پڑے
وہ نظر جھکا کر چلا کرے
تجھے ہجر کی وہ چھڑی لگے
تو ہر پل ملن کی دعا کرے
تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی چنا کرے
تو نگر نگر پھرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
تو تسبیہوں پہ اسے پڑھا کرے
میں کہوں عشق ڈھونگ ہے
تو نہیں نہیں کیا کرے
بہت خوب شعيب بھائی
جواب دیںحذف کریںميری چند پسنديدہ نظموں ميں سے ايک
اور ہاں آپ سے يہ کہنا تھا کہ آپکا بلاگ ميرے پاس صيہ سے نہيں کھلتا ہے مجھے تو کمپيوٹر کا اتنا علم نہيں ہے شايد ام ميں کچھ سکرپٹ ايسا ہو جس کی وجہ سے يہ ہو رہا ہو ۔
Salam dear
جواب دیںحذف کریںbhaei aap ki poem wazan main nai khay...
بھا ئی میں خود کمپیوٹر سے خاص واقف نہیں ہو جو تھوڑا بہت آتا ہے وہ بھی میں نے انٹرنیٹ سے مختلف ٹیٹوریل پڑ کر سیکھا ہے۔ویسے میں٘ نے ایک دو جگہ اور بھی بلاگ کو چیک کیا ہے ٹھیک ہے نہ معلوم آپ کو کیوں تنگ کر ریا ہے۔
جواب دیںحذف کریںبھائی آپ کی یہ پسندیدہ نظم ہے کیا میں نے ٹھیک نہیں اتاری ؟بھائی مرزا ویسے میرا خیال ہے کہ آزاد نظم وزن میں کم ہی ملتی ہیں
Dear Safadder, now your blog looks very nice. Do one thing write Tahoma after your favorite Urdu font in Template
جواب دیںحذف کریں