2/19/2006

یہ بھی سائنس ہے

ارے بھائی!!!! آپ جو بھی کرو! مان لو ! جان لو ! سمجھو لو! وہ سائنس ہے، کسی کا کیا سناؤ! خود میں نے جب انٹر (ایف ایس سی) کیا تو لپک کے بی اے میں جا ایڈمیشن لیا، جو پوچھے کیا کر رہے ہو ہمارا جواب ہوتا بی اے، دوسری جانب سے رد عمل ہوتا اچھا! بھائی آرٹس پڑھی جا رہی ہے! خوب۔۔۔۔ چند ایک نے اپنی ایک آنکھ بند کر کے یوں بھی کہا “اوہ! بی اے کے بعد بیاہ کا ارادہ تو نہیں ہے ناں“۔ ہم کہتے جی پہلے پڑھائی تو مکمل کر لے پھر ان چکروں میں پڑیں گے۔۔۔۔ چکر ہی ہیں ناں! ۔۔۔ جی بات ہو رہی تھی گریجوایشن کی تو جب داخلہ لیا تو ہم با ہوش و حواس میں آرٹس پڑھنے جا رہے تھے۔۔۔ مگر کورس کی کتابیں خریدی تو ہم پر افشاں ہوا کہ یہ بھی سائنس ہے۔۔۔۔ لو جی! ہر مضمون کا پہلا باب اس بات پر بحث کر رہا ہوتا تھا کہ یہ جو مضمون آپ پڑھ رہے ہیں سائنس ہے، سیاسیات سائنس ہے، معاشیات سائنس ہے، جغرافیہ سائنس ہے، معاشرے کا علم سائنس ہے، فلسفہ سائنس ہے، تاریخ سائنس ہے، یہ سائنس ہے وہ سائنس ہے، اس میں سائنس ہے، اُس میں سائنس ہے، فلاں سائنس ہے اور فلاں فلاں بھی سائنس ہے ۔۔۔۔ ہم ٹھہرے “شریف النفس“ بندے بحث میں کیا پڑنا لہذا بلا چوں چڑاں مان گئے کہ بھائی سائنس ہی ہو گی! اب اتنے سارے لوگ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔۔ مزید اس پر امتحان میں تو (تمام مضامین کے پرچے میں) صاف کہا گیا کہ یہ سائنس ہے بیان کریں، ہم تو پہلے ہی سر تسلیِم خم کر چکے تھے لہذا جواب میں سنی سنائی بلکہ پڑھی پڑھائی ( پٹی درحقیقت رٹی رٹائی پٹی ) پرچے میں دے ماری!!! کہ یہ سائنس ہے اور کچھ نہیں!!! ، اہل یونیورسٹی نے خوش ہو کر ( کہ ایک اور الو بن گیا آرٹس کو سائنس مان گیا) ہمیں کامیاب قرار دے دیا۔۔۔۔۔ کہا تم پاس ہو خبر دار جو اب گیجوایشن کے پاس بھی بھٹکے، سند دی بی اے کی۔۔۔۔۔۔ ہم جا پہنچے اپنے استاد کے پاس کہ سر پرچے میں پوچھا اور ہر مضمون کہ پہلے باب میں بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کر نے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا ہے کہ یہ سائنس ہے تو ڈگری کیوں آرٹس کی ؟؟؟ بی اے کے بجائے بی ایس سی کی کیوں نہیں ؟ وہ بھی آخر ہمارے استاد تھے کہنے لگے “یہ بھی سائنس ہے“۔۔۔ کر لو گل!! ہون آرام اے۔۔۔۔ یہ پوسٹ پڑھی کچھ پلے پڑا؟؟؟ نہیں ناں!!! ارے یہ بھی سائنس ہے!!!!

3 تبصرے:

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔