Pages

2/28/2005

غیرت کے بدلے دوستی کی پینگیں

بھارتی اخبار "دی ٹریبیون" کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی تصویر جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار احمد کی بیگم بھارتی وزیر خارجہ نٹورسنگھ کی بانہوں میں بانہیؔں ڈالے جھوم رہی ہیں(یہ تصویر وزیر خارجہ خورشید قصورکی طرف سے دیئے گئے عشائیے کے موقعے کی ہے) پاک بھارت دوستی کے انتہا ئی دلخراش منظر کی عکاسی کرتا ہے ۔جب پاکستان اپنی قومی حمیت و غیرت کے بدلے بھارتی دوستی کا حقدار ٹھہرے گا جو لوگ دیہاتی یا قبائلی زندگی کا تجربہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جب دو خاندانوں یا قبیلوں کے درمیانکسی جھگڑے کا تصفیہ(فیصلہ) کیا جاتا ہے تو بیشتر اوقات کمزور فریق اپنی لڑکی کا رشتہ دیکر اِس لڑائی کو ختم کرتا ہے،قریب ایسا ہی بے غیرتی کا سبق ہمیں سکھایا جا رہا ہے۔حالیہ عرصے میں رلیز ہونے والی فلم"ویر زارا" میں بھارتی لڑکےکا پاکستانی لڑکی (لاہور کی)سے عشق دیکھایا گیا،نیز کراچی میں ہونے والے انٹر نیشنل فلم فسٹیول میں بھی ایک ایسی ہی بھارتی فلم کی نمائش ہوئی جس میں ہندوستانی بچہ اور پاکستانی لڑکی(سندھی) کی دوستی دیکھائی گئی۔ ایک پڑوسی کی حیثیت سے دونوں ممالک کے درمیاں خوشگوار تعلقات کا ہونا لازمی ہے ،مگر ایسا برابری کی سطح پر ہونا چاہئے بے غرتی کی سطح پرنہیں۔ایسا اُس وقت ممکن ہے جب حاکم وقت میں عزت و غیرت کا خمیر ہو مگرعورت کو نیکر میں دیکھ کر صرف آنکھ اور ٹی و ی بندکر نے والا کیا جانےقومی عزت ق حمیت کیا ہوتی ہے۔۔۔۔

3 تبصرے:

ضیا نے لکھا ہے کہ

تصویر تو آپ نے خوب نکالی شعیب صاحب، لیکن میں آپ سے اتفاق نہیں رکھتا۔ اگر بیگم شہریار نٹور سنگھ کے ساتھ جھوم رہیں ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس میں بےغیرتی یا قومی عزّت کا کیا دخل؟ ممکن ہے شہریار صاحب بھی بیگم سنگھ کے ساتھ جھوم رہیں ہوں :)۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

abay thak gaya hay kia jaldi update kena.

kia kothay walay nakhray horahay hain

Kamil نے لکھا ہے کہ

Musharaf Govt can easyly win coward award 2005.

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔