دو شعر

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقین تھا ہمارا ہی قصور نکلے گا!۔

.........................

مزہ برسات کا چاہو تو اِنآنکھوں میں آ بیٹھو۔

وہ برسوں میں برستا ہے یہ برسوں سے برستی ہیں


تبصرے ()

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ کریں!

اپنا تبصرہ دیں