یار لوگوں نے تو قسط وار کہانیاں شروع کر رکھی ہیں!لاہور میں ہونے والی اردو بلاگرز کے اجتماع عام پر!! اردو بلاگرز جنہوں نے اس میں شرکت کی وہ اس اجتماع کو کانفرنس کے نام سے یاد کرتے ہوں گے مگر ہم اسے ساتھی اردو بلاگرز سے ملاقات کا سبب یا بہانہ مانتے ہیں!
یہ کانفرنس ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کے صدر محسن عباس صاحب نے کروائی تھی! یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ جنوری کی 26 اور 27 کو یہ کانفرنس منعقد ہوئی اور ٹھیک جب تمام اردو بلاگرز اپنے گھروں کو پہنچے ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کی ویب سائیٹ انٹرنیٹ کی دنیا سے غائب ہو گئی!! البتہ ڈائیورسٹی رپورٹر یہ صفحہ ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کے لئے مختص ہے!
اس کانفرنس یا اجتماع میں ہماری ملاقات چند عمدہ دوستوں سے ہوئی! اردو بلاگر جتنا نیٹ پر بے باک ہے اتنا ہی محفل میں ہو سکتا ہے یہ تاثر مکمل طور پر سچ نہ ثابت ہوا! م بلال م جتنی عمدہ اردو لکھتا ہے اتنا ہی اعلی بندہ ہے، نہایت مخلص و سادہ! مگر لہجہ میری طرح دیسی ہے! لاہور دیس میں بسے پردیسی صاحب لاہوریوں کی طرح بڑی دل اور عمدہ اخلاق والے بندے ہیں۔ شاکر عزیز کی شخصیت اُس کے بلاگ سے مختلف سنجیدہ لکھنے والا یہ شخص بظاہر نہایت ہنس مکھ بندہ ہیں، اس کی جھگتیں اس کے فیصلا آبادی ہونے کی دلیل دیتی ہیں! فیصل آباد سے دوسری آنے والی شخصیت جناب مصطفےٰ ملک تھے ہم ابتدا میں اُن کے سامنے ایسے پیش آنے کی کوشش کرتے رہے جیسے بچے بڑوں کے سامنے دبے دبے رہتے ہیں مگر وہ تو ہم سے ذیادہ زندہ دل و جواں نکلے! پھر کیا محفل لگی ہو گی آپ کو اندازہ ہوگا!! جس بندے کی شخصیت نے مجھے سب سے ذیادہ متاثر کیا وہ ریاض صاحب کی شخصیت تھی جسے گفتگو کا سلیقہ آتا ہے، دلیل سے بات دل میں اُتارنی آتی ہے۔ جو دوسرے کو سُن کر سمجھنا جانتا ہے! فخر نوید کے کیا کہنے بندہ اُس کی صحبت کو بھول نہیں سکتا یہ شخص واقعی ایسا ہے جس پر فخر کیا جا سکے اس سے دوستی کسی نوید سے کم نہیں۔ خرم ابن شبیر!!! کیا بات ہے اس بندے ہیں دل کا صاف آدمی اور محبت کرنے والا۔ کانفرنس میں موجود تین پپو بچو میں سے ایک یہ تھا باقی دو تو میں ایک نو وارد نعیم خان جن کا تعلق سوات سے ہے مگر رہتے وہ پشاور میں ہیں!اور دوسرے حسن معراج ڈان نیوز کے “خوب است خوب است” کرتے پائے گئے۔ زھیر چوھان ممکن ہے کئی دوستوں کو شرمیلا لگا ہو مگر یہ بندہ جس انداز میں مجھ سے آکر ملا دل باغ باغ ہو گیا! لگا ہی نہیں کہ پہلے ملاقات ہے یوں لگا جیسے ہم کئی بار مل چلے ہیں! حیرت تو مجھے محمد سعد سے پر ہوئی نیٹ پر جتنی بے تکلفی سے بات کرتا ہے اتنا ہے تعارف کروانے سے اجتناب کرتا محسوس ہوا ابتدا میں۔ بنیادی طور پر یہ بندہ ریکٹ لیٹ کرتا ہے جیسے ربورٹ نہیں کرتے! ویسے “مولبی ربورٹ” کہہ لیں! مجموعی طور پر ایک اچھے اخلاق کا مالک! عباس میاں کے کیا کہنے ایک دن ہی ہمارے ساتھ رہے مگر اپنی شخصیت کا اثر چھوڑ گئے اور جاتے جاتے اپنے دوستوں عبدالستاراور عاطف مرزا کو بھی لے گئے!!! راجہ اکرام یہ مکمل پاکستانی کسی بھی قسم کے خوف اور پریشانی سے پاک نظر آنے والا!! سادہ۔ ساجد امجد ساجد سے مل کر بھی اچھا لگا اور اُن سے ہمیں جو شکایتیں اردو وکیپیڈیا سے تھی یا ہیں بیان کر دیں۔
اس کے علاوہ مذثر لندی کوتل سے، جن کا لندی کوتل سے ہونا دوستو کے چہرے پر پر مسکراہت کی وجہ بنا اور محترم مسرت اللہ جان پشاور سے تھے ایک کھلے دل کے!! اور فرحت عباس شاہ صاحب کے بارے کون نہیں جانتا! خادم اعلی کے لئے نادم اعلی کا اصلاح استعمال کرنے والا کتنا بے باک بندہ ہو گا !مہتاب عزیز بھی اسلام آباد سے آنے والا ایک نہایت اچھا انسان ہے۔
آخر میں محسن صاحب جو اس کانفرنس کے اسپانسر بھی تھے اور میرے آبائی شہر لاہور کے!!
کانفرنس اردو بلاگرز کے لئے مجموعی طور پر اچھی رہی ہے اگر کسی کے اپنے مقاصد ہو تو ہوں مگر اردو بلاگرز کے مفاد میں جو اچھا ہو گا ہم اُسے اچھا کہیں گے! یہ کانفرنس اتنی اہم تھی کہ اس کے مخالف بھی اس میں خود کو اس میں شرکت سے نہ روک سکے! سو باتوں کی ایک بات اردو بلاگر پھر اردو بلاگر ہے جو اہنی دنیا آپ بناتے ہیں وہ اپنی قیمت نہیں لگاتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں ہمارے انمول ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ ہم اردو بلاگر ہیں! کوئی لاکھ کوشش کرے مگر ہم رضیہ نہیں ہیں بلکہ کچھ کے لئے “بلا” ہیں جو سچ کہنے کا “گُر” جانتے ہیں!!
باقی آپ سمجھ دار ہیں !!!
پہلے دن کی کاروائی کی کچھ ویڈیو جھلکیاں یہاں موجود ہیں!
آہ کسی نے ہماری کمی محسوس نہ کی
جواب دیںحذف کریں:(
اور ظالموں نے ہمارا نام تک نہیں لیا، ہیں جی
جواب دیںحذف کریںپاجی خیر ہے نا......اگلی پوسٹ میں پیار کا اظہار نہ کر دیجئے گا
جواب دیںحذف کریںعلی اور
جواب دیںحذف کریںافتخار راجہ صاحبان
ہم نے اُن کا ذکر کیا جو آئیں ہیں جو نہیں آئے اُن سب کی کمی محسوس ہوئی
فخرنوید ہیار تو ہم سب سے کرتے ہیں مگر وہ والا نہیں ----- آہو
جواب دیںحذف کریںیار ساری دنیا پپو پپو کہتے ہیں لیکن کوئی لڑکی نہیں کہتی ۔
جواب دیںحذف کریںبہت خوب شعیب بھائی
جواب دیںحذف کریںخوب لکھا ہے ۔۔۔ مزا آیا پڑھ کر
یہ ہوئی نہ بات بلاگر والی ۔ میں نے بغیر دعوت نامے کے ہی پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر ایک دن پہلے طبیعت کچھ مضحمل ہو گئی ۔ سوچا کہیں بیمار پڑ گیا تو بیگم پھر کہیں بھی جانے نہیں دے گی
جواب دیںحذف کریںخرم ابن شبیر آج کل سنا ہے لڑکیاں پپو بچو کو پسند نہیں کرتیں جو پسند کرتے ہیں اُن سے بچنا بس
جواب دیںحذف کریںافتخار اجمل بھوپال سر آجاتے تو اچھا ہوتا آپ سے ملاقات ہو جاتی
جواب دیںحذف کریں@پردیسی شکریہ
جواب دیںحذف کریںآپکی تحریر سے اندازہ ہوا کہ کانفرس چاہے جیسی بھی رہی لیکن اردو بلاگر آپس میں مل بیٹھ کر اکٹھے ہوے، تام بلاگرز کو داد دینی پڑے گی جو اپنی مصروفیات بھری زندگی چھوڑ کر کانفرنس میں شریک ہونے پہنچے، خاص طور پر کراچی کے صاحبان۔
جواب دیںحذف کریںآپ نے ہمارے ذکر تو کیا نہیں بس جی ہم ناراض ہو گئے ہیں اور تبصرہ بھی نہیں کرنا اس پوسٹ پر
جواب دیںحذف کریںابو عبد اللہ اوه میرے بھائی غلطی ہو گئی معافی!!!
جواب دیںحذف کریںمثل مشہور ہے کہ آملے کا کھایا اور بزرگوں کا کہا بعد میں پتا چلتا ہے یعنی ان دونوں میں جو فوائد پوشیدہ ہیں وہ آگے چل کر سامنے آتے ہیں۔۔۔۔۔۔بعینہ اردو بلاگر کانفرنس کے انعقاد کے ثمرات بھی اب آہستہ آہستہ آنا شروع ہو جائیں۔۔۔اردو بلاگنگ کے فروغ میں یہ کانفرنس ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی ۔۔۔۔اس طرح کے کاموں میں خدشات شبہات اور سوالات سے گبھرانا نہیں چاہئے اور۔۔ہاں۔۔سوال اٹھانے والے کی نیک نیتی پر بھی شک نہیں کیا جانا چاہئے ۔۔۔۔۔۔ہے تو یہ ایک حکیم کا مشورہ ۔۔۔۔۔۔اب جدید نظریات کے حامل۔۔۔۔۔۔ ینگ ڈاکٹرز اور موجودہ دور کے تناظر میں ۔۔۔۔ایک حکیم کا مشورہ۔۔۔۔ مانیں یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریںاو سر جی، میرے بلاگ کی جگہ کسی اور کا ربط لگا دیا میرے نام پر۔ میرا بلاگ (فی الوقت) یہ والا ہووے ہے۔
جواب دیںحذف کریںhttp://tezabiat.blogspot.com
محمد سعد یہ تیزابیت کا اثر ہے
جواب دیںحذف کریںمیں احتجاجاؐ کوئی تبصرہ نہیں کر رہا
جواب دیںحذف کریں@saad وجہ احتجاج ؟ یار میں آپ بھی ذکر نہ کرنے پر اراض ہیں تو معذرت قبول کریں
جواب دیںحذف کریںایسی دور دور جگہوں پر کانفرنسیں کرواتے ہیں، یا تو ٹی اے ڈی اے دیا کیجیے، یا پھر ذکر نہ کیا کیجیے۔
جواب دیںحذف کریںاور کوئی ریفریشمنٹ بھی تھی یا بیچارے بلاگروں کو سوکھے منہ ہی روانہ کر دیا؟