“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ خط اللہ کے بندے عمر بن خطاب کی طرف سے نیل مصر کے نام ہے۔ اگر تو اپنے اختیار سے جاری ہے تو ہمیں تجھ سے کوئی کام نہیں اور اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو اب اللہ کے نام پر جاری رہنا"
کیا آپ کو یاد ہے یہ کس خط کا مضمون ہیں! تاریخ دانوں کے بتائے ہوئے قصہ کے مطابق خلیفہ حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام اُس میں آنے والی ممکنہ خُشک
مگر اپنے سندھ کے وزیراعلی صاحب فرماتے ہیں "پانی تو بادشاہ ہے مقابلہ تو نہیں کرسکتے حدود میں رکھنے کی کو شش کریں" اندازہ لگائے! آج کے اس دور میں بھی جو پانی کو بادشاہ کہئے وہ اُس سے کیا بچاؤ کروائے گے!!
اگر حکمرانوں کی یہ سوچ ہو تو عوام کی حفاظت ممکن ہو گی؟ جبکہ اُن کی اپنی تاریخ اُنہیں ایک الگ سبق سکھا رہی ہو۔
بات اللہ پر يقين کی ہے ۔ آج کے مسلمان کا اللہ پر يقين تو کيا اپنے آپ پر يقين بھی نہيں رہا
جواب دیںحذف کریں