6/09/2015

بیہودہ غیر فرمائشی و بے ربط پوسٹ

فرمائش پر کچھ بھی نہیں ہو پاتا ہم سے بلکہ اب تو مزاج ایسا بد ہو چکا ہے کہ کوئی کام to do list میں ہو اور کوئی اسی کام کی فرمائش کر دے تو اسے کرنے کو دل نہیں چاہتا. کرنے بیٹھ جاؤ تو ہو نہیں پاتا. فرمائشی پوسٹ لکھا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن معلوم ہوتا ہے.

ہمارے ایک دوست کو زندگی میں دوسری بار محبت ہونے کا دھوکہ ہوا تو ہمارے پاس دوڑے دوڑے آئے کہنے لگے یار بچی بڑی ٹائیٹ ہے چھوڑنے کو دل نہیں کرتا اور بیوی بھی اچھی ہے بتا کیا کرو؟ ہم نے کہا انتظار کر. کہنے لگے کس بات کا؟ جواب دیا جب گود میں اپنی بچی آ جائے تو دماغ سے یہ معشوق بچی نکل جائے گی. پہلے مشکوک نظروں سے دیکھا پھر گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے. آج کل بیوی و بچی کو سنبھال رہے ہیں. ایک. دن ملےتو کہنے لگے تیری زبان کالی ہے اس وقت اُن کی گود میں بچی تھی.

ہمارے ایک اور دوست نے جعلی فیس بک پروفائل لڑکی کے نام سے بنا رکھی تھی. کئی دوستوں کو ایڈ کر کے ان سے فلرٹ کر رہے تھے ساتھ میں شغل میں دوسرے کراچی کے رہائشی لڑکوں کو بھی پاگل بنا رہے تھے ایک ایک کر کے سب دوستوں سے بکرا بنانے کی ٹریٹ کھائی پھر دیگر لڑکوں پر بھی راز فاش کرنے لگے. اک دن دوسرے دوست نے بتایا کہ جناب نے ایک لڑکے کو یہ بتانے کو میں لڑکا ہوں لڑکی نہیں ایک ریسٹورنٹ میں بلایا تو معلوم ہوا سامنے سے آنے والا لڑکا دراصل اصل میں کوئی خاتون تھی جو لڑکیوں سے لڑکا بن کر فلرٹ کرتی ہے فیس بک پر! ہمارے دوست کی آئی ڈی تو ڈی ایکٹو ہو چکی اس بی بی کا معلوم نہیں. اس وقت دونوں میں سے کون بکرا بنا یہ فیصلہ کرنا ابھی بھی باقی ہے

اسکول کالج کے بچے و بچیاں رومانی کہانیاں و فلمیں دیکھ کر چاہے جانے کی خواہش میں مبتلا ہو جاتے ہیں. ایسے میں ان کے شرارتی دوست و سہیلیاں انہیں تنگ کرنے کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیتے ہیں کہ فلاں تمہیں عجیب نظروں سے دیکھتا ہے یوں یہ سلسلہ اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ وہ خود یہ خیال پال لیتے ہیں کہ محبت ہو گئی ہے. جبکہ یہ Love نہیں Lust ہوتا ہے. چاہے جانے کی خواہش کے زیراثر پیدا ہونے والی غلط فہمی ہوتی ہے.

پہلے پہلے تو ہم بھی اس معاملے سے نا سمجھ تھے مگر وکالت میں آنے کے بعد ایک تو پبلک ڈیلنگ کی بناء پر دوئم کورٹ میرج کے لئے آنے والے جوڑوں کے انٹرویو کرنے پر احساس ہوا کہ فلرٹ کرنے والا دوسرے کو ہی نہیں بلکہ خود کو بھی جھوٹی محبت کے دھوکے میں رکھتا ہے. اور وہ انتہائی قدم (بھاگ کر شادی) دراصل اپنی بےراہ روی کے غلطی پر پردہ ڈالنے کی وجہ سے کرتا ہے یا انا کی تسکین کے لیے کہ مسترد کئے جانے کا زخم اسے منظور نہیں ہوتا. معاشی طور پر کمزور مرد اس موقع پر واپسی کی طرف سفر شروع کر دیتے ہیں اور یوں کئی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں.

صوفی شعراء نے عشق حقیقی کو عشق مجازی کی تمثیل سے سمجھایا. وقت گزرا جدید نئے دور میں وہ عشق مجازی کی تمثیل پردہ اسکرین پر نازیبا حرکات کرتے (گانوں)  مرد و زن کے روپ میں نظر آنے لگی ہیں اب وہ کلام غلط تعبیر و تشریح کی بناء پر دوا نہیں زہر بن گیا ہے. گزرتے وقت کے ساتھ نئی نسل محبت کو بستر پر وقت گزارنے کا بہانہ سمجھ بیٹھی ہے.

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں میچور و سمجھدار افراد خاص اساتذہ کو بالغ ہوتے بچوں کو اس سلسلے میں educate کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس عمر میں کی گئی غلطی ان کی شخصیت کو اس انداز میں متاثر کرتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد مزید تباہی کا سبب بنتا ہے.

اب دیکھ لیں یہ پوسٹ بیہودہ و بے ربط تھی کہ نہیں؟ جب عنوان سے ظاہر تھا تو وقت برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی. اتنا ہی فالتو کا وقت ہے تو تبصرے کر کے دل کی بھڑاس نکال لیں اب وقت تو برباد ہو ہی چکا. جس شیطان سے آپ کو تحریر پڑھنے پر مجبور کیا وہ ہی آپ کو تبصرے سے بھی روکے گا.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔