7/27/2013

سیاست کا دل اور دماغ

یار لوگوں کو اعتراض ہے! یہ کیا ہو گیا؟ وہ گئے اُن کے در پر جن کو وہ دُھتکارتے تھے! وقت وقت کی بات ہے! اور ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔
چوہدری کو مزارعوں پر حکومت کرنے کو علاقے کے بدمعاشوں و غنڈوں کا ساتھ چاہئے ہوتا ہے! اب یہ ساتھ وہ چاہے اُن کو اپنے ڈیرے کر بلا کر حاصل کرے یا خود اپنے بندے اُن کے ٹھکانے پر بھیج کر!! اور بدمعاش کو تو اپنی جان بچانی ہوتی ہے کل کو وہ اپنے فائدہ و قانون کے شکنجے سے بچنے کو جس کے لئے بدمعاشی کرتا تھا ،آج خود اپنے لئے کسی اور کا اتحادی بن کر پہلے کے خلاف کام کرتا ہے!! کیا کرے ،جان کی امان اور روزی روٹی کا معاملہ ہے۔ سیاست کے سینے میںایسا دل ہوتا ہے جو صرف اپنے لئے دھڑکتا ہے اور دماغ وہ جو اپنے بارے میں سوچتا!!
اصول زندگی کا حصہ ہوتے ہے اور اصول یہ ہے کہ اپنے فائدہ کا سوچوں !

5 تبصرے:

  1. پی پی پی پی نے جو راستہ اختیار کیا ہے ۔ شاید یہ اس کا توڑ ہے ۔ کل رضا ربانی نے کہا تھا ”یہ ابتداء ہے“۔ اس کے بعد اعتزاز احسن نے کہا ”ہم جس پروسس کو ہی نہیں مانتے ۔ اس کے پراڈکٹ کو کیسے مانیں گے“۔ پہلی حرکت یہ ہو سکتی تھی کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس نہ بُلایا جائے ۔ اس طرح صدر کا انتخاب داغدار ہو جاتا ۔ مسلم لیگ ن کے سندھ اسمبلی میں صرف 10 رکن ہیں ۔ اجلاس بلانے کیلئے کل تعداد کا تیسرا حصہ ہونا چاہیئے جو انہوں نے ایم کیو ایم کی حمائت حاصل کر کے پورا کر لیا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. مصطفی

    آپ یہ دیکھیے کی انہوں نے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے

    خیر غیر مشروط حمایت تو اعرابی کا اونٹ ہے

    ان کا تو حال یہ ہے "میں جس سے محبت کرتا ہوں اسے مار دیتا ہوں"

    محبت کی جگہ حمایت بھی بڑھ سکتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  3. امیرالمومنین ہیں جو مناسب سمجھیں سرکار
    ہم رعایا کیا کہہ سکتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. ہماری پیاری زباں اردو
    ہمارے نغموں کی جاں اردو
    حسین دلکش جوان اردو
    ہماری پیاری زباں اردو

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔