5/21/2015

شوشل میڈیا اسٹیٹس ٢

گزشتہ چند دنوں میں فیس بک و ٹویٹری اسٹیٹس جو ہم نے لگائے ذیل میں ہیں خالض ہمارے اپنے ۔

‏لاعلمی اندھیرے کی طرح ہے ٹھنڈی و نابینا، آگاہی دھوپ کی طرح جس قدر بڑھتی جاتی ہے گرمائش و بے چینی پیدا کرتی جاتی ہے. #میراخیال

‏محبت میں ملن نہیں آؤ جھگڑ کے تعلق مضبوط کریں #خیال

‏نیکیوں کی تلقین کرنے والے گناہ سے بھی بچا مجھ کو. #خواہش

‏منافقت بڑی خبیث شے ہے اتنی کہ جو کرتے ہیں انہیں بھی پسند نہیں ہے. #تجربہ

‏محبت کا بہترین تحفہ ملاپ نہیں جدائی ہے. #خیال

‏جس شعبے اور بات کا ادراک نہ ہو اس پر تبصرہ آپ کو شرمندہ کر سکتا ہے. #تجربہ آپ بیتی

‏شادی سے پہلے کے آ فیئر بعد میں "کرنٹ"  آ فیئر ثابت ہوتے ہیں وہ بھی خطرہ چار سو بیس والے . #تجزیہ

‏پہلے کہتے تھے اپنی زبان پر قابو رکھو اب کہنا بنتا ہے اپنی انگلیاں سنبھال کر ٹائپ کرو. #سوشل_میڈیا

‏شریف لڑکوں اور بگڑی لڑکیوں کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ کبھی کم نہیں ہوتی. #تجزیہ #غلط_بات

‏اہل اسلام کی آبادی کافی ذیادہ ہے لہذا مسلمان کم کرنے کو بم و فتوٰی دونوں کا استعمال جاری ہے. #تجزیہ

‏گوری رنگت و کالے دل دونوں بربادی کا سبب بن سکتے ہیں. #میراخیال

‏ثقافت و مذہب ایک لائن پر آ جائیں تو قانون و باقی دنیا کی اخلاقیات معاشروں کو نہایت ذیادہ سست روی سے تبدیل کرتی ہے. #الیکشن #عورت #ووٹ

‏خوش فہمی و غلط فہمی میں ایک ممکنہ فرق یہ بھی ہے کہ خوش فہمی کی حقیقت کھلنے پر دکھ اور غلط فہمی کے دور ہونے پر اطمینان ہوتا ہے. #میراخیال

‏تعصب ایک بیماری ہے جو اس بیماری میں مبتلا ہو اسے سامنے والے میں نظر آتی ہے یہ ہی معاملہ جہالت کا ہے. #میراخیال

‏قابلیت و ایمانداری ایسی خصوصیات ہیں جو کرپٹ معاشروں میں دشمنوں کی تعداد میں اضافہ کرتی ہیں. #خیال

‏مطالبے منوانے کے لیے نہیں بلیک میل کرنے کے لئے بھی کئے جاتے ہیں. #کراچی #صوبہ

‏سیاست میں "اوئے"  اور مردوں میں "اوئی اللہ" کہنا اب بدتہذیبی نہیں رہا. اس سے اخلاقیات کی پستی کی بلندیوں کا اندازہ لگائیں. #مزاح

‏الزام ملزم بنا دیتا ہے اور جب تک حقیقت عیاں ہوتی ہے زمانہ مجرم بنا چکا ہوتا ہے. #المیہ

‏پیٹ کے بھوکے کو روٹی مل جائے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے مگر نیت کا بھوکا مغرور. #تجزیہ

‏صلاحیت کے بغیر کامیابی کی جدوجہد لا حاصل رہتی ہے. #تجربہ و #تجزیہ

‏موت کے بارے میں سوچنے لگتا ہوں تو زندگی سے خوف محسوس ہونے لگتا ہے. #خیال


1 تبصرہ:

  1. پیٹ کے بھوکے کو روٹی مل جائے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے مگر نیت کا بھوکا مغرور
    بہت عمدہ تجزیہ۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔