5/27/2015

جعلی ڈگری، سچی صحافت

دھوکہ و فراڈ ایک جرم ہے، جرم قابل سزا ہوتا ہے. ملزم کے مجرم بننے تک کے درمیانی سفر میں کئی ایسے مقام آتے ہیں جب اپنے و مخلص پہچانے جاتے ہیں. ہمارے ایک دوست کہا کرتے ہیں مجرم کو اس کے جرم کی سزا دلانا اس سے دوستی و محبت کی ایک شکل بھی ہو سکتی ہے اور اس کو بچا لینا اس سے دشمنی.
ہمارے ملک میں حرام کی کمائی سے حج کرنا ہی نہیں بلکہ اس پر زکوۃ و صدقہ دینے کا بھی عام رواج ہے. جو  نوکری پیشہ حلال کمانے کے دعویدار ہیں ان میں سے بھی کئی میری طرح کے ہیں جو نوکری پر آدھ گھنٹہ لیٹ جاتے ہیں اور پونے گھنٹہ پہلے نکل لیتے ہیں کہ کام ختم ہو گیا اور سرکاری گھاتوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں سے یوں لاتعلق ہوتے ہیں جیسے کہ گونگے، بہرے و اندھے ہوں جبکہ معلوم سب ہوتا ہے.
ہر مارکیٹ کے اپنے بنائے ہوئے چند اصول ہوتے ہیں جس سے انحراف جائز ہوتا ہے مگر اس بے اصولی کا اقرار نہیں کیا جاتا یہ مارکیٹ کا سب سے بڑا و اہم قانون ہوتا ہے.
اصلی یونیورسٹی اصلی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ "دیگر" اسناد کا بھی اجراء کر دیں تو لینے والا مجرم ہوتا ہے مگر جعلی یونیورسٹی کی ڈگری دینے والا مجرم ہوتا ہے یہ ہی اصول ہے یہ ہی قانون. اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ خریدار خود بھی دونمبر مال کی تلاش میں تھا.
صحافت ایک نوبل پروفیشن ہے صحافی کے لئے، ان کے مالکان کے لئے یہ صنعت ہے. صنعت کوئی بھی ہو مقصد پیسہ بنانا ہوتا ہے.  اس صنعت میں سب سے ذیادہ بکنے والی شے جھوٹ ہے. یہاں سچ نہ بولنے پر بھی پیسہ کمایا جاتا ہے بس مرضی کی قیمت لگ جائے. میڈیا مالک صحافی کی ضرورت کی بولی لگاتا ہے، بیچارا صحافی اپنی مجبوری کی قیمت پر بک جاتا ہے.
اگر حرام کی کمائی سے بنائی گئی مسجد میں نماز پڑھنے والے نمازیوں کی نماز کی قبولیت کے سوال کرنا درست نہیں اور نماز کی قبولیت پر شک نہیں تو آنے دیا جائے ایک ایسا میڈیا گروپ جس سے صحافی کی قیمت اس کی مجبوری و ضرورت کو دیکھ کر نہیں قابلیت کو دیکھ کر ادا کی گئی ہو تاکہ سچ بولنے کی قیمت لگے چھپانے کی نہیں، جھوٹ نہ بولنا اصول ٹھہرے قیمت نہیں. ہاں حرام کی کمائی کمانے والا یا قانون شکنی کرنے والے کا معاملہ الگ ہے.
ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کے دعویدار اصولوں کے کتنے بڑے سوداگر ہے ہم جانتے ہیں.
(یہ میری رائے ہے اختلاف آپ کا حق ہے)


4 تبصرے:

  1. "ہمارے ملک میں حرام کی کمائی سے حج کرنا ہی نہیں بلکہ اس پر زکوۃ و صدقہ دینے کا بھی عام رواج ہے."
    پاکستن کے امراض کی جڑ ھے یہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. معذرت کے ساتھ عرض ہے۔آپ کے بلاگ کے عنوان"بے طقی باتیں بے طقے کام' کی مناسبت سے آپ کی باتیں ہرگز میل نہیں کھاتیں لیکن جانے کیوں آپ کا یہ بلاگ پڑھتے پڑھتے اور پھر خاص طور پر"زمرے" میں سے مفہوم کی سعی کرتے ہوئے جناب فیض کے یہ اشعار جانے کیوں یاد آئے جو اپنی جگہ نہایت اہم ہیں لیکن یہاں بےموقع لگ رہے ہیں۔ چلیں ایک "بےتکی"سوچ کا تڑکا میری طرف سے بھی
    جنوں میں جتنی بھی گزری، بکار گزری ہے
    اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے

    ہوئی ہے حضرتِ ناصح سے گفتگو جس شب
    وہ شب ضرور سرِ کوئے یار گزری ہے

    وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
    وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے
    آخر میں ایک مصرعہ یہ بھی
    "کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے "

    جواب دیںحذف کریں
  3. Baji..
    Maf kijye Ga

    Mazmun nigar ne apni bat kafi had tak sahi likhi hai. Koi bat galat nahi dikhai de rahi. Sare Fasane men yahi ek baat maozu bahes bani hui hai ke sahafi hazrat ko "jaal sazi zahir ho jane ke bad aqlaqi o deeni hysiat se us Raqam se Apna haq liya jana chahye ya nahi". Usi bat per maosuf ne tahrir likhi hai ke ek sahafat ke jaez o na jaez tariqon se hut ker Haram o Na Jaez aur bhi jagah Hamlog kha rahe hyn. Mazmun nigar ne chand ek ki misalen bhi pesh ki Hain.

    Wyse dekha jaye to majmui taor per zindagi ke her her shobe men Haram Saraiyat kiya hua hai ek khaleel tadad ke sewa jo bahot hi ehtiyat baratte honge Haram o Halal ki.

    Aur ye ek Furooi bat hui ke unke unwan se unki tahrir mutabeqat rakhti hai ya nahi rakhti. Unka Mudd'aa dekhye wo bayan kya kar rahe hain. Wo sahi kah rahe hyn ya galat.

    Ma'azrath ke sath

    Bushra khan

    جواب دیںحذف کریں
  4. آپ نے بالکل درست لکھا ہے ۔ زمانہ حال میں سب کچھ بِک رہا ہے ۔ نہ بِکنے والے کو زِچ کیا جاتا ہے ۔ لیکن اللہ کے بندے ایسے ہیں جو روکھی سوکھی کھانے کو بِکنے پر تریجیح دیتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔