6/11/2009

بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ

آج کل ہر کوئی تو کر کٹ کی بات نہیں کر رہا مگر کئی کر بھی رہے ہیں، اپنے ملک کی ٹیم کے کپتان کے اُس بیان کی کافی شہرت ہے ے جس میں جناب نے کہا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی محض ایک تفریح ہے اور بین الاقوامی کرکٹ ہونے کے باوجود یہ تماشائیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ اس کا فیصلہ تو تجریہ نگار ہی کرتے اچحے لگتے ہیں کہ کرکٹ کھیل ہے یا تفریح؟ کھیل و تفریح کا بنیادی فرق کیا ہے؟ اور بندر کی ذات تفریح کا کتنا سبب بنتی ہے؟ آیا کرکٹ سے ذیادہ یا کم؟ جی میں بندر کی بات کر رہا ہوں؟ آپ ناراض تو نہیں ہیں ناں؟ اور یہ کہ بندر و کرکٹ میں کیا تعلق ہے؟

شاید اس ویڈیو کو دیکھ کر کچھ رائے آپ قائم کر سکیں؟

2 تبصرے:

  1. آپ کی بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں۔ یونس خان نے بندروں والی بات کر کے پاکستان کیلیے شرمندگی ہی کمائی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. یونس خان اگر فائنل جیتنے کے بعد یہ بات کرتے تو اچھا بھی لگتا۔ حالت یہ ہو کہ آپ وارم اپ میں دونوں میچز بری طرح ہار چکے ہوں اور ایک آسان پول میں ایک ایسی ٹیم سے ہار بیٹھیں جو دنیائے کرکٹ کی کمزور ترین ٹیم سے بھی شکست کھا چکی ہو تو آپ کے منہ پر یہ بات ہر گز اچھی نہیں لگتی۔ پاکستانی کرکٹ بدنام ہیں ایسے بے وقوفانہ بیانات دینے میں۔ اب دیکھتے ہیں آج سری لنکا کے خلاف کیا گل کھلاتے ہیں۔ حالانکہ کمزور پول ملا ہے پھر بھی مجھے امید کم ہی ہے کہ ٹیم سیمی فائنل تک پہنچے گی۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔