Pages

12/29/2009

خود اپنے دشمن!

کراچی میں محرم کے مرکزی جلوس میں بم دھماکا ہو گیا! شہیدوں کی گنتی چار پانچ سے شروع ہو کر اب تک چالیس کے قریب تک پہنچ چکی ہے اور زخمی بھی ستر کے قریب ہیں!
اس عاشورہ کے جلوس میں شامل دوست کا فون آیا پہلے تو اُس نے مجھے گالیاں دی کہ خبیث میرا خیال تھا کہ تو میری خیریت کا پوچھے گا مگر تو بھی لعنتی ہے! پھر سے آگاہ کیا! اُس کا فون ختم ہونے کت بعد ہم نے دیگر دوستوں کو فون کر کے اُس کی خیریت دریافت کی سب اللہ کے کرم سے ٹھیک تھے، مگر چند ایک کے قریبی اس میں زخمی ہوئے تھے۔
ملک میں دہشت گردی کی ایک خاص لہر جاری ہے چند ایک مخصوص وجوہات کی بنا ء پر میں یہ سمجھتا تھا (اور اب بھی قائم ہوں) کراچی اس دہشت گردی کی لہر کا شکار نہیں ہو گا! مگر بہر حال کل کا المناک حملہ ہوا ہے، یہ کتنا خود کش تھا اور کتنا ہم نے خود بنا دیا ہمارے سامنے ہے! قوم متحد ہو تو کوئی لاکھ چاہئے اُسے مات نہیں دے سکتا مگر جب وہ ہجوم بن جائے تو کوئی بھی رہنما اس کی رہنمائی نہیں کرسکتا!
متحد قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود شرپسندوں کو خود قابو کر لیتی ہیں! مگر دوسری صورت میں شر پسند ہجوموں کو منتشر کر لیتے ہیں! اور تباہی کا سبب بنتے ہیں! بم حملے کے بعد کل بھی کچھ ایسا ہی ہوا!
واقف حال بتاتے ہیں کہ کل دوکانوں کو جلانے کا انداز بہت پیشہ ورانہ تھا اس میں اشتعال کا عنصر نظر نہیں آتا تھا دوکانوں کو جلانے کے لئے Potassium کا استعمال ہوا ہے نیز جلانے سے قبل اُس دوکانوں و دو بینکوں کو لوٹ لیا گیا تھا، مظلوم کربلا کے ماتم کرنے والوں نے ابتدا میں ان شرپسندوں کو روکا مگر بعد میں وہ پسپا ہوگئے۔
قریب ڈھائی ہزار دوکانیں جل کر خاکستر ہو گئی ایک مکمل معاشی بازار ختم ہوا! پہلے حملے میں اگر چالیس شہید ہوئے تھے تو رد عمل میں کتنے زندہ لاشیں بن چکے ہو گے؟ اگر اول دھماکے میں ستر زخمی ہوئے تھے تو ہجوم نے بعد میں کتنے خاندانوں کو معاشی طور پر لہو لہان کیا؟
اگر ایک دوکان ایک خاندان کی روزی کا سبب تھی تو بھی ڈھائی ہزار خاندان تو معاشی طور پر تباہ ہو گئے! صبح دوکاندار اپنی اپنی دوکانوں کے باہر اپنی تباہی پرآنسو بہا رہے رہے تھے!
ڈھائی ہزار دوکانیں اور پچس ارب کا نقصان خود اپنے ہاتھوں سے!
کوئی ہمارا دشمن کیوں نہ ہو جب ہم خود اپنے دشمن ہیں؟
ہم سے بڑا دہشت گرد اور کون ہو گا؟

10 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

خود ہو جو دُشمن اپنا اُس کا دُشمن آسماں کیوں ہو ؟

Farhan Danish نے لکھا ہے کہ

مرنے والا کون تھا!!!
کوئی اور نہیں وہ میں ہی تھا
وہ تم ہی تھے
وہ ہم ہی تھے
شاید ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسی لئے تو اب احساس نہیں
کوئی امید نہیں کوئی آس نہیں
ہم سب مر چکے ہیں
شاید نہیں
یقیناَ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہم سے کوئی آس نہ رکھو
ہم سے کوئی آس نہ رکھو
مت پوچھو کہ کون مرا ۔ ۔ ۔
کہ مرنے والا کوئی اور نہیں
وہ میں ہی تھا
وہ تم ہی تھے
وہ ہم ہی تھے ۔ ۔ ۔ ۔

sadia saher نے لکھا ہے کہ

ھمارا بال بال قرض میں جکڑا ھوا ھے چند ڈالر کے لیے اپنی آنے والی نسلوں کو گروی رکھا ھوا ھے اور اربوں روپوں کی عمارات جل گئ ڈھائ ھزار خاندان معاشی طور پہ تباہ ھوگئے دو دن کے پہلے کے واقعات سے اندازہ ھو جانا چاھیے تھا سیکڑوں کے ھجوم کو کیسے قابو کرنا ھے کتنی سیکورٹی ھونی چاھیے - نہ سیکورٹی کا
مناسب انتظام تھا - آگ بجھانے کا بھی کوئ انتظام نہیں تھا لوگ اپنی زندگی بھر کی کمائ کو جلتا دیکھتے رھے

عمر احمد بنگش نے لکھا ہے کہ

متفق

محمداسد نے لکھا ہے کہ

یہاں یہ بات ماننی پڑے گی کے حکومتی مشنینری حادثہ سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گرد حملہ آوروں کے پاس جتنا منظم نظام تھا، اتنا ہماری حکومت کے پاس ہے ہی نہیں۔ گویا دہشتگرد حکومت سے زیادہ منظم ہیں۔

Farhan Danish نے لکھا ہے کہ

یہ وقت صبر اور تحمل کے مظاہرے کا ہے، اگر ہم نے رد عمل میں املاک کو نقصان پہنچایا تو ہم بھی امن تباہ کرنے والوں کی سازش کا حصہ بن جائیں گے۔ دہشت گرد بہت عرصے سے کوشش میں تھے کہ کراچی کے امن کو کسی طرح تباہ کیا جائے آج وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو ئے ہیں جسے ہم پر امن رہ کر ناکام بنا سکتے ہیں۔

گمنام نے لکھا ہے کہ
یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

تبصرہ نگار نے نام نہیں ظاہر کیا اس لئے تبصرہ مٹا دیا گیا ہے اصلی نام کے ساتھ دوبارہ تبصرہ کر لیں! ورنہ کوئی مسئلہ نہیں ہے!
"اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے

arifkarim نے لکھا ہے کہ

اسلامی تماشہ جاری ہے!

asma paris نے لکھا ہے کہ

آپ کو اور آپکے اہل خانہ کو نيا سال مبارک

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔