Pages

11/30/2009

آخر یہ کیا ہے؟

یار لوگوں نے یہ خبر سن لی ہو گی کہ سوئٹزرلینڈ والوں نے اپنے ملک میں مساجد کے مینار کی تعمیر کے خلاف ووٹ دیئے ہیں، اس سے مراد ہر گز جمہوریت کو کوسنے کا کوئی جواز تلاش کرنا نہیں ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ ریفرنڈم صرف مینار کے تعمیر کے خلاف تھا یا پس پردہ دیگر وجوہات ہیں؟
سب سے پہلے یہ ریفرنڈم میں استعمال ہونے والا پوسٹر دیکھے!

خاتون کو برقعہ اور سوئٹزرلینڈ کے جھنڈے پر بنے ہوئے مینار! کیا پیغام ہے اس میں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں کُل 150کے قریب مساجد ہیں جن میں سے صرفف تین کے مینار ہیں یاد رہے کہ ایک عبادت گاہ قادیانیوں کی ہے جس کے مینار ہیں عالمی میدیا اپسے بھی مسجد بتاتا ہے جس کے مینار ہیں اور ایک اور بننے جا رہا تھا کہ ۔۔۔۔، سوئٹزرلینڈ کی کل آبادی کا صرف پانچ فیصد(قریب چار لاکھ) مسلمان ہیں ، اُن کی بھی نوے فیصد آبادی یورپ ہی سےتعلق رکھتی ہے مختصر کافی ماڈرین ہے اس کے باوجود یہ ریفرنڈم ہوا!
کہنے والے کہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ میں ابتدا میں جانوروں کو ذبح کرنے کے خلاف تحریک چلائی جانی لگی تھی کہ مسلمان بڑی بے رحمی سے جانور کو ذبح کرتے ہیں مگر درمیان میں یہودی آ گے کہ اُن کا طریقہ بھی ایسا ہی ہے، یوں توپوں کا رُخ مساجد کے مینار کی تعمیر کی طرف ہو گیا وہ بھی اس لئے کہ یہ "مذہبی" نہیں "سیاسی" علامت ہے! اس لئے کہ یہ درجہ با درجہ اسلام آئزیشن یا اسلامی نظام کی تشکیل کا نشان ہے، یہ وہ وجہ ہے وہ اس ریفرینڈم کی حامی جماعت نے بتائی ہے!! یہ ہی وجہ اُس کے حمایتی ووٹر بیان کرتے ہیں ، نیٹ و نیوز میں کئی ایک کے تاثرات جاننے کا موقعہ ملا یوں معلوم ہوا دراصل اسلام دشمنی نہیں تو کم از کم مسلم طرز عمل کے کسی نا کسی شکل و سطح پر نفرت ضرور ہے خاص کر وہ طرز عمل جو علاقائی (جہاں سے اُس مسلمان کا تعلق ہے)نہیں بلکہ جو اسلام کی وجہ سے ہے ۔
مسلمان کے بچوں کا زیادہ ہونا، ان کی عورت کا اسکاف لینا جیسی وجوہات پر ووٹر مینار کو بین کرنے کے حق میں ووٹ ڈالے تو یہ کیا ہے؟ اسلام دشمنی یا اسلام فوبیا ہے یا کچھ اور؟


7 تبصرے:

DuFFeR - ڈفر نے لکھا ہے کہ

سر جی یہاں اسلامی دنیا کے پاکستان نامی قلعے میں ہی داڑھی رکھنے پر سیشل اور ضرور چیکنگ ہوتی ہے
آپ سویٹزرلینڈ والوں سے گلہ کرنگ؟
بات سمجھ میں آئی نہیں اور آپ نے سمجھائی نہیں

شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

ایک تبصرہ حذف کیا گیا ہے وپ صاحب اپنے نام سے تبٰرہ کر لیں اجازت ہو گی بلام نام کے تبصرہ کی اجازت نہیں ہے۔

محمداسد نے لکھا ہے کہ

یورپ میں اس طرح کا واقعہ دو مذاہب کے اختلاف سے زیادہ سیکولر، مذہب اختلاف لگتا ہے۔ مینار صرف مساجد میں ہی نہیں، چرچ میں بھی بنائے جاتے ہیں۔ ایسے میں صرف مسلمانوں کی تعلیمات کو حدف تنقید بنانا محض شروعات ہے۔ اس کے بعد دیگر مذاہب کا بھی نمبر ٓیا چہات ہے۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

بات کچھ سمجھ نہیں آ کہ انہوں نے مینار کیوں ناپسند کیے ھالاں کے کوءی چرچ مینار کے بغیر نہیں
کامران اصغر کامی

IMCurtain.com نے لکھا ہے کہ

Too bad I can't read this post but love the poster! Good work...

p/s: Come visit our website and start promoting your blog. Thanks!

Azhar Ul Haq نے لکھا ہے کہ

IMCurtain کا تبصرہ سب کچھ کہ رہا ہے ، میرا خیال ہے جب تک ہم انفرادی سطح سے اٹھ کر اجتماعی سوچ نہیں رکھیں گے تب تک یہ ڈرامے ہوتے رہیں گے

Rehan نے لکھا ہے کہ

اور کریں ان انگریزوں سے دوستی ۔۔ اور بنائیں ان کو اپنے محافظ ۔۔ یہ گوری چمڑی اپنے مزہب سے دور ہے اسلام کی حرمت کو کیا اہمیت دینگے ۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔